میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 7 دسمبر، 2018

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -2

 تو دوستو ، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ، ملک ِ فرنگیہ کی ملکہ  کا تاج چوری ہو گیا۔
پورے ملک میں ڈُھنڈھیا پڑ گئی ، جاسوسوں   نے سُونگھ لینا شروع کردی اورفرنگیہ  کوتوال نے    شہر سے نکلنے والے سارے راستے بند کر دیئے ۔ 
لیکن کچھ معلوم نہ ہوا کہ تاج کہاں گیا ؟

کئی سال گذر گئے ،  برطانوی پولیس نے ایک اطلاع پر ،محل کے ایک ملازم کے گھر چھاپہ مارا، پولیس وہاں پہنچی،  تو اُس دیکھا کے محل کا ملازم صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے اور اس کا دس سال کا بچہ ، اُس کے قدموں میں مسروقہ تاج سے کھیل رہا ہے۔
 پولیس نے محل کے ملازم کو گرفتار کر کے متعدّد دفعات لگا کر اُسے عدالت میں پیش کردیا۔ ان دفعات میں سے ۔
ایک: سیکشن 9(4) شاہی محل میں نقب زنی اور چوری اور
 دوسری سیکشن 9(5) قبضے سے مال مسروقہ کی برامدگی تھی۔
 استغاثہ نے یہ جانتے ہوئے کی پہلی دفعہ میں جرم ثابت کرنا محال ہے، تمام تر توجہ دوسری دفعہ پر لگادی   جس پر ، ظاہر ہے، ملزم رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے جرم تقریباً ثابت شدہ تھا ۔
 ملزم کو بھرپورموقعہ دیا گیا ، تاکہ مُلک کے قانون کے مطابق وہ  اپنی صفائی پیش کرے، لیکن  ملزم ملکہ کے  تاج کی اپنے گھر میں موجودگی کی  کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا ۔
 عدالت نے فیصلہ لکھتے ہوئے لکھا،
" سیکشن 9 (4) میں ملزم پر نقب زنی اور چوری کا جرم ثابت نہیں ہوا مگر سیکشن 9 (5) کے تحت مال مسروقہ اُس کی  تحویل سے برآمدگی کا  جرم میں سزا سنا دی گئی" ۔
 اس پر ملزم کے حواریوں نے شور مچا دیا کہ،
٭-  چوری تو ثابت نہیں ہوئی تو سزا کس بات پر دی گئی؟
 ٭- دوسرا یہ کے تاج تو بچے کے پاس تھا، باپ کو سزا محض مفروضے پر دی گئی۔
دوستو ! آپ کا کیا خیال ہے ، کہ کیا واقعی وہ شخص مجرم ہے ؟
یہ کہتے ہوئے ، داستان سنانے والے  کی پورے بتیسی باہر جھانکنے لگی ۔
 سب نے ، سپاٹ چہروں کے ساتھ خاموش نظروں سے  ایک دوسرے کی طرف  دیکھا !
ایک کھنکار کی آواز آئی ،
سب کی نظریں بوڑھے کی طرف اُٹھ گئیں  ،  بوڑھا بولا ۔
" پُتّر  اچھی کہانی تھی ،لیکن اُس ک سبق آموزیت میں کافی جھول ہے ، اب  ایک کہانی  میں سناتا ہوں !  
وہ زیادہ سبق آموز ہو گی ۔ اجازت ہے ؟
 سب نے خاموشی سے بابے  کی طرف دیکھا ، کوئی جواب نہ پا کر بابا بولا ۔
  اجماع ِسکوتی ، یعنی منظوری !
 پارٹ -1  ٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 3

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔