میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 12 اکتوبر، 2018

سلام ٹیچر

تصویر نمبر : 1 پنجاب یونیورسٹی کے بزرگ اساتذہ کی ہے
تصویر نمبر 2 :سیکٹروں معصوموں کے مبینہ قاتل راؤ انوار کی ہے
تصویر نمبر 3 :پاکستان کے ڈاکوؤں کے  5 لاکھ ڈالر  پر مشتمل  ناجائز دولت غیر ممالک منتقل کرنے والی مبینہ ملزمہ کی ہے، جو ائرپورٹ کی حدود میں گرفتار ہوئی ، رہاہوئی اور   بیرونِ ملک چلی گئی -


 یہ محض تین تصاویر نہیں بلکہ نظام انصاف کے منہ پر تین تھپڑ ہیں ۔
جہاں اختیارات سے تجاوز کرنے والے اساتذہ ہتھکڑیوں میں پیش کئے جاتے ہیں وہیں ،
قاتل اور لٹیرے عدالتوں میں اس طرح پیش ہوتے ہیں جیسے بدتمیز داماد اپنے غریب سسرال آتا ہے !!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔