میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 2 اکتوبر، 2018

شگُفتہ نثر کی ایک محفل

28 ستمبر  شام 7 بجے ، فیس بُک میسنجر  پر پیغام وصول ہوا :
" اتوار 30 ستمبر 3 بجے میرے گھر پر شگُفتہ نثر کی ایک محفل آراستہ ہو گی انشاء اللہ!
 تشریف لائیے مسلح ہو کر۔ آصف اکبر ، جے "
" جناب نیکی اور پُوچھ پُوچھ ، چشمِ ماروشن دلِ ماشاد  ۔خادم حاضر ہو جائے گا "  ۔ جواب دیا 
آشفتہ سری اور شگفتہ نثری   اپنے ہی گملوں  کی   قلمی  فصلیں ہیں   ۔ اِن  کے  جلو میں  حاضر نہ ہونا   کفرانِ نعمت میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔ 
 ماضی کے پیوستہ  اَنمٹ فرمان کے مطابق 5 بجے آصف اکبر صاحب کے گھر پر پہنچ گئے ۔ کار پارک کر کے مُڑے تھے ، کہ دائیں طرف والے دولت کدے پر دو جانی پہچانی شخصیات نظر آئیں   ، نعیم صاحب اور بریگیڈئر علوی  جو نعیم صاحب کے گھر  آئے تھے ، اُن سے سُٹ پنجہ کیا    ، حال و احوال  برائے صحت و گالف  پوچھنے کے بعد آصف صاحب کے گھر کی طرف رُخ کیا ،  کہ دو صاحب پابندِ اوقات کو آصف صاحب کے گھر کی گھنٹی بجاتے دیکھا ۔ 
گیٹ کھلا ایک نوجوان بر آمد ہوا   اور دونوں صاحبان   کے پیچھے ہم بھی پورچ میں داخل ہوئے ، کہ دروازے سے  آصف صاحب نمودار ہوئے ۔علیک سلیک کے بعد ڈاکٹر عزیز فیصل اور ارشد محمود  صاحب    سے  تعارف ہوا ۔ 
مسز آصف اکبر    کو سلام کیا ۔ اُنہوں نے ہماری بیگم کا پوچھا وہ نہیں آئیں ۔ بتایا کہ آج کل وہ  شوگر سے لبریز ہیں ۔لہذاگھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کرتی ہیں ۔ 
تھوڑی دیر بعد  ہم  ،  آصف اکبر   ،ڈاکٹر فخرہ نورین ، محترمہ حبیبہ طلعت ،  ڈاکٹر عزیز فیصل ،   ارشد محمود ، یعقوب آسی،  ظہیر قندیل،  سعید سادھو،  بلال مرزا، محمد عارف اور میجر (ر)   عاطف مرزا      شریک محفل تھے ۔
آصف اکبر صاحب نےمحفل برپا کرنے  کے لئے اپنے خدشات کا اظہار کیا ، کہ ہنسی مزاح ہماری زندگیوں سے غائب ہو چکا ہے  ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم زندگی کے مصنوعی دور میں دھکیل دیئے جائیں ۔
محفل ِ شگفتہ نثر شروع  ہوئی سب نےمزاح سے لبریز اپنے اپنے مضمون  سنائے  ۔ ہرجملہ پر داد و تحسین ،شتائش ِ   مصنف بنتے گئے ۔ 

ہم نے بھی   شگُفتہ نثر:---   بوڑھے کا دسترخوان ۔ بگھارے بینگن   ----سنائی۔ 
آصف اکبر  نے اپنی    شگُفتہ نثر :--- اعتراض کیجئے   !----  سنائی اور خوب داد وصول کی ۔


  اختتام پر  ، مسز آصف اکبر نے ، اپنے ہاتھوں سے بنائے انواع واقسام کے پکوان سے  محفل کی رونق کو دوبالا اور آصف اکبر صاحب کو شہہ بالا بنادیا ۔ کیوں کہ ہر پکوان کی اعلیٰ مزاجی صحت کی داد وہ سمیٹتے رہے ۔ گو کہنے کو یہ چائے کی دعوت تھی مگر اِس دعوتِ مختصر نے ،   عشائیے کی اِس بوڑھے سے قربانی مانگ لی ۔ نوجوانوں کا معلوم نہیں ۔
طعام کے بعد چائے  سب کو  آصف صاحب کی بہوِ نیک اختر نے پیش کی جو ذائقے میں لاجواب تھی ۔ چائے کی چسکیوں کے دوران ، گفتگو کی پھلجھڑیاں بھی چھوڑی جارہی تھیں ۔ اور مستقبل کی محفلوں  کے قواعد و ضوابط بھی ترتیب دیئے جا رہے تھے ۔

ہر ماہ اور   مہینے کا  دوسرا ہفتہ   ہر نئے میزبان  کے ہاں محفل  سجانے کا سب نے عندیہ دیا۔ 
 ڈاکٹر عزیز فیصل ، صدارت گذیدہ  لگتے تھے۔ لہذا   کسی کو بھی کرسیءِ صدارت دینے پر تیار نہ تھے ۔ چنانچہ طے یہ پایا کہ   محفل مزاح نگارانِ قہقہہ آور بغیر کسی صدر کے برپا کی جائے گی ۔
محفل میں شعر و شاعری کے داخلے پر سختی سے پابندی لگانے کا اعلان ہوا ، جس کی سب نے تائید کی ۔ کیوں کہ مزاحیہ نثر کا فروغ اس بزم کی اولین ترجیح ہے۔
 آئندہ نشست مورخہ  13 اکتوبر 2018، بروز ہفتہ منعقد کئے جانے کا اعلان کیا ۔ 
اِس کے ساتھ آئیندہ  اپنی  اپنی تخلیقات  کے ساتھ دوبارہ ملنے کے عزم کے ساتھ محفل برخاست کرنے کا اعلان ہوا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔