میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 4 جولائی، 2018

پیرس میں بارش ہوتو سڑکیں پانی میں نہیں ڈوبتیں، عمران خان


 لاہور کو پیرس بنانے چلے تھے ۔ بارشوں نے پرانا لاہور  کی یاد دلا دی ۔عمران خان
نوٹ: 1989 کے لاہور کو بھی میں نے بارشوں میں دیکھا ہے اور 1958 کے لاہور کو بھی ، اب معلوم  نہیں کِس لاہور کی بات ہو رہی ہے ؟  


آئیں عمران کا پیرس دیکھتے ہیں ، بارشوں میں ! 





اللہ کی طرف سے ہونے والی  ایک بارش نے پیرس  کے نکاسیءِ آب کے نظام کی قلعی کھول دی ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔