میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 25 ستمبر، 2018

شیطان نامہ - قسط نمبر- 58 - 10 محرم قاسم کی شادی

تاریخ کے مطابق  ،    علی بن أبی طالب کے بیٹوں کے نام !
٭- حسن بن علی بن أبی طالب
 ٭- حسين بن علی بن أبی طالب
٭-  محسن بن علی بن أبی طالب
٭-  عباس بن علی بن أبی طالب
٭- هلال بن علی بن أبی طالب
٭-   عبدالله بن علی بن أبی طالب
٭-  جعفر بن علی بن أبی طالب
٭- عثمان بن علی بن أبی طالب
٭-   عبيدالله بن علی بن أبی طالب
٭- أبو بكر بن علی بن أبی طالب
٭-   عمر بن علی بن أبی طالب
 امام ابن کثیر نے( البدائیہ جلد ۹ سن ٦١ ہجری)  نے لکھا ،
ابن خلقان نے کہا ،" ام سلمہ زوجہ حسین بن علی ، ایران کے بادشاہ (یزدگرد) کی بیٹی تھی جو فارس کا آخری بادشاہ تھا "

 زمخشری نے کہا (یزدگرد) کی تین بیٹیاں تھیں (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قیدی بنائی گئیں) جن میں سے،
٭-  ایک عبداللہ بن عمر کو ملیں جس سے بیٹا پیدا ہوا جسکا نام سالم تھا۔
٭-  دوسری محمد بن ابو بکر  کو ملی جس سے قاسم بیٹا پیدا ہوا۔
٭-  تیسری حسین بن علی  کو ملی جس سے زین العابدین پیدا ہوئے۔ اور یہ سب آپس میں خالہ زاد تھے ۔
لیکن شیعوں کے 12 امام   ، حسین بن علی بن أبی طالب کی ہی نسل سے ہیں !
 شیعہ حسین اور 12 اماموں سے اس لئے محبت کرتے ہیں ،کیونکہ اِن میں فارسی خون شامل ہے اور وہ کسریٰ کے مالک ہیں۔

اب   ان اصل راوی کے ان بیانات کے بارے میں کہ۔
" قتل حسین سے زمین تھر تھرا گئی آسمان کانپنے لگا پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گئے، دریا ابل پڑے اور آسمان سے تازہ خون برسنے لگا " وغیرہ وغیرہ اور ان باتوں کے نوحے عورتیں گاتی پھرتی ہیں ،

 فرشتوں کی فوج اسلحہ لے کر اتر رہی تھی کہ حسین قتل ہوگئے اس لئے اب الله کے حکم سے یہ فوج آپ کی قبر پر قیامت تک گریہ و بکا میں مصروف رہے گی"
 ابن کثیر ان باتوں کا ذکر کرتے ہوے لکھتے ہیں ،
" یہ سب بالکل جھوٹ ہے اور اس موضوع کی روایتوں میں کوئی بات بھی صحیح نہیں حضرت حسین کو پچھاڑ دینے کے بارے میں شیعہ اور رافضیوں میں بہت کچھ جھوٹ اور بالکل باطل ہے"
   ہم نے جن چند باتوں کا تذکرہ کیا وہ کافی ہے اور جتنا ہم نے لکھا اس کا بعض حصہ محل نظر ہے .اگر ابن جریر طبری اور دوسرے ائمہ و حفاظ نے یہ روایتیں نہ لی ہوتیں تو ہم بھی ان کو ترک کر دیتے ان میں اکثر تو ابو مخنف، لوط بن یحی سے مروی ہیں اور وہ شیعہ تھے اور آئمہ فن کے نزدیک وہ ضیف راوی ہیں لیکن اخباری ہیں صرف ان ہی کی کتابوں میں ہی ایسی ایسی باتیں مروی ہیں جو دوسروں کے یہاں نہیں ملتیں اور اکثر مصنفین ان باتوں کے لئے ان کی طرف لپکتے ہیں.(البدیّہ و النہایہ جلد 8 صفحہ 202 ، 203 .)
مگر اس کے ساتھ ہی ان جھوٹی روایتوں کو اپنی کتاب میں درج بھی کرتے ہیں اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ اہل تاریخ اور اہل سر، اس سے انکار بھی کرتے ہیں کیوں کہ وہ ان پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں اور تحقیق کرتے ہیں اور روایت پرستانہ ذہنیت سے بالا تر ہو کر تحقیق کرتے ہیں . (البدیہ جلد 8 صفحہ 204 )

اگر علامہ ابن کثیر بھی تحقیق کر لیتے تو واقعہ کی صحیح صورت حال ان پر بھی منکشف ہو جاتی .
علامہ ابن جریر طبری تو اپنے شیعہ رحجانات کی وجہ سے ابو مخنف کی روایتوں کو قبول کرنے پر مائل ہوئے مگر دوسرے مورخین خاص طور پر علامہ ابن کثیر کو سوچنا چاہیے تھا کہ جب کوئی واقعہ خاص طور پر ان مقتولین کے سر کٹوا کر تشہیر کرنے اور ابن زیاد اور امیر یزید کے سامنے پیش کئے جانے کا ان حضرات میں سے کسی کی بھی زبانی بیان نہیں ہوا جو اس حادثہ میں بذات خود موجود تھے اور میدان کربلا سے صحیح سلامت واپس لوٹے تھے خاص طور پر زین العابدین فرزند حسین اور حسن مثنی داماد حسین وغیرہ سے یا علوی اور ہاشمی کے کسی ایک فرد سے بھی تو پھر اس راوی کی یہ روایتیں کیوں قبول کی جائیں جن کو آئمہ رجال نے نا قابل اعتبار ٹھہرایا ہے اور جھوٹا کہا ہے .
 
ابو مخنف تو اس حادثہ کے زمانے میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا اس کے 80 یا 90 برس بعد دوسروں کی زبانی جن میں سے کوئی بھی کربلا میں موجود نہیں تھا،  سن سنا کر یہ دیو مالائی قصے اس زمانے میں تحریر  کئے جب عراق میں مختلف قبائل کے دوران ذاتی نسلی اور خاندانی جھگڑوں کے ساتھ سیاست اور خانہ جنگوں کی وجہ سے آپس میں مخالفتیں پیدا  ہو چکی تھیں،
 مثال کے طور پر بنو کندہ عراق کا ممتاز اور حامل اثار قبیلہ تھا اس میں ایک ایسی کثیر جماعت تھی جو حضرت عثمان کے خلاف جو برائیاں کھل کر بیان کی جاتی تھیں برداشت نہ کر سکے اور اپنا وطن چھوڑ کر کوفہ سے معاویہ کے پاس چلے گئے اور وہیں پناہ گزین ہو گئے، ان میں سے بنو ارقم بھی تھے علامہ ابن حزم ان کا ذکر کرتے ہوے فرماتے ہیں کہ
یہ لوگ حضرت عثمان کے طرفداروں میں سے تھے کوفہ سے منتقل ہو کے حضرت معاویہ کے پاس ملک شام چلے  گئے اور کہا کہ ہم اس شہر میں نہیں رہیں گے،  جہاں حضرت عثمان کو برا کہا جائےپس حضرت معاویہ نے ان کو مقام الرہا میں بسا دیا ،(جمہرہ الانساب صفحہ 400 )
اسی قبیلہ میں حجر بن عدی بھی تھے اور ان کے دو بیٹے عبداللہ اورعبد الرحمن یہ باپ بیٹے دونوں شیعاً تھے صفحہ 400 ایضا.

آخر الذکر کو تو حضرت حسین کے داماد مصعب بن زبیر نے قتل کیا تھا اور اول الذکر کو حضرت معاویہ نے ۔پھر اسی قبیلہ کندہ کے سردار حضرت اشعث بن قیس بھی تھے،  جو صحابی رسول تھے اور جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ان کی وفات تو ہجری 40 میں ہوئی تھی لیکن  ابو مخنف نے بیان کیا کہ حضرت حسین کے قتل ہو جانے کے بعد انہوں نے ان کی قمیض لے لی تھی، ( مقتل  ابو مخنف صفحہ 93 مطبوعہ نجف .)
اسی طرح اگر تمام کا ذکر کیا جائے تو ایک طویل فہرست بن جائے گی مختصر یہ کہ ابو مخنف کی روایتوں میں یہ رنگ نمایاں طور پر جھلکتا ہے کہ اس نے عراق کے مختلف قبیلوں کے ممتاز اشخاص کے نام لے کر اس ظلم اور ستم کے جو افسانے بیان کیے ہیں ، وہ حکمران جماعت کی بدنامی کے مقصد کے علاوہ عراقیوں کی اپنی باہمی دشمنی ، رنجشوں اور رقابتوں کی وجہ سے بھی ان کے نام لئے ہیں ، 
 اگر یہ مورخین تحقیق کی طرف توجہ دیتے تو یہ سر کاٹنے کی روایتیں اور فلاں صحابی کی موجودگی میں فلاں کے سامنے پیش کرنے کے جھوٹ اس قدر نہ پھیلتے کہ ہر ایک کی زبان پر ان کا ذکر ہوتا مگر ان دیو مالائی داستانوں کو مرتب کر کے جب ان کی بنیاد ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی جو آج تک ٹیڑھی ہے.
اور یہ فرضی داستانیں اور ان کے جھوٹ اس قدر نمایاں ہیں کہ زمانہ حال کے ایک شیعاً مورخ (مصنف مجاہد اعظم) جنہوں نے واقعہ کربلا کے حالات پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر بہت سی باتوں کو غلط اور مبالغہ آمیز قرار دیا ہے ۔خاص طور پر شمر کا حضرت حسین کے سینہ پر چڑھ کر سر جدا کرنے کو بھی غلط قرار دیا ہے .اور ان یہ فقرہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے جو آپ کی توجہ کے لئے یہاں درج کرنا مناسب لگتا ہے .فرماتے ہیں کہ
اکثر واقعات مثلا ۔

 ٭- اہل بیعت پر تین روز پانی بند ہونا۔
٭- مخالف فوج کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا۔
٭- جنابہ زینب کے بیٹوں کا نو دس برس کی عمر میں شہادت پانا-
٭- فاطمہ کبرہ کا نکاح یوم عاشورہ کے روز قاسم ابن حسن کے ساتھ ہونا -

 ٭- عباس علمدار کا اس قدر جسیم ہونا کہ گھوڑے پر چڑھ کر بھی پاؤں زمین پر لگتے تھے۔
٭- حسین کے قتل کے بعد جناب زینب کا سر و پا برہنہ خیمے سے نکل کر مجمع  عام میں چلے آنا ،۔
٭- شمر کا سینہ پاک پر بیٹھ کر سر جدا کرنا -
٭-  آپ کی لاش کے کپڑے تک اتار لینا ۔
٭- لاش کو گھوڑوں کے سموں تلے کچلنا -
٭-  نبی زادیوں کی چادریں تک چھین لینا -
٭- شمر کا سکینہ بنت حسین کے منہ پر طمانچے مارنا -
٭-  سکینہ کی عمر تین سال بتانا -
٭ - روانگی کے وقت جناب زینب کی پشت پر درے لگانا ،-
٭- اہل بیعت کو بغیر پردہ ننگے اونٹوں پر بٹھانا -
٭- سید الساجدین کو طوق اور زنجیر پہنا کر سواری کی خدمت لینا -
٭-  کوفہ اور دمشق کی راہ میں جگہ جگہ روک کر نہایت ذلت اور خواری سے اہل بیعت کی تشہیر کرنا -
٭-  دمشق میں عرصۂ دراز تک نبی زادوں کا قید رہنا ۔
٭- ہندہ زوجہ یزید کا قید خانے میں آنا اور اہل بیعت کی آہ وزاری پر خوش ہونا ۔ 
٭-  سکینہ کا قید خانے ہی میں وفات پا جانا -
٭- سید الساجدین کا سر 20 صفر کو کربلا لانا ( حادثہ کے چالیس روز بعد )اور سپرد خاک کرنا 
وغیرہ وغیرہ کی روایتیں جو نہایت مشہور اور زبان زد عام پر ہیں ان میں سے بعض سرے سے غلط ، بعض مشکوک ، بعض ضیف اور بعض مبالغہ آمیز اور من گھڑت ہیں-(مجاہد اعظم مولف  شاکر حسین نقوی امروہی صفحہ 177 و 178 )
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔