میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 29 اگست، 2018

رسول اللہ کے لئے مال نہیں، بس خواہشات کو قربان کریں

ہالینڈ میں  ایسی ہستی  کے خیالی کارٹون کا مقابلہ کروانا ،
 جو مسلمانوں کو اپنے والدین اور جان و مال سے زیادہ عزیز  ہے ۔
ہالینڈ کی عوام اور صدر کی آزادی  اظہار رائے  کے  قانون   پر مجرمانہ خاموشی !
 ہالينڈ کی3 بڑی کمپنيوں کا  پاکستان ميں اربوں روپوں کا بزنس ۔
Shell,
Phillips,
Uni Lever
 آپ کی جان اور مال کی ضرورت نہیں بلکہ صرف خواہش کی قربانی چاھئیے ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک  کا لائحہ عمل کیا ہوگا ،
لیکن کیا محمدﷺ  کے لئے ہم اپنی خواہشات قربان نہیں کرسکتے ؟
تو آئیں ، عہد کریں کہ ہم ہالینڈ کی مندرجہ ذیل چیزیں استعمال کرنے کے بجائے اُن کی متبادل چیزوں کو اپنائیں گے۔


ذرا سوچیں !
اگر پوری دنیا کے مسلمان متحد ہوجائیں تو ہالینڈ اپنے  
آزادی  اظہار رائے   کے قانون میں تبدیلی کرسکتا ہے !

 ایک ارب 70کروڑ مسلمان  اور ہالینڈ میں رہنے والے  10 لاکھ مسلمان  کیا اپنی خواہشات کی قربانی نہیں دے سکتے ؟


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔