میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 11 دسمبر، 2018

چوتھی محفل - شگفتہ نثر

چوتھی محفلِ مناثرہ منعقدہ 8 دسمبر 2018 بمقام ڈی ایچ اے اسلام آباد 
رپورٹ : حبیبہ طلعت
 8 دسمبر 2018 کی شام کو، اور مقام ڈی ایچ اے -1، میں نعیم الدین خالد صاحب کی رہائش گاہ کا خوبصورت بنگلہ ہو تو خنکی تو ہونی ہی تھی، مگر شگفتہ اور کھلکھلاتے الفاظ کے شہسواروں کی محفل نے فضا کو قہقہہ بار بنایا ہوا ہو تو خنکی یوں بھی لطف سامان ہو جاتی ہے۔
 یہی کچھ ہوا بھی۔ پھر بیگم خالد کی میزبانی، اور خالد صاحب کی شریک میزبانی کا مزا مستزاد۔ 
شگُفتہ نثر۔  کا جو پودا 30 ستمبر کوآصف اکبر صاحب نے لگایا اور  شگُفتہ بیانی کے آٹھ متوالوں نے آبیاری کی ۔
  اِس پودے میں یہ چوتھا پھول کھلا، جس کی پہلی پنکھڑی پرآصف اکبر صاحب کا نام لکھا ہوا تھا اور جنہوں نے طبعی فاصلے مٹاتے ہوئے کراچی سے اس محفل میں آن لائن بطور اوپننگ بیٹسمین کے ۔ " داستان چوتھے درویش کی جو ایک استاد تھا" بیان کرتے ہوئے مسکراہٹوں کے چوکے اور ہنسی کے چھکے لگائے جبکہ حاضرین محفل نے ان کے  ہر شاٹ کو کیچ کر کے داد دینے میں کوئی کمی نہیں اٹھا رکھی۔
 ان کے بعد مسٹر اینڈ مسز نعیم خالد کے مناثرین نے جن کو مہمان نہ ہونے کے باوجود، کہ ماحول بالکل ایک گھر کے افراد جیسا ہی تھا، مہمان کہنا پڑے گا، اپنے نثر پارے پیش کیے۔ جس کے بعد محفل میں مسکراہٹیں اور قہقہے بکھیرنے میں سب کے نام اور کام کچھ ہوں تھے۔ 
نعیم الدین خالد صاحب نے اپنی کمیشن میں انٹری کی دلچسپ رودا د ۔۔ ۔ ۔  شخصی آزادی کا آخری دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیش کی۔
 عاطف مرزا صاحب نے تھیسز نگاری پر بھرپور اینٹی تھیسز پیش کیا۔
 ڈاکٹرعزیز فیصل صاحب نے اپنے بچپن کا قہقہ بار فلیش بیک۔ ۔ ۔  "اور ہم چپ ہی رہے" ۔ ۔ ۔ پیش کیا۔
 ارشد محمود صاحب نے مختصر "جازم نامہ" سنایا۔
 ڈاکٹر ناہید اخترصاحبہ بے تالہ توڑ مہم جوئی کا پرلطف احوال پیش کیا  ۔
حبیبہ طلعت نے کوفتہ اور فالودہ کے موضوع پر اپنا تخلیقی مقالہ پیش کیا۔

 اِس شام متبّسم الفاظ نے اپنی تمام تر شوخی کے ساتھ دیر تک رقصاں رہ کر مزاح پروروں کو کِھل کھِلا  کر ہنسنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا۔
 امید کی جاتی ہے کہ مزاح کی لہریں اس چور دروازے سے شہر میں داخل ہوکر شہر اور گرد و نواح کو لطفِ بیان سے سیراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔ 
شگُفتہ نثر پارے پیش کرنے کے بعد ڈاکٹر عزیز فیصل صاحب نے "اور ہم چپ ہی رہے" ترنم میں گنگنا کر محفل کو سریلا کہا اُن کی دیکھا دیکھی ڈاکٹر ناہید کے اندر کا کلاکار بھی باہر نکلا اور انہوں نے ایک خوبصورت گیت سنایا۔
پروگرام کا اختتام ایک پرتکلف ضیافت پر ہوا جس کے لئے شرکاء نے مسز نعیم الدین خالد صاحبہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔



Image may contain: 2 people, people sitting
Image may contain: 2 people, people sitting


Image may contain: 2 people, people sitting and indoor




Image may contain: 1 person, sitting and indoor+2
Image may contain: 3 people, people sitting




Image may contain: Arshad Mehmood, sitting, beard and indoor٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ٭-  شگُفتہ  نثر  کی پہلی محفل
٭-  شگُفتہ  نثر  کی دوسری محفل
 ٭- شگُفتہ  نثر  کی تیسری محفل

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔