میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 8 جولائی، 2018

لعنت یافتہ طبقہ عوجِ ثریا پر !

 کہانی پناما سے نہیں شروع ہوتی۔ کہانی شروع ہوتی ہے 2011ء سے۔
 دماغ پر معمولی سا زور ڈالئے اور یاد کیجئے !
اور تازہ کیجئے وہ یادیں جب ملک پر    نو سالہ   تاریک رات کے سیاہ بادل چھٹنے کے بعد جمہوری حکومت کا راج تھا  اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا (ہلال امتیاز ملٹری) مسلم لیگ نون کے محاذ پر داد شجاعت دیتے ہوئے پی ٹی آئی کو عسکری غبارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔کیوں کہ  معزول چیف جسٹس چوہدری افتخار کی بحالی کے لئے لاہور  ماڈل ٹاؤن سے  نواز شریف کی للکا     ر پرنکلنے والاسیلاب   ، اُن کے ذہنوں میں نفرت کا غبار پیدا کر چکا تھا ، وہی غبار اب بھی جوار بھاٹا مار رہا  ہے ۔ ایمپائر  کا دلدار اور  انصاف کا لاڈلا بے چین تھا   ۔
 اُس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اسمبلی کے فلور پر اس معاملے کو بار بار اٹھایا اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کو واضح کیا۔
قابل غور نکتہ یہ کہ آئی ایس آئی حکومت کے خلاف نہیں،  بلکہ قومی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن کے خلاف سرگرم تھی۔ کیوں ؟
کیونکہ نواز شریف کی فتح نوشتہ دیوار تھی۔
وہی نواز شریف جس پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ "اس نے کسی بھی آرمی چیف سے بنا کر نہیں رکھی" کتنا بڑا قصور ہے!
ایسے قصور بھی بھلا معاف ہوسکتے ہیں ؟
انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پی ٹی آئی کو عسکری غبارہ تو بنا ڈالا مگر جب الیکشن آیا تو یہ غبارہ کسی ناکام میزائل تجربے کی طرح زمین پر آگرا اور نواز شریف کو روکا نہ جا سکا۔ اس نے اقتدار میں آنا تھا سو آگیا۔ 

خیال تھا کہ جنرل پاشا کی سرگرمیوں سے وہ سیکھ گیا ہوگا اور اس بار وہ "آرمی چیف سے بنا کر رکھے گا" اسے ایک سال کا موقع دیا گیا لیکن اس نے اپنی ریت نہ بدلی۔
اس نے ملک کے سب سے بڑے غدار اور آئین شکن جنرل مشرف کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ اس نے ثابت کردیا کہ وہ باز آنے والا نہیں۔ جنرل مشرف جن بہادر سپوتوں کا تھا انہوں نے اسے ملٹری ہسپتال میں سنبھال لیا اور عسکری غبارے میں ایک بار پھر ہوا بھرنی شروع کردی۔ پھر وہ غبارہ پانچ سال تک انتشار پھیلاتا رہا۔

 آئین شکن کے سامنے عدالت بے بس ہوئی اور وہ کمر درد کے نام پر فرار ہوگیا۔ یہ کمر درد بھی عجیب چیز ہے۔
 دوسری جانب نواز شریف کو نااہل کردیا گیا لیکن اس نے ثابت کردیا کہ اس کی کمر کوئی فوجی کمر نہیں کہ درد کا شکار ہوجائے۔ خیال تھا کہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے خلائی مخلوق  کا راستہ کھلا چھوڑ دے گا۔ لیکن پاکستان کی قومی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی لیڈر نے "رضا کارانہ جلا وطنی" کے بجائے،  مزاحمت کی راہ چن لی۔
  لیکن یہ پی ٹی آئی  یا قادری و الی مزحمت نہیں ہے ، کہ
٭- اسلام آباد بند کر دیا جائے ۔
٭- قومی اسمبلی  پر حملہ کیا جائے ۔
٭- سپریم کورٹ کی دیواروں پر گندے پوتڑے صاف کئے جائیں ،
٭- پی ٹی وی پر حملہ کیا جائے ۔
بلکہ"ووٹ کو عزت دو  " سے شروع ہونے والی وہ مزاحمت ہے۔ انصاف کے نام سے انصاف کی بدکرداری کو اعلیٰ ظرفی اور حقوق کی پاسداری میں تبدیل کرنے والی مزاحمت ہے ۔
اندھیرنگری اور چوپٹ راج   کے آغاز کو، عوام کے ووٹ سے روکنے  والی مزاحمت ہے ۔
اُس  حکم کو تبدیل کرنے والی مزاحمت ہے جو صفحہ قرطاس پر لکھ دیا گیا ہے ۔ کہ ،
" ہم نے بڑی کوشش کی لیکن ہمیں نواز شریف    کا پبلک منی لوٹنے کا ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی یہ ثبوت ملا کہ وہ بیرونِ ملک کسی جائداد کا مالک ہے ۔ لیکن اُس کے بچے جس فلیٹ میں 1993 سے  رہ رہے ہیں وہ بھی وہاں جا کر رہتا تھا ،جس کا ہمیں مختلف فوٹوسٹیٹس سے  یقین دلا دیا گیا ہے، جس کو  سپریم کورٹ کے حکم سے بننے والے اعلی عہدیداروں پر مشتمل جے آئی ٹی کے سربراہ نے ، اپنے دستخطوں اور ربڑ کی مہر  سے تصدیق  کر کے ثابت کیا ہے   کہ   یہ فلیٹ اُسی کے ہیں ۔ چنانچہ وہ 10سالہ     بھیانک سزا  کا مجرم قرار دیا جاتا ہے ۔ "

پی ٹی آئی نامی   غبارے میں پچھلی بار سے چار گنا زیادہ ہوا بھری جا چکی۔ بنی گالہ کو "حکم حاکم  لوٹا گاہ" میں بدل  دیا گیا ہے ۔ لیکن معلوم نہیں   پھر بھی  عالمی ہی نہیں مقامی ادارے بھی سروے رپورٹ میں یہ بتاتے جا رہے تھے کہ نواز لیگ اب بھی سب سے مقبول جماعت ہے۔
یہاں تک کے اس کے امیدواروں کو تھپڑ مار مار کر ٹکٹ واپس کروا لئے گئے، کچھ کو ٹکٹ ملتے ہی نیب سے اٹھوا لیا گیا مگر رپورٹ اب بھی یہی کہتی تھی کہ نواز لیگ مقبولیت میں سب سے آگے ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان   نے ، ڈگڈگی بجانے کے ماہر  ، بقول  نیازی  چپڑاسی سے کم اوقات رکھنے والے  ، شیخ رشید کے ساتھ اس کے حلقے کا دورہ کر ڈالا مگر رپوٹس اب بھی یہی تھیں کہ نواز لیگ سب سے آگے ہے۔
 راتوں رات "جیپ" میدان میں آگئی تاکہ عسکری غبارے کو سپورٹ مہیا کی جا سکے لیکن نواز لیگ کی مقبولیت عسکری غبارے اور جیپ دونوں ہی سے زیادہ رہی۔
بارشوں نے ساری دنیا میں تباہی مچائی ہوئی ہے ، ترقی یافتہ اور قابلِ تقلید قوموں کے شہر  ڈوبے تو ڈوبے  عمارتیں بھی ڈوب چکی ہیں۔
پڑھیں :   پیرس کی بارشیں 
 خوفزدی کا یہ عالم ہے ، کہ نواز شریف  کو  ائرپورٹ پر اترتے ہی خصوصی ہیلی کاپٹر میں  سیدھا اڈیالہ جیل جا کر اتارا جائے گا ۔

لیکن کیا اِس سے  وہ سب کچھ حاصل ہوجائے گا  جو خلائی مخلوق چاہتی ہے ؟
کیا ایک سیاست دان کٹھ پتلی ہوتا ہے ؟
ہاں وہی جس کو معلوم ہے ، کہ وہ سرکنڈوں کی گاڑی پر بٹھایا گیا ہے اور جس کو خوفزدہ  چوہے بلی کی ہدایت پر کھینچ  رہے ہیں

مانگے تانگے کے سرکنڈوں سے بنی یہ گاڑی کتنا چلے گی ؟
کسی کو اندازہ ہے ۔
پڑھیں :  پچیس جولائی کو رات 12 بجے آنکھوں دیکھا حال

کل ایک بقراط نے کہا کہ خلائی مخلوق  اور عمران خان ملک کر سرکنڈوں کو تراش خراش کر  مضبوط بنائیں گے ، اور دیکھنا ، پاکستان کہاں سے کہاں پہنچتا ہے ۔
کبھی ایسا ہوا ہے ، کہ لعنت  یافتہ طبقہ  اوجِ ثریا پر  یہ نعرہ  ،"    
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ " لگا  کر جا بیٹھے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کیا عمران خان یہودی ایجنٹ ہے ؟
سیتا وھائیٹ کا مقدمہ کیا ہے ؟  


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔