میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 28 ستمبر، 2018

ھندوستانی ٹھگ


ٹھگ: ‎سنسکرت کے اصل لفظ ستھگہ سے ماخوذ  ہے  اردو زبان ٹھگ مستعمل ہے ۔ اس کے معنی ہیں چھپا ہوا یا پوشیدہ۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے 1672ء میں عبداللہ قطب شاہ کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔ 

یہی لفظ امریکہ میں ڈاکوؤں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، جو اپنی شناخت یا نیّت چھپانے کا تردد نہیں کرتے۔
موجودہ دور میں ٹھگ، چالاک شاطر  ، فطین اور  مطلب پرست   سفید پوش آدمی  سے لے کر دھوکے باز جرائم پیشہ افراد تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے  ۔ 
لیکن اصلی تے وڈّے ھندوستانی ٹھگ،وہ  ہوتا تھا ، جو  اپنے شکار پر آخر تک اپنی شناخت یا نیّت ظاہر نہیں کرتا تھا ۔ یہ  بڑی ہوشیاری سے مسافر کو گلا گھونٹنے کے بعد  لوٹ لیاکرتے تھے۔
 ٹھگوں کا اپنا علاقہ ہوتا تھا  ،جس کی حد میں ،      اگر ایک ٹھگ ناکام رہتا تو وہ اپنے شکار کو دوسرے علاقے کے ٹھگ کے ہاتھ فروخت کر دیتا۔وہ اِس طرح جب قافلہ   ٹھگوں کی دوسری حدود میں داخل ہوتا ، تو قافلے میں شامل ہونے والوے ٹھگوں کو پہچان لیا جاتا   کیوں کہ یہ کم از کم تین سے پانچ یا زیادہ کے جتھوں میں ہوتے تھے ،ان کا بڑا ہتھیار رومال یا پھندا ہوتا تھا۔ جس سے وہ آناً فاناً اپنے شکار کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے۔

ٹھگ کالی دیوی کے پچاری تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کالی دیوی ہی ان سے یہ جرائم کراتی اور ان کی حفاظت کرتی ہے۔ لاکھوں آدمی ان کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ ان ٹھگوں نے تین سو سال تک ہندوستان میں اپنی خوف و دہشت پھیلائے رکھی۔ اگر انگریز ہندوستان نہ آتے تو شاید یہ ٹھگ کبھی ختم نہ ہوپاتے۔ ‎انگریز ھندوستان پر قبضے کے دوران اپنی جن سماجی کامیابیوں کا تذکرہ بہت فخر سے بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک ٹھگوں کے منظم گروہوں پر قابو پانا ھے، جو کہ پندرھویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک تین سو سال تک ھندوستان بھرکے راستوں میں دھڑلّے سے منڈلاتے رہے۔

ٹھگوں  کی وارداتیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے قابو پانے کے لیے کیپٹن ولیم  ہنری سلیمن کی سربراھی میں ایک سپیشل سیل تشکیل دیا گیا۔ اس سیل کی تفتیش اور کاروائی کی تفصیلات نے انگلستان میں اتنی سنسنی پھیلا دی کہ رڈیارڈ کپلنگ سمیت بہت سے لوگوں نے ٹھگوں کے قصے لکھ لکھ کر ٹھگ کالفظ انگریزی زبان میں مستقلاً شامل کر دیا۔ 
سنسنی کا مزید اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ اس دور کی ملکہ وکٹوریا نے اسی موضوع سے متعلق ایک ناول "کنفیشن آف اے ٹھگ" چسکے لے کر پڑھا، جس میں ایک حقیقی سلطانی گواہ سیّد امیر علی نامی ٹھگ کے اعتراف جرم کو بنیاد بنایا گیا تھا۔
 ‎ ولیم سلیمین کی اس زمانے (1830-1840) کی تفتیش کے مطابق ٹھگ توہم پرست قاتلوں کا گروہ تھا جو بھوانی نام کی دیوی کے پجاری تھے۔اور نسل در نسل ٹھگی سے وابستہ تھے اور ان کا پختہ یقین تھا کہ صرف ان کو اس کام کا خدائی حق ھے اور جرائم پیشہ لوگوں کا کوئی اور گروہ اس نام سے کام کرنے کا حق نہیں رکھتا۔(یعنی جملہ حقوق محفوظ) 
 ٹھگوں کی اپنی ایک الگ دنیا تھی ، جس کے بارے میں دوسرے لوگوں کو بس اتنا ہی معلوم تھا کہ مرنے والا ٹھگوں کا شکار ہو کیا ہے کیوں کہ گردن پر رومال سے گلہ گھونٹنے  کا سرخ نشان ہے ۔  ٹھگوں  کی رسومات اور ٹھگنے کی تکنیک پر پُراسراریت کی چادر تنی ہوئی ہے۔
 ’ٹھگنے ‘ کے عمل کو جائز قرار دینے کے لیے (دیومالائی داستانوں) Mythology کا سہارا لیا گیا اور ایک مضبوط کہانی کو بنیاد بنا دیا گیا۔  اِس کہانی کے نشیب و فراز نے ایک مضبوط انسانی  قاتل جتھا بنانے کا کام کیا۔
ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق  ، پرانے زمانے کی بات ہے کہ اس دنیا میں ایک عفریت کا قبضہ ہوگیا تھا اور وہ ان تمام انسانوں کو، جو پیدا ہوتے تھے، ہڑپ کرجاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں دنیا سے آبادی ختم ہونا شروع ہوگئی۔ آخرکار بھوانی دیوی  نے عفریت کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا،اُس نے عفریت پر حملہ کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے، مگر ہوا یہ کہ اُس کے خون کے ہر قطرے سے ایک عفریت پیدا ہوگیا، البتہ  بھوانی دیوی ان کو قتل  کرتے کرتے ، کالی دیوی کا روپ دھا رچکی تھی ۔
 مگر اُن کے خون کے قطروں سے عفریتوں کی تعداد برابر بڑھتی رہی، یہاں تک کہ اُن کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ گئی۔ دیوی نے تھک ہار کر اور مایوس ہوکر سوچا کہ انہیں قتل کرنے کا دوسرا طریقہ ڈھونڈنا چاہیے،   کالی   دیوی نے  اپنے پسینے سے دو آدمیوں کو پیدا کیا اور انہیں رومال دئیے تاکہ وہ ان عفریتوں کا خون بہائے بغیر رومال سے گلا گھونٹ کر ماریں۔ حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور  اِن دونوں آدمیوں نے تمام عفریتوں کو نہایت چالاکی سے ، گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔
 کام کی انجام دہی کے بعد ان دونوں نے اپنے رومال دیوی کو واپس کرنے چاہے، لیکن دیوی نے رومال واپس لینے سے انکار کردیا اور دونوں سے کہا کہ، ان رومالوں کو وہ اپنے شاندار کارنامے کی یاد میں اپنے پاس رکھیں، بلکہ ان کو استعمال کرکے کوئی منافع بخش   پیشے کو اختیار کریں تاکہ ان کی آنے والی نسلیں پھلیں پھولیں۔
عفریتوں کو مارنے والے ، ماہرین کے پاس  گلاگھونٹ کر مارنے کے علاوہ کوئی اور فن نہ تھا ،   سوائے یہ کہ وہ  ، لوگوں کوگلا گھونٹ  کر قتل کرنے کے بعد اُس  کا مال و متاع اپنی قبضے میں لے لیں ، اِس مقصد کے لئے ، اُن دونوں کے لئے سب سے آسان شکار ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے والے اِکا دُکا مسافر ثابت ہوئے ۔ جن کو اعتماد میں لے کر اُن کے ہتھیار  روں کو استعمال کرنے کا موقع نہ دینا اور موقع ملتے ہی گلا گھونٹ کر مار دینا   تاکہ اُن کا خون زمین پر نہ گرے ۔
جب دیوی یا دیوتاؤں  آشیر باد کسی بھی جرم میں شامل ہوجائے تو وہ تقدیس   میں شامل ہوجاتے ہیں ۔اور یہ سب کہانی گروں کا کمال ہوتا ہے کہ وہ انسان کو اپنے سحر میں کیسے جکڑے اور اُس سے کمائے ، ہر کہانی گر   انسانی جرم کو ثواب کا لبادہ اُوڑھانے  میں مہارت رکھتا ہے ۔ جو معمولی نذرانے  سے قتل جیسے  بھیانک جرم کو   مقدّس مذہبی پہناوہ پہنا دیتے ہیں ۔ چنانچہ مجرموں کے لئے ایسی کہانیاں عقیدے کا روپ دھار  کر ثواب میں تبدیل ہوجاتی ہیں
اور گناہ کا تصور ان تصورات کے جنگل میں کہیں بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح گم ہوجاتا ہے ۔
 تاریخ کے صفحات میں سب سے پہلے ہمیں ’تاریخ فیروز شاہی‘ (1358ء-1266ء) میں ٹھگوں کا ذکر ملتا ہے۔ مگر اس تذکرے میں بھی ٹھگوں سے نہایت نرم رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاریخ فیروز شاہی کے مصنف ’ضیاء الدین برنی‘ جن کی زندگی کے آخری برس ’فیروز خان تغلق‘ کے قید خانے میں گزرے وہ تحریر کرتے ہیں،
"کچھ ٹھگ شہر میں گرفتار کیے گئے۔ ان ایک ہزار سے زائد ٹھگوں میں سے ہی ایک نے انہیں گرفتار کروایا تھا۔ سلطان جلال الدین نے اُن میں سے ایک کو بھی قتل نہیں کیا اور سب کو حکم دیا کہ کشتیوں میں سوار کرکے ان کو  لکھنؤتی (بنگال) کے علاقے میں لے جاکر چھوڑ دیں تاکہ یہ ٹھگ مجبوراً لکھنؤتی کے علاقے ہی میں پڑے رہیں اور پھر اس طرف نہ آسکیں۔"
یہ احکامات تقریباً 700 برس قبل ایک سلطان نے جاری کیے تھے۔ ان احکامات میں ایک چھپی ہوئی پُراسراریت اور عجیب ڈر محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح کسی نے چغلی کھا کر ٹھگوں کے کسی گروہ کو قانون کے حوالے کیا اور اتفاق سے وہ خود کسی بیماری میں مبتلا ہوکر مرگیا یا پھر کسی وبائی کی وجہ سے اُس کے خاندان کے کچھ لوگ مرگئے یا بیمار پڑگئے تو یہ ’کالی ماتا‘ کا انتقام ہی سمجھا جاتا تھا۔ ٹھگوں نے کالی ماتا پر جو بھروسہ رکھا اور جو ایمان رکھا وہ کمال حد تک تھا۔
 ٹھگوں کے گروہوں میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ ویسے تو یہ افراد مذہبی طور پر اپنی اپنی جگہ پکے ہندو اور پکے مسلمان ہوتے مگر جیسے ’ٹھگ برادری‘ میں آجاتے تو وہ کالی ماتا کے بھگت ہوجاتے اور ٹھگوں کی بنائی ہوئی روایات پر سچے دل اور ایمان و یقین کے ساتھ عمل کرتے۔
 1843ء میں جرمن سیاح ’لیوپولڈ اورلچ‘ (Leopold von orlich) نے ٹھگوں کے حوالے سے انتہائی باریک بینی سے تحقیق کی، وہ لکھتے ہیں کہ، 
" یہاں ٹھگوں میں ہندو اور مسلمانوں کے سوا برہمن ٹھگ بھی ہیں۔ ٹھگوں کی اپنی علیحدہ زبان کے ساتھ اشارے اور علامتیں بھی الگ ہوتی ہیں۔ یہاں مختلف ٹھگوں کی کئی اقسام ہیں، جیسے ’جمالدھی ٹھگ‘، ’ملتانی ٹھگ‘، ’چنگیزی‘ یا ’ناٹکی ٹھگ‘ جو ملتانیوں کی ایک شاخ ہے۔ ’سوسی ٹھگ‘ بھی ہیں اور یہاں دریائی ٹھگ ہیں جو دریاؤں میں کشتیوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔‘ مسافروں کے شکار کے لیے ٹھگ پہلے سفر پر جانے والی ٹولی کے متعلق معلومات حاصل کرتے، معلومات کے لیے شہروں میں اُن کے اپنے ذرائع ہوتے پھر اُس ملی ہوئی معلومات کے مطابق وہ راستے کے متعلق پلاننگ کرتے اور بڑے سکون سے شکار تک پہنچتے۔ اگر قافلے کے لوگوں کو ان پر شک ہوجاتا تو وہ ان سے الگ ہوجاتے اور دوسری ٹھگوں کی ٹولی بھیس بدل کر اس قافلے میں شامل ہوجاتی۔ کبھی کبھار 5 سے 6 ٹولیوں کے بھیس بدلنے تک وہ اپنے شکار کا پیچھا کرتے رہتے۔
 ٹھگوں کی یہ ٹولیاں صرف مضبوط اعصاب رکھنے والوں کی ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اچھے اور ذہین فنکار بھی ہوتے۔ مختلف روپ دھارنے کے لیے اپنے ساتھ ضرورت کا ہر سامان رکھتے، غریب چرواہے سے لے کر مالدار زمیندار تک کا بھیس بدلنے کے لیے ضروری ہر سامان ان کے پاس ہوتا۔ جب وہ سمجھ جاتے کہ قافلے کے لوگ ان پر اعتبار کرنے لگے ہیں تو پھر وہ وقت آجاتا جس کے لیے وہ ٹھگ ساری محنت کرتا جاتا اور انتظار کرتا۔ اُس کی کوشش ہوتی کہ آخری لمحات جن میں سارے قافلے کو موت کی نیند سُلانا ہے وہ عمل جتنا جلد ہوسکے اُتنا اچھا۔ وہ یہ سارے کام ایک منظم حکمت عملی کے تحت کرتے، ان کی پوری ٹیم کو مخصوص زبان اور اشاروں کے ذریعے بتا دیا گیا ہوتا تھا کہ، یہ آخری لمحے کس جگہ پر ہوں گے، اس طرح ان کے دیگر ساتھی اتنے گڑہوں کا پہلے سے انتظام کردیتے کہ لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں دیر نہ ہو، کیونکہ اس راستے سے مسافروں کی دوسری ٹولی یا قافلہ کسی وقت بھی آسکتا تھا۔ اپنا ہدف حاصل کرنے کے بعد وہ اکثر اُسی جگہ ڈیرا ڈال لیتے اور دفن لوگوں کی قبروں کے اوپر کھانا وغیرہ بناتے، وہیں رات کا قیام کرتے اور صبح ہوتے ہی نکل پڑتے۔ ایسا وہ محض اس لیے کرتے تھے کہ کھدائی کا کوئی نشان باقی نہ رہے اور لوگوں کو اس جگہ پر کسی قسم کا شک نہ ہو۔ یہ اس قدر سفاک اور ظالم ہوتے تھے کہ عورتوں بچوں اور شیر خواروں تک کو نہیں چھوڑتے تھے۔"
 فینی پارکس (Fanny Parkes) نے 1840ء میں ایک کتاب تحریر کی تھی ’وانڈرنگ آف اے پلگرم این سرچ آف دی پکچریسک‘، 
اس میں ٹھگوں کے متعلق بنیادی اور مشاہداتی معلومات درج ہے۔ اس کتاب میں ایک باب ہے، ’ایک ٹھگ کے اعترافات‘، جس میں ٹھگ کہتا ہے کہ،
 ہمارے ہاں پُرانے ٹھگوں کی عزت ہوتی ہے اور وہ ٹھگ جو ضعیفی کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے، اُن کے شاگرد، جنہوں نے ان سے رومال استعمال کرنا سیکھا ہوتا ہے وہ مالی طور پر اُن کی مدد کرتے ہیں۔
’ میں، ’گورنمنٹ گزٹ‘ میں چھپے اُس خط کو یہاں نقل کرنا چاہتا ہوں جو ’فینی پارکر‘ نے بھی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ چونکہ یہ ایک طویل خط ہے اسلئے مکمل نہیں البتہ اُس کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ 
جناب اعلیٰ!، میں ان 11 ٹھگوں کی پھانسی کے وقت موجود تھا جو بھیلسہ کے قریب گرفتار کیے گئے تھے۔ اُن پر 35 مسافروں کے قتل کا الزام تھا (جن کی لاشیں بھوپال اور ساگر کے راستے میں مختلف جگہوں پر ملی تھیں) اس جرم کی سزا کے طور پر گورنر جنرل کے ایجنٹ ’مسٹر اسمتھ‘ نے انہیں پھانسی کی سزا دی تھی۔ جیسے ہی سورج طلوع ہوا اور ان 11 آدمیوں کو جیل سے باہر لایا گیا تو وہ لوگ پھولوں کے ہار پہنے ہوئے تھے اور بڑے سکون و اطمینان سے پھانسی کے تختے پر آئے، ان کے چہروں سے کسی بھی قسم کی پریشانی ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ جب انہیں پھانسی کے پھندے کے سامنے ایک ایک کرکے کھڑا کیا گیا، تو ان کے چہروں پر بشاشت آگئی اور سب نے مل کر ہاتھ بلند کیے اور یہ نعرے لگائے۔’بندھیہ چل کی جے، بھوانی کی جے‘۔ اگرچہ ان میں چار مسلمان، ایک برہمن اور دوسرے راجپوت و مختلف ہندو ذاتوں والے بھی تھے، مگر سب کا نعرہ ایک ہی تھا۔ اس کے بعد وہ پھانسی کے تختے پر گئے اور اپنے ہاتھوں سے پھانسی کے پھندے گلے میں ڈال کر ایک بار پھر بھوانی کا نعرہ بلند کیا۔
 ان کا سالانہ میلہ ضلع مرزاپور (اترپردیش) سے چند میل دور مغرب میں بارشوں کے موسم میں لگتا ہے۔ اس میلے میں پورے ہندوستان سے قاتل اور لٹیرے جمع ہوتے ہیں۔ جب وہ اس میلے کے لیے سفر کرتے ہیں تو کوئی جرم نہیں کرتے۔ یہ کسی مہم کے لیے نکلنے سے پہلے جو رسومات ادا کرتے ہیں اُن کا زیادہ تر تعلق فطرت سے ہوتا ہے۔ شگون کے لیے وہ، دائیں طرف کو اچھا اور بائیں کو بُرا سمجھتے ہیں۔ یہ تیتر، ہرن کے شگون کو اچھا سمجھتے ہیں جبکہ اگر اُن کے سامنے بھیڑیا راستہ پار کرلے تو وہ اُس کو بُرا سمجھتے ہیں۔ اگر وہ کسی سیار کو دن میں اور تیتر کو رات میں بولتا سُن لیں تو وہ اُس علاقے کو فوراً چھوڑ دیتے ہیں۔اسی طرح یہ لوگ کسی واردات پر جانے سے پہلے باقاعدہ مہورت نکالتے تھے۔ اگر واردات پر جاتے وقت گھر سے نکلتے ہی گدھے کے رینکنے کی آواز سنائ دیتی تو یہ بدشگن تصور کیا جاتا اور یہ اپنا ارادہ ملتوی کر کے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔ ان کی اپنی ایک خفیہ زبان اور کوڈ ورڈز بھی ہوتے تھے جنہیں صرف ٹھگ ہی سمجھ سکتے تھے۔
 ٹھگوں کی پُراسرار ٹولیاں ہندوستان کے سفری راستوں پر اپنی موت کا جال بچھاتے اور لوگوں کو اُن میں پھنسا کر مار ڈالتے۔ 1830ء میں ایک ہزار سے زائد ٹھگ اپنے اس عمل میں مصروف تھے اور ایک برس میں اندازاً 30 ہزار لوگوں کو قتل کردیتے تھے۔ یہ صورتحال انگریزوں کے لیے ٹھیک نہیں تھی، کیونکہ اس طرح راستے غیر محفوظ ہوئے اور تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انگریزوں کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کریں اور تجارت کو فروغ دیں۔
 ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں، 
’اس مقصد کے لیے گورنر جنرل ’ولیم سلیمن‘ (William Henry Sleeman    ) کو ٹھگی کے خاتمے کے لیے مقرر کیا گیا۔ ‎آیندہ برسوں میں ولیم سلی مین نے ایسی پالیسیاں تشکیل دیں، جس سے ٹھگوں کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ اس نے ایک منظم طریقے سے کام کیا اور 1831ء سے 1837ء تک 30 ہزار ٹھگوں پر مقدمہ چلا کر انہیں سزا دی گئی۔ ان میں سے اکثر کو پھانسی کی سزا دی گئی اور سلیمین لوگوں کا ہیرو بن گیا۔ جبل پورکے شمال مشرق میں سلیمین نام کا گاؤں اب بھی موجود ہے۔
 1855ء میں وہ مختلف اہم عہدوں پر تعینات رہنے کے بعد اپنے وطن روانہ ہوا تو برصغیر قریب قریب ٹھگی سے نجات پا چکا تھا۔ سلی مین دفتر میں بیٹھ کا ماتحتوں کو احکامات جاری کرنے کے بجائے، میدان عمل میں خود اترا ۔ وہ عام لوگوں میں گھل مل جاتا تاکہ مقامی رسوم و رواج سے آگاہی حاصل کر سکے۔ وہ سرکاری کاغذات کو پڑھنے میں بڑی مغز ماری کرتا۔ 1830 میں پہلی بار اس نے ٹھگوں کو پکڑا اور انھیں سزائیں ملنا شروع ہوئیں۔ پرانے اور گھاگ ٹھگوں کو اس نے وعدہ معاف گواہ بنایا اور ان سے ٹھگوں کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کیں۔ ان کی زبان کو جاننے کی کوشش کی۔ وعدہ معاف گواہوں کی بڑی دیکھ بھال ہوتی اور ان کے بچوں کو الاؤنس بھی ملتا۔ اس نے ٹھگوں کا باقاعدہ اندراج کیا۔ ان کے اجداد کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ ان کی مخصوص زبان رماسی کی لغت بنائی۔ مذہبی عقیدوں کے بارے میں جانا۔ بھرتی کے طریقہ کار کے بارے میں تحقیق کی۔
 ٹھگوں کے بارے میں اس کی معلومات سے خود ٹھگ بھی حیران رہ جاتے۔ اس نے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے ٹھگوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی اور ایسے قوانین بنائے کہ وہ ساری عمر جیل میں رہیں۔ ٹھگ جیلوں میں گئے۔ کالے پانی گئے۔ پھانسی گھاٹ کو اپنے لیے منتظر پایا۔ ‎سزا کے خلاف اپیل ہوتی اور نہ ہی سزا کی معافی۔ جج اور سلی مین کے دوست ایف سی اسمتھ کا خیال تھا کہ کوئی ٹھگ رحم کا مستحق نہیں۔
 سلی مین بتدریج اپنی مہم کا دائرہ وسیع کرتا گیا۔1836ء میں تبدیلی قانون کے بعد وہ پورے ہندوستان میں انسداد ٹھگی کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا گیا۔ اس کے دور میں سزاکے خلاف اپیل ہوتی اور نہ ہی سزاکی معافی تھی۔ دوسرے مجرموں کے ساتھ رو رعایت پھر بھی ہو جاتی لیکن ٹھگوں سے کسی قسم کی نرمی نہ برتی جاتی۔ 
عظیم دربار میں جب ملکہ وکٹوریا کو قیصر ہند قرار دیا گیا تو کالے پانی کے سزا یافتگان بہت سے ٹھگوں کو جیل سے رہائی تو مل گئی، لیکن وہ جزیرے کے صدر مقام سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ ‎
ان لوگوں کا بنیادی مقصد اجنبی مسافروں کاقتل تھا۔ جو کسی بھی محّرک کے بغیر صرف اور صرف خون کی پیاس(ھڑک) بجھانے کے لیے ھوتا تھا۔ مال کی لوٹ مار ان کے لیے ثانوی چیز تھا۔ ٹھگوں کے اقبالی بیانات کے مطابق یہ لوگ کسی بھی مسافر کے مال اسباب کا لالچ کیے بغیر، بلا تخصیصِ مذہب، امیر اور غریب دونوں کو بلا امتیاز کاٹ ڈالتے تھے۔ (البتہ انگریزوں پر پکڑے جانے کے ڈر سے ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ویسے اپنے ملک میں انگریزوں پر کوئی بھی ہاتھ نہیں ڈالتا۔) ‎ 
یہ لوگ ایک کھلاڑی کی طرح اپنا "سکور" بہت فخر سے بیان کرتے تھے۔ ایک سلطانی گواہ بہرام نے سلی مین کے سامنے چالیس سال میں کم از کم نو سو اکتیس قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ (اس کا کہنا تھا کہ نو سو اکتیسویں قتل کے بعد اس نے گننا چھوڑ دیا تھا)۔ ایک اور سلطانی گواہ فتح خان نے اکیس سال میں پانچ سو چار مسافروں کو مارنے کا بتایا۔ ‎ذیل میں بہرام ٹھگ سے کی گئی تفتیش کا ایک اقتباس ٹھگ ذھنیت کو عیاں کرتا ھے۔۔۔ ‎
"سلی مین: معصوم لوگوں کو دوستی کا جھانسہ اور جھوٹا احساس تحفظ دلا کر بعد میں سفاکی سے قتل کرنے پر کبھی پچھتاوا ھوا؟ ‎"
بہرام: بالکل نہیں صاحب! آپ خود شکاری ہیں۔ کیا آپ جانور کا پیچھا کر کے اس کو اپنی چالاکی سے زیر کرنے کے بعد، اس کا سر اپنے قدموں میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ نہیں؟ ٹھگ انسانوں کا شکار کر کے اسی طرح کی راحت محسوس کرتے ہیں۔ صاحب! آپ کے لیے درندے کی جنگلی جبلت پر قابو پانا کھیل ہے ، جبکہ ٹھگ کو ذہین اور اکثر اوقات مسلح مسافروں کے خوف، ذہانت اورشک پر قابو پانا ہوتا ہے، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو راستے کی خطرناکی کے پیش نظر پہلے ہی چوکنّے ہوتے ھے۔ ذرا اس خوشی کا اندازہ کریں جو ہمیں اسطرح کے لوگوں کے ساتھ سفر کرتےہوئے ، ان کا شک دوستی اور اعتماد میں بدلتے ہوئے دیکھ کر ہوتی ہے، حتٰی کہ ہمارا رومال ان کو شکار کر لیتا ہے۔! پچھتاوا؟ کبھی بھی نہیں۔ بس صرف خوشی، سکون اور اطمینان!!!"
 ‎ٹھگ ٹولیوں میں شکار کرتے تھے۔ ٹولی کے ہر ٹھگ کا کام مختلف ہوتا تھا۔ مثلاً ایک کا کام شکار کے گلے کو رومال سے جکڑنا ھوتا تھا۔جبکہ باقی ٹھگ ٹولے کے ذمہ شکار کے ہاتھ پاؤں قابو کرنا اور اس کے نازک حصوں پر ضربیں لگانا ھوتا تھا حتٰی کہ رومال والا ٹھگ شکار کا گلا دبا کر اس کا کام تمام کر دے۔ 
 حیران کن بات یہ تھی کہ سال کے زیادہ تر حصہ میں ٹھگ عام لوگوں کی طرح اپنے علاقہ میں معزز اور ذمہ دار شہری بن کر رہتے، جبکہ "سالانہ چھٹیوں " میں اپنے علاقے سے دور جا کر، اجنبی مسافروں کو اپنی نرم گفتاری اور چالاکی سے لبھا کر، ان کی عمر،جنس، رنگ، نسل، کردار، دیکھے بغیر سفاکی سے قتل کردیتے اور پھر دوبارہ اپنے علاقے میں واپس جا کر عام آدمی کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے۔ ہر واردات کے بعد یہ ایک خاص طریقے سے بھوانی کی پوجا اور نذر یا بھینٹ بھی چڑھاتے تھے۔ ‎ٹھگوں کے جرائم عرصہ دراز تک منظر عام پر نہ آتے کیونکہ یہ عمومی طور سے جرم کے کسی گواہ کو زندہ نہ چھوڑتے۔ مزید یہ کہ اس زمانے میں جو شخص کلکتہ سے دھلی تک جاتا تھا اس کو پہنچتے پہنچتے کئی ماہ لگ جاتے، جس کی وجہ سے رستے میں ہوئی کسی بھی واردات کا پتہ مہینوں بعد لگتا جب کافی دیر ہو جانے کے بعد اس شخص کی ڈھنڈیا مچتی اور پورے قافلے کے غائبہونے کا پتہ چلتا۔ اس وقت تک ٹھگ کوئی بھی ثبوت چھوڑے بغیر واپس اپنی عام زندگی کی طرف لوٹ گئے ھوتے۔
جب ہندوستان میں انگریزوں نے ٹھگوں کے خلاف مہم شروع کی تو سید امیر علی کو 1832ء میں اپنے ہی دو ساتھی ٹھگوں کی غداری کی وجہ سے سوگر سے گرفتار کر کے نظام دکن کے علاقے میں بھیجا گیا جہاں کافی مزاحمت کے بعد امیر علی نے سلطانی گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی اور اپنے بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کروا دیا۔ اپنی اسیری کے دوران میں اس نے اپنی پوری زندگی کے واقعات بیان کر دیے جن کو یکجا کر کے مصنف ‎نے " ٹھگ کا اعترافِ جرم"  ناول ترتیب دیا۔ یہ ناول 1839ء میں کیپٹن فلپ میڈو ٹیلر (Philip Meadows Taylor) ‎نے انگریزی زبان میں لکھا تھا۔ اپنے زمانے کا یہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول رہا ہے۔
 ملکہ برطانیہ نے بھی اس ناول میں بڑی دلچسپی لی تھی۔آخری گرفتاری کے وقت امیر علی کی عمر لگ بھگ 40 سال تھی۔ سید امیر علی کے اصل باپ کا نام یوسف خان تھا اور وہ پٹھان تھا۔ وہ لوگ دہلی کے نزدیک مالواہ کے ایک گاوں ایکلیرا میں رہتے تھے۔ کسی وجہ سے یوسف خان نے ایکلیرا چھوڑ کر اندور جانے کا ارادہ کیا اور ایکلیرا کے اپنے سارے اثاثے بیچ کر اپنی بیوی اور امیر علی کے ساتھ اندور کی راہ لی۔ اپنی بیٹی کو اس نے گاوں میں ہی چھوڑ دیا کیونکہ وہ اتنی چھوٹی تھی کہ سفر کے قابل نہ تھی۔ انکی حفاظت کے لیے گاوں کے چند مسلح نوجوان بھی ساتھ تھے۔ اس وقت امیر علی کی عمر شائید 5 سال رہی ہو گی۔ راستے میں اسماعیل نامی ایک ٹھگ نے یوسف خان کا اعتماد حاصل کر لیا اور دونوں پارٹیاں اب ساتھ سفر کرنے لگیں۔ اندور کے کافی نزدیک پہنچ کر اسماعیل کے مشورے پر یوسف خان نے اپنے محافظ واپس ایکلیرا بھیج دیے۔ اس کے بعد ٹھگ ان پر ٹوٹ پڑے۔ یوسف خان کو اسماعیل نے اور اس کی بیوی (امیر علی کی ماں) کو گنیشا نامی ٹھگ نے گلے میں پھندا ڈال کر مار ڈالا۔ گنیشا نے امیر علی کو بھی مارنے کی کوشش کی مگر اسماعیل نے اسے بچا لیا اور اسے بیٹے کی طرح پال پوس کر بڑا کیا اور ٹھگ بنا دیا۔ اسماعیل کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ امیر علی کو بچپن کے یہ واقعات یاد نہیں تھے مگر جب جیل میں ایک بوڑھے ٹھگ نے جو چشم دید گواہ تھا، امیر علی کے سامنے پوری کہانی دہرائی تو امیر علی کو بھی سب کچھ یاد آ گیا۔ اس وقت اس کا منہ بولا باپ اسماعیل جھالون کے راجا کے ہاتھوں ہاتھی کے پاوں کے نیچے کچل کر سزائے موت پا چکا تھا۔ مرنے سے چند منٹ پہلے اس نے امیر علی کو بتا دیا تھا کہ میں تمہارا باپ نہیں ہوں اور اس وقت امیر علی اس بات پر بڑا حیران ہوا تھا۔ انگریزوں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد امیر علی نے سب سے پہلے گنیشا کو گرفتار کروایا جسے 20 ساتھیوں سمیت پھانسی دے دی گئی ‎سید امیر علی نے اقرار کیا کہ اس نے 719 انسانوں کو قتل کیا ہے اور اسے افسوس تھا کہ اگر اس کی زندگی کے 12 سال قید میں نہ گزرتے تو یہ تعداد 1000 سے اوپر ہوتی۔۔ ‎سید امیر علی پانچ وقت کا نمازی تھا، باقاعدگی سے روزے بھی رکھتا تھا لیکن اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اپنی بِیٹی کو رقم پہنچانے کے لیے اس نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم بھی کھائی تھی۔ نا دانستگی میں اس نے خود اپنی اکلوتی سگی بہن کو بھی رومال کے پھندے سے ہلاک کر دیا تھا۔
 ‎اگرچہ بے شمار مصنفین نے فرنگیا کو سید امیر علی کا دوسرا نام بتایا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ فرنگیا ایک دوسرا ٹھگ تھا جو عمر میں امیر علی سے لگ بھگ دس سال چھوٹا تھا۔ ‎فرنگیا بھی امیر علی کی طرح ٹھگوں کا ایک مشہور لیڈر تھا اور وہ بھی گرفتاری کے بعد سلطانی گواہ بن گیا تھا۔‬ ‎
سلیمین نے لکھا تھا کہ اگر 1824 میں نرسنگ پور (مدھیہ پردیش) میں،جہاں کا میں انچارج تھا، کوئی مجھے یہ کہتا کہ پیشہ ور قاتلوں کا ایک گروہ میرے کورٹ سے صرف 400 گز کی دوری پر کنڈلی نامی گاوں میں رہ رہا ہے تو مجھے ہر گز یقین نہ آتا اور میں اسے پاگل سمجھتا۔ لیکن سوگر اور بھوپال کے درمیانی رستے پر صرف ایک دن کی مسافت پر منڈےسر نامی گاوں کے پاس سینکڑوں مسافروں کی لاشیں دفن تھیں حالانکہ میں اس پورے ضلعے کا مجسٹریٹ تھا اور وہاں کے سارے چور ڈاکوں سے واقف تھا۔ وہاں کے دو زمیندار بھی ٹھگوں کو معاونت فراہم کرتے تھے۔
سلطانی گواہوں کی نشان دہی پر بہت سی قبروں کی قبر کشائی پر میں خود موجود تھا اور ہر قبر سے کئی کئی لاشیں برآمد ہوئیں  ،  چند انگریز افسروں کی تدبیر سے ہز‬اروں ٹھگوں پر مشتمل ان منظم گروہوں کا چند سال کے اندر قلع قمع ہو گیا۔ 
( بشکریہ :ثنا اللہ خان احسن۔ )
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔