میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 6 اگست، 2018

دانش سکول کا دانش

 فیس بُک اور وٹس ایپ دو ایسے سوشل میڈیا ہیں جن پر حقیقت کم اور فسانے زیادہ مشہور ہیں ، آج وٹس ایپ پر ایک بچپن کے دوست طاہر  قریشی  نے معلومات اِن الفاظ کے ساتھ دی :
دانش سکول کے بچے نے ٹاپ کر لیا۔  لہٰذا میڈیا / سوشل میڈیا میں اس بارے مکمل خاموشی اپنائی جائے۔
میں چونکہ جنگ  اخبار پنڈی پڑھتا ہوں  ، شاید اُس میں یہ خبر نہ ہو  یا پھر میری نظر نہ پڑی ہو !
اور یا پھر ایسا نہ ہوا ہو اور منفی  خبروں کی طرح یہ بھی  ، موجودہ نسل  کا شاخسانہ ہو ۔  

چونکہ  موبائل نمبر  03334824514  بھی درج تھا لہذا کنفرمیشن کے لئے فون کیا ۔
پنجابی لہجے کے ساتھ  پوچھا : جی کون ؟ 
" سلام علیکم ، آپ وسیم یاسین صاحب بول رہے ہیں  ؟" میں نے پوچھا 
" جی نہیں میں اُن کا بڑا بھائی  ، محمد ندیم بول رہا ہوں " جواب ملا۔
 " ندیم صاحب ، وٹس ایپ کے ذریعے معلوم ہوا کہ وسیم یاسین نے  میٹرک کے امتحان میں کوئی پوزیشن لی ہے ؟ " میں نے پوچھا ۔
" جی وہ  بورڈ میں فرسٹ آیا ہے " ندیم نے جواب دیا 
" ندیم صاحب وہ کس سکول  میں پڑھتا ہے " میں نے پوچھا ۔
" دانش سکول ہے مین روڈ پر   وہ بارھویں تک ہے جی " ندیم بولا ۔

" ماشاء اللہ ! اللہ اُسے مزید کامیابیاں دے ، آمین " میں بولا 
" جی شکریہ "
"اللہ حافظ " اور موبائل بند کردیا ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔