میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 10 اگست، 2018

پھلوں کے بیج اُگانا

 کیا آپ یقین مانیں گے کہ جو پھل آپ کھاتے ہیں اُس  کے بیج اُگائے جا سکتے ہیں ؟
اور وہ بھی اپنی میز کے ایک کونے پر ۔ جس کے لئے آپ کو   بچوں کا استعمال شدہ پرانا لنچ بکس یا      پلاسٹک کا وہ ڈبہ جس میں آپ  نے ہوٹل سے کوئی کھانا منگوایا ہو  ۔ استعمال کرتے ہیں ۔
آپ نے غور کیا ہو کہ برسات کے مہینے میں نئے پودے اور گھاس خوب پھلتی اور پھولتی ہے ، اِس کی وجہ بارش نہیں بلکہ بارش کے بعد پیدا ہونے والا حبس ہے ، حبس بیجوں کو بہت جلدی اُگاتا ہے ۔ ہمیں حبس پیدا کرنے کے لئے  ایسا ڈبہ چاھئیے جو ائر ٹائٹ ہو جس میں کمرے کی  گرمی سے پانی بھاپ بن جائے ۔ 


اب جو بیج آپ نے منتخب کئے ہیں ، اُن کے چھلکے اتار کر  ، بلکل ایسا کرنا ہے جیسا شیر خورمے میں بادام ڈالے جاتے ہیں۔ کیوں کہ بیج کے اوپر ہلکی  سی  ورق نما جھلی بھی بیج کے جڑیں نکالنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے ، ارے میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ ہر بیج پہلے جڑیں نکالتا  پھر تنا اور پتے نکلتے ہیں ۔
سخت خول والے بیج کو آپ ، آرام سے اِس طرح توڑیں کہ اُن کی گری ضائع نہ ہو ۔ آپ پلاس استعمال کر سکتے ہیں-

زیادہ زور لگانے سے بیج پچک جائیں گے لہذا  ہلکا سے دباؤ کی لمٹ برقرار رکھنے کے لئے ، سکریو ڈرائیور یا کسی اور چیز کی مدد لی جاسکتی ہے ، دو تین بار بیج کا گودا پچکانے کے بعد آپ ماہر ہو جائیں گے ۔ 
جب تمام بیجوں کے آپ خول  اتار  لیں تو اُنہیں ۔ اوپر بتائے گئے ڈبے میں پہلی تہہ ٹشو پیپر کی لگا کر اُس پر یہ سب بیج رکھ دیں ۔
اب اِن پر پانی کا سپرے کریں ، پھر اوپر ایک اور ٹشو کہ تہہ رکھیں  ، اُس پر بھی اتنا سپرے کریں کہ ، پلاسٹک بکس میں پانی جمع نہ ہو ۔ سپرے کے لئے آپ یہ  بوتل استعمال کر سکتے ہیں ۔
اب تیسرے دن ، ڈبہ کھولیں ، ٹشو پیپر ہٹائیں ، بیج کے اوپر والے چھلکے نرم پڑ گئے ہوں گے  لہذا احتیاط سے اُنہیں اتار دیں ، ٹشو پیپر واپس رکھیں ، ہلکا سا سپرے کریں او ر ڈھکن بند کر دیں ۔
اب ہر دوسر ے دن ڈھکن کھول ٹشو ہٹا کر دیکھیں کسی بیج کو فنگس تو نہیں لگی ، اگر لگی ہے تو اٰس بیج کو نکال کر پھینک دیں نیا ٹشو پیپر رکھیں اور پانی کا سپرے کر کے ، ڈھکن بند کر دیں ۔

آم کی کچے بیجوں کو جلدی فنگس لگ جاتی ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ اُن کا کچا پن ہوتا ہے ۔کئی پھلوں کو درختوں سے جب وہ کچے ہوتے ہیں اُن کو اُتار لیا جاتا ہے ، اُن میں سے کئی پکنے کے قریب ہوتے ہیں اور کئی نہیں ۔
 جب اُنہیں   کاربائیڈ کی گرمی سے پکایا جاتا ہے ، تو جو درخت پر پکنے کے قریب ہوتے ہیں وہ جلدی پک جاتے ہیں  اور کئی ٹھیلوں یا دکانوں پر ایک دو دن بعد پکتے ہیں ۔

بالا تصویر میں مین نے تین آلوبخارے کے بیج کھولے ہیں ، اُن میں سے صرف  ایک بیج  (3) سے جڑ نکلے گی باقی دو توانا بیج نہیں  ، کیوں کہ  یہ تینوں آلو بخارے  کاربائیڈ میں پکائے گئے ہیں ۔

7 سے 15 دن کے بعد مختلف پھلوں کے  بیجوں سے جڑیں نکلنا شروع ہوگی ۔

  لہذا اب اِنہیں ڈبے سے نکال کر  پلاسٹک کے گلاسوں میں  منتقل کرنا ہوگا ۔ 
 اِس  کے  پلاسٹک کے دو گلاس لیں  ایک کے نیچے  تین سوراخ کریں    ، تاکہ اگر غلطی سے پانی زیاد ہ ڈال  دیا جائے تو وہ نیچے سے بہہ جائے ،  اب پانی کو پھیلنے سے بچانے کے لئے اُس کے نیچے دوسرے گلاس میں کو ئی  آدھا انچ کا پتھر  یا بیجوں کے چھلکے رکھ دیں ۔
اِن گلاسوں میں اب مٹی ڈالی جائے  یا کوکو پیٹ یا Organic سوائل    ؟
مٹی  بھربھری ہونا چاھئیے ، یعنی  دو حصے عام مٹی ، اور ایک حصہ ریت ۔
ناریل کے اوپر سے اترنے والے چھلکے  کو  باریک کتر لیا جائے تو وہ کوکو پیٹ بن جاتی ہے۔

 اور تیسرا طریقہ بھی ہے وہ یہ کہ درخت کے گرے ہوئے خشک پتوں کو ہاتھ سے موٹا موٹا تمباکو کی طرح مسل لیا جائے اور اُس میں ایک حصہ ریت ملا دیں۔ آرگینک  سوائل بن جائے گی ۔

اب تینوں میں سے کوئی ایک طریقہ آپ چُن لیں ۔ اور  جن بیجوں کی جڑیں نکل چکی ہیں اُنہیں گلاسوں میں اِس طرح منتقل کریں کہ جڑ نیچے دھنسی ہوئی ہو اور باقی بیج پر ہلکی سے مٹی کی تہہ ڈال کر پانی کا سپرے کرنے کے بعد اوپر سے ڈھکن یا شاپر لگا دیں ، تا کہ حبس اور گرمی کی وجہ سے  پودا جلدی کونپل نکالے ۔
جب پتے بڑے ہوجائیں تو ، ڈھکن اتار دیں ۔
  لیکن یہ ابھی بڑے گملے میں نہ شفٹ کریں  اور نہ ہی زیادہ دھوپ لگائیں ۔ ہفتے  میں ایک بار دھوپ کافی ہے ۔ جہاں یہ رکھے  جائیں اُن کے اوپر سایہ ہو!
جب پودوں کو گملوں میں شفٹ کرنے کا مرحلہ آئے تو  ، اِس بات کا لازمی خیال رکھنا ہے ، کہ غلطی سے زیادہ پانی دینے کی صورت میں فالتو پانی گملے کے نچلے سوراخ سے لازمی  باہر نکل جائے ،   چکنی مٹی ہوگی تو پانی پودے کی جڑوں میں زیادہ دیر رہ کر اُسے خراب کر دے گا ۔
اِس کے لئے آپ کو  گملے میں دو انچ کی بجری یا  اینٹ کی مٹی  کی تہہ لگانی ہو گی ، اُس کے بعد  تین انچ کی ریت کی تہہ اور پھر  آپ  ایک حصہ مٹی، ایک حصہ  ریت  ، ایک حصہ گوبر کی کھاد اور ایک  حصہ لکڑی کا جلا ہواکوئلہ ،  ملا کر گملوں میں بھر لیں ، اور ایک  پودا فی گملہ لگائیں ۔
کیا آپ کو معلوم ہے ، کہ کسان  فصل کے سرکنڈوں  کو آگ لگا کر راکھ کو ہل چلا کر مٹی میں مکس کر دیتا ہے ؟
تاکہ اِس سے مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہو۔  
مٹی کی زرخیزی کے لئے  ، مختلف اشیاء سے کھاد بنائی جاتی ہے ، جن میں باورچی خانے کی ناقابلِ استعمال  سبزیاں ، آلو،کیلے اور دیگر  چھلکے  ،  سب سے آرگینک کھاد بنائی جاتی ہے جو  کچن گارڈن میں لگنے والے پودوں کے لئے بہترین ہوتی ہے ۔ 


٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔