میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 7 اگست، 2018

پرانا پیار

 کچھ چیزیں ڈھونڈھ رہا تھا  کی ایک ڈبے پر نظر پڑی ، کھولا تو پرانی کیسٹس نظر آئیں ایک کیسٹ اُٹھائی اوپر لکھی ہوئی تحریر مٹ چکی تھی ۔ ساتھ چھوٹا سا  ٹیپ ریکارڈر ہیڈ فون  کے ساتھ پڑا تھا۔
پرانی یادیں اُمنڈ آئی  جب کیسٹ لگائی ، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے گانے کیا تھے ایک ٹوٹے دل کی فریا د ۔
پرانے پیار کو یاد کر کے آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے  ۔  


کیسٹ  بند ہوئی  سامنے دیوار پر لگی تصویر پر نظر پڑی ۔ 
 اچانک انکشاف ہوا  ۔
میرا کوئی پرانا پیار تھا ہی نہیں ۔

میں تو شادی شدہ ہوں ۔
پھر  تو میں بلک بلک کر رویا ۔ 

(منقول)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔