میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 23 ستمبر، 2018

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے !

نہایت دکھی رات تھی ، کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں ،ملک پر سوگ کا گمان تھا  ، ہوا بھی سہم کر چل رہی تھی  ۔
کیوں کہ اہم فیصلہ ہونے والا تھا  !
جو مثبت فیصلہ آنے کی توقع کر رہے تھے  وہ بھی خاموش تھے اور
جو منفی  فیصلہ آنے کی توقع کر رہے تھے وہ دل خوش تھے   ، کہ کرلو جو کرنا ہے   ۔ تبدیلی تو آچکی ہے ۔

ساری بادشاہت ، 
پیتل کے بٹنوں  اور توپ کی دھات کے بنے ہوئے کھڑکھڑاتے    تمغوں  ،سپہ سالاروں کی قوت    ، لوگوں سے  بادشاہ  کے محلّات کی سجاوٹ ، خدام ،  گاڑیوں ، ہوائی سفر  کے لئے بنائی ہوئی  سواریوں  اور  اعلیٰ قسم کے  دوردراز ملکوں سے منگوائے ہوئے  کھانوں کےلئے عوام سے جمع کئے ہو ٹیکسوں کی آڑ میں بھتّہ وصول کرنے والے عمّا ل  ۔
یہاں تک کے  نفیریوں اور ڈھول تاشے پر ناچنے والوں کی کثیر تعداد اُ ن کے ساتھ ہے ۔
نوجوانوں  کے اِس جمگھٹے میں  لاٹھی کی کٹ ، کٹ ، کٹ کی آواز آئی ، ایک عمر رسیدہ  شخص اُن سے دو سے تین  کلک   کے پاس آکر اپنا لبادہ سمیٹ کے بیٹھ گیا ۔  فضا کی افسردگی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔
 یک لخت بادشاہ  کا ایک نوجوان مصاحب بولا:
یارو ، کوئی بات کرو کہ وقت گذرے  ! اچھا چلو میں تمھیں  ایک سبق آمُوز  کہانی سناتا ہوں ۔
سب نے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا ، کوئی جواب نہ پا کر وہ بولا ۔ 
 میرا خیال ہے، آپ سب کی خاموشی اجماع ِ سکوتی کا شارہ ہے ، چنانچہ آغاز میں کرتا ہوں ۔
 ٭٭٭٭٭٭
 تو دوستو ، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ، ملک ِ فرنگیہ کی ملکہ  کا تاج چوری ہو گیا۔
پورے ملک میں ڈُھنڈھیا پڑ گئی ، جاسوسوں   نے سُونگھ لینا شروع کردی اورفرنگیہ  کوتوال نے    شہر سے نکلنے والے سارے راستے بند کر دیئے ۔ 
لیکن کچھ معلوم نہ ہوا کہ تاج کہاں گیا ؟

کئی سال گذر گئے ،  برطانوی پولیس نے ایک اطلاع پر ،محل کے ایک ملازم کے گھر چھاپہ مارا، پولیس وہاں پہنچی،  تو اُس دیکھا کے محل کا ملازم صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے اور اس کا دس سال کا بچہ ، اُس کے قدموں میں مسروقہ تاج سے کھیل رہا ہے۔
 پولیس نے محل کے ملازم کو گرفتار کر کے متعدّد دفعات لگا کر اُسے عدالت میں پیش کردیا۔ ان دفعات میں سے ۔
ایک: سیکشن 9(4) شاہی محل میں نقب زنی اور چوری اور
 دوسری سیکشن 9(5) قبضے سے مال مسروقہ کی برامدگی تھی۔
 استغاثہ نے یہ جانتے ہوئے کی پہلی دفعہ میں جرم ثابت کرنا محال ہے، تمام تر توجہ دوسری دفعہ پر لگادی   جس پر ، ظاہر ہے، ملزم رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے جرم تقریباً ثابت شدہ تھا ۔
 ملزم کو بھرپورموقعہ دیا گیا ، تاکہ مُلک کے قانون کے مطابق وہ  اپنی صفائی پیش کرے، لیکن  ملزم ملکہ کے  تاج کی اپنے گھر میں موجودگی کی  کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا ۔
 عدالت نے فیصلہ لکھتے ہوئے لکھا،
" سیکشن 9 (4) میں ملزم پر نقب زنی اور چوری کا جرم ثابت نہیں ہوا مگر سیکشن 9 (5) کے تحت مال مسروقہ اُس کی  تحویل سے برآمدگی کا  جرم میں سزا سنا دی گئی" ۔

 اس پر ملزم کے حواریوں نے شور مچا دیا کہ،
٭-  چوری تو ثابت نہیں ہوئی تو سزا کس بات پر دی گئی؟

 ٭- دوسرا یہ کے تاج تو بچے کے پاس تھا، باپ کو سزا محض مفروضے پر دی گئی۔

دوستو ! آپ کا کیا خیال ہے ، کہ کیا واقعی وہ شخص مجرم ہے ؟
یہ کہتے ہوئے ، داستان سنانے والے  کی پورے بتیسی باہر جھانکنے لگی ۔
 سب نے ، سپاٹ چہروں کے ساتھ خاموش نظروں سے  ایک دوسرے کی طرف  دیکھا !
ایک کھنکار کی آواز آئی ،
سب کی نظریں بوڑھے کی طرف اُٹھ گئیں  ،  بوڑھا بولا ۔
" پُتّر  اچھی کہانی تھی ،لیکن اُس ک سبق آموزیت میں کافی جھول ہے ، اب  ایک کہانی  میں سناتا ہوں !  

وہ زیادہ سبق آموز ہو گی ۔ اجازت ہے ؟
 سب نے خاموشی سے بابے  کی طرف دیکھا ، کوئی جواب نہ پا کر بابا بولا ۔
  اجماع ِسکوتی ، یعنی منظوری !
٭٭٭٭٭٭
نوجوانو! یہ تمھاری پیدائش  سے  پہلے کا  واقعہ ہے یا شائد  آپ لوگ پوتڑوں میں لپٹے ماں کی گود سے نکل کر  باہر دوڑ جاتے  ہوگے، اور  تمھیں کسی نے نہ سنایا ہو  یا شائد  تم لوگوں نے  بیرونِ ملک ِجدید کے  نظریات پڑھنے  کی خاطر سنی ان سنی کر دی ہو گی !
یہ بہت پرانی کہانی ہے ایک لوہار کی ، جس کو سونے سے زیادہ قیمتی  وہ لوہا لگتا تھا ، جسے وہ آگ میں  تپا کر کوٹتا تھا ،
 ڈھا ، ڈھا ، ڈھا ، دھک ،
دھک ، دھک  دھک ،ٹن
ٹن، ٹن ، ٹن ٹرررن 

ٹرررن کی آواز آتے ہی اُس کے محنتی چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ، کیوں کہ لوہا  اُس کے مضبوط ہاتھوں سے لگنے والے ہتھوڑے  کی ضربوں سے سٹیل میں تبدیل ہونے لگتا ۔ اور سٹیل  سب سے مضبوط اور قیمتی دھات ہے ۔ جو بڑی بڑی عمارتوں ، پلّوں  اور سب سے بڑھ کر کسی ملک کے دفاع کو تلواروں سے سہارا دیتی ہے ۔
 معمولی لوہے کو سٹیل میں تبدیل کرنے والا،  اُس بچے کا دادا تھا ۔
جو سٹیل بناتے بناتے ، بہت بڑی جائداد  کا مالک بن چکا تھا، جسے  انڈسٹری کہتے ہیں ، یعنی فونڈری جو   اُس کے ساتھ کام کرنے والوں  کی محبت اور "اتفاق"  کا ثمر تھی ۔ 
جو بھی اُس کے پاس جاتا وہ اُسے اُس کی مرضی کی مشینیں ڈھال کر دے دیتا ۔
پھر کیا ہوا ، اُس کے ساتھیوں کی خون پسینے کی کمائی،ملکہ کے وزیراعظم نے اُس کی جائداد ہتھیا کر ملکہ کے خزانے میں شامل کردی  ۔ وہ بہت رویا ، چلایا ۔ہر عدالت کے دروازے  لیکن اُسے معلوم نہ تھا کہ  عدالتیں بہری ، اندھی اور گونگی ہوتی ہیں  وہ صرف  ملکہ  یا وزیراعظم سے ملنے والی گدگدیاں یا ٹہوکے محسوس کرتی ہیں ۔
تو نوجوانو ! 

 جس کے خون پسینے کی جائداد ملکہ کے وزیر اعظم  نے ہتھیا لی تھی ۔ اُس  لوہار کے بھائی ، بہنیں ، بیٹے اور بیٹیاں، پوتے پوتیاں ، نواسے اور نواسیاں ، اُسی جائداد سے گذر بسر کرتے تھے ، وہ لوہار دوبارہ 25 سال پہلے کے دور میں  پہنچ   گیا جہاں سے وہ امن اور انصاف کی خاطر دوسری ریاست سے ، اِس ریاست میں آیا تھا ، جو کو مملکتِ خداداد، مشہور کیا گیا تھا ،  لوہار نے بڑی محنت سے پھر کاروباری طبقے میں اپنا دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا شروع کیا۔ 
اور آہستہ آہستہ پھر وہ مقام حاصل کرنے کی لگن میں  شہد کی مکّھی کی طرح  دوبارہ مصروف ہو گیا ۔جس کا شہد اُس کے بچوں سے چھین کر ہم کھا جاتے ہیں !
 تھڑا ہوٹل پر بیٹھی ہوئی نوجوانوں کہ یہ ٹولی ، دم ساھے بوڑھے کی باتیں سن رہی تھی !
نوجوانو  !آپ  پڑھے لکھے ہو ، شرارت کے ساتھ بُردباری بھی آپ کے چہروں سے چھلک رہی ہے ،وہ محاورہ تو آپ سنے سنا ہوگا ،
دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں !
لوہار کو یہ سب معلوم تھا  ،  اُسے معلوم تھا کہ ملک کی معیشت کو خون پسینہ فراہم کرنے والا، شہد کی مکھی کی طرح  طبقہ ،  ایک کمزور طبقہ ہوتا ہے ، طاقتور طبقہ وہی ہوتا ہے جو کاروباری طبقے اور عوام کے لگائے گئے ٹیکسوں پر موجیں کرتا ہے اور محلات میں رہتا ہے ، اور اپنی شان بڑھانے کے لئے خالص سونے کا تاج   اور جس میں چھین کر جوڑا ہوا ہیرا،     بادشاہ  یا ملکہ ، تخت ، تخت  والا کھیل کھیلتے ہیں ۔جس کی مدد وزیراعظم کرتا ہے  لیکن  تختہ دار پر وزیر اعظم چڑھتا   ، ملکہ اپنا تاج  سجائے بیٹھی رہتی  کیوں کہ وہ ہتھیار بند   محافظوں کے نرغے میں ہوتی ہے ، اُسے کون ہاتھ لگائے ؟  جوان  ملکہ ہو یا بوڑھی  مقدّس کہلاتی ہے ۔
تو نوجوانو !    اُس  مردم گذیدہ  بلکہ شاہان گذیدہ ، حالات کے تھپیڑوں   سے گذرنے والے  لوہار نے ،  حکمرانی تلاطم  کے سنڈاس    سے نکلنے والی باس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا  اور اپنے  خاندان کو   حکمرانی کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ 
لیکن کیا یہ ممکن تھا ؟
مگر ایک لوہار نے ممکن بنایا ۔ اُس نے نہ صرف    اپنے بیٹوں کو ملک  کے اعلیٰ عہدوں تک ، عوام کی مدد سے پہنچایا بلکہ اپنے برے وقت کے لئے ملک سے باہر ، ملکہ  کی حواریوں کی طرح  جائدادیں بھجوانا شروع کر دیں  ، جن جائدادوں کے لئے  ملکہ کے حواری تتلیوں کے پروں میں چھپا کر سفید پوڈر  باہر بھیجا کرتے تھے  ، لوہار نے اپنی کمائی ہوئی دولت ، ملکہ کے ہی خدّاموں  کے ذریعے باہر بھجوانا شروع کر دی ۔ 
 پہلی کہانی سنانے والے نوجوان کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے دیکھ کر بوڑھا ، گویا ہوا !
نوجوانو ! شاید اُس وقت  آپ  نیکر پہن کر ماں کی انگلی پکڑ کر سکول جاتے ہو گے، جب  لوہار کے بیٹے کو ایک درخواست ملی ،
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح 
ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ، اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، ایک چار ایکڑ زمین کا ٹکڑا دے دیا ۔
کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس رقم نہیں  کہ میں اپنا خواب شرمندہءِ تعبیر کروں ، لاچار ہوں !"

  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
 چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان، کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، 50 کروڑ  ملکی کرنسی  جس کی مالیت، فرنگی کرنسی میں 23 کروڑ ڈالر بنی تھی ، جو آج ملکی کرنسی میں  2 ارب 80 کروڑ بنتی ہے  ۔  
کتنی  ؟    2 ارب 80 کروڑ
  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " ناممکن  ، یہ سب جھوٹ ہے "
بوڑھا ، گویا ہوا !

 نوجوانو ! کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس اِس شہر میں رہنے کو مکان نہیں  ، بے گھر  ہوں !"تو نوجوانو!
 لوہار کا بیٹا پھر  آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کو  گھر لازمی ملنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس  بے گھر نوجوان، کو گھر بنانے کے لئے ، صرف چار کنال کا پلاٹ  دان کر دیا ۔

  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " سراسر جھوٹ ہے ، وہ تو خود کروڑ پتی تھا ۔"
مردِ دانا و بینا  نے ، نوجوان کی طرف دیکھا ، اور دل میں سوچا، 
 اچھل کود کی کمائی کھانے والا ، شراب و شباب پر اُڑانے والا ،  وہ نوجوان کسی کا پتی نہیں بن سکا تو کروڑ پتی کیسے بنتا ؟
چنانچہ اُس نے بجائے اپنی سوچ کا اظہار کرنے ، داستان کو جاری رکھا !
  نوجوانو ، آپ یہ سوچ رہے ہوگے ، کہ درخواست لوہار کے بیٹے کو کی جاتی ، تو لوہار  بیچ میں کیسے آجاتا ؟ ہے نا حیرت کی بات !
شاید آپ کی مائیں آپ کو لے کر بچپن میں علیحدہ ہوگئی ، یا آپ کے دادا نے آپ کی ماؤں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ، اِسی لئے آپ ایک  مشرقی کنبے  کے بارے میں کم جانتے ہو۔

ہمارا مشرقی کنبہ ، جس میں اولاد چاہے دنیا کی نظروں میں کتنی ہی طاقتور یا بااثر کیوں نہ ہوجائے ، اپنے باپ کو ہمیشہ اپنا سر پرست سمجھتی ہے  اور باپ خاندان کا سربراہ رہتا ہے ، جس کی ابرو کے معمولی سے  اشارے پر اولاد اُس محفل سے کھسک جاتی ہے ، جہاں باپ اُن کا موجود ہونا پسند نہ کرے !
وہ ایسے خاندان کا سربراہ نہیں ہوتا ، کہ کینسر سے مرنے والی بیوی کی خواہش پوری نہ کر سکتا ہو اور  اکلوتا بیٹا ، صرف   پیسوں نہیں بلکہ عورتوں کی خاطر،  ماں  کے بستر مرگ کو چھونے بلکہ دفنانے تک نہ آسکتا ہو ۔
  نہ نہ   نوجوانو ! نہ ۔وہ معمولی  لوہار  ، ایک مشرقی قدروں کے ا مین خاندان کا سربراہ تھا ، جس کے بیٹے ملک پر حکمرانی کرنے لگے تھے ، لیکن اپنے  کاروبار اور خاندان  کو وہی چلا رہا تھا ۔اُس کے  دونوں بیٹے ملکہ کے اعلیٰ عہدیدار تھے ، لیکن  اپنے خاندان کا وہی سرپرست تھا ، بیٹے اپنے باپ کی سرپرستی میں بے فکر تھے ۔ اُس کے پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں ، ہر چیز اُس سے مانگتے ، وہ اُن کے لاڈ اُٹھاتا ۔ بیٹے اُس کے سامنے سر جھکاتے ! مغربی اقدار کے پرستاروں کو یہ بات چبھتی  تھی ، کہ جن مشرقی اقداروں کو اُنہوں نے مغربی اقدار پر قربان کر دیا وہ اُن کے ملک میں کیسے پنپ رہی ہیں ؟

تو نوجوانو! اصل بات یہ ہے ، کہ لوہار نے ملکہ کا تاج   ، ملکہ سے عوام کی قوت سے خرید لیا تھا ، جس کی اُس کے نزدیک  لوہے سے بھی کم قیمت تھی اور وہ اُس نے اپنے پوتوں کو کھیلنے کے لئے دے دیا ۔ 
وہ نوجوان یاد ہے ، نا ؟
 جو درخواستیں اٹھائے پھرتا تھا! اُس نے پہلی بار مُلک   میں نوجوانوں کو گالیوں ، طعنوں ، جھوٹ اور  ناچنے کی تربیت دینا شروع کر دی ۔ تاکہ  مشرقی ملک میں مغربی اقدار  کے  تسلط کو پھیلایا  جائے ۔  جب اُس نے دیکھا کہ اخلاقی قدروں کی کمزور لوگ اُس کے ارد گرد جمع ہو گئے ، تو اُس نے اپنے محسن و مربّی پر  الزام لگا دیا ، کیا ؟
  " تاج ، لوہار کے بیٹے نے ،    اپنی بیٹی اور داماد کی مدد سے چرایا "

نوجوانو !
یہ یزیدیت کی ایک نہایت گھٹیا مثال ہے ۔
لیکن پترو کیا یہ ممکن ہے کہ محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟

 سوچو ؟؟؟؟؟؟؟
یہ کہہ کر بوڑھا اُٹھا، گم سُن   نوجوانوں کو اُس کی لاٹھی ، کی پکے فرش پر پڑھنے والی خفیف ضرب  سناٹے میں ، ٹک ، ٹک ،ٹک کر دور معدوم ہوتے سنائی دی لیکن اُن کے دماغ میں ابھرتی ہوئی گونج ، 

محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
ماحول پر حاوی ہو گئی  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔