میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 13 اکتوبر، 2018

تبدیلی آخر ہمیں کیوں نظر نہیں آتی


ایک مراثی کے پاس کمزور اور لاغر گھوڑا تھا ۔

وہ مویشی منڈی میں میں اپنا  گھوڑا بیچنے کے لیے بولی دے رہا تھا۔
 ریٹ بہترین گھوڑوں سے بھی زیادہ مانگ رہا تھا ۔
خریداروں  نےپوچھا ،
" گھوڑا تو تمھارا  ، کانگڑی نسل کا ہے ،  کمزور ہے، مگر ریٹ  اصیل گھوڑے کا مانگ رہے ہو ؟
مراثی نے جواب دیا،"
  احمقو !   ریٹ تو میں گھوڑے کی خوبیوں کی وجہ سے مانگ رہا ہوں!  جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ مدینہ نظر آتا ہے "
یہ بات بریکنگ نیوز  بن کر ملک میں پھیل گئی ،

" ملک میں ایک ایسا گھوڑا ہے ، جس پر بیٹھنے والوں کو  ، مکہ و مدینہ نظر آتا ہے "
یہ خبر بادشاہ کے پاس بھی پہنچ  گئی ۔
وہ 
وزیروں کے ساتھ منڈی پہنچا۔

 بادشاہ نے مراثی سے پوچھا ،"یہ بتاؤ کہ اِس  ٹٹو نما گھوڑے  پر بیٹھنے والے کو مکہ و مدینہ نظر آتا ہے ؟"
" جی حضور " مراثی نے کہا
"اگر تیری  بات سچ ہوئی،  تو تمھیں منہ مانگا انعام دیا جائے گا  ، یہ گھوڑا شاہی ملکیت بن جائے گا ،  ورنہ  تیرا سر  قلم کر دیا جائے گا " بادشاہ  بولا  


" جی حضور ، مجھے منظور ہے " مراثی نے کہا
بادشاہ  نے وزیر کو حکم دیا ،

"  گھوڑے پر بیٹھ کر دیکھو !   یہ شخص سچ کہتا ہے "
اِس سے پہلے کہ وزیر گھوڑے کی رکاب پر پاؤں رکھتا ،  مراثی بولا ،
"بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤں، تو ایک عرض کروں!"
"اجازت ہے " بادشاہ بولا
" حضور والا ،  مکہ و مدینہ  صرف اُس کو ہی نظر آئے گا جس نے حلال  کھایا  ہوگا"
مراثی نے کہا
 وزیرگھوڑے پر بیٹھا اور  ادھر ادھر دیکھنے لگا ، لیکن اُسے کچھ نظر نہ آیا، اِس سے پہلے وہ یہ کہتا ، لیکن اُسے  مراثی کی وہ حلال والی بات یاد آ گئی ۔
 وزیرحیرت سے  بولا ،" وہ دیکھو مدینہ  !   واہ  سبحان اللہ ، سبحان اللہ  ، معجزہ ہے معجزہ "
بادشاہ نے وزیر کو جلدی سے کہا ،

"نیچے آؤ!"
بادشاہ جلدی سے گھوڑے پر بیٹھا اور دائیں بائیں  دیکھا  اور  سامنے دیکھ کر چلایا ،

"  ماشاءاللہ!  مجھے تو مدینہ بھی اور مکہ بھی نظر آ رہا ہے "
مراثی نے گھوڑے کی رقم اور انعام کرام پکڑا اور مسکراتے ہوئے چل دیا ۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
 یہی کچھ حال اس وقت ہمارے پی ٹی آئی والے بھائیوں کا ہے، تبدیلی صرف انہیں ہی  نظر آ رہی ہے!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اُس کے بعد  تبدیلی کا اگلا مرحلہ جو بادشاہ نے شروع کیا وہ اُس سے بھی عجیب تھا ۔ 
واپس محل جاتے ہوئے ، وزیر باتدبیر کو  ایک خیال سوجھا اور بادشاہ  کے گوش گذار کیا ، بادشاہ نے فوراً منظوری دے دی ۔
شہر میں کچھ مالدار و  زبان دراز قسم کے لوگ تھے ،  وزیر   نے سپہ سالار کو حکم دیا کہ  کہ ایک ادارہ بناؤ اور  شہر کے جن لوگوں کی لسٹ میں دوں ، اُنہیں باری باری محل میں بلایا جائے ۔
کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے 50 افراد کی لسٹ بنائی اور وزیر باتدبیر کو دی ۔
تاکہ اُن کا گھوڑا ٹیسٹ کیا جائے !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭






خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔