میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 18 دسمبر، 2018

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -3

نوجوانو! یہ تمھاری پیدائش  سے  پہلے کا  واقعہ ہے یا شائد  آپ لوگ پوتڑوں میں لپٹے ماں کی گود سے نکل کر  باہر دوڑ جاتے  ہوگے، اور  تمھیں کسی نے نہ سنایا ہو  یا شائد  تم لوگوں نے  بیرونِ ملک ِجدید کے  نظریات پڑھنے  کی خاطر سنی ان سنی کر دی ہو گی !
یہ بہت پرانی کہانی ہے ایک لوہار کی ، جس کو سونے سے زیادہ قیمتی  وہ لوہا لگتا تھا ، جسے وہ آگ میں  تپا کر کوٹتا تھا ،
 ڈھا ، ڈھا ، ڈھا ، دھک ،
دھک ، دھک  دھک ،ٹن
ٹن، ٹن ، ٹن ٹرررن 
ٹرررن کی آواز آتے ہی اُس کے محنتی چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ، کیوں کہ لوہا  اُس کے مضبوط ہاتھوں سے لگنے والے ہتھوڑے  کی ضربوں سے سٹیل میں تبدیل ہونے لگتا ۔ اور سٹیل  سب سے مضبوط اور قیمتی دھات ہے ۔ جو بڑی بڑی عمارتوں ، پلّوں  اور سب سے بڑھ کر کسی ملک کے دفاع کو تلواروں سے سہارا دیتی ہے ۔
 معمولی لوہے کو سٹیل میں تبدیل کرنے والا،  اُس بچے کا دادا تھا ۔
جو سٹیل بناتے بناتے ، بہت بڑی جائداد  کا مالک بن چکا تھا، جسے  انڈسٹری کہتے ہیں ، یعنی فونڈری جو   اُس کے ساتھ کام کرنے والوں  کی محبت اور "اتفاق"  کا ثمر تھی ۔ 
جو بھی اُس کے پاس جاتا وہ اُسے اُس کی مرضی کی مشینیں ڈھال کر دے دیتا ۔
پھر کیا ہوا ، اُس کے ساتھیوں کی خون پسینے کی کمائی،ملکہ کے وزیراعظم نے اُس کی جائداد ہتھیا کر ملکہ کے خزانے میں شامل کردی  ۔ وہ بہت رویا ، چلایا ۔ہر عدالت کے دروازے  لیکن اُسے معلوم نہ تھا کہ  عدالتیں بہری ، اندھی اور گونگی ہوتی ہیں  وہ صرف  ملکہ  یا وزیراعظم سے ملنے والی گدگدیاں یا ٹہوکے محسوس کرتی ہیں ۔
تو نوجوانو ! 

 جس کے خون پسینے کی جائداد ملکہ کے وزیر اعظم  نے ہتھیا لی تھی ۔ اُس  لوہار کے بھائی ، بہنیں ، بیٹے اور بیٹیاں، پوتے پوتیاں ، نواسے اور نواسیاں ، اُسی جائداد سے گذر بسر کرتے تھے ، وہ لوہار دوبارہ 25 سال پہلے کے دور میں  پہنچ   گیا جہاں سے وہ امن اور انصاف کی خاطر دوسری ریاست سے ، اِس ریاست میں آیا تھا ، جو کو مملکتِ خداداد، مشہور کیا گیا تھا ،  لوہار نے بڑی محنت سے پھر کاروباری طبقے میں اپنا دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا شروع کیا۔ 
اور آہستہ آہستہ پھر وہ مقام حاصل کرنے کی لگن میں  شہد کی مکّھی کی طرح  دوبارہ مصروف ہو گیا ۔جس کا شہد اُس کے بچوں سے چھین کر ہم کھا جاتے ہیں !
 تھڑا ہوٹل پر بیٹھی ہوئی نوجوانوں کہ یہ ٹولی ، دم ساھے بوڑھے کی باتیں سن رہی تھی !
  ٭٭٭٭٭٭
 پارٹ -2  ٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 4

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔