میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 21 اکتوبر، 2018

وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤں ا

 🖋  زیر نظر چند واقعات ایک عرب بلاگر نے مختلف ڈاکٹروں کی یاداشتوں کو جمع کرکے بعنوان "وہ مریض جو میں کبھی نہیں بھلا پاؤنگا"  شائع کئے ہیں۔ ترجمہ کے بعد آپ کی نظر:
📌 1:- میں نے ایک بار، ایک ہی دن، ایک ہی ہسپتال میں، ایک ہی خاوند کی ایسی دو بیویوں کی دو مختلف کمروں میں ڈیلیوری کی جنہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک ہی مرد کی منکوحہ ہیں۔
 📌 2:- ایمرجنسی وارڈ میں، جان لیوا حادثے میں بچ جانے والے ایک نوجون کی خوشی دیدنی تھی، جو ملنے کیلیئے ہر آتے جاتے دوست رشتے داروں کو بتا رہا تھا کہ وہ کتنا خوش قسمت ہے جسے نئی زندگی مل گئی ہے۔ نوجوان کے اندرونی زخموں سے بہتے خون کی زیادتی سے یہ نوجوان چند ہی لمحوں بعد بازی ہار گیا۔
 📌 3:- سعودیہ میں کمائی کیلیئے آیا ہوا ایک انڈین جو ایک خونی حادثے میں کٹا پھٹا ہسپتال میں پڑا تھا، بچوں کی طرح بلک بلک کر اس لیئے رو رہا تھا کہ وہ یہاں پردیس میں اکیلا پڑا تھا اور حادثے کے وقت اس کے اپنے اس کے ساتھ نہیں تھے۔
 📌 4:- آپریشن کے ذریعے بچے کی ڈیلیوری کے بعد ڈاکٹر نے اسے صحت قرار دیکر گھر جانے کی پرچی لکھ دی۔ خاتون بچے کو لیئے ، اس بات سے بے خبر انتظار کر رہی تھی کہ اس کے خاوند کا گھر سے آتے ہوئے راستے میں حادثہ ہوا ہے اور وہ ملک عدم کو سدھار چکا ہے۔ 📌 5:- ایک معمر عورت جو میرے زیر علاج تھی، ہر بار مجھ سے نسخہ لکھوا چکنے کے بعد میری جیب میں کبھی ٹافیاں اور کبھی دو ریال ڈال کر چلی جاتی تھی۔ 
📌 6:- ایک ماں اپنے نومولود بچے کے پاس، جسے انتہائی نگہداشت میں رکھ دیا گیا تھا، مامتا اور شفقت سے لبریز بار بار کہہ رہی تھی، میری جان، میں نے تیرا بیس سال انتظار کیا ہے۔ 📌 7:- ایک عمر رسیدہ مریضہ کو جیسے ہی میں نے کہا کہ: ماں جی اب آپ اپنے دل کے والو تبدیل کر ہی لیجیئے۔ خاتون نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: پُتر، ایمان سے مجھے یہ کرنا نہیں آتا، تو ہی کر دے ناں۔
 📌 8:- ایک بزرگ عورت ہسپتال کے کمرے میں اپنے ملاقاتی رشتہ داروں کو جب اپنے خاوند کی وجاہت اور عظمت کے قصے سنا رہی تھی، اس وقت اُن کے کمرے کے باہر پرچہ لکھا ہوا تھا کہ "ازراہ کرم ہماری والدہ کو مت بتائیے کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے"۔ 
📌 9:- ستتر سال کی بوڑھی عورت جیسے ہی اُس کے کچھ ٹیسٹ شروع کیئے گئے، اس کا ڈر دیدنی تھا۔ کہنے لگی: مجھے اپنی ساری زندگی میں ہمیشہ بس دو ہی چیزوں سے ڈر لگا ہے، ایک دانتوں کے ڈاکٹر سے، دوسرا اپنے خاوند کے غصے سے۔ 
📌 10:- میں نے جب ڈرتے ڈرتے اُسے اطلاع دی کہ آپ کو کینسر ہو چکا ہے تو اس کی سنجیدگی اور پرسکون دھیما پن دیدنی تھا، کہنے لگے: تو جسے کینسر نہیں ہے اُس نے نہیں مرنا کیا؟ کوئی علاج ویلاج ہے آپ کے پاس یا پھر میں جاؤں اپنے گھر؟ 
📌 11:- ایک عجیب الخلقت بچے کو جسے اُس کے سارے گھر والے ہسپتال میں ہی چھوڑ کر چلے تھے، ہم نے آخری کوشش کے طور پر بچے کے والد کو فون کیا تو اُس نے کہا: کسی یتیم خانے میں جمع کرا دو اسے۔ 
📌 12:- ایک بوڑھی عورت کو جب بتایا گیا کہ اُسے خبیث مرض کینسر ہو گیا ہے تو اُس کا غصہ دیدنی تھا۔ کہنے لگی: اللہ پاک بہت رحیم ہیں اور مرض بندے کیلیئے امتحان ہوتا ہے۔ وہ کس طرح اپنے بندوں کیلیئے خبیث مرض بنا سکتا ہیں۔ مرض مرض ہوتا ہے اور اسے بس مرض ہی کہو۔
 📌 13:- جاں بلب بوڑھی عورت کے کمرے سے نکلتے ہوئے نوجون بُڑبُڑا رہا تھا کہ اس بُڈھی نے تو باندھ کے رکھ دیا ہے مجھے، اور بوڑھی عورت اندر نرسوں سے کہہ رہی کہ میرے بیٹے کو ابھی نہ جانے دو۔
 📌 14:- ایک عورت جس کا عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوتے ہوئے ہی فوت ہو گیا تھا، اسکو گلے سے لگائے ہوئے رو رو کر کہہ رہی تھی؛ میری جان، تو میرے باقی کے بچوں سے زیادہ پیارا تھا۔ جا، اللہ کے حوالے میرے جگر گوشے۔
 📌 15:- اس کا باپ میرے پاس آیا تھا ایک بار روتے ہوئے بتایا تھا کہ بیٹے نے مجھ پر ہاتھ اُٹھایا ہے۔ اب اس کا بیٹا میرے پاس علاج کیلیئے آتا ہے۔ آٹھ سال ہوگئے ہیں، تین شادیاں کر چکا ہے، ابھی تک اولاد سے محروم ہے۔
 📌 16:- میں نے اُسے بتایا کہ تیرے بیٹے شاید آل اولاد والے عمل میں کمزور رہیں۔ شادی سے پہلے ان کے مناسب چیک اپ ضرور کرا لینا۔ کہنے لگا: میں نے اپنے خاندان میں ہی ایک شخص سے زیادتی کی تھی۔ لگتا ہے اس کی دعا پوری ہو گئی ہے۔
 📌 17:- اپنے باپ کے علاج کیلیئے ہسپتال میں باپ کے ساتھ ہی رہ رہا تھا۔ باپ کے کمرے سے نکل کر ساتھ والے کمرے میں سوئے ہوئے مریض کی تیمار داری کیلیئے اندر چلا گیا۔ مریض نے روتے ہوئے کہا: پُتر، کئی مہینوں کے بعدڈاکٹروں اور نرسوں کے علاوہ کوئی بندہ اگر میرے کمرے میں آیا ہے تو وہ تم ہو۔
 📌 18:- عمر رسیدہ خاتون کو دل کے دورے میں جانبر کرنے کیلیئے سینے پر بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔ ہوش میں آنے پر اس نے سب سے پہلے اپنے کپڑے درست کیئے تھے اور سینہ ڈھانپتے غصہ سے پوچھنے لگی کہ مجھے کسی غیر مرد نے تو نہیں دیکھا؟ 
📌 19:- وہ چار دن سے مسلسل تڑپ رہا تھا اور اسکا باپ بار بار یہ ہی بولے جا رہا تھا کہ اسے زہر کا انجیکشن لگا کر مار دیں تاکہ اسکی جان چھوٹ جائے۔ مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ بالآخر جب وہ خود ہی مر گیا تو اس کے باپ نے ہمیں بتایا کہ یہ اپنی ماں کو وہ مریض تھی تو مارا کرتا تھا اور گالیاں بکتا تھا۔ 

🛑 یہ تمام واقعات عبرت پکڑنے والوں کے لئے کافی ہیں۔ اللہ اس دنیا میں اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے، شکر کرے وہ انسان جس کو اللہ ہی وہ آنکھ دے جس سے ایسے واقعات سامنے آنے پر انسان توبہ کرلے۔
 فاعتبروا یااولی الابصار 
منقول
٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔