میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 4 اگست، 2018

مجرموں کی قوم

  اچھائی اور برائی کا تعلق زبان ، رنگ ، قبائل یا علاقے سے نہیں، بلکہ قوم سے ہوتا ہے ۔

 جیسے ، مؤمنوں کے لئے الکتاب میں درج ہے :
 1- لونڈے بازوں کی قوم ۔ (سنگساری کی حقدار۔ [11:82])
 2- زانیوں کی قوم ۔( سو دُرّوں کی حق دار۔ [24:2])
 3-مؤمنات پر تہمت لگانے والوں کی قوم ( اسی کوڑوں کی حقدار۔ [24:4])
 4- چوروں کی قوم ۔( قطع ید کی حقدار۔ [5:38])
 5- قاتلوں کی قوم ۔(اذیت ناک موت کی حق دار۔ [5:33])
 6- انسانی جسم کو مثلہ کرنے والوں کی قوم ( قصاص مثل کی حق دار۔[5:45])
 7- ہم جنس پرست عورتوں کی قوم ( قید تا حیات کی حقدار۔ [4:15])

وَيُحِقُّ اللّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ  [10:82]
اور اللہ حق  کو    اپنے کلمات کے ساتھ الحق کرتا  رہتا  ہے، اگرچہ المجرمون کو کتنی ہی کراہت ہو !

لہذا   انسانی دنیا میں جتنی سچائیاں دکھائی دیتی ہیں وہ صرف اللہ کے کلمات کے طفیل  آفاقی سچ  یعنی  الحق  بنتی  ہیں ۔

ورنہ  مجرموں کی قوم جھوٹ  کے انبار کو  الفاظوں کی مٹھاس سے ڈھانپتی ہے ۔


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔