میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 31 اگست، 2018

حسبِ حال

 پٹھان : میں اِ س سے اپنا ڈرائیونگ لائیسنس بنواؤں گا ۔

پٹھان کی ماں بولی  : اِس کی بات کا یقین مت کرو یہ ہیروئین پی کر کچھ بھی بول سکتا ہے ۔

پٹھان کا باپ نیند سے جاگ کر بولا : مجھے پتہ تھا کہ چوری کی کار میں ہم زیادہ دور نہیں جاسکتے ۔

ڈگی سے آواز آئی : خان صاحب ہم نے باڈر کراس کیا کہ نہیں ؟



بدھ، 29 اگست، 2018

رعونت ،تکبر اور فاشزم کا پیکر

  فیاض الحسن چوہان،
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ   کا امین !
 پنجاب حکومت کا ترجمان۔
 سما نیوز پر اینکر ذیشان کے سوالات کا جواب نہ دے سکا تو مائک اتارا، گالیاں بکیں اور چلا گیا۔
 یہ رعونت ،تکبر   اور  فاشزم   کا پیکر!
  یہ ہے نئے پاکستان کی ٹیم جس کی تربیت عمران خان نے دھرنوں میں کی !
لنک پر وڈیو دیکھئے ؛

رسول اللہ کے لئے مال نہیں، بس خواہشات کو قربان کریں

ہالینڈ میں  ایسی ہستی  کے خیالی کارٹون کا مقابلہ کروانا ،
 جو مسلمانوں کو اپنے والدین اور جان و مال سے زیادہ عزیز  ہے ۔
ہالینڈ کی عوام اور صدر کی آزادی  اظہار رائے  کے  قانون   پر مجرمانہ خاموشی !
 ہالينڈ کی3 بڑی کمپنيوں کا  پاکستان ميں اربوں روپوں کا بزنس ۔
Shell,
Phillips,
Uni Lever
 آپ کی جان اور مال کی ضرورت نہیں بلکہ صرف خواہش کی قربانی چاھئیے ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک  کا لائحہ عمل کیا ہوگا ،
لیکن کیا محمدﷺ  کے لئے ہم اپنی خواہشات قربان نہیں کرسکتے ؟
تو آئیں ، عہد کریں کہ ہم ہالینڈ کی مندرجہ ذیل چیزیں استعمال کرنے کے بجائے اُن کی متبادل چیزوں کو اپنائیں گے۔


ذرا سوچیں !
اگر پوری دنیا کے مسلمان متحد ہوجائیں تو ہالینڈ اپنے  
آزادی  اظہار رائے   کے قانون میں تبدیلی کرسکتا ہے !

 ایک ارب 70کروڑ مسلمان  اور ہالینڈ میں رہنے والے  10 لاکھ مسلمان  کیا اپنی خواہشات کی قربانی نہیں دے سکتے ؟


پوری دنیا میں تہلکہ

فواد چوہدری کی گوگل سرچ نے ، انٹر نیٹ کی پوری دنیا میں تہلکہ  مچادیا۔
 
فائبر گلاس انڈسٹری کے بعد  صنعت کاروں نے  اب  افریقہ کے جنگلوں میں 55 روپے فی کلو میٹر سے کم خرچ ہیلی کاپٹر تلاش کر لئے ۔ جن کی رفتار اور خرچہ ہم پلّہ  قرار دیا جا رہا ہے ۔ 
افریقی صنعت کار ہونا لولو بوگاڈا کپیرا   ، نئے پاکستان کے وزیر اطلاعات سے اپنی ہیلی کاپٹر پر ملنے کے روانہ ہونے کے لئے ہیلی پیڈ پر  ہاتھ ہلا کر  اپنے عوام کو الودع کہہ رہے ہیں ، اُنہیں امید کے کہ  پاکستان سے ہیلی کاپٹروں کی ڈیمانڈ کی وجہ سے اُن کی سٹیٹ میں ایک لاکھ افراد کو روزگار ملنے کی توقع ہے  ۔ اُن  کا خیال  تقریباً 50 ہزار نئے پاکستان کے عوام کو روزگار ملے گا  ۔

نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم کو  ہیلی  کاپٹر  کی ٹیکنیکل ڈرائینگ سمجھانے کے لئے  ، مشہور ماڈل کی مدد بھی لی گئی ۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


منگل، 28 اگست، 2018

تین عورتیں تین کہانیاں !

 ہمارے بچپن کے زمانے کیا خوب تھے ، مغرب سے پہلے کھانا کھا کر صحن میں بچھی چارپایوں پر لیٹ جاتے کبھی  امی سے اور کبھی  باجیوں ، آپاؤں ، خالاؤں سے کہانیاں  سنتے   ، کہانیاں سنتے سنتے نیند کی آغوش میں پہنچ جاتے۔ یو ں کہانی کبھی نہ پوری ہوتی   کیوں کہ پوری کہانی  سننے والے  بڑے بچے دوبارہ وہ کہانی سننا پسند نہیں کرتے  تھے ۔ 
اب بوڑھے ہو چکے ہیں ، چنانچہ فیس بُک پر کہانیاں پڑھتے ہیں ۔ ایک فیس بُک پر  بننے والے دوست نے ایک کہانی پوسٹ   کی ، آج بچپن اور جوانی میں کھو جانے کا دن تھا لہذا  اپنے گالف کے پارٹنر اور   سنہرے دنوں کے  میں ساتھ رگڑا کھانے والے ساتھی    سے اچھی فلموں کی لسٹ وٹس ایپ پر منگوائی،  3 انگلش فلمیں ڈاؤن لوڈ کیں  اور ترتیب وار دیکھنا شروع کیں ، فلموں سے فارغ ہو تو  فیس بُک کھولا  ، تو یہ کہانی نظر آئی :
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  پروفیسر نے ایک شادی شدہ  لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا ،
"  آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25- 30 لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں"
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور چند کلاس کی لڑکیوں  کے نام لکھ دیئے !
 " شاباش " پروفیسر کلاس سٹیج   پ ٹہلتا ہوا بولا،"گویا ساری  دنیا میں   یہ  26 لوگ آپ کو سب سے پیارے ہیں ؛
اچھا ایسا کرو  کہ  اِن لوگوں  میں جو  5 افراد آپ کو کم پسند ہوں    اِن کے نام مٹا دو "

لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے !
" ہوں "
پروفیسر بولا،" چلو اب مزید   5 نام مٹا دو "
 لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيو ں کے نام مٹا دیے "اوکے "پروفیسر بولا،" ایسا کرو  کہ اب اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 10  نام مٹا دو "
 لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے 
  اب بورڈ پر صرف 6  نام بچے تھے  ۔ ماں ، باپ ، بہن ، بھائی ، شوہر اوربچے   کا نام تھا ۔
 " ہوں "پروفیسر بولا،" چلو اب 2  نام مٹا دو "
کلاس میں سناٹا چھا گیا  ، کسی بھی انسان کی زندگی کو خوبصورت بنانے کے لئے  6 اہم افراد  !  
 لڑکی کشمکش میں پڑ گئی، بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنی ماں اور باپ کا نام مٹا دیا۔ پوی کلاس نے گہری سانس لی   لیکن پرسکون تھے ،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکہ وہ بھی اپنے ذہن میں اِس کھیل میں شامل ہو چکے تھے!

" چلو اب 2  نام  اور مٹا دو "   پروفیسر بولا
 لڑکی نے بغیر جھجکے   بہن اور بھائی کا نام مٹا دیا ۔  اب صرف دو نام بچے  ، کلاس سوچ رہی تھی کہ ایک شادی شدہ عورت کی زندگی میں شوہر اور بچہ دنیا کی سب سے پیاری ہستیاں ہوتی ہیں ۔
پروفیسر سٹیج کے درمیان سے چلتا ہوا کلاس کے بائیں کونے تک گیا ، گھوم کر کلاس کی طرف دیکھا ، ساری کلاس دم سادھے اُس کو دیکھ رہی تھی ، کہ اب پروفیسر کیا کہتا ہے ؟

پروفیسر نے لڑکی کی طرف دیکھا وہ  ملول اور افسردہ  سی ایک کونے میں  کھڑی تھی ۔ شاید وہ بھی پروفیسر کے اگلے جملے کا انتظار کر رہی تھی ، پِن ڈراپ سائیلنس زدہ ماحول میں  پروفیسر  کی آواز گونجی ۔
"   اب ایک   نام  مٹا دو "   

پوری کلاس کی نظریں لڑکی پر جم گئیں ، کے دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں  ۔ لڑکی سہمی نظر آنے لگی اُس کے جسم کا لرزنا سب دیکھ رہے تھے، بالآخر اپنی پوری قوتِ ارادی جمع کرکے  آہستہ قدموں سے آگے بورڈ کی طرف بڑھی ۔ 
کانپتا ہاتھ بورڈ کی طرف  آہستہ آہستہ  اُٹھایا   ۔ رُکی ۔آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں ۔ اور 
اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا!
"تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ"   پروفیسر بولا ۔ لڑکی سر جھکائے اپنی سیٹ پر جا بیٹھی !
پوری کلاس کی طرف غور سے دیکھا۔

  " کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ سب سے عزیز ہستی میں صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا، ماں باپ ، بہن بھائی  ،یہاں تک کہ بیٹے کا کام بھی  کٹ گیا ،  ایسا کیوں ہوا ؟  "پروفیسر  کی آواز گونجی 
 سب  نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا  ، مگر خاموش رہے ۔
 پروفیسر نے اُسی لڑکی  طرف دیکھا ،
"   بیٹے اور شوہر میں سے آپ نے شوہر کا انتخاب کیوں کیا ؟ "
لڑکی کھڑی ہوئی اور پر اعتماد لہجے میں بولی ،
"میرا شوہر   مجھے میرے ماں باپ، بہن بھائی، حتیٰ کہ اپنے بیٹے سے بھی زیادہ عزیز ہے!

 وہ میرے ہر دکھ سکھ کا ساتھی ہے!
 میں اس  سے ہر وہ بات شیئر کر سکتی ہوں جو میں اپنے بیٹے یا کسی  اور یہاں تک کہ اپنی ماں  سے بھی نہیں کر سکتی !
میں اپنی زندگی سے اپنا نام مٹا سکتی ہوں ، مگر اپنے شوہر کا نام کبھی نہیں  مٹا سکتی!"
 بوڑھے کو یوں لگا کہ جیسے یہ جواب بڑھیا نے پروفیسر کو دیا  ہے ، واقعی  بیوی اور شوہر کا رشتہ  ایسا ہی ہونا چاہئیے ۔  پھر بوڑھے کو ایک وڈیو یاد آگئی آپ بھی دیکھیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوجوانو !
کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ، بلکہ شروع ہوئی ہے بوڑھے کے اِس سوال پر !



اوبر اور کریم ہیلی سروس کا امکان

 پچھلی حکومتوں نے  عوام کو جی بھر کر بے وقوف بنایا کہ ہیلی کاپٹر کا سفر بہت مہنگا ہوتا ہے 
۔   عمران خان نے جتنے ہیلی کاپڑ پر سفر کیے اُن کا خرچہ،  ہم نے  نیب میں جمع کروادیا  ہے ۔ 
ہماری کیلکولیشن کے مطابق  ہیلی کاپٹر کا کل خرچ  55 روپے فی کلو میٹر آتا ہے ۔  فوادچوہدری وزیر اطلاعات  نیا پاکستا ن

چوہدری صاحب کے اِس بیان نے بزنس ٹائیکون کو ایک نئی راہ دکھا دی ہے ، لہذا اوبر اور کریم کے ساتھ  دیگر کئی افراد  نے   بھی ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے کا پروگرام   بنا لیا ہے ۔ 

خیبر پختون خواہ  میں  آزمائشی   تربیتی سروس شروع ہو چکی ہے  ۔

اب ہیلی کاپٹر پاکستان میں بننے شروع ہو چکے ہیں ۔
پڑھیں  :  عوام کے لئے 


پرانے پاکستان میں کئے گئے  وعدوں کی نئے پاکستان میں تکمیل کا دور شروع ہو چکا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پبلک ہیلی سروس ۔ عوام کے لئے

بدھ، 22 اگست، 2018

بکرا و بقرہ عید !


کیا پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا !


 "کیا پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا؟  (روزنامہ نوائے وقت)
اور کیا تمہارے باپ نے بنایا تھا ؟   (پیر صاحب پگاڑا)
(روزنامہ نوائے وقت) کے نمائندے کو جواب تھا۔ تب کے متحدہ مسلم لیگ کے صدر جناب(پیر صاحب پگاڑا) کی گفتگو ملاحظہ فرمائیں.
-------- ٭٭٭٭٭ -----------
پاکستان کے ممتاز سیاست دان اور متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر پگاڑا مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو روزنامہ جنگ میں 16 جولائی 2000 کو شائع ہوا۔ 
اس انٹرویو کے پینل میں جناب سہیل وڑائچ، جناب زاہد حسین اور جناب عارف الحق عارف شامل تھے۔ ذیل میں تاریخی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ منتخب حصے پیش کئے جا رہے ہیں۔
سوال: پیر صاحب! آپ متحدہ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، اس حوالے سے گفتگو کا آغاز تحریک پاکستان سے کرتے ہیں؟
پیر پگاڑا: اس حوالے سے پہلے یہ واقعہ سن لیں پاکستان بننے سے پہلے تین جگہ پر ہندو مسلم فسادات ہوئے ان میں سے ایک علی گڑھ میں ہوا۔ یہ 1945 کا واقعہ ہے کہ میں علی گڑھ کی نئی بستی میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں خبر ملی کہ ایک سندھی قتل ہوگیا، ہم وہاں گئے کہ ہم سندھی کی لاش کو سنبھالیں۔ ہم نے پوچھا کہ کیا ہوا تو پتا چلا کہ یہاں پتھراؤ ہوا ہے۔ تھوڑی دیر میں ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب آگئے۔ یہ ایس پی ٹیکسن صاحب تھے۔ ان کے بارے میں کسی نے بتایا کہ یہ وہ ایس پی ہیں جو انگلینڈ سے اپنے دوست کی بیوی ورغلا کر لائے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اچھے خون والا بندہ ایسا کام نہیں کر سکتا۔

(Like father Like son )  تو خیر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایس پی نے خود ہی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور اسی دوران بازار میں آگ لگ گئی اور فساد شروع ہوگیا تو اس واقعہ کا تو میں خود عینی شاہد ہوں کہ کس طرح ایک انگریز نے ایک سندھی کی بازار میں ذاتی لڑائی کو ہندو مسلم فساد بنا دیا۔ میں اس واقعے کا عینی شاہد ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ فساد پاکستان کے لئے نہیں تھا۔ یہ تو کروایا گیا تھا۔

سوال: پیر صاحب اس واقعہ سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ انگریزوں نے کیا؟
پیر پگاڑا:  دیکھو بھئی اگر تو لوگوں کو خوش کرنا ہے تو اور بات ہے اور اگر سچ سننا ہے تو میری معلومات یہی ہیں کہ برطانوی حکومت ہندوستان میں ایک مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھی۔ یہ فیصلہ قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ولی خان نے جب اس بارے میں بیان دیا تو جنرل ضیا الحق نے انہیں اس معاملے پر گفتگو کی دعوت دی۔ ولی خان نے جواباً ایک فوٹو سٹیٹ کاپی انہیں بھیجی جس میں واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ مسلم اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ 1940 سے پہلے ہوچکا تھا۔ اس کے بعد ضیاالحق خاموش ہوگئے۔ میں نے لندن جا کر تو تحقیق نہیں کی لیکن میری معلومات یہی ہیں۔

سوال: پیر صاحب کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یعنی پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا؟
پیر پگاڑا: دیکھو بھئی سچ سننا ہے تو وہ تو یہی ہے وگرنہ میں بھی آپ کو کوئی کہانی سنا دیتا ہوں۔

سوال: اس کا کوئی ثبوت ہے؟

پیر پگاڑا:دیکھو بھئی برطانوی وزیراعظم چرچل کی پنجاب کے اس وقت(1937ء – 1942ء )  کے وزیراعلیٰ  سر سکندر حیات (1892ء – 1942ء )   سے قاہرہ میں ملاقات ہوئی تو چرچل نے کہا کہ مسلمانوں نے سلطنت برطانیہ کے لئے جو قربانیاں دی ہیں ان کی بلڈ منی کے طور پر انہیں الگ ریاست دی جائے گی۔ میں نے یہ بات سر سکندر حیات کے بیٹے سردار شوکت حیات سے پوچھی تو انہوں نے تصدیق کی کہ چرچل نے سردار سکندر حیات سے یہ بات کی تھی۔
سوال: پیر صاحب! آپ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، آپ بھی وہ بات کہہ رہے ہیں جو قوم پرست کہتے ہیں۔پیر پگاڑا: دیکھو بھئی سچ سے تکلیف تو ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جس طرح دیگر بااثر لوگوں کو انگریز نے مسلم لیگ میں بھیجا تھا۔ علامہ اقبال بھی اسی طرح مسلم لیگ میں آئے تھے۔ آپ یہ بتائیں کہ علامہ اقبال کس کے کہنے پر قائداعظم کے پاس گئے تھے۔ دیکھو بھئی جتنے بھی بااثر لوگ تھے، وہ انگریزوں کے کہنے پر مسلم لیگ میں آئے تھے۔

سوال:تو کیا آپ دو قومی نظریے سے انکار کرتے ہیں۔
پیر پگاڑا:دیکھو بھئی ایک قوم ہندو تھی جو گئو ماتا کو پوجتی تھی دوسری قوم مسلمان تھی جو گئو ماتا کو کھاتی تھی تو دونوں قومیں تو الگ تھیں، البتہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں لبرل معاشرے کے قیام کے لئے بنا۔

سوال: تو کیا پاکستان بنانے میں مسلم لیگ کا کردار نہیں تھا؟
پیر پگاڑا: مسلم لیگ بااثر لوگوں کی جماعت تھی۔ یہ عوامی جماعت نہیں تھی کہ جس کے ووٹر ہوں، بااثر لوگوں کے ماننے والے اسے ووٹ دیتے تھے۔ مسلم لیگ اس وقت سے لے کر آج تک جماعت نہیں بن سکی، نہ یہ کبھی جماعت بن سکے گی۔ ملک میں اقتدار انگریز کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہے، وہی پالیسی آج تک چل رہی ہے، کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا"۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد جناب پیر پگاڑا پر روزنامہ نوائے وقت نے خوب لے دے کی۔ اسی دوران لاہور کے ایک اخبار نویس نے جب ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے اس بیان پر کیا اب بھی قائم ہیں کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا؟
تو پ
یر پگاڑانے اپنے مخصوص انداز میں کہا:
" اور کیا آپ کے باپ نے بنایا تھا؟ "
 ٭٭٭٭٭٭٭


فوجی کی تھی آرزو!

 
٭٭٭٭٭

اتوار، 19 اگست، 2018

کیا آپ میں سے کسی نے محمدﷺ کو دیکھا ہے ؟


 روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم الذین آمنوا  کو واضح الفاظ میں سنانے کا کہا :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا[33:21]

حقیقت میں  تمھارے  لئے   رَسُولِ اللَّهِ میں   أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ہے ، اُس کے لئے جورُجُو اللَّهَ   کرتا رہتا ہے اور  الْيَوْمَ الْآخِرَ اورذَكَرَ اللَّهَ  کثرت سے   کرتا رہتا ہے ۔ 
لہذا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ شخص     رَسُولِ اللَّهِ کی     أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ پر عمل کرتا ہے ۔ 
لیکن یہ نہیں کہہ سکتے ، کہ اُس میں محمدﷺ  کی شباہت  ہے !

ہفتہ، 18 اگست، 2018

حلف نامے پر جھوٹے دستخط

 الکتاب میں لکھے ہوئے عہد پر عمل نہ کر سکنے والے ،
شاید انسانی لکھے ہوئے عہد پر عمل کرسکیں !
لیکن جب سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے ، حلف نامے پر جھوٹے دستخط کئے ہوں ، 


تو یہ دستخط بھی یوں سمجھو برف کی سِل پر ہوئے ہیں !  

جمعہ، 17 اگست، 2018

کیا اللہ نے مجرموں کے لئے NRO بنایا ہے ؟


زانی صرف زانیہ یا مشرکہ سے نکاح کرے گا ۔اور زانیہ صرف زانی یا مشرک سے نکاح کرے گی۔
اللہ نےزانی اور زانیہ  مؤمنین پر حرام کر دیئے گئے ہیں !  

پیر، 13 اگست، 2018

ہندوستانی بادام کے درخت پاکستان میں !

 ہم کوئیٹہ کے رہنے والے ، جب 1966 کے نومبر میں والدین کے ساتھ میرپورخاص گئے۔
 تو گلی ہاکی کھیلنے والے دوستوں سے ساتھ ، نہر پر نہانے گئے ۔ راستے میں سٹلائیٹ ٹاؤن کو میٹھا پانی سپلائی کرنے والی  واحد  ٹنکی کےگیٹ کے باہر تین چار درخت لگے ،دوستوں نے بتایا  اِن پر بادام لگتے ہیں ۔ 

میں اور چھوٹا بھائی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، نہ درخت کا تنا باداموں جیسا اور نہ پتے باداموں والے۔ ہم دونوں نے یکسر انکار کردیا ۔
 پھر 1968 میں دوبارہ آئے ، بہن کی بیماری کی وجہ سے وہیں جم گئیں اوریہ بوڑھا  اُس وقت کا نوجوان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول میں ہاکی کھیلنے کی وجہ سے  ۔ ماسٹر الطاف صاحب  والدہ کی اجازت سے  خود اپنے ساتھ لے کر گئے اور جب تک سرٹیفکیٹ  کوئیٹہ سے نہ آئیں  ،لہذا اپنی کلاس آٹھویں میں بٹھا دیا تاکہ بچے کو گورنمنٹ ہائی سکول والے نہ لے اُڑیں ۔  
یوں موسم بہار میں ہم نے اِس درخت کے بادام توڑ کر کھائے ۔ ذائقہ بادام جیسا تو نہ تھا مگر شائد آموں کے دیس میں رہنے کی وجہ سے یا جامن کے پودے پر بادام کی قلم کی پیوند کاری کی وجہ سے ۔ چھلکے میں جامن و آم کا مکس ذائقہ آگیا ۔ لیکن گری کی بناوٹ بادام کی طرح ہونے کی وجہ سے ، بادام کی برادری میں شامل ہوگیا ۔ لیکن بطورِ مہاجر، یعنی ہندوستانی بادام کے لقب سے مشہور ہوا ۔   
 آج جب فیس بُک کے مشہور لکھاری  ثنا اللہ  خان احسن   کی پوسٹ    " کھٹے بادام " کو پڑھا ، تو بالا یاد ذہن کے تحت الشعور  تہہ سے چھلانگ مار کر شعور میں آگئی۔ 

ثنا اللہ  خان احسن   کی یہ خوبی ہے کہ وہ  اپنے مضمون سے اِس بوڑھے کو ماضی بعید  میں لے جاتے ہیں  ۔ جو اب بھول بھلیاں بن چکی ہیں ۔
پوسٹ کے کمنٹس میں ایک نوجوان نے سوال پوچھا ، 

" کیا ہم  اِس کھٹے بادام کے بیج سے درخت اُگا سکتے ہیں ؟"
کیوں نہیں!
پڑھیں :        پھلوں کے بیج اُگانا
" آپ ہر  بیج سے  پودا  اُگاسکتے ہیں ، لیکن اچھا پھل حاصل کرنے کے لئے  ، اچھی دیکھ بھال بھی چاہئیے ہو گی۔ جس میں سب سے اہم موسمی اثرات سے بچانا ہے  !" 
  اب یہ دیکھیں ، جب بوڑھے کو باغبانی کا شوق چرایا تو اُس نے پھلوں کے بیجوں سے پودے اُگانا شروع کر دئیے ۔
ارے بھئ بات ہو رہی تھی  ،  ثنا اللہ  خان احسن   کے    " کھٹے بادام " کی  یا ہندوستانی  باداموں کی پاکستان میں  آمد ، ہوا یوں کہ دراصل اِس  کھٹے  بادام  کی جنم کنڈلی  کا سرا افریقہ میں جاکر ملتا ہے  ، کیوں کہ یہ خطِ استوا کے شمال اور جنوب میں  پائے جانے والے  تمام ممالک میں پایا جا سکتا ہے ۔ لہذا  اِس کے بیج  جہازران ، قافلوں اور فوجیوں کی خرجیوں  کی بدولت  ایشیا میں  پھیل گیا ۔ 
اگانے کے لئے یہ طریقہ سود مند ہے ۔ پہلے بیج کی جڑیں  خول سمیت یا خول اتار کر نکالیں ۔ پھر گملوں میں لگائیں اور جب دوتین فٹ اونچے ہو جائیں تو زمین میں دبا دیں ۔
گملوں کے بجائے اگر پیپسی یا کوک کی خالی بوتلوں میں لگائیں تو وہ بھی بہتر ہے ۔ 

گھروں کی چھت پر آپ بوتلوں میں سبزیاں بھی اُگا سکتے ہیں  ، اِس کے دو فائدے ہیں ایک تو آپ کو تازہ سبزیاں کھانے کو ملیں گی دوسرے آپ کی چھت سورج   میں تپنے  کے بجائے ، ٹھنڈک مہیا کرے گی ۔ آزمائش شرط ہے !
٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭-  باغبان بمقابلہ کسان
٭- ناگ پھنی 

جمعہ، 10 اگست، 2018

پھلوں کے بیج اُگانا

 کیا آپ یقین مانیں گے کہ جو پھل آپ کھاتے ہیں اُس  کے بیج اُگائے جا سکتے ہیں ؟
اور وہ بھی اپنی میز کے ایک کونے پر ۔ جس کے لئے آپ کو   بچوں کا استعمال شدہ پرانا لنچ بکس یا      پلاسٹک کا وہ ڈبہ جس میں آپ  نے ہوٹل سے کوئی کھانا منگوایا ہو  ۔ استعمال کرتے ہیں ۔
آپ نے غور کیا ہو کہ برسات کے مہینے میں نئے پودے اور گھاس خوب پھلتی اور پھولتی ہے ، اِس کی وجہ بارش نہیں بلکہ بارش کے بعد پیدا ہونے والا حبس ہے ، حبس بیجوں کو بہت جلدی اُگاتا ہے ۔ ہمیں حبس پیدا کرنے کے لئے  ایسا ڈبہ چاھئیے جو ائر ٹائٹ ہو جس میں کمرے کی  گرمی سے پانی بھاپ بن جائے ۔ 


اب جو بیج آپ نے منتخب کئے ہیں ، اُن کے چھلکے اتار کر  ، بلکل ایسا کرنا ہے جیسا شیر خورمے میں بادام ڈالے جاتے ہیں۔ کیوں کہ بیج کے اوپر ہلکی  سی  ورق نما جھلی بھی بیج کے جڑیں نکالنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے ، ارے میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ ہر بیج پہلے جڑیں نکالتا  پھر تنا اور پتے نکلتے ہیں ۔
سخت خول والے بیج کو آپ ، آرام سے اِس طرح توڑیں کہ اُن کی گری ضائع نہ ہو ۔ آپ پلاس استعمال کر سکتے ہیں-

زیادہ زور لگانے سے بیج پچک جائیں گے لہذا  ہلکا سے دباؤ کی لمٹ برقرار رکھنے کے لئے ، سکریو ڈرائیور یا کسی اور چیز کی مدد لی جاسکتی ہے ، دو تین بار بیج کا گودا پچکانے کے بعد آپ ماہر ہو جائیں گے ۔ 
جب تمام بیجوں کے آپ خول  اتار  لیں تو اُنہیں ۔ اوپر بتائے گئے ڈبے میں پہلی تہہ ٹشو پیپر کی لگا کر اُس پر یہ سب بیج رکھ دیں ۔
اب اِن پر پانی کا سپرے کریں ، پھر اوپر ایک اور ٹشو کہ تہہ رکھیں  ، اُس پر بھی اتنا سپرے کریں کہ ، پلاسٹک بکس میں پانی جمع نہ ہو ۔ سپرے کے لئے آپ یہ  بوتل استعمال کر سکتے ہیں ۔
اب تیسرے دن ، ڈبہ کھولیں ، ٹشو پیپر ہٹائیں ، بیج کے اوپر والے چھلکے نرم پڑ گئے ہوں گے  لہذا احتیاط سے اُنہیں اتار دیں ، ٹشو پیپر واپس رکھیں ، ہلکا سا سپرے کریں او ر ڈھکن بند کر دیں ۔
اب ہر دوسر ے دن ڈھکن کھول ٹشو ہٹا کر دیکھیں کسی بیج کو فنگس تو نہیں لگی ، اگر لگی ہے تو اٰس بیج کو نکال کر پھینک دیں نیا ٹشو پیپر رکھیں اور پانی کا سپرے کر کے ، ڈھکن بند کر دیں ۔

آم کی کچے بیجوں کو جلدی فنگس لگ جاتی ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ اُن کا کچا پن ہوتا ہے ۔کئی پھلوں کو درختوں سے جب وہ کچے ہوتے ہیں اُن کو اُتار لیا جاتا ہے ، اُن میں سے کئی پکنے کے قریب ہوتے ہیں اور کئی نہیں ۔
 جب اُنہیں   کاربائیڈ کی گرمی سے پکایا جاتا ہے ، تو جو درخت پر پکنے کے قریب ہوتے ہیں وہ جلدی پک جاتے ہیں  اور کئی ٹھیلوں یا دکانوں پر ایک دو دن بعد پکتے ہیں ۔

بالا تصویر میں مین نے تین آلوبخارے کے بیج کھولے ہیں ، اُن میں سے صرف  ایک بیج  (3) سے جڑ نکلے گی باقی دو توانا بیج نہیں  ، کیوں کہ  یہ تینوں آلو بخارے  کاربائیڈ میں پکائے گئے ہیں ۔

7 سے 15 دن کے بعد مختلف پھلوں کے  بیجوں سے جڑیں نکلنا شروع ہوگی ۔

  لہذا اب اِنہیں ڈبے سے نکال کر  پلاسٹک کے گلاسوں میں  منتقل کرنا ہوگا ۔ 
 اِس  کے  پلاسٹک کے دو گلاس لیں  ایک کے نیچے  تین سوراخ کریں    ، تاکہ اگر غلطی سے پانی زیاد ہ ڈال  دیا جائے تو وہ نیچے سے بہہ جائے ،  اب پانی کو پھیلنے سے بچانے کے لئے اُس کے نیچے دوسرے گلاس میں کو ئی  آدھا انچ کا پتھر  یا بیجوں کے چھلکے رکھ دیں ۔
اِن گلاسوں میں اب مٹی ڈالی جائے  یا کوکو پیٹ یا Organic سوائل    ؟
مٹی  بھربھری ہونا چاھئیے ، یعنی  دو حصے عام مٹی ، اور ایک حصہ ریت ۔
ناریل کے اوپر سے اترنے والے چھلکے  کو  باریک کتر لیا جائے تو وہ کوکو پیٹ بن جاتی ہے۔

 اور تیسرا طریقہ بھی ہے وہ یہ کہ درخت کے گرے ہوئے خشک پتوں کو ہاتھ سے موٹا موٹا تمباکو کی طرح مسل لیا جائے اور اُس میں ایک حصہ ریت ملا دیں۔ آرگینک  سوائل بن جائے گی ۔

اب تینوں میں سے کوئی ایک طریقہ آپ چُن لیں ۔ اور  جن بیجوں کی جڑیں نکل چکی ہیں اُنہیں گلاسوں میں اِس طرح منتقل کریں کہ جڑ نیچے دھنسی ہوئی ہو اور باقی بیج پر ہلکی سے مٹی کی تہہ ڈال کر پانی کا سپرے کرنے کے بعد اوپر سے ڈھکن یا شاپر لگا دیں ، تا کہ حبس اور گرمی کی وجہ سے  پودا جلدی کونپل نکالے ۔
جب پتے بڑے ہوجائیں تو ، ڈھکن اتار دیں ۔
  لیکن یہ ابھی بڑے گملے میں نہ شفٹ کریں  اور نہ ہی زیادہ دھوپ لگائیں ۔ ہفتے  میں ایک بار دھوپ کافی ہے ۔ جہاں یہ رکھے  جائیں اُن کے اوپر سایہ ہو!
جب پودوں کو گملوں میں شفٹ کرنے کا مرحلہ آئے تو  ، اِس بات کا لازمی خیال رکھنا ہے ، کہ غلطی سے زیادہ پانی دینے کی صورت میں فالتو پانی گملے کے نچلے سوراخ سے لازمی  باہر نکل جائے ،   چکنی مٹی ہوگی تو پانی پودے کی جڑوں میں زیادہ دیر رہ کر اُسے خراب کر دے گا ۔
اِس کے لئے آپ کو  گملے میں دو انچ کی بجری یا  اینٹ کی مٹی  کی تہہ لگانی ہو گی ، اُس کے بعد  تین انچ کی ریت کی تہہ اور پھر  آپ  ایک حصہ مٹی، ایک حصہ  ریت  ، ایک حصہ گوبر کی کھاد اور ایک  حصہ لکڑی کا جلا ہواکوئلہ ،  ملا کر گملوں میں بھر لیں ، اور ایک  پودا فی گملہ لگائیں ۔
کیا آپ کو معلوم ہے ، کہ کسان  فصل کے سرکنڈوں  کو آگ لگا کر راکھ کو ہل چلا کر مٹی میں مکس کر دیتا ہے ؟
تاکہ اِس سے مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہو۔  
مٹی کی زرخیزی کے لئے  ، مختلف اشیاء سے کھاد بنائی جاتی ہے ، جن میں باورچی خانے کی ناقابلِ استعمال  سبزیاں ، آلو،کیلے اور دیگر  چھلکے  ،  سب سے آرگینک کھاد بنائی جاتی ہے جو  کچن گارڈن میں لگنے والے پودوں کے لئے بہترین ہوتی ہے ۔ 


٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین  

جمعرات، 9 اگست، 2018

باغبان بمقابلہ کسان

 اگر بوڑھا کہے کہ آپ ہر قسم کے بیج سے پودے   نہیں اُگا سکتے  تو آپ سر ہلا کر کہیں گے بلا شبہ  ؟
پہلے بوڑھا  بھی  آپ کی طرح یہی سجھتا تھا  ،  2017 میں جب
بوڑھا ،  بڑھیا کے ساتھ ایسٹ تِمور گیا تو وہاں دیسی پھل  کم اور درآمد شدہ پھل کافی پائے جاتے تھے ۔ ایسٹ تِمور  خطِ استوا پر واقع ہے لیکن وہاں کی آب و ہوا  گرم مرطوب ہے  ، بارشیں کافی ہوتی ہیں ۔
وہاں جو بھی پھل کھائے اُن کے بیج  بوڑھے نے سنبھال کر رکھ لئے  اور واپسی میں ساتھ لے آیا ۔ سنا تھا کہ  پھل پکنے کے بعد پروندوں کے کھانے کے بعد ،جب زمین پر گرتا ہے تو اُس کے بیج   زمین پر گر کر اُگ جاتے ہیں  یو ں بلیئن نئے پودے زمین سے سر نکالتے ہیں اور چرندوں کے لئے غذا کا انتظام قدرت کرتی ہے ، جو بچ جاتے ہیں وہ  قد نکال کر درخت بن جاتے ہیں  ۔ 

چنانچہ بوڑھا  بازار سے 10 گملے لایا اور اُن میں اجوہ کھجور سمیت  باقی  بیج  بھی لگا  دئیے ۔ کچھ نہ اُگا   اور بوڑھے کے  گملے سادہ تھے سادہ ہی رہے ۔  بیج نہیں اُگے :گویا
کہتے ہیں ہر سوچنے والا اپنے انداز سے سوچتا ہے خواہ آسمان سے سر پر سیب گرے یا تربوز  !
اِس دانا ، انسانی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ کہتے ہیں ، یو ٹرن نہیں ، انسانی زندگی میں  ٹرننگ پوائنٹ دو یا تین ہوتے ہیں ۔
معاشی ، سماجی اور مذہبی ۔  پہلے اور تیسرے کا تعلق اپنی ذات سے ہوتا ہے اور دوسرا ، سماج یعنی اپنے اردگرد رہنے والوں  سے متعلق ہوتا ہے ۔ نیوٹن، ایڈیسن  اور دیگراں کا ٹرننگ پوائنٹ  سماجی تھا ۔

فیس بُک پر ایک گروپ نے بوڑھے کو شامل ہونے کی دعوت دی ۔ 
 گروپ کا نام تھا ، " باغبان بمقابلہ کسان "  نہ بوڑھا باغبان ہے  اور نہ ہی   کبھی کسان رہا ہے ،    لیکن پھر بھی گروپ میں جاکر دیکھا کہ کون ہے جو بوڑھے کو کسان یا باغبان سمجھ رہا ہے ،   میری طرح کے  جوانوں  اور نو جوانوں کا گروپ ہے ، بوڑھے نے  فیس بُک کے دوستوں  کی تصاویر دیکھ کر ، دعوت قبول کر لی ۔   جو بوڑھے کی عادتِ صحیحہ ہے ، یعنی ہمہ یارانِ جنت اور بھول گیا !!!!!!  
یوں پوسٹ آنی شروع ہوگئیں  ۔
 مالکِ گروپ کی خواہش تھی کہ چھوڑو یہ  ، گندم ، دالیں ، لہسن ، پیاز  اور ادرک  ۔ گھر میں پھلوں کے درخت اُگاؤ اور پھل پکنے پر مزے سے اُس کے نیچے بیٹھ کر کھاؤ ۔اور اپنے اپنے ٹرننگ پوائنٹ کا انتظار کرو ۔
 مزاح برطرف ۔
اللہ نے ہر طیبات  انسان کی خوراک بنائی ہے   اور زمین پر انسان کو  اپنی خوراک   حاصل کرنے کے لئے محنت کا عادی بنایا ہے ۔   یہاں تک کہ پھلوں کی سرزمین  سکردو میں جہاں ہرقسم کے پھلوں کی بہتات تھی  جسے سکھا کر محفوظ کر لیا جاتا اورخزاں کے موسم میں کھایا جاتا ہے ، وہاں بھی گلیشئیر شروع ہونے سے پہلے  کہیں کہیں پائے جانے والے ہموار ٹکڑے پر مکئی اور مٹر کی کاشت دیکھی ۔ 

ہاں تو بات ہو رہی تھی ، بیجوں سے ہر قسم کے  پودے اُگانا ۔
مئی میں بوڑھا  ، بڑھیا اور چم چم کے ساتھ   دبئی  لڈو اور موتی چور سے ملنے گیا ۔ وہاں چم چم کی ماں اور  لڈو کی پھپّو بھی آگئی ۔  بوڑھے نے   وہاں جو بھی غیر ملکی پھل کھایا اُس کے بیج جمع کر لئے  اور اپنے سوٹ کیس میں ایک شاپر میں  رکھتا گیا۔جب   پاکستان  واپس آکر بیجوں کا خزانہ تلاش کیا  تو شاپر ندارد  کچھ سمجھ نہیں آیا کہاں گیا شائد بڑھیا نے واپسی پر سامان کی زیادتی اور  زرمبادلہ کے ضیاں پر اُسے نکال کر   ڈسٹ بن میں ڈال دیا ہو !
بہر حال ، بوڑھا  مین روڈ پر واقع نرسری میں گیا اور وہاں سے 30 روپے میں ملنے والے بیجوں کے پیکٹ لے آیا اور  اُنہیں اُگادیا ۔  ہفتے بعد  نئی کونپلوں نے سر نکالا ۔ بوڑھا خوش چلو کچھ نہ کچھ تو  سبزیاں اپنے کھیت سے ملیں گی ۔ دوسرے دن صبح اپنے کھیت میں گیا تو اجڑا ہوا تھا ۔ بڑھیا سے پوچھا ،
" یہ کس نے کیا ؟ "

بڑھیا بولی ، "آپ تو گالف کھیلنے چلے جاتے ہیں میں گھر میں بور ہوتی ہوں "
" مگر کیاریوں کے اُجڑنے سے   گالف کا کیا تعلق ؟"  بوڑھے نے پوچھا ۔
" وہی تو بتا رہی ہوں ، آپ بات مکمل کرنے تو دیں ۔" بڑھیا بولی " کل میں جب پارک سے واپس آئی تو مرغیاں شور مچا رہی تھیں ۔ میں اُن کے پنجرے کے پاس گئیں تو مجھے اُن کی قید پر ترس آیا اور میں نے کھول دیں ۔ اُن کی خوشی سے اُڑان اور اترا کر چلنا اتنا پیار تھا  کہ کیا بتاؤں ۔ میں اُنہیں چھوڑ کر پانی پینے اندر گئی  اور شہزاد کو کہا کہ آدھے گھنٹے بعد  بندکر دینا "

بس نوجوانو! کھیت  اجڑنے کا سارا قصہ آپ کو سمجھ آگیا ہوگا ، چم چم کے وہ دو ننھے چوزے ۔جوان ہو چکے ہیں بمع اپنی فطری شر پسندی کے ساتھ ۔  سامنے دانے پڑے ہوں  مجال ہے کہ اُنہیں منہ ماریں ، اپنے پنجوں سے زمیں کرید کے جڑ سمیت ننھے پودوں کو اکھاڑتے ہیں ۔  ھائے میرا کھیت !
" باغبان بمقابلہ کسان "   کے مالک  کا بھی اِس بوڑھے    کی طرح   اپنی مرغیوں کے ٹھونسے گئے ٹرننگ پوائنٹ کی وجہ سے شائد   باغبانی کی طرف راغب ہو ا  ہو گا ۔کہ مرغیاں درخت پرنہیں چڑھ سکتیں !
 لہذا  اب باغ کی طرف چلتے ہیں  اور سیکھتے ہیں کہ بیجوں سے باغ کیسے بنایا جائے ؟
 لیکن ایک شرط ہے ، کہ اِس  کچن گارڈننگ میں آپ اپنے بچوں یا  اُن کے بچوں کو ضرور شامل کریں اور بیجوں سے نکلنے والی جڑوں اور کونپلوں پر اُن کی خوشی کا عالم اپنی آنکھوں میں بسا لیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیجوں سے پودے کیسے لگائے جائیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین 

بدھ، 8 اگست، 2018

ناگ پَھنی !

 نوشہرہ میں پڑوسیوں اور ہمارےلان  کے درمیان  کیکٹس  کی باڑ تھی  ۔ پٹو گرم کھیلتے وقت  کرمچ کا بال کیکٹس کے پودوں میں گھس جاتی ، نکالتے وقت کئی بار ننھے ننھے کانٹے ہاتھوں میں چبھ جاتے ، اُس پر آک کے پودے کا دودھ لگا کرنکالتے ۔

فروری یا مارچ میں اُن پر ، اُن پر پھول لگے اور جون میں لال رنگ کا پھل ، امی نے بتایا اِسے ناگ پھنی کہتے ہیں ہم بہت کھاتے تھے ۔
ہم نے بھی سردیوں کے دستانے پہن کر ناگ پھنی توڑی ،کانٹوں   کی کون پرواہ کرتا ہے ،   چھری سے کانٹے ہٹائے ،چقندر کی طرح لال رنگ کا   بہت رسیلا  پھل تھا ۔ 


آج کل بوڑھے کو باغبانی کا شوق  چڑھا ہے ، لہذا ایک ماہ سے  بیجوں سے پودے اُگانے کی کوشش کر رہا ہے ۔  کچن کے کاونٹر پر گملے ، پلاسٹک کے  گلاس   ملک شیک کے خالی کپ کے علاوہ چم چم کے پرانے لنچ بکس بھی   استعمال میں لائے جا رہے ہیں، بلکہ وہ بنیادی چیز ہیں۔ یوں  کاونٹر  چھوٹے چھوٹے پودوں سے ڈھک گیا ہے ۔ 
کیکٹس کی 20 سے زیادہ قسمیں ہیں ۔ 20قسمیں وہ ہیں جو گھر میں لگائی جاتی ہیں ۔
تو آئیں سیکھتے ہیں کہ  بیجوں سے پودے کیسے لگائے جائیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لیکن پہلے پڑھیں : باغبان اور کسان

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔