میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 9 دسمبر، 2018

غالب- ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

  
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے 
تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
 نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا 
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے 
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
 وگرنہ خوفِ بد آموزیٔ عدو کیا ہے
 چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
 ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
 جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا 
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے 
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل 
جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے 
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز 
سوائے بادۂ گل فامِ مشک بو کیا ہے
 پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
 یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
 رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
 تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
 ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
 وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے !


1 تبصرہ:

  1. ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

    اِس پر اے ڈی سی پورے اُترتے ہیں۔

    :)

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔