میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 23 ستمبر، 2018

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -1

نہایت دکھی رات تھی ، کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ،ملک پر سوگ کا گمان تھا  ، ہوا بھی سہم کر چل رہی تھی  ۔
کیوں کہ اہم فیصلہ ہونے والا تھا  !
جو مثبت فیصلہ آنے کی توقع کر رہے تھے  وہ بھی خاموش تھے اور
جو منفی  فیصلہ آنے کی توقع کر رہے تھے وہ دل خوش تھے   ، کہ کرلو جو کرنا ہے   ۔ تبدیلی تو آچکی ہے ۔

ساری بادشاہت ، 
پیتل کے بٹنوں  اور توپ کی دھات کے بنے ہوئے کھڑکھڑاتے    تمغوں  ،سپہ سالاروں کی قوت    ، لوگوں سے  بادشاہ  کے محلّات کی سجاوٹ ، خدام ،  گاڑیوں ، ہوائی سفر  کے لئے بنائی ہوئی  سواریوں  اور  اعلیٰ قسم کے  دوردراز ملکوں سے منگوائے ہوئے  کھانوں کےلئے عوام سے جمع کئے ہو ٹیکسوں کی آڑ میں بھتّہ وصول کرنے والے عمّا ل  ۔
یہاں تک کے  نفیریوں اور ڈھول تاشے پر ناچنے والوں کی کثیر تعداد اُ ن کے ساتھ ہے ۔
نوجوانوں  کے اِس جمگھٹے میں  لاٹھی کی کٹ ، کٹ ، کٹ کی آواز آئی ، ایک عمر رسیدہ  شخص اُن سے دو سے تین  کلک   کے پاس آکر اپنا لبادہ سمیٹ کے بیٹھ گیا ۔  فضا کی افسردگی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔
 یک لخت بادشاہ  کا ایک نوجوان مصاحب بولا:
یارو ، کوئی بات کرو کہ وقت گذرے  ! اچھا چلو میں تمھیں  ایک سبق آمُوز  کہانی سناتا ہوں ۔
سب نے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا ، کوئی جواب نہ پا کر وہ بولا ۔ 
 میرا خیال ہے، آپ سب کی خاموشی اجماع ِ سکوتی کا شارہ ہے ، چنانچہ آغاز میں کرتا ہوں ۔
 ٭٭٭٭٭٭
   ٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 2

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔