میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 6 نومبر، 2018

شگُفتہ نثر -اعتراض کیجیے

یہ تحریر مزاحیہ محفل کے پہلے اجلاس   ( شگُفتہ نثرکی  پہلی محفل)  منعقدہ 30 ستمبر 2018، میں پیش کی گئی۔
--------------
تحریر  برنگِ مزاح : آصف اکبر
--------------
یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ قومی چیزوں کا فیصلہ کون کرتا ہے جیسے قومی پرندہ، قومی پھول وغیرہ، لیکن اگر قومی مشغلہ طے کرنا ہو  اور زمام کار ہمارے ہاتھوں میں ہو تو ہم اعتراض کرنے کو ہی قومی مشغلہ بنانے کا فیصلہ کریں گے۔
جی آپ کو میری بات سے اتفاق نہیں؟ کیجیے اعتراض۔ کیجیے نا۔
ویسے شاید بات قومی سے بڑھ کر بین الاقوامی دائرے میں ہے۔ آخر پوائنٹ آف آبجیکشن ہماری ایجاد تو نہیں ہے نا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کام کو قومی مشغلہ نہیں بنا سکتے۔ آخر ہاکی ایک بین الاقوامی کھیل ہے جسے دنیا کی بہت سی قومیں کھیلتی ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ یہ پاکستان کا قومی کھیل بھی ہے۔
اس لحاظ سے بنیادی طور پر انسانوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں اور شاید فرشتوں کی بھی۔ یا ممکن ہے فرشتوں کی ایک ہی قسم ہوتی ہو۔  اب دیکھیے نا جب رب نے کہا کہ میں زمین میں نائب بنانے جا رہا ہوں تو فرشتوں نے کیا کیا؟ ظاہر ہے اعتراض۔
بہرحال  بات انسانوں کی حد تک رہے تو اچھا ہے،  ورنہ بہت سے اعتراض سامنے آ سکتے ہیں۔ تو  انسانوں کی ایک  قسم تو وہ ہوتی ہے جو کسی بھی بات کو سنتے ہی یہ سوچتے ہیں کہ اس میں اعتراض کے کون کون سے پہلو ہو سکتے ہیں اور دوسری  وہ جو سوچتے ہیں کہ اس بات سے اتفاق  کیسے کیا جا سکتا ہے۔
آج کل دور پروفیشنل ازم یعنی پیشہ وری کا ہے اور ہر میدان میں کچھ لوگ پیشہ ور ہوتے ہیں۔ تو اعتراضات کے میدان میں بھی ایک طبقہ پیشہ ور کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر میں نے اس طبقے کا نام لے لیا تو فوراً اعتراضات شروع ہو جائیں گے، اس لیے خواتین کا کوئی ذکر نہیں۔
عرض کرتا ہوں کہ عرض کے معنی عربی زبان میں سامنے لانے کے ہوتے ہیں۔ اور اعتراض سامنے لانے کا عمل۔ مگر جیسے بہت سے الفاظ اپنے اصلی معنی چھوڑ کر نقلی معنوں کے گھروں میں بسیرا کر رہے ہیں ویسے ہی یہ لفظ بھی۔
ویسے ایمانداری سے دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا مشغلہ ہے جس میں غیبت کے بعد سب سے زیادہ لطف آتا ہے۔ آہ کیا بات ہے غیبت کی۔ لیکن ہم اگر اپنے موضوع سے بھٹکے تو قارئین کو اعتراض ہو گا نا۔
'
فطری طور پر ہر انسان  چاہتا ہے کہ ساری دنیا اس کی سوچ کے مطابق ہو۔ اور اگر یہ سوچ بدل جائے تو دنیا بھی بدل جائے۔ بس یہی فطرت اعتراضی رویے کو جنم دیتی ہے۔ جو لوگ یہ جان لیتے ہیں کہ دنیا ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہو سکتی، اور انہیں خود کو دنیا کے مطابق ڈھالنا ہو گا، وہ  اس فطرت پر قابو پا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے انسان  جتنا کم شعور رکھتا ہے اتنا ہی زیادہ اعتراض کرنے کا شوقین ہوتا ہے۔
بہت مشہور حکایت ہے کہ ایک بہترین مصور نے ایک شاہکار تصویر بنائی اور اسے شہر کے چوراہے پر رکھ دیا۔ لوگوں نے اعتراض  کرنے شروع کر دیے۔ بیچارہ بد دل ہو کر اپنے استاد کے پاس گیا۔ استاد نے تسلی دی اور کہا اچھا  جا کر اس تصویر پر ایک تحریر لگا دو کہ  تصویر پر  اعتراض کرنے والے اس کی خامیاں درست کردیں۔ کئی دن گزر گئے اور کسی نے ایک خامی بھی درست نہیں کی۔
مزا تو جب آیا جب ایک مشاعرے کی صدارت ایک جنرل صاحب سے کروائی گئی۔ جب ایک مقبول شاعر نے مطلع سنایا تو لوگوں  نے واہ واہ کا شور مچایا اور مکرر کی فرمائشیں آنے لگیں۔  جنرل  صاحب نے  اپنے برابر بیٹھے شخص سے پوچھا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں شعر دوبارہ پڑھو۔ اب جنرل صاحب کی اعتراضی روح جاگی، اٹھ کر مائیک پر آئے اور بولےجو پڑھا جا رہا ہے بغیر شور کیے خاموشی سے اور غور سے سنو۔ شاعر بس ایک بار سنائے گا، بار بار نہیں۔
اس پر یاد آیا کہ جب غالب نے شاعری شروع کی تو اس پر اتنے اعتراضات ہوئے کہ اللہ کی پناہ۔ ویسے شکر ہے ہم اس دور میں پیدا ہوئے جب غالب کی شاعری آسان ہو چکی ہے۔
اسی زمانے میں ایک اللہ کا بندہ سید ہوتا تھا جسے ہم سر سید کہتے ہیں۔ اس شخص نے قوم کو جگا دیا۔ تعلیم کا شوق دلایا اور  مسلمانوں کو علمی سطح پر ہندووں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا مگر بیچارے پر اس دور میں بھی اعتراضات کی بوچھاڑ ہوتی تھی اور آج بھی پیشہ ور معترضین اس کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں۔
اقبال پر بھی بہت اعتراض ہوتے تھے مگر اب مملکت  پاکستان کے سرکاری  تحفظ میں  ان کی جان چھوٹی ہوئی ہے۔
ہم اپنے گھروں میں ہی دیکھیں تو جہاں کسی نے کوئی بات خلاف معمول کی، چھوٹے سے بڑے تک سبھی آجاتے ہیں کہ یہ کیا؟  ایسا مت کرو۔ اگر کوئی سو رہا ہے تو کوئی نہ کوئی اٹھانے آجائے گا اور اگر کوئی جاگ رہا ہے تو کوئی نہ کوئی سونے کی تلقین کرنے آ جائے گا۔
ہمارے ایک عزیز تھے جن کی عادت تھے کہ سیدھے طریقے سے ساکت نہیں بیٹھ سکتے تھے بلکہ د ائیں بائیں جھولتے رہتے تھے پنڈولم کی طرح۔ ایک رشتے دار خاتون نے اعتراض  کیا کہ تم ایسے کیوں ڈولتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا۔ ایک دو منٹ ساکت بیٹھے، پھر آگے پیچھے جھولنے لگے۔
 مولوی بھی اس معاملے میں پیش پیش۔ میں نے شگفتہ نثر کی محفل کے بارے میں پوسٹ لگائی۔ ایک مولوی صاحب نے اعتراض داغ دیا کہ اس سے ثواب ہو گا یا گناہ۔ عرض کیا کہ جن کاموں سے انسان کی زندگی خوشگوار ہو وہ ثواب ہی ہوں گے۔ اب مولوی صاحب کے کان کھڑے ہوئے  کہ یہاں تو زندگی خوشگوار بنانے کی بات ہو رہی ہے، جبکہ ان کا مسلک تو زندگی کو دشوار اور تلخ بنانا تھا۔  پوچھ لیا کہ زندگی کیسے خوشگوار ہو گی۔ اب مولوی سے منطق استعمال کر کے جیتنا تو آسان نہیں۔ اس لیے میں ہی چپ ہو گیا۔
مولویانہ ذہنیت سے ہی متاثر کچھ لکھنے والے اور بے شمار نہ لکھنے والے،  جمہوریت پر بغیر سوچے سمجھے  اعتراض کرنے کے بہت شوقین ہیں۔ اگست 2018 کے ایک اخبار میں ایسے ہی ایک لکھاری نے جمہوریت پر اعتراضات کی دنیا میں ایک دلکش اضافہ یہ لکھ کر کیا کہ الیکشن کروانے پر اکیس ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، اس لیے الیکشن نہیں ہونے چاہیے۔
وہ کہانی کس نے نہیں پڑھی کہ ایک باپ بیٹا اپنا گدھا  بیچنے کے لیے گدھے پر بیٹھ کر شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ لوگوں نے دیکھا تو کہا کتنے بیدرد باپ بیٹے ہیں، ایک گدھے پر دو دو سوار۔ وہ دونوں اتر گئے ۔ اب لوگوں نے کہا کتنے بے وقوف ہیں، گدھا ساتھ ہے اور خود پیدل جا رہے ہیں۔ یہ سن کر باپ نے بیٹے کو گدھے پر بٹھا دیا۔ اب کسی نے کہا کتنا نالائق بیٹا ہے، خود گدھے پر بیٹھا ہے اور باپ پیدل۔ بیٹےنے سنا تو خود اتر آیا اور باپ کو سوار کروا دیا۔ اب کسی نے اعتراض کر دیا کہ کتنا ظالم باپ ہے، معصوم بچے کو پیدل چلا رہا ہے۔ ان دونوں میں ایک بانس سے گدھے کو لٹکایا اور لے کر چلے۔ ایک بڑی بی نے کہا ،ہے ہے لوگو،  کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ وہ دونوں اس وقت  پل پر سے گزر رہے تھے۔ یہ سن کر ان کی اور تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ گدھے کو پل سے نیچے پھینکا اور خود گھر کو لوٹ لیے۔ ایک اعتراض تو پھر بھی بنتا ہے، کہ گدھے کو پھینکا کیوں؟
اعتراضات کا جواب دینا آسان  کام نہیں ہوتا۔ سب سے  خوبصورت جواب ہمارے ایک   کزن نے دیا۔ ان سے کسی بزرگ خاتون نے پوچھ لیا،
" میاں تمہاری ایک آنکھ چھوٹی ایک بڑی کیوں ہے؟"
  انہوں نے انتہائی مختصر جواب دیا 
"کروائی ہے"۔
٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔