میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 23 دسمبر، 2018

ضائع پیٹرول کی ری سائیکلنگ


نون لیگ کی غلط پلاننگ کے سبب


وہاں سے بارش کے ساتھ پانی میں مل کر زمین پر آتا ہے ۔ 
اور ہمارے سمندر میں ایک پہاڑی کے نیچے جمع ہوجاتا ہے اور سخت گرمی سے گیس میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔اِس وقت وہاں بے تحاشہ گیس کے ذخائر بن چکے ہیں ۔
اگر اٹھارویں ترمیم کو ختم کروادیا جائے تو  وفاقی حکومت اپنے ذرائع سے سندھ کے صوبائی سمندر  میں  موجود    پہاڑی میں ڈرل کرواسکتی ہے ۔ جس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ زرداری  حکومت ہے ۔
اگر یہ کام ہوجائے تو ، وہاں سے نکلنے والی  گیس اُس وقت تک ختم نہ ہو جب تک پی ٹی آئی کی حکومت رہے ۔
خلائی مخلوق  کے خلائی سروے کے مطابق ، کم از کم یہ مدّت پچاس سال یا اُس سے زیادہ کی ہوسکتی ہے ، کم نہیں (فواد چے ) 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔