میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 28 دسمبر، 2018

صحافت اور صحافی

 میں روزنامہ "لکیر" کا صحافی ہوں۔
 میں ایک دن گوشت والے کے پاس گیا اور دو کلو گوشت طلب کیا۔ اور اس پر رعب ڈالنے کےلئے تا کہ وہ مجھے اچھا گوشت دے، میں نے اسے اپنا پریس کارڈ دکھایا، کارڈ دیکھ کر اس نے اپنا چھرا سائیڈ پر رکھا اور اپنی جیب سے روزنامہ "روشناس" کا کارڈ نکال کے دکھایا جس میں موصوف نامہ نگار تھے۔چنانچہ میں کھسیانا سا ہو کر رہ گیا۔
 اس کے بعد میں ایک موچی کے پاس گیا، اس کو جوتا پالش کرنے کےلئے دیا اور حسب سابق رعب ڈالنے کےلئے تاکہ اچھا جوتا پالش کرے ، میں نے اسے اپنا کارڈ دکھایا، کارڈ دیکھ کر اس نے اپنا برش سائیڈ پر رکھا، اور اپنی صندوقچی سے اپنا چیف ایڈیٹر روزنامہ "تحقیق" کا کارڈ نکال کر دکھایا جسے دیکھ کر دن میں میری آنکھوں کے آگے تارے جھلملانے لگ گئے۔ مرتا کیا نہ کرتا شرمندگی کی حالت میں جوتا وصول کیا 

اور آگے سبزی والے کی طرف رخ کیا۔ اس کو سبزی کا آرڈر دے کر ڈرتے ڈرتے میں نے اپنا کارڈ اسکو دکھایا تاکہ سبزی خراب نہ دے، اس نے کارڈ دیکھ کر شاپر سائیڈ پر رکھا اور جیسے ہی اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا!!!!!
میں نے اپنا سامان سنبھالا اور بھاگنے میں ہی غنیمت سمجھی۔
( منقول) 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محلّے کی تازہ ترین خبریں  سنانے والی خالہ  صحافت میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے ، مگر کارڈ نہیں !

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔