میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 23 نومبر، 2018

لحم الخنزیر ، عیسائی نظریہ

پورک ، ہیم ، بیکن ، پپرونی  یہ وہ غذائیں ہیں جو بائبل کے مطابق کھانے کے لئے ممنوع ہیں ۔
 کیوں کہ یہ تمام مزیدار  کھانے  ، خنزیر سے بنتے ہیں ۔
لوگوں کو پور ک چاپ پسند ہیں ، ہیم چیز سینڈوچ مزیدار لگتے ہیں ،بیکن اور پیپرونی کے لوگ دیوانے ہیں ، لیکن میرے خیال میں ہمیں اپنی کھانے کی عادتیں تبدیل کرنا پڑیں گی خدا کو معلوم ہے کہ کون سی غذائیں ہمارے جسم کے لئے طیّب ہیں اور کونسی مضرِ صحت ۔ 
پرانے زمانے میں خنزیر کو بطور غذا گندہ تصوّر کیا جاتا تھا ۔ کیو ں کہ خنزیر ہر چیز کھا جاتا ہے  ،  کوڑا ، کچرا ، بیمار  اور مردار خور  جانورہے ، یہاں تک کے  اپنا مردہ بچہ تک کھا جاتا ہے ۔   
خنزیر کا نظامِ ہضم  نہ صرف دیگر جانوروں کے مقابلے میں سب سے تیز ہےبلکہ  مسام دار بھی ہے ۔ جو صرف چار گھنٹوں میں سب کچھ ہضم کر جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے خوراک میں موجود  Toxins یعنی زہریلے جراثیم  کو اُس کامعدہ ختم نہیں کرتا بلکہ وہ  خنزیر کی چربی میں  جمع ہوجاتے ہیں ۔ 
یوں سمجھیں کہ ایک خنزیر نے  جراثیم زدہ خوراک کھائی وہ 4 گھنٹے بعد ذبح ہو کر فریج میں چلا گیا  اُسی دن یا دو دن بعد وہ آپ کی پلیٹ میں پورک ، ہیم ، بیکن ، پپرونی  کی صورت میں آپ کی ڈائینگ ٹیبل پر آپ کے سامنے ہو گا۔جس میں موجود   Toxins یعنی زہریلے جراثیم کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہوگا ۔ 
دیگر جانور جو ہماری غذا کا حصہ بنتے ہیں وہ  تازہ چارہ   کھاتے ہیں ، جن میں گائے ،بیل ، بھینس ، سانڈ، بکرا ، بکری ، بھیڑ،  دنبے وغیرہ شامل ہیں ۔جگالی کرنے والے چوپائیوں کا  نظام ِ ہضم اعلیٰ قسم کا  ہوتا ہے ، اُن کے معدے کے تین حصے ہوتے ہیں ، جن کے ذریعے وہ 24 گھنٹوں میں اپنی خوراک ہضم کرتے ہیں ۔
اب اندازہ لگائیں کہ کہاں 24 گھنٹے اور کہاں 4 گھنٹے ؟
اب سوچیں کہ آپ کس جانور کا گوشت کھائیں گے ؟
وہ جانور جو گندگی کھاتا ہے یا وہ جانور جو تازہ چارہ کھاتا ہے !
جس اپنی خوراک کو کم وقت میں ہضم کرکے جسم کا حصہ بناتا ہے  اور تمام جراثیم اپنی چربی میں ذخیرہ کرتا ہے ۔ یا 

وہ جانور  جو  جراثیم  کو اپنے معدے میں مکمل تباہ کردیتے ہیں !
مجھے آپ کا تو معلوم نہیں ، لیکن میں ایسا کوئی چانس نہیں لے سکتا کہ ایک جانور جو اپنے جسم میں زہریلے جراثیموں کا ذخیرہ  لیے پھرتا ہو میرے جسم میں وہ میری خوراک بن کر منتقل کرے ۔
مجھے بیکن پسند تھا لیکن یہ جاننے کے بعد چند سال پہلے میں نے ٹرکی بیکن شرو ع کردیا جو اتنا ہی مزیدار تھا جتنا ہیم بیکن ۔  
میں پیزا کھاتا ہوں لیکن پیپرونی  نہیں ۔
میں نے نہ صرف اپنی صحت کے لئے اپنی خوراک میں تبدیلی کی بلکہ میں نے خدا کے حکم کی بھی عزت رکھی ۔
اگر میں اپنا خیال نہیں رکھتا  تو خدا میرا یقیناً خیال رکھے گا ۔
کیا بائیبل ہمیں کسی اور چیز سے بھی دور رہنے کا کہتی ہے ؟
کیا کسی قسم کی شیل فِش ، پران ،  کریب ، اوئسٹر ، لابسٹر ۔یہ سب جانور سمندر کی تہہ میں رہتے ہیں اور مردار خور جانورہیں ۔ 

یہ دوسرے جانوروں کا فضلہ اور گند بَلا کھاتے ہیں ۔ 
جب میں اِن کے بارے میں سوچتا ہوں تو میری بھُوک اُڑ جاتی ہے ۔ 
اِن کے بجائے ہمیں تازہ مچھلیاں کھانا چاہیئں ۔ سالمن بہترین ہے ۔ چکن بھی کھانا اچھا ہے ۔
وڈیو سے ترجمہ۔ مہاجرزادہ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭








 ٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔