میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 18 دسمبر، 2018

ظالم لوگ ۔ کاکا نٹور سنگھ لال

 وہ  بہن بھائی نہایت ناز و نعم میں پلے تھے ۔ قسمت کی دیوی سونے کا تھال لے کر اُن کے گھر پر منڈلایا کرتی تھیں  ۔
 باپ سرکاری ملازم تھا ۔ ہر مہینہ اتنی رقم کماتا تھا ۔ کہ اُس کا اکلوتابھائی ہر مہینے "کیڈی لیک " کار خرید سکتا تھا ۔ 
مگر قسمت نےپلٹا کھایا ، اُس کے باپ کو  ایک نہایت ایماندار ملک کے سربراہءِحکومت  نے نوکری سے نکال دیا ، اُن دونوں احتساب کا ادارہ نہیں بنا تھا اور نہ ہی کوئی نیب تھا ۔ جس کی وجہ سے ،" بَٹ اور کندھے  کا ملاپ " ممکن نہ تھا ۔ 
باپ کے نوکری سے نکالے جانے کے بعد ، جو سرمایہ جمع کیا تھا وہ ، کم نہ ہوا ۔ بلکہ بڑھتا گیا ۔  بھائی  نے سوچا کہ وہ بھی ایک دن ملک کا سربراہ بن کر یہی کام کرے گا کہ وہ بھی لوگوں کو نوکری سے نکالے گا ۔
بھائیوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، اور اگر خوبصورت ہوں تو بہت سی قسمت  کی  دیویاں مدد کے لئے تیار ہوجاتی ہیں ، جس کو دنیا والے نہایت معیوب سمجھتے ہیں  اور رات کو دیر تک نوکری کرنے والوں کو آوارہ پنچھی کا طعنہ دیتے ہیں ۔ 
ہاں تو بات ہورہی تھی ،
ایک بہن کی جس کا بھائی نہایت تگ و دو سے محنت کر رہا تھا ، بہن نے بڑھنے کے بعد  نوکری تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر اُس کو کِسی نے نوکری نہیں دی ، ایک دن وہ تاریخ کے ورق اُلٹ رہی تھی کہ اُس کے سامنے ایک نہایت غریب بادشاہ کی کہانی ملی جو ، ٹوپیاں سی سی کر بیچتا اور اپنا " گذارا" کرتا ۔
بہن کو ایک نئی ہمت ملی ۔ اُن نے کروسیہ خرید اور سفید ڈی ایم سی دھاگہ ۔ ماں نے اُسے بچپن  میں گڑیوں کی ننھی ننھی ٹوپیاں بنانا سکھایا تھا ۔ 
اُس نے ٹوپیاں بنانا شروع کر دیں، جس دس  کے قریب ٹوپیاں بن گئیں تو وہ  ایک دن  ہمت کر کے وہ ٹوپیوں کو   نیازی چنگیر  میں لے کر فجر کے بعد  بیچنے نکلی ،  12 بجے تک تو کیا ایک بجے تک کوئی ٹوپی نہیں بِکی ۔  ایک بجے وہ واپس جانے کے لئے مڑی تو ایک آدمی اُس سے ٹکرایا ، اُس بے چاری کی ٹوپیاں زمین پر گر گئیں ۔
" اُوئی  ، میری ٹوپیاں " اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا
وہ بندہ نہایت شرمندہ ہوا ، " اوہ سوری باجی " وہ بولا ،" میں ، میں  نقصان پورا کر دیتا ہوں "
اُس بندے نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب سے مٹھی بھر سکّے نکالے اور اُس کی نیازی ٹوکری میں ڈال دئے اور گری ہوئی ٹوپیوں سے ایک اُٹھا کر  اپنے سر پر پہنی اور مسجد کی طرف بڑھ گیا ۔

اُس نے نوٹوں پر نظر ڈالی تو ششدر رہ  گئی ، اتنے سکّے !!
" ارے سنو تو "  اُس نے پکارا ، مگر وہ نوجوان  تیزی  مسجد کے عظیم الشان دروازے میں داخل ہو چکا تھا ۔

اب کیا کروں ؟ اُس نے سوچا ۔
یہاں اُس کا انتظار کرتی ہوں شاید وہ  جمعہ پڑھ کر اِسے راستے سے واپس آئے !
جب سب نمازی نکل گئے وہ مایوس ہوگئی  ،
شاید وہ دوسرے دروازے سے نکل گیا ہو ؟ اُس نے سوچا 

کہ اچانک وہ   مسجد کے عظیم الشان دروازے سے  سر جھکائے نکلتا نظر آیا ۔ 
وہ خوشی سے باغ باغ ہو گئی ۔
جب وہ اُس کے قریب پہنچا ، تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے آنسو نکال رہے ہیں ۔  
وہ آہستہ آہستہ قدموں سے اُس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ 
جب وہ بے خیالی میں اُس کے پاس سے گذرا تو !
اُس نے آواز، " سنو بھائی ! آ پ نے  جلدی میں مجھے زیادہ سکّے دے دیئے ہیں " یہ کہتے ہوئے اُس ایماندار  خاتون نے اُسے سکّے واپس کرنا چاھئے ۔
" نہیں نہیں ، یہ   اپنے پاس ہی رکھیں " وہ لجاتے ہوئے بولا " جو ٹوپی آپ نے مجھے پہنائی ہے ، اُس نے میری  دنیا ہی بدل دی "

یہ کہہ کر وہ آگے اپنی عالی شان کار کی طرف بڑھ گیا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پاکستان کے اعلیٰ تفتیشی   ادارے نے  اپنی رپورٹ  جمع کروائی:
۔۔۔ چا ر نہایت  تیز و طرار ، ذہین و فطین ، حاضر دماغ اور لاجواب ، پِسو  تک جیسے مجرم کی بال کی کھال اُتارنے والے  اور اُس کا جوتا بنا کر جوں کی دھنائی کرنے والے ، باکمال اور با تجسس  نوجوانوں نے پوری چھان بین کے بعد   اپنی تحقیقات  لکھیں جو  عدالتِ غالیہ کے پیش خدمت ہے ۔۔۔
1- باجی  علیمہ نے دو عشرے قبل ،  انیل مسرت  نامی ایک نوجوان کے لئے ہر جمعہ ایک نئی ٹوپی  بنا کر دینے کا عہد کیا  ( عہد نامہ ساتھ عربی زبان میں لَف ہے ) 
2-  انیل  مسرت نامی شخص   نے ٹوپی خریدنے سے پہلے ، ٹوپی کی مکمل رقم سکّہ رائج الوقت میں ادا کی ۔
3- باجی  علیمہ ،   وہ  ٹوپی اپنے ہاتھ سے انیل مسرت نامی مذکورہ نوجوان کو  اپنے ہاتھ سے پہناتی ،
4- باجی  علیمہ ،    اُس پیسوں  کی دُبئی  کے لق و دق  صحرا میں جھونپڑیاں خریدتی ۔
باجی علیمہ کی شب و روز محنت کی کمائی نے حاسدوں کے دلوں پر آڑے نہیں چلائے  بلکہ حسد کے بھانبڑ اُن جھونپڑیوں نے چلائے  جو بڑی ہو کر قد آور پلازے بن گئیں ۔

برائے اطلاع عرض ہے ۔  
دستخط ، تفتیشی افسراں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :
پاکستانی تو کسی کو بھی اپنی محنت سے ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے !
برائے فیصلہ منتظر 
دستخط ، تفتیشی افسراں کا باس 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔