میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 22 نومبر، 2018

زعفران اور راولپنڈی

کوئی تین ماہ پہلے  جناب ثنا اللہ خان احسن نے فیس بُک پر "زعفران " کے متعلق  مضمون لکھا جس کو اُگانے کے لئے  بیج یا زعفران کی پیاز سے پودا اُگانے کے بارے میں کسی نے لکھا  کہ زعفران بیج سے نہیں اُگائی جاتی ۔ 
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے کوئٹہ میں برف پگھلنے کے بعد زرغون سبزی مارکیٹ سے بیج لا کر زعفران اُگائی تھی ۔
خیر بیجوں کی تلاش میں ۔ ویب سے کراچی کے ایک تاجر کا نمبر ملا ، موبائل پر بات ہوئی ، جس نے بتایا کہ وہ 10 پیازی بلب بھجوا سکتا ہے ، جس کی قیمت  میرے پاس پہنچ کر 1،750 روپے بن جائے گی ۔ 

کہا ، آپ کو بتاؤں گا ۔
ابو سعید سے وٹس ایپ پر پوچھا ، پنڈی میں زعفران کی کاشت ہوتی ہے ؟
ابو سعید کلرسیّداں کا رہنے والا ہے ، اُس نے کہا کہ ، راولپنڈی میں زعفران کی کاشت کا نہیں سنا ۔ 

31 اکتوبر کوگملوں میں  سبزیاں اُگانے  کے لئے نرسری سے مٹی خریدنے گیا وہاں ایک باسکٹ  میں کسی پودے کے پیاز نظر آئے ، میں سمجھا شائد نرگس کے ہیں ، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ زعفران کے ہیں اور قیمت فی پیاز 100 روپے ہے ۔

پانچ عدد پیاز مبلغ 500 روپے کے خرید لئے ۔ اور گھر آکر 10 بجے ،  پانچ گملوں میں لگا دئے  اور دیکھ بھال شروع کردی ۔ 

18 تاریخ کو صبح  7 بجے ، مچھلیوں اور بلیوں کو کھانا ڈالا ، پانی کی موٹر چلائی ۔گملوں  میں  لگائے ، مٹر ، ٹماٹر ، سلاد ، شلجم ، مولی ، کھیرے  کے بیجوں سے نکلی کونپلوں پرپانی کا چھڑکاؤ کیا ۔
 جب ، پودوں کے پاس پائپ لے کر پہنچا اور پودوں کے درمیان دو گملوں میں تین  بیگنی رنگ کے پھول نظر آئے دل باغ باغ ہو گیا ۔

گویا صرف 18 دن بعد ، زعفران کی پیاز  سے پھول نکل آئے  جن  کی بیگنی رنگت کی پنکھڑیوں کے غلافی آنچل سے  تین   سروقد سرخی مائل رنگت  کی زعفرانی دوشیزائیں جھانک رہی تھی ۔ پھولوں کو سونگھا ، دھیمی  دھیمی مسحور کُن خوشبو   نے دماغ مُعطر کر دیا ۔
قارئین ! تجربے کے بعد ، پس ثابت ہوا کہ راولپنڈی میں زعفران کی کاشت ہو سکتی ہے !

باقی تین گملوں میں بوئی گئی پیاز  کے تنے بھی نکل آئے ہیں ، شائد صبح تک اُن سے پھول نکل آئیں ۔
مقصد چونکہ ، زعفران کے بیج حاصل کرنا تھا ، لہذا ایک گملے کے پولن کو دوسرے گملے کے   پھول کی تینوں دوشیزاؤں  کو نہلایا ۔ یوں نو کی نو دوشیزائیں   پولن سے زیربار ہوئیں ۔




اب بیجوں  کی افزائش کا انتظار ہے ۔ جس کا آپ کے علاوہ مجھے بھی انتظار ہے  کہ ایک پھول سے کتنے بیج حاصل ہوتے ہیں ؟


٭-   زعفران کے غذائی اعداد و شمار




٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دیگر مضامین  :
٭-   سوہانجنا( مورِنگا) ، غذائیت سے بھرپور درخت :

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔