میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 9 اگست، 2018

باغبان بمقابلہ کسان

 اگر بوڑھا کہے کہ آپ ہر قسم کے بیج سے پودے   نہیں اُگا سکتے  تو آپ سر ہلا کر کہیں گے بلا شبہ  ؟
پہلے بوڑھا  بھی  آپ کی طرح یہی سجھتا تھا  ،  2017 میں جب
بوڑھا ،  بڑھیا کے ساتھ ایسٹ تِمور گیا تو وہاں دیسی پھل  کم اور درآمد شدہ پھل کافی پائے جاتے تھے ۔ ایسٹ تِمور  خطِ استوا پر واقع ہے لیکن وہاں کی آب و ہوا  گرم مرطوب ہے  ، بارشیں کافی ہوتی ہیں ۔
وہاں جو بھی پھل کھائے اُن کے بیج  بوڑھے نے سنبھال کر رکھ لئے  اور واپسی میں ساتھ لے آیا ۔ سنا تھا کہ  پھل پکنے کے بعد پروندوں کے کھانے کے بعد ،جب زمین پر گرتا ہے تو اُس کے بیج   زمین پر گر کر اُگ جاتے ہیں  یو ں بلیئن نئے پودے زمین سے سر نکالتے ہیں اور چرندوں کے لئے غذا کا انتظام قدرت کرتی ہے ، جو بچ جاتے ہیں وہ  قد نکال کر درخت بن جاتے ہیں  ۔ 

چنانچہ بوڑھا  بازار سے 10 گملے لایا اور اُن میں اجوہ کھجور سمیت  باقی  بیج  بھی لگا  دئیے ۔ کچھ نہ اُگا   اور بوڑھے کے  گملے سادہ تھے سادہ ہی رہے ۔  بیج نہیں اُگے :گویا
کہتے ہیں ہر سوچنے والا اپنے انداز سے سوچتا ہے خواہ آسمان سے سر پر سیب گرے یا تربوز  !
اِس دانا ، انسانی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ کہتے ہیں ، یو ٹرن نہیں ، انسانی زندگی میں  ٹرننگ پوائنٹ دو یا تین ہوتے ہیں ۔
معاشی ، سماجی اور مذہبی ۔  پہلے اور تیسرے کا تعلق اپنی ذات سے ہوتا ہے اور دوسرا ، سماج یعنی اپنے اردگرد رہنے والوں  سے متعلق ہوتا ہے ۔ نیوٹن، ایڈیسن  اور دیگراں کا ٹرننگ پوائنٹ  سماجی تھا ۔

فیس بُک پر ایک گروپ نے بوڑھے کو شامل ہونے کی دعوت دی ۔ 
 گروپ کا نام تھا ، " باغبان بمقابلہ کسان "  نہ بوڑھا باغبان ہے  اور نہ ہی   کبھی کسان رہا ہے ،    لیکن پھر بھی گروپ میں جاکر دیکھا کہ کون ہے جو بوڑھے کو کسان یا باغبان سمجھ رہا ہے ،   میری طرح کے  جوانوں  اور نو جوانوں کا گروپ ہے ، بوڑھے نے  فیس بُک کے دوستوں  کی تصاویر دیکھ کر ، دعوت قبول کر لی ۔   جو بوڑھے کی عادتِ صحیحہ ہے ، یعنی ہمہ یارانِ جنت اور بھول گیا !!!!!!  
یوں پوسٹ آنی شروع ہوگئیں  ۔
 مالکِ گروپ کی خواہش تھی کہ چھوڑو یہ  ، گندم ، دالیں ، لہسن ، پیاز  اور ادرک  ۔ گھر میں پھلوں کے درخت اُگاؤ اور پھل پکنے پر مزے سے اُس کے نیچے بیٹھ کر کھاؤ ۔اور اپنے اپنے ٹرننگ پوائنٹ کا انتظار کرو ۔
 مزاح برطرف ۔
اللہ نے ہر طیبات  انسان کی خوراک بنائی ہے   اور زمین پر انسان کو  اپنی خوراک   حاصل کرنے کے لئے محنت کا عادی بنایا ہے ۔   یہاں تک کہ پھلوں کی سرزمین  سکردو میں جہاں ہرقسم کے پھلوں کی بہتات تھی  جسے سکھا کر محفوظ کر لیا جاتا اورخزاں کے موسم میں کھایا جاتا ہے ، وہاں بھی گلیشئیر شروع ہونے سے پہلے  کہیں کہیں پائے جانے والے ہموار ٹکڑے پر مکئی اور مٹر کی کاشت دیکھی ۔ 

ہاں تو بات ہو رہی تھی ، بیجوں سے ہر قسم کے  پودے اُگانا ۔
مئی میں بوڑھا  ، بڑھیا اور چم چم کے ساتھ   دبئی  لڈو اور موتی چور سے ملنے گیا ۔ وہاں چم چم کی ماں اور  لڈو کی پھپّو بھی آگئی ۔  بوڑھے نے   وہاں جو بھی غیر ملکی پھل کھایا اُس کے بیج جمع کر لئے  اور اپنے سوٹ کیس میں ایک شاپر میں  رکھتا گیا۔جب   پاکستان  واپس آکر بیجوں کا خزانہ تلاش کیا  تو شاپر ندارد  کچھ سمجھ نہیں آیا کہاں گیا شائد بڑھیا نے واپسی پر سامان کی زیادتی اور  زرمبادلہ کے ضیاں پر اُسے نکال کر   ڈسٹ بن میں ڈال دیا ہو !
بہر حال ، بوڑھا  مین روڈ پر واقع نرسری میں گیا اور وہاں سے 30 روپے میں ملنے والے بیجوں کے پیکٹ لے آیا اور  اُنہیں اُگادیا ۔  ہفتے بعد  نئی کونپلوں نے سر نکالا ۔ بوڑھا خوش چلو کچھ نہ کچھ تو  سبزیاں اپنے کھیت سے ملیں گی ۔ دوسرے دن صبح اپنے کھیت میں گیا تو اجڑا ہوا تھا ۔ بڑھیا سے پوچھا ،
" یہ کس نے کیا ؟ "

بڑھیا بولی ، "آپ تو گالف کھیلنے چلے جاتے ہیں میں گھر میں بور ہوتی ہوں "
" مگر کیاریوں کے اُجڑنے سے   گالف کا کیا تعلق ؟"  بوڑھے نے پوچھا ۔
" وہی تو بتا رہی ہوں ، آپ بات مکمل کرنے تو دیں ۔" بڑھیا بولی " کل میں جب پارک سے واپس آئی تو مرغیاں شور مچا رہی تھیں ۔ میں اُن کے پنجرے کے پاس گئیں تو مجھے اُن کی قید پر ترس آیا اور میں نے کھول دیں ۔ اُن کی خوشی سے اُڑان اور اترا کر چلنا اتنا پیار تھا  کہ کیا بتاؤں ۔ میں اُنہیں چھوڑ کر پانی پینے اندر گئی  اور شہزاد کو کہا کہ آدھے گھنٹے بعد  بندکر دینا "

بس نوجوانو! کھیت  اجڑنے کا سارا قصہ آپ کو سمجھ آگیا ہوگا ، چم چم کے وہ دو ننھے چوزے ۔جوان ہو چکے ہیں بمع اپنی فطری شر پسندی کے ساتھ ۔  سامنے دانے پڑے ہوں  مجال ہے کہ اُنہیں منہ ماریں ، اپنے پنجوں سے زمیں کرید کے جڑ سمیت ننھے پودوں کو اکھاڑتے ہیں ۔  ھائے میرا کھیت !
" باغبان بمقابلہ کسان "   کے مالک  کا بھی اِس بوڑھے    کی طرح   اپنی مرغیوں کے ٹھونسے گئے ٹرننگ پوائنٹ کی وجہ سے شائد   باغبانی کی طرف راغب ہو ا  ہو گا ۔کہ مرغیاں درخت پرنہیں چڑھ سکتیں !
 لہذا  اب باغ کی طرف چلتے ہیں  اور سیکھتے ہیں کہ بیجوں سے باغ کیسے بنایا جائے ؟
 لیکن ایک شرط ہے ، کہ اِس  کچن گارڈننگ میں آپ اپنے بچوں یا  اُن کے بچوں کو ضرور شامل کریں اور بیجوں سے نکلنے والی جڑوں اور کونپلوں پر اُن کی خوشی کا عالم اپنی آنکھوں میں بسا لیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیجوں سے پودے کیسے لگائے جائیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔