میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 4 ستمبر، 2018

مالِ حرام بُود ۔ جائے حرام رفت

کہا جاتا ہے، کہ ایک شہر میں دودھ فروشوں کی  دو دکانیں کچھ فاصلے پر تھیں ۔ ان میں سے ایک انتہائی ایماندار تھا جو دودھ میں ملاوٹ بالکل نہیں کر تا تھا اور خالص دودھ بیچتا تھا۔ جبکہ دوسرا دکاندار  دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرتا تھا ، جھوٹ   اور بے ایمانی اُس کا اوڑھنا بچھونا تھی اور بات بات پر قسم کھانا اُس کی عادت ۔
  خالص دودھ بیچنے والے کے پاس  بہت کم گاہک آتے جس سے وہ بمشکل اپنا اور اپنے جانوروں کا رزق خرید پاتا  جب کہ  اِس کے برعکس پانی ملا دودھ بیچنے والے پر لوگوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا ۔ یہ معلوم ہونے کے باوجود  کہ دودھ میں ملاوٹ کی جاتی ہے ۔  دونوں کے دن گذر رہے تھے ۔
ایک دن ایک فقیر کا وہاں سے گزر ہوا ، اُس نے  خالص دود ھ بیچنے والے سے دودھ مانگا  ، پیا اور آگے چل پڑا جب وہ دوسرے دودھ کی دکان کے پاس سے گذرا ، وہاں زیادہ گاہک دیکھے  تو واپس پہلے دکاندار کے پاس آیا، اور بولا ،
" میں نے تمھاری دکان کا دودھ لے کے پیا ، نہایت مزیدار اور خالص ہے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ تم  گاہکوں  سے محروم ہو اور اگلے دکاندا ر کے پاس فراوانی ہے" ۔

 " واللہ علم ،  جو مالک کی مرضی "دکاندار بولا
" کیا اُس کا دودھ تمھارے دودھ سے بھی 
مزیدار اور خالص ہے ؟" فقیر نے پوچھا
" سنا ہے کہ وہ پانی ملاتا ہے  " دکاندار بولا ۔
فقیر نے آسما ن کی طرف دیکھا  اور  نعرہ مستانہ بلند کیا ، "اللہ اکبر ! اللہ اکبر " پھر دکاندار سے مخاطب ہوا ۔
" تم بھی تھوڑا سا پانی ملا کر بیچو اور پھر دیکھو کیا ہوتا ہے "
" نا ممکن ، حضرت ناممکن ، میں ایسا نہیں کر سکتا، ملاوٹ کر کے میں جہنم کا ایندھن نہیں بننا چاہتا " دکاندار بولا ۔
" ایسا کرو کہ جتنا پانی ملاؤ ، اُس کی قیمت الگ  برتن  میں ڈالتے رہو ، ہفتہ بھر یہ کوشش کر کے دیکھو  ، پھر قدرت  کی کارکردگی دیکھو " فقیر بولا ۔ یہ کہہ کر فقیر نے پاس پڑا ہوا پانی کا برتن اٹھایا اور  دودھ میں ڈال کر ، نعرہ مستانہ بلند کرتا روانہ ہو ا اور سامنے درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا ۔
ابھی کچھ لمحے گذرے تھے ، کی ایک بگھی آکر رکی ، جس میں شہر کا بدنام ترین شخص کوتوال بیٹھا تھا ۔  جس کے ساتھ اُس کے ہرکارے بھی تھے ۔ سب نے دکان سے دودھ خریدا اور پی گئے ۔ دکاندار نے دیکھا ایک ہرکارہ جو صرف اُس سے دودھ لے کر جاتا تھا ، اُس نے اصرار کے باوجود دودھ نہیں پیا ۔ 

اُن کے جانے کے بعد کئی نئے گاہک آئے  اور پانی ملا دودھ لے کر چلے گئے دودھ ختم ہو گیا ۔ دکاندار نے خلاص دودھ کابرتن ، بیچنے کے لئے رکھ دیا ۔
فقیر دور بیٹھا یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اُٹھ کر دودھ والے کے پاس آیا ۔
" یا حضرت یہ سب کیا میں سمجھا نہیں ؟"  دکاندار بولا 

" پہلے تم خالص دودھ بیچ رہے تھے ، میں نے پانی ملایا وہ ناخالص ہو گیا " فقیر بولا 
"خالص دودھ اللہ کا عطیہ  ہے اللہ کو کیسے گوارہ ہو کہ  حرام  مال سے حلال مال کی تجارت ہو !"
" مالِ حرام بود ، جائے حرام رفت ( حرام مال تھا ، حرام جگہ چلا گیا ) ۔
اللہ اکبر !
اللہ اکبر !  فقیر نعرہءِ مستانہ بلند کرتا آگے بڑھ گیا ۔

 قارئین ! حرام ہمیشہ ہمیشہ حرام پرخرچ ہو  گا اور وہ   آدمی کے لئے کبھی  نافع نہیں ہوسکتا۔
(ماخوذ)
ہاں دوستو ! اُن دنو   ں حج   کا سفر بہت مشکل تھا ، لوگ سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بجائے ، کم گناہ کرتے تھے  اور ایماندار تھے ۔ جمہوریت آنے سے پہلے اِس بوڑھے نے بھی ملاوٹ کا نام نہیں سنا تھا ۔

بوڑھے نے ریٹائر منٹ کے بعد ، فوج کے کسی بھی ادارے میں نوکری نہ ملنے کی وجہ سے بزنس شروع کیا ، بزنس کی موجوں میں بڑے تلاطم دیکھے۔
یہاں تک کہ  2012 میں جائنٹ سیکرٹری حج  کے ریمارک ،" میجر صاحب ! آپ کو بزنس کرنا نہیں آتا !"
بالآخر 60 سال کی عمر پر پہنچتے ہی بزنس چھوڑ دیا ۔
کیوں کہ بقول اولاد بھی ، بوڑھے کو بزنس کرنا نہیں آتا ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔