میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 1 اگست، 2018

الیکشن 2018 میں دھاندلی کیسے ہوئی ؟

 23 جولائی رات تقریباً  دس بجے ، میری ایک  یونٹ کے جوان  ذوالفقار کا فون آیا ، اُس نے بتایا کہ اُسے لاہور میں  الیکشن ڈیوٹی کے لئے سنٹر نے نامزد کر دیا ہے ۔ وہ بڑا پریشان ہے مدد کریں !
ذوالفقار  اپنے علاقے کی یونیئن کونسل کا چیئر مین ہے اور بہت دلجمعی سے  پی ٹی آئی کی مہم چلا رہا تھا ۔ اب علاقے کے ایم پی اے  اور ایم این اے چاہتے ہیں کہ وہ  فوراً واپس آئےاور الیکشن مہم کو سنبھالے ۔
میں نے اُسے بتایا کہ ، اب ممکن نہیں  پرسوں تو الیکشن ہو رہے ہیں ۔ اور میرے سارے واقف ریٹائر ہوچکے ہیں ۔
"سر وہ  ،مانی صاحب کو کہیں میری مدد کریں ! " وہ گڑگڑایا 

" وہ خود الیکشن میں نکلا ہوا ہے  اُس کے پاس بھی ریٹائر فوجی آئے ہیں ، پھر وہ کیسے مدد کر سکتا ہے ؟"  میں نے جواب دیا ۔
"سر مانی صاحب کے کورس میٹ یونٹ کے اوسی ہیں  ۔ اُنہیں کہیں  وہ اُن کی بات ضرور مان جائیں گے ۔"ذوالفقار بولا ۔
" ای شابا  وئی شابا " میں بولا "پورا ہوم ورک کیا ہوا ہے ! "
" سر وہ تو کرنا پڑتا ہے  " 
ذوالفقار بولا ۔
"اچھا میں دیکھتا ہوں وعدہ نہیں کرتا کیوں کہ حملے کا دن قریب ہے اب فوجی کو چھٹی ملنا مشکل ہے ۔ ویسے تمھیں میرا یہ نمبر کیسے ملا ؟ " میں نے پوچھا 
" سر آپ کی یونٹ سے لیا  وہ دوسرا نمبر کل سے بند مل رہا ہے " وہ بولا 
" چلو میں بتاتا ہوں " میں نے کہا ۔
بیٹے (مانی)  کو رِنگ کیا ، اُس کا نمبر بند مل رہا تھا  ۔ پیغام ڈال دیا کہ ، "مجھے  فون کرے" ۔
ذوالفقار کو بتا دیا کہ مانی کا نمبر بند ہے اب کل بات ہو گی !

نہ بیٹے کا رِنگ آیا  نہ ذوالفقار کا  اور نہ مجھے یاد آیا ۔
بوڑھے اور بڑھیا نے شاید اپنی زندگی کا آخری ووٹ ڈالا ۔ 


اور الیکشن ہو گیا !
الیکشن کے بعد بُرج الٹنے لگے ،
رزلٹ لیٹ ہونے لگے ۔

فارم 45 کا شور اٹھا-
 پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر ووٹ گنے جانے لگے  اور 
دھاندلی دھاندلی کا شور اُٹھا
کراچی کی کچرا کنڈی میں جلے ہوئے بیلٹ پیپر پائے گئے ۔

موجودہ الیکشن میں پاک فوج کا  ریٹائر فوجیوں کو اپنی مدد کے لئے بلانا سنگین  غلطی تھی ۔جنہیں وردی پہنا کر  ، حقیقی فوجی  کا روپ دے کر عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ فوج   آپ کے ساتھ ہے !
نہیں فوج موجود نہیں تھی !


یہ وہ فوجی تھے جو سویلیئن بن چکے تھے او رکسی نہ کسی  سیاسی جماعت   متاثر تھے  اور کئی اُن کے کارکن تھے ۔ جن  کی کئی شامیں  سیاسی چوپال کے تھڑے پر گذر چکی تھیں ۔
2014 میں لاہور سے چلنے والے سونامی میں ، بقولِ شخصے ،" چلے ہوئے کارتوسوں کی بھرمار تھی " ۔ نہ صرف یہ بلکہ اب پاک فوج   کے آفیسروں اور جوانوں میں سیاست کے جراثیم گھس چکے تھے  ۔
  فیس بُک اور وٹس ایپ پر گروپ بن چکے تھے  جہاں  سیاسی خیالات کا اُسی طرح اظہار کیا جاتا تھا  جیسے سویلیئن گروپس میں ہوتا ہے ۔
 بلکہ ویٹرنز کے تین گروپ بنے تھے ، جس سے بوڑھے کو اپنے مزاج کے مطابق کمنٹ دینے پر ، نکالا گیا ۔


 کیوں کے سب کی یہی رائے تھی کہ اُن کا بس چلے تو وہ  ، عمران کے پلے بوائے ہونے کے باوجود وہ اُسے امام کعبہ کی مسند پر بٹھا دیں ، 
 کبھی عمران کو وہ نعوذ باللہ رسول اللہ سے ملاتے ، کہ مدینہ جیسی ریاست قائم کرے گا ، جہاں  سے وہ  بصرہ  کے نزدیک فرات کے کنارئے  پیاسی بکری پر نظر رکھ سکے گا ۔
کیوں کہ  ،
" وہ کرپٹ  نہیں "
جب پوچھاکہ ، " کرپشن کی کیا تعریف ہے ؟"

" اُس نے مالی کرپشن نہ کی ہو !"
تو کیا جن آفیسروں کو ضیاء دور میں وحید کاکڑ  کے دور میں، اسلم بیگ کے دور میں   اخلاقی کرپشن پر نکالا گیا وہ کرپٹ نہیں تھے ؟
"ویسے  کیا سرکاری چیزوں کا غیر قانونی استعمال  کرپشن میں نہیں آتا ؟"
جواب ملتا ، " وہ آفس ہولڈر نہیں ۔ وزیر اعلیٰ جہاں بھی جاتا ہے اُسے اپنے ساتھ لے جاتا ہے ، کیوں کہ وہ پارٹی لیڈر ہے۔"
یہ بالکل وہی توجیہہ ہے ، جو فوج میں ہمارے زمانے میں اپنے بیوی ،بچوں اور بہن بھائیوں  کو سرکاری  گاڑی میں گھمانے والے ، ایمان، تقویٰ  اور جہادِ فی سبیل اللہ سے لبریز         نمازیں پڑھنے والے   ضرب المثل کردار کے لوگ کرتے تھے ۔ 

یہی توجیہہ حاضر سروس آفیسرز بھی پیش کرتے  کہ یہ تو  Unwritten  Law ہے جو انگریزوں کے وقت سے جاری ہے ، اَب اُن بے چاروں کو کیا معلوم کہ انگریز ہر وہ چیز جو ذاتی استعمال کرتا اپنی جیب سے پیسے دیتا تھا ، کمانڈ فنڈ سے نہیں  اور اُس کے تو کیا ہمارے فوج میں جوانی سے لے کر بڑھاپے کے زمانے تک فوج میں "عورت  سیاست پر بات کرنا جرم سمجھا جاتا تھا "۔
ہماری سروس کے دوران نہ ہی ہم نے اور نہ باقی فوجیوں نے کبھی  پوسٹل بیلٹ منگوائے  ہوں ۔

ہاں پہلی دفعہ  اپنے ہیڈکوارٹر میں بیلٹ پیپر پر مہریں لگاتے نوجوانوں کو ضیائی  ریفرنڈم میں دیکھا تھا ،جس کی کمانڈ  " مرچو" کے ہاتھ میں تھی ۔
 ہونا تو یہ چاھئیے تھا  کہ  فوجی اور فوج میں کام کرنے والے سرکاری ملازموں کو ووٹ کا حق دیا ہی نہ جاتا  تاکہ فوجی جوان سیاسی جرائم سے پاک ہوتے  اور جو پولرائزیشن فوج میں پیدا ہوچکی ہے وہ نہ ہوتی  اور وہ  نفرت  جو فوج کے خلاف پیدا کرنے کی کوشش پاکستانیوں میں  کی جارہی ہے  نہ ہوتی ۔
سیاست کو ضد اور انا  سے پروان چڑھانے والوں کو پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع  نہ ملتا  ۔

عالمی سازشوں سے بے خبر نوجوانوں کو اپنے ہی غیر سیاسی  محسنوں کے خلاف روڈ پر کھڑا  ہو کر ۔
" یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے " 
جیسا غلیظ نعرہ  نہ لگانا پڑتا ۔اور نہ ہی  فوجیوں کی ویڈیوز بنا کر کہا جاتا  ، کہ  دیکھو فوجی  دھاندلی کروارہے  ہیں  ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔