میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 اگست، 2018

ناگ پَھنی !

 نوشہرہ میں پڑوسیوں اور ہمارےلان  کے درمیان  کیکٹس  کی باڑ تھی  ۔ پٹو گرم کھیلتے وقت  کرمچ کا بال کیکٹس کے پودوں میں گھس جاتی ، نکالتے وقت کئی بار ننھے ننھے کانٹے ہاتھوں میں چبھ جاتے ، اُس پر آک کے پودے کا دودھ لگا کرنکالتے ۔

فروری یا مارچ میں اُن پر ، اُن پر پھول لگے اور جون میں لال رنگ کا پھل ، امی نے بتایا اِسے ناگ پھنی کہتے ہیں ہم بہت کھاتے تھے ۔
ہم نے بھی سردیوں کے دستانے پہن کر ناگ پھنی توڑی ،کانٹوں   کی کون پرواہ کرتا ہے ،   چھری سے کانٹے ہٹائے ،چقندر کی طرح لال رنگ کا   بہت رسیلا  پھل تھا ۔ 


آج کل بوڑھے کو باغبانی کا شوق  چڑھا ہے ، لہذا ایک ماہ سے  بیجوں سے پودے اُگانے کی کوشش کر رہا ہے ۔  کچن کے کاونٹر پر گملے ، پلاسٹک کے  گلاس   ملک شیک کے خالی کپ کے علاوہ چم چم کے پرانے لنچ بکس بھی   استعمال میں لائے جا رہے ہیں، بلکہ وہ بنیادی چیز ہیں۔ یوں  کاونٹر  چھوٹے چھوٹے پودوں سے ڈھک گیا ہے ۔ 
کیکٹس کی 20 سے زیادہ قسمیں ہیں ۔ 20قسمیں وہ ہیں جو گھر میں لگائی جاتی ہیں ۔
تو آئیں سیکھتے ہیں کہ  بیجوں سے پودے کیسے لگائے جائیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لیکن پہلے پڑھیں : باغبان اور کسان

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔