میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 9 جولائی، 2018

خواجہ سرا اورایک سو کروڑ روپے کے اثاثے !

 الماس بوبی کی مدد کرنے والے ایف بی آر کے اہلکار کے مطابق:
  الماس بوبی نے تقریبا 110 ملین روپے مالیت کے اثاثے ظاہر کئے ہیں جبکہ انہوں نے 5 فیصد کے حساب سے 5.5 ملین روپے کا ٹیکس بھی ادا کیا ہے۔ 
 بہت سے پاکستانی ،  الماس بو بی  سے واقف نہیں -
الماس بوبی شی میل فاؤنڈیشن کی صدر ہے۔ یہ الماس بوبی کی جد و جہد کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان کی 62 سا لہ تا ریخ میں 2009 میں سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کی مردم شما ری کا حکم دیا اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چو ہدری نے نا درا کو خواجہ سرا کیمونٹی ارکان کے لئے الگ شنا خت کے سا تھ،  قو می شنا ختی کا رڈ جا ری کر نے کا فیصلہ بھی سنا یا- 

It’s a major step towards giving us respect and identity in society. We are slowly getting respect in society. Now people recognize that we are also human beings.

یہ 110 ملیئن  روپے الماس بوبی کے ذاتی نہیں ہیں ۔  تو پھر کس کے ہیں ؟

ایک نجی ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے  اینکر کا سوال   تھا ۔۔
 میں نے آج تک آپ کی کیمیو نٹی کے کسی بزرگ ( خوا جہ خسرا ) کو کسمپرسی کی موت مرتے نہیں دیکھا ۔ میں نے بہت کم دیکھا کہ کو ئی خسرہ دوائی نہ ملنے سے کی وجہ سے پریشان ہو ایسا کیوں ؟
  الماس بو بی نے کہا :
ہما رے گرو یا ہما ری فیملی کا کو ئی بھی فرد بیمار ہو جا ئے تو ہم سب اپنے پر اس پہ اس طرح پھیلا دیتے ہیں جیسے مر غی اپنے چوزوں پر ۔
 ہم سب اس پہ سا یہ بن جا تے ہیں کہ دکھ کی دھوپ اس سے دور رہے ۔ 
میں تو کہتی ہوں کہ آپ لوگ ہم سے یہی سیکھ لیں ایک دوسرے کے کام آ نا اور ایک دوسرے کا سہا را بننا
 یہی تو دین ہے اور 
یہی احساس ہی تومذ ہب ہے اور
 شا ید اس کا نام ہی تو انسا نیت ہے ، 
ہما رے لوگ تو ناچ ناچ کر بھیک ما نگ ما نگ کر اپنے بنا ئے رشتوں کو نبھا تے ہیں مگر آپ کے ہاں تو ایسا نہیں ہو تا کیوں ؟ 
 شناختی کارڈ کے اجراء کی دھائی دینے کے لئے ، کیوں کہ اُس کے بغیر خواجہ سرا  عمرہ یا حج پر نہیں جاسکتے ۔ حج یا عمرہ کا سنتے ہی 50 مُفتیان کے جتھے میں  زلزلہ آگیا کہ ، غضب خدا کا کہ اب خواجہ سرا م حرمین شریفین کو اپنے  گندے بدن سے  اُس پاک جگہ قدم رکھ کرناپاک کریں ہے ۔  لیکن وہ بھول گئے ، کہ لونڈے باز ، زانی اور زانیہ  سب حرم میں جاکر گڑ گڑا کر اپنے گناہ بخشواتے ہیں ، جس کا انعام اُنہیں یہ ملتا ہے کہ وہ واپس آکر اُس گناہ کی دلدل میں دوبارہ قدم نہیں رکھتے ۔
رہے خواجہ سرا   ، الماس بوبی نے ٹی وی  ایک مُفتی اور کمنٹیٹر سے بحث کے دوران بتایا ۔ کہ خواجہ سرا ، دو  طرح کے ہوتے ہیں ۔

مرد خواجہ سرا (زنخے ) اور عورتیں خواجہ سرا (زنخیاں) ۔
عورتیں خواجہ سرا :  وہ ہوتی ہیں ، جن میں  عورات النساء مکمل نہیں ہوتے ، اللہ کی یشاء سے وہ  اپنی جسمانی  بیماری( کزن میرج )  کی وجہ سے  مکمل عورت بننے سے رہ جاتی ہیں ۔ اُن مائیں  یہ سب جانتے ہوئے بھی چھپا کر اُن کی شادیاں کروا دیتی ہیں ، شوہر کو معلوم ہونے کے بعد  ،اُنہیں طلاق ہو جاتی ہے کیوں کے اِن کے اولاد نہیں ہوسکتی ۔  
عورت خواجہ سرا ، میں پستان نہیں ہوتے ، جس کی وجہ ہارمونز کا غیر متوازن ہونا ہے لہذا اُنہیں  حیض بھی نہیں آتا  یا  اِن ایام میں تواتر نہیں ہوتا ۔کچھ  میں   ، اندامِ نہانی مکمل نہیں ہوتی  ۔ بس پیشاب کا سوراخ ہوتا ہے ، جسمانی  ہڈیاں   عورت   کے جسم کی طرح ہوتی ہیں ۔ ایسی خواتین کو  سدا سہاگن بھی  کہا جاتا ہے -

یہ اپنے ماں باپ کے پاس ہی رہتی ہیں اور  خواجہ سراؤں کے گروپ میں شامل نہیں ہوتیں ۔
 مرد خواجہ سرا:  یہ  جسمانی  ہڈیوں کے لحاظ سے مرد ہوتے ہیں ، اِن  کی دو قسمیں ہوتی ہیں :
پہلی:   اِن کی تین قسمیں ہوتی ہیں :
1۔ مکمل عضو تناسل  والے :   جوانی شروع ہونے پر کچھ لڑکوں کو احساس پیدا ہوتا ہے ، کہ اُن میں جنسی تحریک  پیدا نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے ، تو کمزور  رہتی ہے ۔یہ  جنسی فعل نہیں کر سکتے ۔ یہ سب خواجہ سرا گروپ میں شامل نہیں ہوتے ، کیوں کہ اُن کی مردانگی  اُنہیں اِس کی اجازت نہیں دیتی ، یہ شادیاں بھی کرتے ہیں ۔
2- جن کے عضو تناسل کاٹ یا بے کار کر دئے جاتے ہیں :  
(Eunuch)  پرانے زمانے میں ایسے  مرد ، امیر لوگوں  اور بادشاہوں  ، زنان خانوں   پر پہرا دینے  کے لئے رکھے جاتے تھے ۔
3-  جن میں عضو تناسل ایک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے :    یہ خواجہ سراؤں میں  شامل ہوجاتے ہیں یا کر دیئے جاتے ہیں  ۔ یا خواجہ سرا معلوم ہوجانے  پر اںہیں اُن ک ے والدین سے لے جاتے ہیں یا اغواء کر کے دور شہر کے خواجہ سراؤں کو تربیت کے لئے دے دیا جاتا ہے ۔ 

  دوسری:  وہ جو جنسی فعل کے لحاظ سے مکمل مرد ہوتے ہیں لیکن اُن کے ذہن عورتوں کے انداز میں پروان چڑھتے ہیں ۔  یہ شادیاں بھی کرتے ہیں اِن کے بچے بھی ہوتے ہیں ، دن کو یہ خواجہ سرا کا روپ دھارے پھرتے ہیں اور رات کو اپنے گھر مردانہ لباس پہن کر جاتے ہیں ۔
اِن معلومات کو سننے کے بعد مفتانِ کرام کا فتویٰ  ، جوہڑ میں بہہ جاتا ہے ، کہ جو  خواجہ سرا جنسی فعل نہیں کرسکتا وہ گناہ  کیسے کر سکتا ہے؟
لازمی بات ہے کہ جنسی فعل کرنے والے ، قومِ لوط کر فرزندان ہوں گے ۔
نوٹ :  کسی صاحبِ ادراک سے سوال ہوا :
جناب کیا طوائف کی نمازِ جنازہ پڑھی جا سکتی ہے ؟
صاحبِ ادراک نے جواب دیا :
جب طوائف سے  جنسی فعل کرنے والے  کی نمازِ جنازہ پڑھی جاسکتی ہے تو طوائف کی کیوں نہیں !
سوال کرنے والا : اپنے گریبان میں جھانک کر خاموش ہو گیا !

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں : آیات اللہ اور خواجہ سرا

بچے کا جنسی استحصال بذریعہ تشدّد و لالچ  

فحاشی کیا ہوتی ہے ؟

مختون سے پختون تک  ،

  خواجگان مسجدِ نبوی  ۔

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔