میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 30 نومبر، 2018

لیبارٹر اور لیبارٹری

سوھانجنا (مورِنگا )   کے بیج پھوٹنے سے اُگنے کے عمل کے بعد   کرنل صاحب کو اُن کا مستعار لیا ہوا گملہ واپس کرنا ضروری تھا ۔ خالی گملہ واپس کرنا مناسب نہ سمجھا ، لہذا اُس میں بیج سے اُگایا ہوا  لیچی  کا پودا لگا دیا ۔
ملازم نے گملہ اُٹھا کر گاڑی میں رکھا  ، روانہ ہونے لگے تو بڑھیا نے حکم دیا ،
" کچھ پتے لیتے آنا ، سنا ہے کہ اُس میں بھی غذائیت ہوتی ہے اور بیماریوں سے شفاء بھی"
"جی اچھا "، بوڑھے نے  کہا اور گاڑی بڑھا دی ۔
کرنل صاحب ، نے کہا، " جتنے مرضی پتے لے جائیں "
ملازم نے ، جی بھر کے پتوں بھری ٹہنیاں توڑیں  ، ڈکّی اور پچھلی سیٹ بھر دی ، کرنل صاحب کا شکریہ ادا کرکے گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔ 

بڑھیا نے تازہ پتوں کا انبار دیکھا ، تو بے حد خوش ہوئی ۔
" مزہ آگیا " بڑھیا بولی ،" عدنان اِن سب پتوں  کو عمران کے ساتھ مل کر  علیحدہ پرات میں جمع کرو اور اچھی طرح دھو لینا "
بوڑھا ، 
سوھانجنا (مورِنگا )   کے پتے دینے کے بعد ، گالف کھیلنے چلا گیا ۔ مغرب کے وقت واپس آیا تو دیکھا ، کہ ڈائینگ ٹیبل پر پتے  پڑے ہیں اور اُن کے اوپر بڑھیا کا دوپٹہ  اوڑھایا ہوا ہے ۔ 
"خشک کر رہی ہو ؟
سبزی نہیں بنانا تھی ؟ ؟ " بوڑھے نے پوچھا ۔

" خشک  بھی کھاتے ہیں " بڑھیا بولی 
دو دن بعد بوڑھے نے ، چائے  کی ایک خالی برنی میں ، سبز رنگ کا سفوف دیکھا ،
" یہ
سوھانجنا  کے پتے ہیں ؟" بوڑھے نے پوچھا
" جی " بڑھیا نے تسبیح پھیرتے پھیرتے رُک کر جواب دیا ۔
" باقی کہاں ہیں ۔ پھینک دئے کیا ؟؟" بوڑھے نے پوچھا ۔
" نہیں سب یہی ہیں " بڑھیا نے کہا ۔
" کمال ہے گاڑی میں بھر کر لایا اور نکلے بس دوسو گرام !" بوڑھے نے حیرت سے پوچھا ۔

" اچھا اب کیسے استعمال کریں گی آپ ؟"  
" ویسے تو  یہ کیپسول میں ڈال کر کھائے جاتے ہیں ، لیکن میں پانی سے پھانک لوں گی " بڑھیا نے معلومات دیں ۔
کوئی چار دن بعد بوڑھے کو خیال آیا ، " جی  کیسا جا رہا ہے ، سوھانجنا پھانکنا ؟ " بوڑھے نے پوچھا 
" میرا بلڈ پریشر بڑ ھ گیا تھا " لہذا چھوڑ دیا   بڑھیا نے تاسف سے کہا 
" آپ کھا کر دیکھیں !" بڑھیا نے مشورہ دیا ۔
" چلو منگواؤ ، لیبارٹی ٹیسٹ  کے لئے بندہ حاضر ہے " بوڑھے نے کہا ۔
تو نوجوان دوستو ، بوڑھے نے سوکھا  مسلا ہوا  ، سوھانجنا پھانکا ، جو چبائے بغیرحلق سے نیچے اترنے سے انکاری تھا ۔بتیس کیا ، چالیس بار  چبانے کے بھی  منہ میں جمع رہا ، آخر کا پانی پی کر بوڑھے نے سوہانجنا معدے میں دھکیلا ۔ 
" کیسا لگا ؟ " بڑھیا نے پوچھا ۔
" جب لیبارٹر کا حکم لیبارٹی پرچلے تو ، کیسا ذائقہ اور کیسا لگنا " بوڑھے نے کہا " کم از کم  گرم دودھ میں کچے انڈے سے تو بہتر ہے "

یہ اُن دنوں کی بات ہے ، جب بوڑھا  26سالہ جوان تھا ،نئی نئی شادی کے بعد   بڑھیا کے ساتھ 1980 میں  لوکیٹنگ ( فیلڈ سروے ، ساونڈ رینجنگ  ،ریڈار رینجنگ ،  میٹریالوجی  اور کاونٹر بمبارمنٹ ) کورس کرنے نوشہرہ آیا ۔ وہاں اُسے فلو ہوگیا ، جو کسی طرح بھی ٹھیک ہونے کا نام نا لے ، دو ہفتے سے زیادہ ہوگئے ۔ تو بڑھیا بھی پریشان  ۔
 سولہویں دن بولی ،" میں آپ کا دیسی علاج کرتی ہوں ، انشاء اللہ نزلہ ٹھیک ہو جائے گا "
عشائیہ کے بعد بڑھیا ایک گلاس میں پیلاہٹ مانند دودھ لے کر آئی ،
" یہ غٹاغٹ پی لیں " بڑھیا نے کہا 

بوڑھے نے گلاس لیا ، ہونٹوں کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی انڈے کی بساند نے طبیعت میں ہلچل پیدا کردی ۔
" یہ کیا ہے ؟ " بوڑھے نے پوچھا ۔

" گرم دودھ میں پھینٹا ہوا دیسی انڈا، نزلے کا بہترین علاج ، ہمارے ہاں جب نزلہ پرانا ہوجائے تو یہی مریض کو پلاتے ہیں " بڑھیا نے کہا 
" میں ہاف فرائی  ولائیتی انڈا نہیں کھا سکتا اور آپ یہ کچا دیسی انڈا  دودھ میں ڈال کر پلا رہی ہیں "  بوڑھے نے بُرا مناتے ہوئے کہا ۔
" بس ناک بند کرکے غٹا غٹ پی جائیں ، صبح تک نزلہ غائب " بڑھیا نے حکیمانہ اعتماد سے کہا ۔ 
" مجھے نزلہ مزید ایک مہینہ قبول ہے ، مگر یہ علاج نہیں " بوڑھے نے کہا ۔ 
مگر بالآخر فتح بڑھیا کی ہوئی اور بوڑھے نے ناک بند کرکے ، غٹاغٹ  بُڑھیاکے ہاتھ سے بنایا ہوا بَڑھیا تیز بہدف نسخہ برائے نزلہ جات پی لیا ۔ اوپر سے بڑھیا نے سبز الائچی منہ میں ڈال دی۔
 " اِسے چبائیں انڈے کی بساند ختم ہو جائے گی " ۔
مرتا کیا نہ کرتا ، سبز الائچی  بھی چبانہ پڑی ، اب انڈے کی بساند اور سبز الائچی کے چھلکے کی  سڑاند نے بوڑھے کو مجبور کیا کہ وہ حلق تک خوب رگڑ رگڑ سے صفائی کرے ۔
بوڑھا تو ٹھیک ہو گیا مگر بھیا کوئی ہفتہ بعد ، فلو کا شکار ہوگئی ۔ بوڑھے نے کہا ،
" آپ بھی دیسی انڈے اور دودھ والا نسخہ آزمائی "
"   میں ایسے ہی ٹھیک ہوں ، مجھے دیسی انڈا اچھا نہیں لگتا "بڑھیا بولی
" تو آپ نے کبھی نہیں پیا " بوڑھے نے پوچھا 

" نہیں " بڑھیا نے جواب دیا 
" تو وہ آپ کا خاندانی نسخہ ؟؟؟" بوڑھے نے حیرت سے پوچھا 
" ہاں ، اباجان  پیتے ہیں نزلے میں " بڑھیا نے کہا
تونوجوان دوستو ، اب چونکہ بوڑھا بھی بڑھیا کے خاندا ن میں شامل ہوچکا تھا ، لہذا قسم کھانے کو ایک اور لیبارٹی بڑھیا کے ہاتھ لگ گئی ۔ چنانچہ اِس 40 سالہ شادی شدہ 66 سالہ بوڑھے  پر کئی تجربات کئے گئے ۔ اور نسخے آزمائے گئے ۔ 
سوہانجنا بھی اِس تجربات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو بوڑھا  گذشتہ تین  مہینوں سے لیبارٹر کے ہتھے چڑھا ہوا ہے ۔ اور دہی میں دو چمچ خشک سوہانجنے کے پوڈر  خوب گھول کر کھا رہاہے ۔ 


اپنے گھر کے چاروں طرف سوہانجنا  کے پودے  لگا رہا ہے ۔ جو کبھی بچے توڑ جاتے ہیں اور کبھی چم چم کی مرغیاں  ضیافت اُڑاتی ہیں ۔ گھر کے اندر لگائے ہوئے پودے تو ٹنڈ منڈ کھڑے ہیں البتہ محفوظ نرسری میں موجود  پودے سلامت ہیں ۔ 
بوڑھے نے اپنا بلڈ ٹیسٹ کروایا کہ دیکھیں ، اعداد و شمار کیا ہیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭-   سوہانجنا( مورِنگا) ، غذائیت سے بھرپور درخت :




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔