میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 17 ستمبر، 2018

سوہانجنا(مورِنگا ) بیجوں سے پودوں کی افزائش

  کل صبح  ، میرپورخاص کے عبدالحفیظ بھائی کا فون آیا کہ ہم  مظفر آباد سے 12 بجے تک اسلام آباد پہنچ جائیں گے اور شام کو  مغرب یا عشاء کے بعد  آپ سے ملنے کا پروگرام ہے ۔ میرے ساتھ دوست بھی ہیں ۔
میں نے کہا ، " خوش آمدید "
مغرب کے بعد فون کیا ہم ذرا لیٹ ہوجائیں گے۔ میں نے کہا بھائی آپ 12 بجے رات تک آجائیں ، ہم کھانا ساتھ کھائیں گے ، اور ہاں ہوٹل میں نہ ٹہرنا ، میرے پاس ہی ٹہرنا 

خیر وہ رات  9 بجے، ہیڈماسٹر وحید صدیقی کے ساتھ پہنچ گئے ۔


 چونکہ دونوں نوجوان ، کراچی اور میرپورخاص میں رہتے ہوئے بور ہو کر  بیگ اُٹھائے سیاحی کے لئے نکلے تھے ، مظفر آباد سے کیل اور وہاں ٹاپ پر ہو کر واپس آرہے تھے ،دوسرے دن ڈھائی بجے اُنہوں نے ریل کار پر گوجرانوالہ جانا تھا  لہذا کھانا کھانے کے بعد وہ سو گئے ،
آج ناشتے کے بعد ، اُنہیں باہر لے کر پورچ میں بیٹھ گیا ، میرپورخاص کی گلیوں میں گھومتے گھومتے  ، ڈی ایچ اے کی ہریالی کا ذکر ہوا ، عبدالحفیظ بولے ،
" یا ر یہاں پرندوں کی چہچہانے کی آواز سن کر دل بہت خوش ہورہا ہے ۔ "
" آئیں آپ کو اپنے پرندے دکھاؤں" یہ کہہ کر اُنہیں  برڈز دکھا ئے اور بتایا کہ میں نے پودوں کی نرسری بھی لگائی ہے ۔ فوراً بوالے ۔
" یار ایک پودا ہے سونجنا  بہت فائدے ہیں ، اُس کے بیج کہیں سے لے کر مجھے کراچی بھجواؤ "
میں اُنہیں لے کر نرسری کے پاس لے کر گیا اور بولا ،
" یہ جو سب سے چھوٹے پودے ہیں ،سووہانجنا کے ہیں "
" ارے یار ، وحید بھائی ہم ڈھونڈھ رہے تھے اور نعیم صاحب  یہا ں پودے اُگا رہے ہیں، بھائی کچھ بھی ہو ہمیں بیج منگوا کر ضرور بھجوانا  "
میں نے کہا،" بھائی آپ نے بولا اور بیج حاضر "
ملازم کو کرنل صاحب کے گھر دوڑایا ، جاؤ اور وہاں سے دس بارہ پھلیاں لے آؤ ، وہ گیا، کرنل صاحب نے مہربانی کی ایک شاپر میں بیج بھجوا دیئے ۔
اب مورنگا  یا سوہانجنا پر بات شروع ہوئی اُنہیں میں نے بیج  کی جڑ یں اُگانے ، گملے میں منتقل کرنے اور حفاظت کا طریقہ بتایا ۔ جو پچھلے مضمون میں لکھ چکا ہوں :
پڑھیں :  سوہانجنا یا مورنگا کی راولپنڈی ڈویژن میں افزائش ، 

اب ، اِس کے بیج کراچی اور میرپورخاص کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ، دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے!
عبدالحفیظ بھائی جو بیج لے کر گئے وہ  پھلیوں سے نکلے ہوئے ، لیکن غلاف کے اندر تھے ۔


بیجوں سے جڑیں پھوٹنے کے عمل کے لئے ، اُنہیں   ایک پلاسٹک کے ڈبے میں ، ٹشو پیپر کے اوپر رکھ کر  پانی کا چھڑکاؤ کریں ، پھر ایک اور ٹشو پیپر رکھ کر  اُس پر دوبارہ  پانی کا چھڑکاؤکریں ۔اور ڈبے کو ڈھک دیا ۔تاکہ حبس پیدا ہو اور بیج جلدی اپنی جڑ نکالیں ۔یہ عمل میں نے 6 ستمبر کو کیا ۔
پھر  انتظار کیا کہ بیجوں کی جڑیں کب نکلتی ہیں ؟
دوسرے دن ڈبوں کو کھولا ، تو اُن کے اندر  بو تھی،  صاف پانی سے بیجوں کو دھویا اور دوبارہ واپس اُسی طرح رکھ دیا۔ تیسرے دن پھر کھولا ، بیجوں کو پانی سے دھویا اور واپس اُسی طرح رکھ دیا ۔
 چوتھے دن  ڈبوں کو کھولا ۔
بیجوں  اور خلافی بیجوں سے  جڑیں نکل آئیں تھیں ۔ 
اب اُن پر ، ڈسپرین کے پانی کا چھڑکاؤ کیا تاکہ جڑیں نکلنے کا نظام تیز ہوجائے ۔  ڈھکنوں کو پھر بند کردیا ۔
پانچویں دن ، بیجوں کی جڑیں اور بڑھ گئیں ؛
 اب مرحلہ تھا انہیں ، مٹی میں شفٹ کرنے کا ، جیساکہ میں نے پچھلے مضمون میں بتایا کہ کرنل امین کے گھر سے گملے میں لائے ہوئے ، پودے کو جب اپنے گملے میں شفٹ کیا۔ تو اُس کی جڑوں کو ہوا لگ گئی ۔ اور پودے کے سارے پتے جھڑ گئے ۔
 چنانچہ ، بیجوں کو پلاسٹک کے گلاس میں ، اور گملوں میں شاپر میں مٹی ڈال کر بو دیا ۔
اِس کی وجہ یہ تھی  کہ جب پودوں کو زمین میں لگایا جائے گا تو  پودے کو شاپر سمیت اٹھا کر زمین میں بنائے گڑھے میں رکھ دیں گے ۔ تاکہ جڑوں کو ہوا نہ لگے ۔ 
جڑیں نکلنے کے لئے  عمل  لئے جو بیج پلاسٹک کے ڈبوں میں ڈالے وہ  زیادہ تھے ، گملے اور گلاس ختم ہو گئے ، تو نیا حل نکالا ۔
ٹیلک شیٹ کے لفافے بنائے اور اُن میں  ، جڑیں نکالنے والے بیج ڈال دئیے۔
 ایک اور بات کہ تمام بیج نہیں پھوٹے ، کیوں ؟
وجہ یہ کہ کئی بیجوں کو کیڑوں نے کھا لیا ۔
تو دوستو یہ ہے ، سوہانجنا یا مورنگا کو اُگانے کے لئے ، بوڑھے کی کوششیں ۔ اِن پودوں کو پھول اور پھلیاں لگنے میں ، کہا جاتا ہے دو سال لگتے ہیں ۔



لیکن کیا ہوا اِس کے پتے تو استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔



صدیوں کی تحقیق اور دنیا میں  سوہانجنا (مونگا)  کا استعمال  ۔
٭ - یہ معجزاتی درخت  300 بیماریوں کا علاج  ہے ، جو غذا کی کمی یا اُن میں   وٹامن، اور دیگر  کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں  :
 اِس درخت کے خشک  50 گرام پتے ، دن کی بھوک میں ۔
٭- 4 گلاس دود ھ   میں موجود کیلثیم سے 17 گنا زیادہ کیلثیم  رکھتے  ہیں ۔
٭- 8 مالٹوں میں موجودوٹامن سے دُگنا ، اپنے اندر رکھتے ہیں  ۔
٭-8 کیلوں  کے برابر ہیں ۔
٭- 2 پالک کی گڈیوں برابر آئرن  ، مہیا کرتے ہیں ۔

٭- 2 کپ دہی    کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ پروٹین رکھتے ہیں ۔
٭- اِن  50 گرام پتوں میں  18 ایمائینو ایسڈز ۔36 وٹامن  اور 92 اینٹی آکسیڈنٹ ہوتے ہیں-
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سوہانجنا(مورِنگا )، غذائیت سے بھرپور درخت :
 سوہانجنا(مورِنگا ) کی راولپنڈی ڈویژن میں افزائش  :

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔