میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 28 اگست، 2018

اوبر اور کریم ہیلی سروس کا امکان

 پچھلی حکومتوں نے  عوام کو جی بھر کر بے وقوف بنایا کہ ہیلی کاپٹر کا سفر بہت مہنگا ہوتا ہے 
۔   عمران خان نے جتنے ہیلی کاپڑ پر سفر کیے اُن کا خرچہ،  ہم نے  نیب میں جمع کروادیا  ہے ۔ 
ہماری کیلکولیشن کے مطابق  ہیلی کاپٹر کا کل خرچ  55 روپے فی کلو میٹر آتا ہے ۔  فوادچوہدری وزیر اطلاعات  نیا پاکستا ن

چوہدری صاحب کے اِس بیان نے بزنس ٹائیکون کو ایک نئی راہ دکھا دی ہے ، لہذا اوبر اور کریم کے ساتھ  دیگر کئی افراد  نے   بھی ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے کا پروگرام   بنا لیا ہے ۔ 

خیبر پختون خواہ  میں  آزمائشی   تربیتی سروس شروع ہو چکی ہے  ۔

اب ہیلی کاپٹر پاکستان میں بننے شروع ہو چکے ہیں ۔
پڑھیں  :  عوام کے لئے 


پرانے پاکستان میں کئے گئے  وعدوں کی نئے پاکستان میں تکمیل کا دور شروع ہو چکا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔