میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 11 نومبر، 2018

صرف میں ہی کیوں

رابرٹ آرتھر  ایشے   جونئیر ، مشہور ویمبلڈن ٹینس پلئیر نے 1983 میں ھارٹ سرجری کروائی ، تو اُسے جو خون مہیا کیا گیا ، اُس میں ایڈ کے جراثیم تھے ۔
ہسپتال کے بستر پر ایڈ میں مبتلاء ایشے کو اُس کے فین کی طرف سے ایک خط ملا ۔
خدا نے آپ ہی کو ایسی  بُری بیماری کے لئے کیوں منتخب کیا ؟
آرتھر نے جواب دیا :
5   کروڑ افراد،  ٹینس کا ریکٹ ہاتھ میں پکڑ کر کورٹ میں اترتے ہیں ۔
50 لاکھ افراد  ،  ٹینس کھیلنا سیکھتے ہیں ۔
لاکھ افراد  ،  پروفیشنل ٹینس میں قدم رکھتے ہیں ۔
50 ہزار 
افراد  ،کی پروفیشنل   ٹینس میں  مقابلوں کے بعد انٹری ہوتی ہے ۔
5 ہزار افراد ، گرینڈ سلام  کھیلتے ہیں ۔
50  افراد ، ویمبلڈن ٹینس کھیلتے ہیں ۔
4 افراد سیمی فائینل میں پہنچتے ہیں ۔ اور
صرف 2 افراد ، 
ویمبلڈن ٹینس کا فائینل کھیلتے ہیں ۔ 

جب میں نے  ویمبلڈن ٹینس کا کپ اپنے ہاتھ میں پکڑا ، تو میں نے خدا سے نہیں پوچھا تھا ۔
صرف میں ہی کیوں ؟

تو اب اِس تکلیف میں میری ہمت نہیں کہ میں خدا سے پوچھوں:
صرف میں ہی کیوں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭
بشکریہ  ۔ کرنل (ر) سید شاہد    
 ٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔