میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 8 جولائی، 2018

کتنی تبدیل ہوگئی تبدیلی !


 کوئی کچھ بھی کہے خیبر پختون خوا تبدیل تو ہوا ہے!
آج کے اور پانچ سال پہلے کے پشاور میں زمین اور مریخ جتنا فرق ہے۔پانچ سال پہلے عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پشاور کو یورپی ممالک کے شہروں کے ہم پلہ بنا دیں گے۔ہوا بھی یہی آج پشاور دوسری جنگ عظیم میں تباہ و برباد ہونے والے یورپی شہروں برلن اور وارسا کا منظر پیش کررہا ہے۔
 شاید جمہوریت پسندی کی سزا اس صوبہ کے عوام کو یوں دی گئی کہ پچھلے ستر سالوں سے پاکستان کی سیاسی لیبارٹری میں تیار ہونے والی ہر نئی دوا کا ٹیسٹ اس صوبے کے عوام پر کیا جاتارہا ہے۔پانچ سال پہلے جس دوا کی کوالٹی ٹسٹنگ کی گئی اس کے سائیڈ ایفکٹس نے تو اس مریض کی حالت مزید ابتر کردی ہے ۔مگر ہمارا سوشل اور مین سٹریم میڈیا دوا ساز کمپنی کی بدنامی کے ڈر سے اس دوا کی کارکردگی کے کسی منفی پہلو کو دیگر پاکستان کے لوگوں کو بتانے سے کترا رہا ہے۔
عمران خان صاحب کے ایسے دل فریب انٹروی دکھائے  جاتے ہیں کہ بس،ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا دکھائی دینے لگتا ہے ۔
کل ہی موصوف ایک ٹی وی چینل پر تقریر فرما رہے تھے اور انہوں نے خیبر پختون خوا اور پشاور کی ایسی خوبصورت تصویر کشی کی میں اپنا سامان باندھ کرپشاور منتقل ہونے کی تیاری کرنے لگا پھر مجھے یاد آیا کہ میں تو پشاور میں ہی رہتا ہوں۔

لگتا ہے خان صاحب پیرس کو پیار سے پشاور کہتے ہیں کیونکہ پشاور تو وہ نہیں رہا جو خان صاحب فرما رہے تھے۔ خان صاحب جو لاہور کراچی میں جلسوں سے خطاب کرتے ہیں تواپنی خیبر پختون خوا حکومت کے صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق بہت بڑے دعوے کرتے ہیں۔میرا چیلنج ہے کہ یہی دعوے وہ پشاور میں کسی جلسے میں کھڑے ہوکر کردیں۔
کے پی کے ،کے وزیر تعلیم عاطف خان صاحب  کا دعوی ہے کہ انہوں نے سرکاری سکولوں کی حالت اتنی اچھی کردی ہے ایک لاکھ 25 ہزار بچے پرائیوٹ سکول چھوڑ کر سرکاری سکولوں میں داخل ہوئے ہیں۔میرا چیلنج ہے کہ ایک لاکھ 25 ہزار نہیں صرف دس ہزار بچوں کے نام اور سکولوں کے نام اپنی وزارت کی ویب سائت پر ڈال دیں۔اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتادے کہ ان کے اپنے بچے مردان کے کس عظیم گورنمنٹ سکول میں زیر تعلیم ہے۔
ویسے بھی میٹرک کے حالیہ دنوں میں آنے والے نتائج نے ان کے دعوں کی قلعی کھول دی ہے 59 ہزار طلبا اور طالبات ناکام اور بیس پوزیشنوں میں سے کوئی ایک پوزیشن بھی کسی سرکاری سکول کے بچے نے نہیں لی۔
 پڑھیں : کے پی کے ، کی نرسری کی پہلی پود   جس کی آبیاری پی ٹی آئی نے کی !

پانچ سالوں میں کتنی یونیورسٹیاں صوبے میں قائم کی گئی ہیں اس کی تعداد ہمیں نہیں تو خان صاحب کو بتادے۔ان کو ہر سچ مچ کے انٹرویو میں اس سوال پر شرمندگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔

 صحت کے شعبے کی حالت کا انداہ اس لطیفے نما حقیقت سے لگا لیں کہ صوبہ کے وزیر صحت  شہرام ترکئی ہے ۔موصوف کے والد پاکستان کی سب سے بڑی سگریٹ ساز فیکٹری کے مالک ہے۔یعنی والد صاحب کی فیکٹری میں بنی سگریٹ پی کر جو لوگ بیمار پڑتے ہیں۔ان کا علاج ان کا فرزند عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ہسپتالوں میں کرتے ہیں۔

عمران خان صاحب اور کچھ نہ کرتے صرف وزیر صحت کی فیکٹری ہی بند کردیتے تو شاید ان کو پشاور میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی وزیر صحت، اتنی صحت مند معیشت سے وابستہ ہو تو علم میں اضافہ ضرور کیجئے گا۔میر تقی میر زندہ ہوتے تو اپنے اس شعر کی تعبیر دیکھ کر کتنے خوش ہوتے ۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
 اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں 
صوبے میں کتنے نئے ہسپتال بنے ہیں اس کی تعداد کا خود وزیر صاحب کو نہیں پتا ، تو بنی گالہ اور نتھیاگلی میں  رہنے والے  عمران خان کو کیا پتا ہوگاہے۔ہاں سنا ہے کہ وزیر صاحب کے والد نوشہرہ میں ایک نئی سگریٹ کی فیکٹری ضرورلگارہے ہیں۔یہ ہوا صحت کا انصاف۔
 ہمارے وزیراعلی بھی بہت اعلٰی انسان ہیں۔جب پانچ سال گزرنے کے بعدعوامی فلاح کا کوئی منصوبہ کامیابی کی صورت نہ دیکھ سکا۔  تو ان کو ایک دن اچانک یاد آیا  کہ کچھ بھی کرو عوام کبھی خوش نہیں ہوتی۔
کیونکہ ناں اپنا دست شفقت معصوم  جانوروں پر رکھا جائے۔جو شکر گذاری میں  ہمیشہ دُم ہلاتے رہتے ہیں ۔حکومت کے آخری چند مہینوں میں جلدی میں پشاور میں ایک چڑیا گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا گیا۔پوری دنیا سے کروڑوں روپے خرچ کرکے نایاب جانور درآمد کئے گئے۔
لیکن بیوروکریسی خٹک صاحب کو یہ بتانا بھول گئی کہ دس پسندیدہ  پنجروں کا نام چڑیا گھر نہیں ہوتا - اس کو چلانا باقاعدہ ایک سائنس ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک 300 قیمتی پرندے اور جانورجن میں تین نایاب نسل کے شیر بھی شامل ہیں ۔ خٹک صاحب کی ویژنری شخصیت کی تاب نہ لاتے ہوئے جہان فانی کو رخصت ہو چکے ہیں ۔ویسے حالات اتنے بھی  خراب  نہیں ہیں دو تین شیر ابھی تک  زندہ ہیں ۔ لیکن اتنے لاغر ہوچکے ہیں کہ پشاور کے موٹے چوہے آئے روز ان کو بھتے کی پرچیاں تھما کرچلے جاتے ہیں۔
 دنیا کے کسی دوسرے چڑیا گھرمیں غلطی سے کوئی بچہ شیر کے پنجرے میں چلا جائے تو اسکا زندہ آنا ناممکن ہے۔پشاور کے چڑیا گھر میں بچہ پنجرے میں جاکر ایک دو تھپڑ  لگا کر آرام سے واپس باہر آجاتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے جو مقام،رتبہ اور حیثیت عمران خان کے کتے شیرو  اور ٹائیگر کو بنی گالہ میں حاصل ہے۔  اس  کا دس فیصد بھی ان شیروں کو حاصل ہوجاتا تو آج وہ زندہ ہوتے ہیں۔ 

عمران خان کی بات کی طرح روزبدلتا اور مہنگا ہوتا پشاور میٹروبس کا منصوبہ ہویا بلین ٹری کے جناتی درخت ہوں جو صرف سنائی دیتے ہیں دکھائی نہیں دیتے۔
کرپشن ختم کرنے کے جھوٹے دعوے ہوں یا تقریباًختم ہوتا انفرااسٹکچر !
ہم کس کس کو روئیں ۔ 
نااہلی اور بیڈ گورننس کی ایک لمبی داستان ہے۔ 
مشفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم 
تیرے دل میں تو کام بہت رفوہ کا نکلا 
ہماراغصہ اس وقت قابو سے باہر ہوجاتا ہے ۔ جب لاہور،کراچی،لندن اور نیویارک میں بیٹھےلوگ ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں کہ کے پی کے ترقی کے لحاظ سے یورپ کو بھی پیچھے چھوڑگیا ہے ۔
 ان سے میری التجا ہے کہ ہوسکتا ہے ان کی بات ٹھیک ہوہم ہی غلط ہوں۔برائے مہربانی  آپ  لاہور اور لندن سے پشاور منتقل ہوجائیں  اور   ہم اپنی آنکھوں کا علاج کروانے کراچی چلے جاتے ہیں ۔ 

پشاور کا شہری ہونے کے ناطے میں جب بھی لاہور،کراچی یا اسلام آباد جاتا ہوں تو شدید احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہوں۔

ملک کے تمام شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئے۔
25 جولائی کو الیکشن آرہاہے۔میری سندھ اور خصوصا پنجاب کے لوگوں سے التجا ہے کہ وہ تحریک انصاف کوووٹ دے کر پنجاب اور سندھ میں حکومت بنانے کا موقع دیں ۔
ذرا آپ بھی اپنے شہروں میں تبدیلی لائیں یا ساری تبدیلیوں کا ٹھیکہ ہمارے صوبے نے اٹھایا ہوا ہے؟
 آپ بھی عمران خان کو اپنی خدمت کا موقع دیں ۔  میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ایک سال میں ہی کراچی اور لاہور کو پشاور بنادے گا۔
ہمارے صوبے کی محرومی دور کرنےکا ایک یہی طریقہ بچا ہے۔
اپنی خوشیاں تو آپ ہمارے ساتھ بانٹتے نہیں کچھ بربادیاں ہی بانٹ لو۔
بلوچستان کی عوام سے کوئی گلہ نہیں نہ اُن کو کسی کو ووٹ دینے کی فرمائش کروں گا۔ اُن کا ووٹ مخلوقات خلا میں ہی ڈال دیں گی۔
 مئی 2013 میں ہونے والے انتخابات میں کے پی کے ، کے  عوام نے خان صاحب کو بہت عزت دی ۔  مگر خان صاحب نے ان کو اپنی نمائندگی کے قابل نہیں سمجھا۔ 
خان صاحب زمینی اور خلائی طاقتیں آپ کے ساتھ ہیں۔
روحانیت کا سرچشمہ تو ماشاء اللہ آپ کے گھر میں پھوٹ رہا ہے-
 تاریخ دان آپ کی مرضی کی تاریخ لکھ رہے ہیں اور
 وزیراعظم بننے کے بعد بھی تاریخ کا قلم دان آپ کے ہاتھ میں ہی ہوگا۔
مگر میرے صوبے کے عوام اس گناہ میں شامل نہیں ہوں گے ۔
ہم 25 جولاِئی کو آپ کو آپ کی حقیقت بتادیں  گئے۔
بڑی بڑی باتیں کرنا بُری بات نہیں ہروقت بڑی بڑی باتیں کرنا بُری بات ہے۔  
(   تحریر :   خاور حسین اعوان)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔