میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 جولائی، 2018

ماں ، ہم شرمندہ ہیں !



   1979 کے سخت ترین جاڑے کی ایک اتنی ہی سرد اور اداس شام تھی۔
 یوگوسلاویہ کے دورافتادہ اور پسماندہ گاوں میں ایک قصاب بخار میں پھنک رہا تھا۔ پریشانی اس کے چہرے پہ عیاں تھی ۔ کسی نہ کسی طرح ہمت جمع کرکےاس نے گوشت تو بنا لیا- مگر اسے ریستوران تک پہنچانا اسے عذاب لگ رہا تھا۔ اتنے میں اس کی 11 سالہ بیٹی سکول سے لوٹی۔ باپ کو پریشان دیکھ کر ماجرہ سمجھ گئی۔
 برفباری میں گوشت سے لدی بھرکم ریڑھی کھینچ کر ریستوران تک چھوڑ آئی۔ 
وہ مڈل سکول میں گاوں کے سکول میں اوّل آئی۔
 تب امریکہ میں ہائی سکول میں وظیفے کا امتحان منعقد ہوا ۔ وہ اس میں منتخب ہونے والے چند طلبہ میں سے ایک تھی۔ قصاب کی بیٹی کو پڑھنے اور محنت کرنے کا جنون تھا۔ 
جو بالآخر اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی سکول میں لے گیا۔ 
 یہاں سے وہ  جارج واشنگٹن یونیورسٹی اور پھر جان ہاپکنز یونیورسٹی  جا پہنچی ۔

چند برس کی محنت شاقہ کے نتیجےمیں وہ امور خارجہ میں ماہر سمجھی جانے لگی۔
2007    میں امریکہ میں اپنے ملک  کروشیا کی پہلی خاتون سفیر مقرر ہوئی ۔ 
اسی خاتون کو چند روز قبل ساری دنیا نے FIFA ورلڈ کپ کے فائنل میں اپنی ٹیم کا دیوانہ وار جذبہ بڑھاتے دیکھا۔ وہ عام سٹینڈ میں اپنے ہم وطنوں کے درمیان ڈبوں والی سرخ T-shirt زیب تن کئے نعرے بلند کرتی نظر آئی۔
 یہ کولنڈا گریبر. Kolinda Grabar Kitarović ہے۔ کروشیا کی منتخب صدر۔29 اپریل 1968 کو پیدا ہونے والی ۔
 جسے دو ارب سے زائد ٹی وی سے چپکے ناظرین ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ اکانومی کلاس میں خود ٹکٹ خرید کر پہنچی۔ VIP سہولیات شکریہ سے واپس کردیں ۔ اس دورانیہ کی تنخواہ بھی نہیں لیں گی۔
 کروشیا کی آبادی محض چالیس لاکھ ہے۔ اس کا ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا ۔
 50 سالہ کولنڈا اپنے ملک کے تمام میچوں میں موجود رہی۔ اس دوران اسنے NATO کے سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔ مگر راتوں رات واپس ماسکو پہنچ گئی۔ میچ کے وقفہ میں وہ اپنے مدمقابل فرانسیسی ٹیم کے کمرے میں اچانک پہنچی ۔ اس نے ان کا بھی حوصلہ بڑھایا۔ 
کروشیا بہتر ٹیم ہونے کے باوجود تجربہ کار فرانس کی ٹیم سے شکست کھا گئی ۔
 کولنڈا سب کھلاڑیوں سے بغلگیر ہوئی۔ مگر جب کپتان موڈرچ سے ملی تو دونوں پھوٹ پھوٹ کر رودیئے۔
 جواں سال موڈرچ جسے Golden ball award یعنی دنیا کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا ،بولا 
"ماں ، میں نے آج تجھے ساری دنیا کے سامنے شرمسار کردیا"
 کولنڈا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولی۔ 
"میرے بچے ، تم مٹھی بھر جوانوں نے دنیا کے دل جیت لئے ہیں ۔ آج تم ہار کر بھی فتح یاب ہو ۔ میرے ملک کے لئے عزت کا یہ مقام ایک دھات سے بنے کپ کو تھامنے سے بدرجہا بہتر ہے "
 اس نے تیز بارش میں چھتری واپس کردی اور بولی میرے بچے بارش میں نہا رہے ہیں ۔ میں بھی انکے ساتھ مسرور ہوں۔ 


کولنڈا نے کروشیا کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ اس نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسے یورپین یونین کا رکن بنوایا۔ جس سے روزگار اور تجارت کے بے پناہ مواقع میسر آئے۔ NATOکی پہلی مرتبہ خاتون اسسٹنٹ سیکریٹری منتخب ہوئی۔ وہ پوٹن اور میکرون کے بیچ کھڑی بلند وبالا نظر آئی۔
 اپنے گرد نگاہ دوڑائیں  ۔ہماری بصارت اور بصیرت سے محروم آنکھ گلے میں پڑے طوق اور پاوں میں بندھی زنجیروں کو محسوس ہی نہیں کر پاتی۔ 
کیا ہم بھی کسی عام آدمی کو غیر معمولی ذہانت۔اخلاص اور بلند اخلاق و کردار  کی بنیاد پر اپنا رہبر چنیں گے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :   کروشیا کی صدر ، کولنڈا  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔