میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 ستمبر، 2018

شیطان نامہ - قسط نمبر53 - سروں کی شہروں میں تشہیر

 کوفہ ، عراق ، الجزائر ،اور ملک شام کی بستیوں اور شہروں میں تشہیر ۔
یزید بن معاویہ نے حکم دیا کہ شہیدوں کے سر اور رسول الله کے اہل بیعت کو شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھرایا جائے  تا کہ شیعان علی بن ابی طالب کو نصیحت ہو اور وہ خلافت آل ابی طالب سے مایوس ہو جائیں اور یزید کی اطاعت دل سے کریں لہذاحکومت کے لشکری اہل بیعت کو ذلت اور رسوائی کے ساتھ پھراتے رہے ہر گاؤں اور قبیلے کے درمیان ان کو لے کر جاتے .(ناسخ التواریخ صفحہ 343 .)


ایک شیعہ اہل قلم " مجاہد اعظم " ہی اس کی تردید میں کم از کم کوفہ میں تشہیر ہونے کے متعلق فرماتے ہیں :
کوفہ جناب علی بن ابی طالب کا دار السلطنت رہ چکا تھا با وجود کوفیوں کی بے وفائی اور غداری کے اب بھی وہاں محب اہل بیعت موجود تھے جو اپنی جان اور مال کے خوف سے کسی قسم کی جنبش نہ کر سکے تھے، مگر ایسی کروائی جو خاندان رسالت کی توہین اور تذلیل کو انتہائی حد تک پہچانے والی تھی ضرور ان کے لئے اشتعال انگیز اور ہنگامہ عظیم پیدا کرنے والی ہوتی اور کوئی مدبر سیاست دان ایسی فاش اور خطر ناک غلطی کا جو عام لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے والی ہو اس کا ارتکاب نہیں کر سکتا تھا .(مجاہد اعظم صفحہ 386) .
اگر یہ مصنف کھلے ذہن سے غیر جانب دارانہ جائزہ لے سکتے تو ان کو اس حقیقت کا اعتراف بھی کرنا پڑتا کہ کوفہ والوں نے تو اپنی جان ، مال اور آبرو کے خوف سے غداری کی تھی ۔

 تو کیا باقی علاقوں میں رسول پاک کے اہل بیعت سے محبت کرنے والے لوگ نہ تھے ؟
یہ کاروائی تو ہر علاقے میں اشتعال انگیز اور ہنگامہ خیز ثابت ہوتی.قطع نظر اس بات کے کہ خود ان روایتوں میں دیو مالائی انداز کی جو خرافات درج ہیں وہ اس بات کا خود ثبوت پیش کرتی ہیں کہ کس مقصد سے ابو محنف ، لوط بن یحی ، محمّد الکلبی ، ہشام ، اور عمار الدہنی نے ان روایتوں کو خود گھڑا ہے.
مثال کے طور پر کہا گیا ہے کہ کوفہ کے گلی کوچوں میں جب مقتولین کے سروں کو گشت کرایا جا رہا تھا تو حسین کا سر مبارک تلاوت کلام الله میں مصروف تھا اور اس کی تصدیق کے لئے ایک صحابی زید بن ارقم کا نام لیا گیا کہ ان کی بیٹھک کے سامنے سے جب یہ سر گزرا تو انہوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ آپ سوره کہف کی تلاوت فرما رہے تھے.(ناسخ التواریخ صفحہ 223 )
اور سنیئے جب ایک شخص حارث بن وکیدہ کے دل میں کچھ شک ہوا تو سر حسین سے آواز آئی،

 اے ابن وکیده کیا تو نہیں جانتا کہ ہم الله کے امام اپنے رب کے پاس زندہ موجود ہیں .(صفحہ 333 ایضاً)
گشت کے بعد جب ابن زیاد کی مجلس میں سر حسین کا لایا جانا بیان کیا ہے تو حضرت زید بن ارقم کو بھی وہاں موجود بتایا گیا ہے تا کہ ایک صحابی کی زبان سے اس من گھڑت روایت کی تصدیق کرا لی جائے  کہ جب ابن زیاد نے دندان مبارک پر چھڑی ماری تو حضرت زید نے روکا اور کہا ،
 میں نے رسول اللہ کو انہیں چومتے دیکھا ہے وہ باز نہ آیا اور ان کو الله کا دشمن کہہ کر قتل کی دھمکی دی.(صفحہ 327 ایضا ً) 

تو وہ روتے پیٹتے باہر نکلے تو عرب کے لوگوں کے سامنے تقریر کر کے انھیں ابن زیاد کے خلاف بھڑکایا  ،مگر ان کی تقریر کا کوئی اثر نہ ہوا .
ابن جریر طبری (سب سے بڑا یاوہ گو ) نے ان ہی روایتوں کی نوک پلک درست کر کے اپنی کتاب میں درج کر دیا پھر کیا تھا جو بھی مصنف و مؤلف حادثہ کربلا کے بارے میں لکھنے بیٹھا آنکھ بند کر کے تقل در نقل ان من گھڑت روایتوں کو اپنی کتابوں میں درج کرتا گیا اور ان کا تجزیہ کرنے کی کسی مصنف نے بھی زحمت گوارہ نہیں کی .حالانکہ
ابن جریر طبری ہی کی روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حسین نے کربلا سے ہو کر دمشق جانے والا راستہ اس لئےاختیار کیا کہ خلیفہ وقت امیر یزید سے بیعت کر کے معاملہ ختم کریں . (صفحہ 235 جلد 6 طبری).اور حضرت حسین کے الفاظ نقل کیے ہیں،
تا کہ میں اپنا ہاتھ یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں دے دوں کہ وو میرے اور ان کے درمیان جو معاملہ ہے اس کا جو بھی فیصلہ کریں .
حضرت حسین کا تو مقصد ہی کچھ اور تھا لیکن بعض کوفیوں نے پھر ورغلانے کی کوشش کی تھی صوبہ کے حکام نے جیسا کہ پہلے تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے صورت حال کا جائزہ لے کر مطالبہ کیا تھا کہ یہیں ہمارے ہاتھ پر خلیفہ کی بیعت کر لیں اگر نہیں تو قافلے کے ساتھ جو ہتھیار ہیں وہ ہمارے سپرد کر دیں تا کہ ان کوفیوں کی شر انگیزی کا کچھ تو سد باب ہو جائے  جو حضرت حسین کے قافلے کے ساتھ تھے اور کچھ مزید بھی آ پہنچے تھے .اور طبری ہی کا یہ بیان بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ ابن زیاد کو امیر یزید کی سخت ہدایت تھی کہ اس وقت تک تلوار نہ اٹھائی جائے جب تک کہ ان کے خلاف تلوار نہ اٹھے اور خلیفہ کی اس ہدایت کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی تھی .
برادران مسلم اور وہ کوفی جماعت جو فافلے کے ساتھ تھی ان کی نا عاقبت اندیشی سے کہ انہوں نے یک دم سرکاری سپاہیوں پر حملہ کر دیا اور یکا یک تلوار چل پڑی اور یہ المناک حادثہ پیش آ گیا ان حالات میں کون صحیح العقل یہ بات مان سکتا ہے کہ پس مندگان کو پھر واپس کوفہ لایا گیا یا ان کے سر جسموں سے جدا کیےگئے.

 ابن جریر طبری نے خود ابو محنف کی روایت سے زبیر بن قین کی گفتگو کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں اور بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس وقت کہے جب خلیفہ وقت کے پاس جاتے ہوئے راستے میں ہتھیار ڈالنے کے لئے روکا گیا تھے وہ الفاظ یہ ہیں ۔
کہ ان حضرت حسین کو ان کے چچا زاد بھائی یزید کی پاس جانے دو ان کا راستہ مت روکو ، میری جان کی قسم یزید حضرت حسین کی اطاعت سے ان کے قتل کے بغیر بھی راضی رہیں گے.(طبری جلد 6 صفحہ 243 .)

 کربلا کے مقتولوں کے سر کاٹ کر ،ان کی مشہوری کرنے کا بیان ابھی جاری ہے۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔