میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 جولائی، 2018

نواز شریف کو کیسے ہٹایا جائے ؟


 لیکن نواز شریف کو کیوں ہٹایا جائے ؟
اُس  کا ایسا کیا جرم ہے ؟




 یہ اتنا بڑا سوال تھا  کہ جس کے جواب کو حل کرنے کے لئے تمام غیبی طاقتیں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں ۔  صرف ایک واحد حل تھا ۔  اور وہ بیرونِ ملک سے ڈوریاں ہلائی جائیں ۔
پاکستان کے تمام  بیوروکریٹس ، ملٹری کریٹس ، سیاست دان  ، بیرون ملک اپنی آمدنی سے زائد اثاثے بنانے میں مشہور ہیں ، یہ اثاثے کیسے بنائے جاتے ہیں ؟ 

 سب پاکستانی جانتے ہیں  !
یہ اثاثے صرف وہی بنا سکتے ہیں جو آفس ہولڈر ہوتے ہیں ! یا   پھر ،

بزنس مین  ، اپنی محنت سے غیر ممالک میں جانے والا صرف قرض سے اپنے اثاثے بنا سکتا ہے ! یا پھر   ، 
عوام سے چندے مانگنے والے  مُلّا و فقیر ، پاکستان میں اِس طریقے سے اپنی  آمدنی سے ملکی اور بیرون ملکی سب سے زیادہ اثاثے بنانے والا  اِس صدی کا  ولیّ تھا  ۔ عبدالستّار ایدھی،   ایدھی فاونڈیشن  میں 51 فیصد حصص حکومتِ پاکستان کے ہیں ۔

نواز شریف کو پکڑنے کے لئے ، پاکستان کے ملک و بیرونِ ملکی تمام سازشی ، ذہنوں کو یہ کہہ کر اکٹھا کیا ، کہ لوہار کا بیٹا  زرداری کے بعد  پاکستان کا دوسرے نمبر پر امیر ترین انسان ہے ، جس نے رائے ونڈ میں مغل شہنشاہوں کے طرز پر محل بنایا ہے اور کیوں کہ ہندوستان کا مہاجر ہے لہذا ہندوستان سے اپنی محبت برقرار رکھی ہے اور اپنے محل کو  ہندوستان  کے محلے کے نام سے جاتی امراء رکھا ہے جو ایک غریبوں کی بستی تھی مگراُن کے خیالات امیروں کے تھے ۔ 


لکھاریوں کی ایک پوری ٹیم خریدی گئی  ، کمپیوٹر ، گرافکس ، ویب ڈیزائینگ  کے  لوگ خریدے گئے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کام شروع کردیا ۔
سوئیزر لینڈ کے علاوہ ، پانامہ اور دیگر کئی ملکوں میں ، تیسری دنیا کے علاوہ پہلی دنیا کے ممالک کے وہ لوگ جو اپنی  دھڑا دھڑ کمائی کو ٹیکسوں سے بچا کر        باہر لے جاتے ہیں اور وہاں جائدادیں بناتے ہیں ۔   کمپیوٹرز کے ھیکرز  جن میں زیادہ تر بلیک میلنگ کے لئے مشہور ہیں اور اپنا مواد  دوسرے ملکوں کے بلیک میلرز  کو بیچتے رہتے ہیں ، جب کسی کو گرانا ہوتا ہے یا جائدادوں پر  قبضہ کروانا  ہوتا ہے  تو یہ  مواد لیک کر دیا جاتا ہے  ۔ جن میں سے ایک مشہور زمانہ پانامہ لیکس   ہے   جس کی دھول  5 جولائی 2016  اُٹھی ۔ اور دوسری پیرا ڈائز لیکس  ہے -
پڑھیں پیرا ڈائز لیک   کے پاکستانیوں کے نام

مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی ، کہ  پنامہ میں  آف شور  کمپنی کھولنے والا سب سے پہلا پاکستانی ، محمد عمران خان نیازی ولد اکرام خان نیازی تھا  ، جس نے  بڑے شاطرانہ انداز میں اپنی صفائی دی ، کہ اُسے  اُس کے ٹیکس لائرز نے برطانیہ میں اپنا خریدے جانے والے فلیٹ پر ٹیکس بچانے کے لئے   برطانیہ سے باہر کمپنی کھولنے کا مشورہ دیا ۔ جس کے ذریعے وہ اپنی کمائی کو برطانیہ سے باہر ظاہر کرے اور وہاں سے برطانیہ لا کر فلیٹ خریدے تو اُسے معمولی ٹیکس دینا پڑے گا ، ورنہ ٹیکس بہت زیادہ ہوجائے گا ۔  یاد رہے کہ عمران خان کے مطابق وہ دوہری قومیت  نہیں رکھتا اور اُس کے پاس برطانوی نہیں بلکہ پاکستانی پاسپورٹ ہے ۔
  لہذا عمران خان نے 1983 میں  نیازی    سروسز  کے ذریعے ڈرائی کاٹ  ایونیو کا فلیٹ    117,500 پاونڈز    میں خریدا ،    جس کے لئے   61,000 پاونڈ ادا کئے اور باقی قرضہ   میں  تبدیل ہو گیا ۔ جو بعد میں قسط وار دسمبر 1989 تک بمع   13.75 فیصد ٹیکس سالانہ 5 سال کے لئے    جمع کروایا گیا ۔ عمران خان نے   بحیثیت کرکٹر اپنی تمام کمائی   75,000 پاونڈز  پر پاکستا ن میں 1977 سے 1979 تک   کوئی آمدنی  ٹیکس نہیں جمع کروایا ۔ 
 پاکستان کے قانون کے مطابق ، سالانہ انکم ٹیکس ریٹرنز میں شامل نہ کی جانے والی جائداد یا  رقوم   ، آمدنی سے زائد تصوّر کی جائیں گی ، جس پر  قانون کے مطابق سزا اور جرمانہ دونوں ہو سکتے ہیں ۔
جب عالمی طاقتوں نے عمران خان پر انویسٹمنٹ شروع کی تو  سوال پیدا ہوا کہ اُسے پاک اور پوتّر کیسے بنایا جائے ؟
عالمی طاقتوں نے تو بہت پہلے فیصلہ کر لیا تھا اور اُس پر کام بھی شروع ہوچکا تھا ، جس کے بارے میں حکیم سعید  نے 1996 میں اپنی کتاب میں بتا دیا تھا ۔
پڑھیں : کیا عمران خان یہودی ایجنٹ ہے ؟

2000 میں  پرویز مشرف  نے ، غیر ممالک میں جائداد بنانے والے چوروں  کے لئے عام معافی کا اعلان کیا ، جس  میں اپنی آمدنی سے زائد رقوم سے جائیداد بنانے والوں نے فائدہ اُٹھایا  ، جس میں عمران احمدخان نیازی بھی تھا  ۔ جو 1983 میں خریدے گئے اپنے چوری کے  فلیٹ کو  ظاہر کرکے  مالیاتی مجرم سے نیکوکار بن گیا ۔ 
لیکن حیرت کی بات ہے ، سپریم کورٹ کے فُل بنچ نے  تو مشرف دور  کو ایسا مٹایا جیسے کہ وہ تھا ہی نہیں ۔ لیکن چوروں کو دی جانے والی عام معافی کیسے برقرار رہی ؟ 
لیکن 1992 میں خریدے جانے والے ، ایوین فیلڈ اپارٹمنٹ   کے مالکان فائدہ نہ اٹھا سکے  ، کیوں کہ وہ سب پرویز مشرف کے زیر عتاب ملک سے باہر زندگی گذار رہے تھے ۔   12 اکتوبر 1999 کے بعد پرویز مشرف نے بھٹو کی طرح  لوہار خاندان کے سربراہ محمد شریف  کو اُس کے پوتوں سمیت  خوب رگیدا ، لیکن اُس کی نیب  ، ایف آئی اے اور آئی ایس آئی ، کچھ بھی تلاش نہ کر سکی ۔ 
محمد  شریف   نے بھٹو  کے ہاتھوں تباہ ہوجانے کے بعد  ایک اور لوہار محمد لطیف  کی طرح     پاکستان چھوڑنا گوارا  نہیں کیا ۔پڑھیں :بھٹو کے ہاتھوں تباہ ہونے والی  ۔    بٹالہ انجنیئرنگ کمپنی 
دونوں کمپنیوں  کی نیشنلائز کرنے کی واحد وجہ ، کہ اِن کے مالکان نے  بھٹو کی پارٹی  کو چندہ نہ دیا  ۔   
بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد ضیاء الحق نے  بھٹو کے ستائے ہوئے بزنس مینوں کو سہارا دیا ، تمام قومیائی گئی انڈسٹریز اور سکولوں کو بیوروکریٹک  پنجوں سے آزاد کیا  ۔
جنرل ضیاء الحق نےسی ایم لطیف سے  بھی  1977ء میں  بیکو واپس لینے کی درخواست کی لیکن سی ایم لطیف نے معذرت کر لی‘ 1972ء میں جب بھٹو نے سی ایم لطیف سے بیکو چھینی تھی‘ اس وقت اس فیکٹری میں چھ ہزار ملازمین تھے اور یہ اربوں روپے سالانہ کا کاروبار کرتی تھی لیکن یہ فیکٹری بعد ازاں زوال کا قبرستان بن گئی‘ حکومت نے اس کا نام بیکو سے پیکو کر دیا تھا‘ پیکو نے 1998ء تک اربوں روپے کا نقصان کیا۔ 
محمد شریف کو بھی واپس  اتفاق سٹیل انڈسٹری مل گئی ۔  لوہاروں نے دوبارہ اپنا کام شروع کر دیا ۔ جب عمران خان نہ صرف   برطانیہ میں ٹیکس کی چوری کر رہا تھا ۔ بلکہ پاکستان میں بھی وہ  باقی کرکٹرز کی طرح ٹیکس چوروں کی فہرست میں  نمبر ون تھا ، اتفاق انڈسٹریز  ملکی خزانے میں  اضافہ کر رہی تھی اور ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار  اِس سے وابستہ تھی  ۔  
انڈر انوائسنگ آج بھی ہر امپورٹر  کی خواہش ہوتی ہے ۔ جس میں کسٹم والے دل کھول کر مدد کرتے ہیں   پاکستان سے  مشینری کی ایکسپورٹ پر ٹیکس کی شرح بہت کم تھی تاکہ زرمبادلہ لایا جائے ۔ پاکستان کے تمام ایکسپورٹرز نے  نہ صرف ایکسپورٹ مد میں ملنے والے فارن ایکسچینج سے بیرونِ ملک جائداد بنائی ۔ بلکہ ھنڈیوں سے بھی ڈالرز باہر بھجوائے ، جس میں اُن کی مدد  منی چینجرز اور ہنڈی کا کام کرنے والوں نے کی ۔ غیر ممالک سے والدین اور بیوی بچوں کو بھیجی جانے  والی رقوم بھی  ہنڈیوں کے ذریعےڈالر کی صورت میں نہیں بلکہ روپوں کی صورت میں   ہی پاکستان میں  دی گئیں   ، جس سے بے نامی جائدا د  بھی  خریدی گئیں   ۔
1982 میں سعودی عرب گئے ہوئے فوجی  جوانوں  اور فوجی آفیسروں نے بھی     ہنڈیوں کا استعمال کیا ۔


٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے  ٭٭٭٭٭٭٭
  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔