میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 28 دسمبر، 2018

صحافت اور صحافی

 میں روزنامہ "لکیر" کا صحافی ہوں۔
 میں ایک دن گوشت والے کے پاس گیا اور دو کلو گوشت طلب کیا۔ اور اس پر رعب ڈالنے کےلئے تا کہ وہ مجھے اچھا گوشت دے، میں نے اسے اپنا پریس کارڈ دکھایا، کارڈ دیکھ کر اس نے اپنا چھرا سائیڈ پر رکھا اور اپنی جیب سے روزنامہ "روشناس" کا کارڈ نکال کے دکھایا جس میں موصوف نامہ نگار تھے۔چنانچہ میں کھسیانا سا ہو کر رہ گیا۔
 اس کے بعد میں ایک موچی کے پاس گیا، اس کو جوتا پالش کرنے کےلئے دیا اور حسب سابق رعب ڈالنے کےلئے تاکہ اچھا جوتا پالش کرے ، میں نے اسے اپنا کارڈ دکھایا، کارڈ دیکھ کر اس نے اپنا برش سائیڈ پر رکھا، اور اپنی صندوقچی سے اپنا چیف ایڈیٹر روزنامہ "تحقیق" کا کارڈ نکال کر دکھایا جسے دیکھ کر دن میں میری آنکھوں کے آگے تارے جھلملانے لگ گئے۔ مرتا کیا نہ کرتا شرمندگی کی حالت میں جوتا وصول کیا 

اور آگے سبزی والے کی طرف رخ کیا۔ اس کو سبزی کا آرڈر دے کر ڈرتے ڈرتے میں نے اپنا کارڈ اسکو دکھایا تاکہ سبزی خراب نہ دے، اس نے کارڈ دیکھ کر شاپر سائیڈ پر رکھا اور جیسے ہی اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا!!!!!
میں نے اپنا سامان سنبھالا اور بھاگنے میں ہی غنیمت سمجھی۔
( منقول) 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محلّے کی تازہ ترین خبریں  سنانے والی خالہ  صحافت میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے ، مگر کارڈ نہیں !

منگل، 25 دسمبر، 2018

جھانجھر والے پیر نہیں بُھلے

 ٭ٹالھی والا گھر٭



 کِکّر، ٹاہلی، بیری، نِمّاں
پِپل، توت تے بوڑھ نئیں بُھلے
وٹاں بَنّے، نہر دا کنڈھا
اج تک پنڈ دے موڑ نئیں بھُلے

جمّوں  تے امرود نہیں بُھلے
ناں ای امب، لسوڑے بُھلے
ناں تے بُھلڈ پنجیری بُھلی
ناں پِنیاں، ناں پُوڑے بُھلے
 

 بلد پنجالی ہل نہیں بُھلی
 واہناں،وانگھی، گڈ نہیں بُھلی 
گادھی،ٹِنڈ نسار نہیں بُھلی 
کھوہ کھاڈا تے اڈ نہیں بُھلی 

اُکھلی تے نہیں مولھی بُھلی
 چِھکو، چھابی، چھج نہیں بُھلے
 سُگھڑ پن سگُچ نہیں بُھلے
 جاچ سُچج تے پچ نہیں بُھلے

‏جھانجھر والے پیر نہیں بُھلے
نتھلی والے نک نئیں بُھلے
روں توں کُولی بانہہ نئیں بُھلی
گندل ورگے لک نئیں بُھلے

اِک گنیاں دی روہ نئیں بُھلی
لسّیاں دے اوہ کَول نہیں بُھلے
سنگھنے دُدھ دی کھیر نہیں بُھلی
گُڑ دے مٹھے چول نہیں بُھلے



  سانجھ مروت پیار نہیں بُھلے
 ورھیوں سِک وراگ نہیں بُھلے
 لسن پلانہیں بوڑویں بُھلے 
مکی،مکھن،ساگ نہیں بُھلے

 رِجکا،موٹھ جوار نہیں بُھلی
 سرہوں، کنک کپاہ نہیں بھلی
 ہولاں تے نہیں سَتّو بُھلے 
لاچی لونگ دی چاہ نہیں بُھلی

مہندے تے نہیں وٹنے بُھلے
 جنج گھڑولی کھٹ نہیں بُھلے
 اک گھڑی جے گھول نہیں بُھلے
 میلے وی تے جھٹ نہیں بُھلے 

گُھگھی لالھی سہیڑ نہیں بُھلی 
شِکرے، لگڑ تے باج نہ بُھلے 
تاڑی تے نہیں ہاکر بُھلی 
رہیکلیاں دی واج نہ بُھلے 

کاپے تے نہیں ڈھانگے بُھلے
تیر کمان غُلیل نہیں بُھلی
 ٹیشن تے نہیں ٹانگے بُھلے
 آؤندی جاندی ریل نہیں بُھلی

 نِنگلاں،لاٹو ڈور نہیں بُھلی 
باگھڑ تے اخروٹ نہیں بُھلے
 یَسّو پنجو ہار نہیں بُھلے
  اج تک کَلّیاں جوٹ نہیں بُھلے

 چِبھڑ تے نہ پیلاں بھُلیاں
 نہ ای یار بھپولے بُھلے
 نہ ای گچک مرونڈے بُھلے 
نہ ٹانگر تے گولے بُھلے

 واواں ورگی ٹور نہیں بُھلی
 سپاں ورگی گُت نہیں بُھلی
 کِھڑ کِھڑ ہسدے دِن نہیں بُھلے
 گلاں کردی رُت نہیں بُھلی

 گلیاں دے رنگ روپ نہیں بُھلے
 رب جہے یار دا در نہیں بُھلیا
 وانساں آلی گُٹھ نہیں بُھلی
 ٹالھی والا گھر نہیں بُھلیا
 ارشاد سندھو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اعترافِ شکست

پیر، 24 دسمبر، 2018

انڈوں سے چوزے نکالنا

مرغی  کے بغیر انڈوں سے مصنوعی حرارت کے ذریعے چوزے نکالنا سب سے آسان اور فائدہ مند  عمل ہے ۔ 
جب مرغی  انڈے  دینے کے بعد کُڑک ہو کر جب انڈے سینے (ہیچنگ ) کے لئے بیٹھتی ہے ، تو اُس کے جسم کا درجہ حرارت  99 سے 102 ڈگری فارن ہائیٹ ہوتا ہے ۔
مصنوعی گرمی سے جب اِن انڈوں کو ہیچ کیا جاتا ہے ، تو اِس کا آئیڈیل ٹمپریچر  99.5 ڈگری فارن ہائیٹ  یا  37.8 سنٹی گریڈ سمجھاجاتا ہے ۔ 
٭- ہیچنگ بکس کے اندر کا ٹمپریچر ۔ 99 سے 102 ڈگری فارن ھائیٹ کے درمیان رہے ۔
٭- بکس  میں ہوا اور  نمی کا تناسب   ہیچنگ بکس کے اندر  ٹمپریچر سے منسلک ہے ۔ اگر ہم ایک پیالی میں پانی ڈال کر  ہیچنگ بکس میں رکھ دیں تو اندر موجود گرمی ، پانی سے بھاپ بنائے گی جو بکس میں نمی پیدا کر دے گی ۔ لیکن اگر بکس میں آپ نے پانی کا پیالی نہ رکھی تو بکس کے اندر موجود ہوا میں موجودنمی ختم ہو جائے گی ۔ جس سے انڈے کے اندر بننے والے چوزے کی یقینی موت ہو سکتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق، ٹمپریچر اور ہوا میں نمی کے تناسب      کے لئے ، یہ  چارٹ آپ کی راہنمائی کرے گا  ۔
ہیچنگ بکس میں آپ ہیٹر ، بلب ، لالٹین یا موم بتیوں سے  100 ڈگری فارن ہائیٹ تک ٹمپریچر رکھ سکتے ہیں ۔ 
(اگلے مضمون میں آپ کا نہایت سادہ ہیچنگ بکس بنانے کا طریقہ بتایا جائے گا ۔جس سے بچے تا میرے جیسے نوجوان ، انڈوں سے بچے نکالنے کے کھیل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انڈے اپنے گھر کے ہوں بازار کے نہیں )  ۔
آئیے دیکھتے ہیں ، کمرشل بنیادوں پر بنایا ہوا ،انڈیا کے ماہر کا ، لالٹین سے گرم ہونے والا ، ہیچنگ بکس !
1- لکڑی کی الماری 
2-جس کےسب سے نچلے خانے میں تین  لالٹین  اور پانی کی پیالی ۔
3 ۔ اوپر  کے خانوں میں انڈے ۔
4- ٹمپریچر معلوم  کرنے کا تھرما میٹر ۔
 5۔ سب سے اوپر کھڑکی ، تاکہ اندر کی ہوا کو باہر نکالا جاسکے ۔ 
6- انڈے کے اندر کے  روشنی کی شعاع سے  جانچنے کا بکس ، جس میں اندر موم بتی اور ایک انڈے کے سائز کا سوراخ ۔
7- پہلے دن  ہیچنگ بکس میں رکھنے سے پہلے  انڈے   کا عکس ۔
8-ہیچنگ بکس میں رکھنے کے بعد ،  آٹھویں دن ، انڈے کی حالت ۔
٭۔8a.بانجھ انڈا۔
٭۔8b.خراب ہوجانے والا انڈا۔
٭۔8c.انڈے میں چوزے (ایمبریئو)کی ابتدا ء۔ 
9۔ اٹھارویں دن ، انڈوں کو زیادہ نم کرنے کے لئے پانی میں نچوڑے ہوئے نرم کپڑے کو ہلکے ہاتھوں سے پھیرنا۔
10۔انیسویں دن ، چوزے کی ٹھونگ سے انڈے میں کھڑکی کا نمودار ہونا ۔
11۔20 تا  23 دن میں چوزوں کی چیاؤں چیاؤں !
  چوزوں  اور بطخ کے بچّوں کو دانہ کھلانا نہایت آسان ہے ۔بنسبت  باقی پرندوں کے ، کیوں کہ اُن کی مائیں  دانہ کھا کر اپنے معدے میں نرم کرتی ہیں اور پھر بچوں کے منہ میں ڈالتی ہیں ۔
نوٹ: اِس وقت چم چم ، لڈو کے محلّے کے تمام بچے شدّت سے چوزوں کی چیاؤں چیاؤں سننے کے لئے بے تاب ہیں ۔ اُنہیں دن میں ایک وقت انکیوبیٹر میں پڑے انڈوں کو دیکھنے کی اجازت ہے ۔ہر بچے نے دو دو ، چوزے لینے پر اپنا حق جتا دیا ہے ۔
وہ بوڑھے کو بتاتے ہیں ، کہ ، 
"انکل اتنے دن ہوگئے ہیں اوراتنے دن رہتے ہیں ۔"
دوستو ! کیا  آپ کو معلوم ہے ، کہ کتنے دن رہ گئے ہیں ؟ 
نہیں  ! تو پڑھیں  ۔  فیس بُک سے چکن بُک تک
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
٭- انڈوں سے چوزے نکالنا 
٭- فیس بُک سے چِکن بُک تک 
٭- چم چم کے چِنکو اور پِنکو 

اتوار، 23 دسمبر، 2018

ضائع پیٹرول کی ری سائیکلنگ


نون لیگ کی غلط پلاننگ کے سبب



وہاں سے بارش کے ساتھ پانی میں مل کر زمین پر آتا ہے ۔ 
اور ہمارے سمندر میں ایک پہاڑی کے نیچے جمع ہوجاتا ہے اور سخت گرمی سے گیس میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔اِس وقت وہاں بے تحاشہ گیس کے ذخائر بن چکے ہیں ۔
اگر اٹھارویں ترمیم کو ختم کروادیا جائے تو  وفاقی حکومت اپنے ذرائع سے سندھ کے صوبائی سمندر  میں  موجود    پہاڑی میں ڈرل کرواسکتی ہے ۔ جس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ زرداری  حکومت ہے ۔
اگر یہ کام ہوجائے تو ، وہاں سے نکلنے والی  گیس اُس وقت تک ختم نہ ہو جب تک پی ٹی آئی کی حکومت رہے ۔
خلائی مخلوق  کے خلائی سروے کے مطابق ، کم از کم یہ مدّت پچاس سال یا اُس سے زیادہ کی ہوسکتی ہے ، کم نہیں !
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 22 دسمبر، 2018

فیس بُک سے چِِکن بُک تک

 چم چم کے دو دیسی مرغوں چِنکو اور پِنکو  نے اِس بوڑھے کو ، فیس بُک سے چِکن بُک پر منتقل کردیا ہے ۔ جن کی سات (فارمی) دیسی مرغیاں ہیں ۔ جو انڈے تو دیتی ہیں مگر کُڑک نہیں ہوتیں ۔ 
فروری 2016 میں چم چم کے لئے خریدے گئے دو چوزے ، حوادثِ زمانہ سے بچ کر   خوبصورت دیسی مرغوں کا روپ دھار چکے تھے اور گھر میں آنے جانے والے فرد بشمول بوڑھے کو بھی نہیں بخشتے تھے ۔یہاں تک کہ اُن دونوں نے چم چم کی "پاک ایران بلّی " بِٹّو  کو بھی نہیں بخشا ۔

چم چم کی خواہش تھی کہ نانو کی مرغیوں کے انڈوں سے چِکس نکالے جائیں ۔ اُس کی سہیلی نے بتایا کہ انڈوں کو بکس میں رکھ دیں تو خود بخود چِکس بن جاتے ہیں ۔ بڑھیا کی خواہش تھی کہ ماں کے بغیر بچے نہیں پلتے ۔لہذا مرغی ہی انڈوں سے چوزے نکالے   جائیں ۔
لہذا     ایک اصیل کُڑک ہونے والی مرغی دو (فارمی) دیسی مرغیوں کی قیمت میں خریدنا پڑی۔ 
جِس نے بلاشرکتِ غیرے دونوں مرغوں کے حرم میں ایک نہ ختم ہونے والے یُدھ کے بعد اپنی حاکمیت تسلیم کروا لی ہے ۔  

بریگیڈئر  خالد حنیف  اور بوڑھا  مرغی کے ڈربے کے سامنے بیٹھے چائے پی رہے تھے جو اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں تھا ۔
خالد نے مارکیٹ سودا سلف لینے جاتے ہوئے ، بوڑھے کو دیوار پر چڑھے  مددگار کو ہدایتیں دیتے دیکھا تو گاڑی  گیٹ کے سامنے کھڑی کرکے نعرہ مارا ،
" سر ! عمران خان کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے والا کٹّر نون لیگی پہلی بار دیکھا ہے ، مبارک ہو  ۔"ٗ

" ارے نوجوان ، یہ بڑھیا  اور چم چم کا ویژن ہے ، جِس نے بوڑھے کو مزدور بنایا ہوا ہے۔ " بوڑھے نے جواب دیا ۔
جب چم چم کے ویژن کا براڈ سپیکٹرم یعنی وسیع و عریض  کینوس   بتایا ، تو نوجوان بولا،
" سر ! نو پرابلم ، میرے پاس چوزے نکالنے والا اپنی مدد آپ کے تحت بنایا جانے والابکس بھی ہے ۔جس سے میں نے ہر قسم کے انڈوں سے  چوزے، بٹیر ، تیتر ، چکور ، یہاں تک کہ بطخیں تک نکلوائی ہیں ۔   وہ میں لے آتا ہوں ۔ آپ عمران خان کے ویژن کو مونڈھا دیں " 

چائے پینے کے بعد، نوجوان ریٹائرڈ بریگیڈئر روانہ ہوا ۔ 
 دوسرے دن شام کو بوڑھے کو یاد آیا کہ خالد حنیف  نے چوزے نکالنے والی مشین لانے کا وعدہ کیا تھا ۔ شاید مشین کہیں سامان میں دبی ہو ؟
مشین میں سب سے اہم پرزہ تھرموسٹیٹ ہوتا ہے جو بکس کے اندر ،  ہچنگ ٹمپریچر کو 100 ڈگری سنٹی گریڈ پر قائم رکھتا ہے ۔ سوچا کہ لاہور سے پتہ کروایا جائے ۔
اپنے گرو (نجیب عالم)  کو لاہور فون کیا ،
" گرو جی یہ بتائیں ! لاہور سے  ہیچنگ مشین کا تھرمو سٹیٹ مل سکتا ہے ؟ "

" کِس لئے چاھئیے ؟" گرو نے پوچھا 
" چوزے نکالنے والی مشین بنانی ہے ۔"  ہم نے بتایا
" میں کل بتاؤں گا ،لیکن سر جی ،  اِس سے بہتر نہیں کہ، سر دردی کے بجائے ،  مشین لے لی جائے ۔ " گرو نے رائے دی 
اگلے دن ، خالد حنیف  مضبوط لکڑی کے ڈبے سے بنی ہوئی ،انڈوں سے چوزے نکالنے والی  مشین لے کر آگیا ۔ پورا لیکچر دیا ۔  بڑھیا نے   خالص دیسی انڈے اپنے بچوں کے لئے سنبھال کر رکھے تھے اُ ن میں  12 انڈے لئے ، دو انڈے خالص اصیل دیسی  کُڑک ہونے والے مرغی کے بھی شامل کرکے کُل 14 انڈے اور 12 دسمبر 2108 بوقت  سوا ایک بجے بعد دوپہر  ،مشین میں رکھ دیئے ۔ یہ پہلا بیج ہے ۔ جو 3 جنوری 2019 کے بعد چوزوں کو اِس دنیا میں لانے کا سبب بنیں گے ۔ 

چھوٹے بھائی نے ، دو ہفتے قبل طوطا دینے کا وعدہ کیا تھا ، کیوں کہ چم چم کے طوطے نے اپنی گردن ،دھاگے میں پھنسا کر ،خودکشی کر لی تھی ۔ طوطی اکیلی زندگی گذار رہی تھی اُس کے طوطوں نے جو بچے پالے وہ ساری اولادِ نرینہ تھی ۔
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ طوطا لے کر آگیا ۔ اُس سے معلوم ہوا کہ سٹیڈیم کہ عمران خان کا قرضہ اتارنے کے لئے نہیں بلکہ عوام کو نیچے سے اُٹھا کر  غربت کی لکیر پر بٹھانے کے لئے ایک مرغا اور پانچ مرغی سکیم لانچ کی ہے ۔ جو 1200 روپے میں  شمس آباد میں گورنمنٹ پولٹری  پراجیکٹ سے مل جائیں گی ۔ رات کو بوڑھےکو گرو جی نے    معلومات دیں کہ تھرموسٹیٹ کی دستیابی   ممکن نہیں  اور چائینا کی بنی ہوئی ہیچنگ مشین مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔

" ٹھیک ہے قیمت پوچھ کر  بتائیں " ہم نے  کہا
" قیمت چھوڑیں ، سر جی  ، مشین  مل جائے گی "، گرو نے کہا ۔
اُس کے بعد  گھر کی چھت پر سبزی بانی  اور فروٹ بانی کی بات ہوئی ، گرو جی نے خرگوش بانی پر بات کی ۔
یاد آیا کہ کل ہی کسی دوست نے خرگوش بانی پر ایک وڈیو شیئر کی تھی ۔ کھولو تو وہ نیشنل ایگرکلچرل ریسرچ سینٹر   (NARC) کی انگورا خرگوش کے بارے میں تھی ۔ اگلے دن  چک شہزاد کے  انگورا خرگوش سنٹر جا پہنچا  وہاں سے نااُمید ہو کر  اُنہی کے مرغی فارم گیا ۔
 اُن کے خالص اصیل دیسی  مُرغ اور مرغیاں دیکھیں ۔ جس کے نگہبان ڈاکٹر حمّاد صاحب ہیں ، لیکن و ہ میٹنگ پر گئے ہوئے تھے ۔ 
ڈاکٹر آغا وقار سے بات ہوئی اُنہوں نے کمالِ مہربانی سے ایک درجن انڈے ، قیمتاً عنایت کروادیئے ۔ گیٹ پاس دے کر انڈے لے کر گھر پہنچا ، بیگم نے بتایا ، کہ آپ کے نام بڑا سابکس آیا ہوا ہے ۔ دیکھا تو وہ گرو جی کی طرف سے بھجوایا ہوا ، چینی انکیوبیٹر  تھا ۔ 
فون کر کے گرو جی کا شکریہ ادا کیا گرو جی نے ، قیمت بتانے سے صاف انکار کر دیا ۔
NARC  سے  لائے ہوئے درجن انڈے ، پہلے سے موجود  مشین میں رکھے ۔ اُن پر 4/1 کی تاریخ لکھی ۔یہ دوسرا بیچ ہے۔
لاہور سے گرو جی  (نجیب عالم)کی  بھجوائی ہوئی مشین کی ساتھ آئی ہوئی کتاب کا مطالعہ کیا ۔  
بریگیڈئر ، خالد حنیف کو بتایا اُس نے انڈوں کو چینی مشین میں شفٹ کرنے کا کہا ، کیوں کہ وہ آٹومیٹک ہے ، لہذا انڈوں کو  نئی مشین میں شفٹ کیا ۔
چم چم اور اُس کے محلّے کے دوستوں ، انکیو بیٹر میں پڑے انڈے دکھا کر ،   کمرے میں بچوں کا داخلہ سختی سے بند کر دیا ۔
 لڈّو اور موتی چور  (چیکو)   بھی آچکے ہیں اب چم چم اور لڈو کو برفی کا انتظار ہے ۔ وہ بھی اپنی ماما اور بابا کے ساتھ آرہی ہے ۔ 
تاکہ وہ دادا بابا کا مرغی خانہ ،خرگوش خانہ ،کبوتر خانہ ،  برڈ خانہ اور کیٹ ہاؤس دیکھے ۔ 
برفی نے وہائٹ کیٹ پسند کی ہے ۔ جو چم چم نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے دے دی ہے ۔


بیٹھے  نوٹ: چِکن بُک کی باقی روداد ۔ ۔ ۔ تفصیلاً پڑھنے کے لئے 3 جنوری تک انتظار کیجئے ۔ 

آئی لو یو آل !

 پچھلا مضمون پڑھیں شخصیت کے ستون
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﮔﺎﺭﻟﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﻼﺱ 5 ﮐﯽ ﭨﯿﭽﺮ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ 
" ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ ﺁﻝ " ﺑﻮﻻ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﭽﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ آنکھ ﻧﮧ ﺑﮭﺎﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﯿﮉﯼ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﯿﮉﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﮐﭽﯿﻠﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺁﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺑﮕﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻤﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﻗﻤﯿﺾ ﮐﮯ ﮐﺎﻟﺮ ﭘﺮ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ۔ ۔ ۔ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺗﻮ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﮉﯼ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ۔
ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺮﯼ ﻣﺜﺎﻝ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﮑﮭﻼ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﺮ ﮈﺍﻧﭧ، ﻃﻨﺰ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﭼﮍ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﮩﻼ ﺳﯿﻤﺴﭩﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﭘﻮﺭﭨﯿﮟ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﻟکھ ﻣﺎﺭﯾﮟ۔ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺴﭩﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ۔
" ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﮐچھ ﺗﻮ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮﺁﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ کچھ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿں گے "
" ﻣﯿﮞﻤﻌﺬﺭﺕ ﺧﻮﺍﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﻤﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ کچھ لکھ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ "
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍُٹھ ﺁﺋﯿﮟ۔

ﮨﯿﮉ ﻣﺴﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭙﮍﺍﺳﯽ ﮐﮯ ہاتھ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﯽ ﮈﯾﺴﮏ ﭘﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﮟ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ۔ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﮨﯿﮟ۔
" ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﻼﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮩﯽ ﮔﻞ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔ "
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﺱ 3 ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻤﺎﺭﮐﺲ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ۔
" ﺟﯿﮉﯼ ﺟﯿﺴﺎ ﺫﮨﯿﻦ ﺑﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ "
" ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻟﮕﺎﺅ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ "

ﺁﺧﺮﯼ ﺳﯿﻤﺴﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯽ ﮨﮯ۔
 ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻼﺱ 4 ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔
" ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺍﺛﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ "
" ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﮐﺎ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ۔ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﮯﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ۔ "
"ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﮨﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺭﻣﻖ ﺑﮭﯽ ۔ ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ "
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﭘﺮ ﻟﺮﺯﮦ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ۔ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺟﻤﻠﮧ
" ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ ﺁﻝ " ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ۔
ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﺟﯿﮉﯼ ﭘﺮ ﺩﺍﻏﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﭽھ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮئی ﮉﺍﻧﭧ ﭘﮭﭩﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﻨﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﺧﻼﻑِ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺑﻞ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺩﮨﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﺎ۔

ﺟﯿﮉﯼ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺧﺮ ﺑﻮﻝ ﮨﯽ ﭘﮍﺍ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺧﻮﺩ پرﺟُﻮش اﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺋﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺠﻮﺍﺋﯿﮟ۔
ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮨﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﺘﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﭘﺬﯾﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮑﻮﺕ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻼ ﻧﻘﺺ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ نت ﻧﺌﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﭘﻮچھ ﮐﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺳﻨﻮﺭﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﮐﭙﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺻﺎف ہوﺗﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺳﺎﻝ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯽ۔
ﺍﻟﻮﺩﺍﻋﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺤﻔﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﻥ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﮏ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺪ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﭘﯿﮏ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻔﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﺳﮯ ﺩیکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﻟگی کہ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺟﯿﮉﯼ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ۔ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﻟﯿﮉﯾﺰ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺷﺪﮦ ﺷﯿﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﺎتھ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻣﻮﺗﯽ ﺟﮭﮍ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺍﺱ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﭼﮭﮍﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎتھ ﻣﯿﮟ ﮐﮍﺍ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﭽﮯ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩیکھ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ۔
ﺧﻮﺩ ﺟﯿﮉﯼ ﺑﮭﯽ۔ ﺁﺧﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ-
ﮐچھ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭨﮏ ﺍﭨﮏ ﮐﺮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ
" ﺁﺝ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ "

ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺩﻥ ﮨﻔﺘﻮﮞ، ﮨﻔﺘﮯ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎﮞ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﻣﮕﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﮐﻮ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﺻﻮﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ
" ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺌﮯ ﭨﯿﭽﺮﺯ ﺳﮯ ﻣﻼ۔ ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ "
ﭘﮭﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﺎ ﺍﺳﮑﻮل ﺨﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﻮﻁ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ۔ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﺰﯾﺪ ﮔﺰﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﺎ ﺧﻂ ﻣﻼ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ": ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ۔۔ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ۔ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ - ﮈﺍﮐﮍ ﺟﯿﮉﯼ ﺍﻟﻔﺮﯾﮉ "
ﺳﺎتھ ﮨﯽ ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﮐﺎ ﺭﯾﮍﻥ ﭨﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺴﺰ ﺗﮭﺎﻣﺴﻦ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮧ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﮑﺴﺎﺱ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ کچھ ﺩﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﯿﮉﯼ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮨﯽ ﺳﺮﭘﺮﺍﺋﺰ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍسﻠﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﭨﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﮎ ﮔئیں۔
ﻋﯿﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ وقت ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﺮﭺ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻟﯿﭧ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺩیکھ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮈﺍﮐﮍ، ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﭼﺮﭺ ﮐﺎ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺘﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﯿﮉﯼ ﺭﺳﻮﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮔﯿﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭨﮑﭩﮑﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﮉﯼ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮨﺎتھ ﭘﮑﮍﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﮍﺍ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺎﺋﮏ ﮨﺎتھ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐچھ ﯾﻮﮞ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ

" ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣجھ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻠﺪ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻮﺍﺅﻧﮕﺎ
۔ ۔ ۔ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮨﯿﮟ -----"!!

ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﺮ ﮐﮧ ﮨﯽ ﻣﺖ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ، ﺟﯿﮉﯼ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺌﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﻣﺮﺟﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺗﻮﺟﮧ، ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﻫﮯ-
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

منگل، 18 دسمبر، 2018

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -3

نوجوانو! یہ تمھاری پیدائش  سے  پہلے کا  واقعہ ہے یا شائد  آپ لوگ پوتڑوں میں لپٹے ماں کی گود سے نکل کر  باہر دوڑ جاتے  ہوگے، اور  تمھیں کسی نے نہ سنایا ہو  یا شائد  تم لوگوں نے  بیرونِ ملک ِجدید کے  نظریات پڑھنے  کی خاطر سنی ان سنی کر دی ہو گی !
یہ بہت پرانی کہانی ہے ایک لوہار کی ، جس کو سونے سے زیادہ قیمتی  وہ لوہا لگتا تھا ، جسے وہ آگ میں  تپا کر کوٹتا تھا ،
 ڈھا ، ڈھا ، ڈھا ، دھک ،
دھک ، دھک  دھک ،ٹن
ٹن، ٹن ، ٹن ٹرررن 
ٹرررن کی آواز آتے ہی اُس کے محنتی چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ، کیوں کہ لوہا  اُس کے مضبوط ہاتھوں سے لگنے والے ہتھوڑے  کی ضربوں سے سٹیل میں تبدیل ہونے لگتا ۔ اور سٹیل  سب سے مضبوط اور قیمتی دھات ہے ۔ جو بڑی بڑی عمارتوں ، پلّوں  اور سب سے بڑھ کر کسی ملک کے دفاع کو تلواروں سے سہارا دیتی ہے ۔
 معمولی لوہے کو سٹیل میں تبدیل کرنے والا،  اُس بچے کا دادا تھا ۔
جو سٹیل بناتے بناتے ، بہت بڑی جائداد  کا مالک بن چکا تھا، جسے  انڈسٹری کہتے ہیں ، یعنی فونڈری جو   اُس کے ساتھ کام کرنے والوں  کی محبت اور "اتفاق"  کا ثمر تھی ۔ 
جو بھی اُس کے پاس جاتا وہ اُسے اُس کی مرضی کی مشینیں ڈھال کر دے دیتا ۔
پھر کیا ہوا ، اُس کے ساتھیوں کی خون پسینے کی کمائی،ملکہ کے وزیراعظم نے اُس کی جائداد ہتھیا کر ملکہ کے خزانے میں شامل کردی  ۔ وہ بہت رویا ، چلایا ۔ہر عدالت کے دروازے  لیکن اُسے معلوم نہ تھا کہ  عدالتیں بہری ، اندھی اور گونگی ہوتی ہیں  وہ صرف  ملکہ  یا وزیراعظم سے ملنے والی گدگدیاں یا ٹہوکے محسوس کرتی ہیں ۔
تو نوجوانو ! 

 جس کے خون پسینے کی جائداد ملکہ کے وزیر اعظم  نے ہتھیا لی تھی ۔ اُس  لوہار کے بھائی ، بہنیں ، بیٹے اور بیٹیاں، پوتے پوتیاں ، نواسے اور نواسیاں ، اُسی جائداد سے گذر بسر کرتے تھے ، وہ لوہار دوبارہ 25 سال پہلے کے دور میں  پہنچ   گیا جہاں سے وہ امن اور انصاف کی خاطر دوسری ریاست سے ، اِس ریاست میں آیا تھا ، جو کو مملکتِ خداداد، مشہور کیا گیا تھا ،  لوہار نے بڑی محنت سے پھر کاروباری طبقے میں اپنا دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا شروع کیا۔ 
اور آہستہ آہستہ پھر وہ مقام حاصل کرنے کی لگن میں  شہد کی مکّھی کی طرح  دوبارہ مصروف ہو گیا ۔جس کا شہد اُس کے بچوں سے چھین کر ہم کھا جاتے ہیں !
 تھڑا ہوٹل پر بیٹھی ہوئی نوجوانوں کہ یہ ٹولی ، دم ساھے بوڑھے کی باتیں سن رہی تھی !
  ٭٭٭٭٭٭
 پارٹ -2  ٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 4

اتوار، 16 دسمبر، 2018

فیلڈمارشل مانک شا اورپاکستانی کیپٹن

 28 جولائی 1999ء کو بھارتی فوج کے فیلڈمارشل مانک شا کو ایک ٹی۔وی انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ مانک شا پارسی تھے اورتب ان کی عمر 85 برس تھی۔ وہ اس انٹرویو کے نو برس بعد 94 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ 1971ء کی جنگ میں جب بھارتی افواج نے بنگلہ دیش میں پاکستان کو شکست دی تو مانک شا اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ وہ اس جنگ کے دو برس بعد 1973ء میں سبک دوش ہوئے۔
کرن تھاپر نے ایک ایسا سوال مانک شا سے کردیا جس کے جواب نے ان کروڑوں لوگوں کو ششدر کردیا جو اس وقت ٹی۔وی پر ان کا انٹرویو دیکھ رہے تھے۔ کرن تھاپر نے پوچھا کہ فیلڈمارشل صاحب آپ کو یہ جنگ جیتنے کا کتنا کریڈٹ جاتا ہے کیونکہ پاکستانی فوج نے وہ بہادری نہیں دکھائی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔
فیلڈمارشل مانک شا ایک لمحے میں ایسے پیشہ ور فوجی بن گئے جو اپنے دشمن کی تعریف کرنے میں بغض سے کام نہیں لیتے۔ مانک شا نے کہا، یہ بات غلط تھی۔ پاکستانی فوج بڑی بہادری سے ڈھاکا میں لڑی تھی لیکن ان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل دور جنگ لڑ رہے تھے جبکہ میں نے اپنی ساری جنگی تیاریاں آٹھ سے نو میل کے علاقے میں کرنا تھیں۔ ایک پاکستانی فوجی کے مقابلے میں میرے پاس پندرہ بھارتی فوجی تھے لہٰذا اپنی تمام تر بہادری کے باوجود پاکستانی فوج یہ جنگ نہیں جیت سکتی تھی۔
کرن تھاپر کو کوئی خیال آیا اور اس نے پوچھا کہ فیلڈمارشل ہم نے کوئی کہانی سنی ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے کومان پل کے محاذ پر بھارتی فوجیوں کے خلاف اتنی ناقابلِ یقین بہادری دکھائی کہ آپ نے جنگ کے بعد بھارتی فوج کا چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے اسے ایک خط لکھا جس میں اس کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے اتنے ناقابل یقین انداز میں لڑنے پر اسے خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔
مانک شا نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ بھارتی افواج ڈھاکا کی طرف پیش قدمی کررہی تھیں اور یہ پاکستانی کیپٹن ہماری فوج کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس اکیلے نے محاذ پر موجود بھارتی فوج کومشکلات میں مبتلا کرنا شروع کیا۔ ایک زوردار حملہ کیا گیا جو اس نے اپنی حکمت عملی کی بدولت پسپا کیا۔ بھارتی فوج نے دوسری دفعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے اس محاذ پر پہلے سے بھی بڑا حملہ کیا لیکن کیپٹن احسان ملک نے انھیں ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔ بھارتی فوج نے آخر اس محاذ پر تیسرا حملہ کیا تو تب کہیں جاکر انھیں کامیابی ہوئی۔ مانک شا بڑا حیران تھا کہ آخر اتنی بڑی بھارتی فوج کے حملے کے سامنے کون تھا جو شکست ماننے کو تیار نہیں تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے ان کی تمام کوششوں اور حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بچا یا لڑتا ہوا مارا گیا۔
جنگ ختم ہوگئی۔ جنرل نیازی مانک شا کے آگے ہتھیار ڈال چکے تھے لیکن مانک شا کا ذہن اس پاکستانی کیپٹن کی بہادری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مانک شا ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے ایک فاتح جنرل کی طرح بھارت واپس آیا۔ اپنے دفتر جاکر جو اس نے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ کاغذ قلم اٹھا کر کیپٹن احسان ملک کے نام ایک ذاتی خط لکھا اور اسے اپنے ملک کے لیے اتنی بہادری اور بے جگری سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ خصوصًا ان حالات میں کہ جب پاکستانی فوج کے پاس بھارت کے سامنے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ خط اس نے پاکستان کی فوج کو بھیجا کہ یہ اس بہادر کیپٹن کو دیا جائے۔
مانک شا نے اسی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انھیں بلا کر کہا تھا کہ آپ پاک فوج میں شامل ہو جائیں لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اب وہ بھارتی فوج کا حصہ تھے اور اپنے آپ کو بھارتی سمجھتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے اب ایک بھارتی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔

1971ء کی جنگ کو آج چالیس برس گزر گئے ہیں۔ آپ، میں اور ہماری نسلیں کیپٹن احسان ملک ستارہ جرءت کے نام سے واقف تک نہیں۔ جن کا 31 بلوچ رجمنٹ سے تعلق تھا، جو فل کرنل کے رینک سے ریٹائر ہوئے  اور    ایک ایسا کیپٹن جس کی بہادری نے فیلڈمارشل مانک شا کو اتنا متاثر کیا تھا کہ جنگ کے تیس برس بعد بھی 1999ء میں کرن تھاپر کو دئیے انٹرویو میں اس کا نام تک یاد تھا۔ جب کہ اس بہادر کیپٹن  کا نام ہم نے اپنی کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا اور نہ ہی ہمارے بچے پڑھیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے جو اپنی ساری زندگی اس وطن کی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ جو جیتے ہیں تو دولت کی خاطر اور مرتے ہیں تو دولت کی خاطر۔ جو امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر۔ اور جب وہ اقتدار کی ہوس میں لڑتے ہوئے ”شہید“ ہو جاتے ہیں تو ان کا نام تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ جبکہ کیپٹن احسان جیسے سپاہیوں کی حب الوطنی اور بہادری کے قصے ہم دشمنوں کی زبان سے سنتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 11 دسمبر، 2018

شگُفتہ نثر - ک سے کوفتہ ۔۔ف سے فالودہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
        اسلام آباد کی ایک سہانی شام میں بزم متاثرین میں آج ہم کوفتے اور فالودے کا نفسیاتی تجزیہ کریں گے۔ پھر اسکے بعد اس کے بخیے ادھیڑیں گے  پھر باتوں کے ساتھ بالوں کی بھی کھال اتاریں گے۔
 مانا ہوا سچ ہے کہ ہم خواتین کوفتے پکانے کے ساتھ ساتھ باتوں کے بگھار لگانے میں بھی ماہر ہوتی ہیں البتہ یہ نہ پوچھیئے گا کہ بھلا کوفتے میں بال کہاں سے آئے؟
  کوفتہ تو خود بال ہوتا ہے اور انگلش میں اسے meat ball ہی کہتے ہیں۔
کوفتے کا نام سنتے ہی ہمارے کانوں میں پانی آجاتا ہے۔ معاف کیجیے ہم دو باتوں کو خلط ملط کر گئے ہیں۔پہلی بات یہ کہنا چاہی تھی کہ ہمارے کانوں میں مشہور مزاح گو شاعر انور مسعود صاحب کا نام گونجنے لگتا ہے جن  کی مقبول عام نظم" کوفتہ "ہے جسے وہ ہر مشاعرے میں لازمی سناتے ہیں اور سننے والے بار بار کوفت زدہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
دوسری بات یہ تھی کہ کوفتے کا نام سنتے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ کوفتے یوں بھی ہماری پسندیدہ ڈش ہیں۔ سادہ کوفتے کا سالن، آلو کوفتے کا سالن، انڈوں اور کوفتوں کا سالن، بیف کے سوا چکن کوفتوں کا سالن اور سب سے بڑھ کر نادر و شاہی پکوان نرگسی کوفتے جن کو قبولیت خاص کا درجہ حاصل ہے، اس کی وجہ نام سے ہی ظاہر ہے۔

انور مسعود صاحب نے اپنی نظم میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کوفتہ بنانے والے، بلکہ والیاں، بڑی محنت کرکے پہلے تو گوشت کا قیمہ بناتے ہیں پھر اس قیمے کو دوبارہ ٹھوس شکل میں لے کر آتے ہیں ۔اس قسم کی حیرتوں کا ہم تو اکثر ہی شکار ہوتے ہیں۔ جیسے ماں باپ اپنے بیٹوں کو پال پوس کر بڑی محنت سے آدمی بناتے ہیں اور پھر وہی اسے ایک عورت کے حوالے کردیتے ہیں جو اسے بے وقوف بناتی ہے۔ ویسے یہ خواتین کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو جو ان کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے،  مرغا بنائیں یا گدھا  اور پھر اس کا قیمہ بنائیں یا کوفتہ بنائیں۔ 
ہنسنے کی بات نہیں ہے اگر آپ غور سے سوچیں گے تو پتہ چلے گا کہ شادی کے کچھ ہی عرصے کے بعد کوئی بھی شریف آدمی شریف تو رہ جاتا ہے آدمی نہیں رہتا۔ بیوی کی لگاتار فرمائشوں کی کوفت، اسے کوفتے میں تبدیل کردیتی ہے اور بیچارے کی کوفتے جیسی شکل نکل آتی ہے۔ بہر حال اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ ادھر ادھر شادی شدہ لوگوں کو دیکھنا شروع کردیں اور پھر ان کی شکل پر کوفتے تلاش کریں، کیونکہ پکوڑے تو بہت سے چہروں پر نظر آجاتے ہیں مگر کوفتوں کو دیکھنے کے لیے خاص نظر چاہیے۔ 
واصف علی واصف کا قول زریں ہے کہ "مقامات صبر تو مقامات شکر بنانا خوش نصیبوں کا کام ہے"۔
چند کوفت زدہ شوہروں کی قسم ایسی بھی ہے جو ان فرمائشوں کو پورا کرنے کی سکت رکھیں نہ رکھیں لیکن ظرف بھی نہیں رکھتے۔

ایک شیخ صاحب اپنے دیرینہ دوست کو بتا رہے تھے۔۔۔یار تمہاری بھابھی بہت فضول خرچ عورت ہے۔ روز مجھ سے رقم مانگتی ہے کبھی دو ہزار کبھی پانچ ہزار ۔۔۔۔آج تو حدہی ہو گئی صبح صبح  ناشتے کے دوران دس ہزار مانگ لیے ۔۔۔اکھٹے دس ہزار۔۔۔۔سارا ناشتہ برباد ہوگیا اور میں کوفت زدہ نکل آیا۔
دوست سے حیرانگی سے پوچھا ۔.اتنی رقم بھلا کیا کرتی ہے بھابھی؟
  پتا نہیں یار! میں نے بھی کون سا کبھی دیئے  ہیں۔ "
 انور مسعود کے علاوہ دلاور فگار نے بھی کوفتوں پہ خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ لیکن فالودے جیسی عوامی ڈش پر ہمیں ڈھونڈے سے کچھ کلام نہ مل سکا ہے۔ چونکہ اب یہ حقوق کی جنگ ہے۔ عوام کی پسند کو اظہار کا راستہ ملنا چاہیے۔ ان کو اردو ادب میں ممتاز مقام دینا ہمارا فرض ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب سے استدعا کی جاتی ہے اب کے اس جانب ضرور توجہ کیجیے ۔
بات فالودے کی بھی کرنی پڑے گی ۔ورنہ متاثرین، ٹیکنیکل بنیادوں پر ہمیں ناک آؤٹ کردیں گے۔ ویسے تو ہمارے بزرگ، جن میں بڑے بھائی بہن، ٹیچرز، مولوی صاحبان، محلے والے سب ہی شامل ہیں، ساری زندگی ہمیں ناک آؤٹ، کان آؤٹ اور ہونٹ آؤٹ کرتے ہی آئے ہیں۔ مگر وطن میں اس اجنبی شہر میں کسی بھی قسم کا آؤٹ ہونا ہمیں وارا نہیں کھاتا اس لیے ہم بات کرتے ہیں۔ ورنہ!!!
حالات ملک کے ایسے تھے۔۔۔۔ ایسے ہی ہیں۔۔اور ایسے ہی رہیں گے۔۔چند لوگ اٹھ کر سب کو کوفت میں ضرور ڈالتے ہیں لیکن پرسکون حالات میں جینے والی قوم کو تبدیلی لانا یا تبدیلی کے لیے اٹھنا بہت کوفت میں مبتلا کرتا ہے۔۔۔۔۔
فالودے کے بارے میں سب سے پہلے یہ تحقیق کرنی پڑے گی کہ یہ مائع ہے یا ٹھوس۔ جو لوگ اسے مائع کہتے ہیں وہ ہاتھ اٹھائیں۔ ٹھیک ہے، ورنہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ مائع اور ٹھوس گروپوں کے درمیان کہیں جنگ و جدل نہ شروع ہوجائے اور ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر کسی قسم کا خون خرابہ برداشت نہیں کرسکتے۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو فالودے جیسی نازک مخلوق کو ٹھوس کہنے کی جرات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے شائد ٹھوس چیزیں دیکھی نہیں ہیں۔ انہوں نے شائد ٹھوس دلائل بھی کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا کی سب سے ٹھوس دلیل ڈنڈا ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں ہر میدان میں ہر دلیل کا جواب یہی ڈنڈا ہے۔ 

فالودے کا نام اتنا ہی پیچیدہ ہے جنتا فالودہ خود ہے۔ اس نام کو سنتے ہی سب سے پہلے تو 'follow' کا لفظ ذہن میں گونجتا ہے، پھر "لوُ " کا خیال آتا ہے، پھر آلودہ کا لفظ سامنے آتا ہے۔ اور جتنا اس کا نام پیچیدہ ہے اتنا ہی اس کو کھانے کا کام بھی پیچیدہ ہے یعنی ایک تو آپ کو اس کے لچھوں کو فالو کرنا پڑتا ہے جو چمچے کی گرفت میں آنے سے ویسے ہی انکار کردیتے ہیں جیسے ووٹر امیدواروں کے پھندے میں پھنسنے سے مکر جاتے ہیں اور سائیکل والوں سے مال کھا کر شیر کو آشیرباد دے آتے ہیں۔
 فالورز سے یاد آیا۔۔۔۔فیس بک پر مقبولیت کی دلیل ہی فالوروز کی تعداد ہے۔
اللہ معاف کرے پانچ دس ہزار فالورز تو کوئی بات ہی نہیں۔
کچھ مقبول عام شخصیات کے 25 ہزار فالورز ہوتے ہیں۔
 اوہو بات پھر کہیں نکال گئی واپس آتے ہیں فالودہ پر ۔
جدھر مینڈک کے انڈوں جیسا تخم بالنگہ جو لُو کے موسم میں گرمی کو دور کرتا ہے منہہ سے پھسل پھسل جاتا ہے اور ساتھ ساتھ قلفی بھی آپ کے کپڑوں کو آلودہ کرتی جاتی ہے۔ بلکہ میرا تو ذاتی اور بڑی حد تک بدذاتی خیال یہ ہے کہ فالودہ کا لفظ "فیر آلودہ"سے ہی نکلا ہے۔

اب ہم کوفتے اور فالودے کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ:

 کوفتہ نمکین ہے اور فالودہ میٹھ۔

کوفتہ ٹھوس ہے اور فالودہ پلپلا۔
کوفتہ گول ہے اور فالودہ لمبا۔
 کوفتہ گرم ہے اور فالودہ ٹھنڈا۔
 کوفتہ سورج ہے اور فالودہ چندا۔
 لیکن ان دونوں میں اتنا ہی فرق ہونے کے باوجود جتنا تیر اور شیر میں ہے دونوں کی جوڑی ہے بہت خوب، اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈائننگ ٹیبل کی کابینہ میں دونوں کی نمائندگی ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں ہمارا نعرہ ہے.....
KOFTA FOLLOWED BY FALOODA


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭- شگُفتہ  نثر  کی چوتھی  محفل

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔