میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 23 جولائی، 2019

آپک کا ٹائر اور آپ کی زندگی

میں نے کل اپنے ڈرائیور کو بلایا اور پوچھا، "ٹائر فیکٹری سے تیار ہونے کے بعد کتنے سالوں تک محفوظ رہتا ہے"؟
 اس نے مجھے مریخ سے آئے کسی اجنبی کی مانند حیرت سے دیکھا، اور ایک اظہارِ خوف کی کیفیت میں پوچها، "ٹائر کبھی غیر محفوظ بهی ہوتا ہے"؟
 ابھی تک وہ پیشہ ورانہ طور پر آٹھ سال سے گاڑی چلا رہا ہے۔ مگر یہ نہیں ‌جانتا تها کہ ہر ٹائر کی ایک ختم ہونے والی تاریخ ہے جس کے بعد اسے تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بعد ٹائر کے پهٹنے کا شدید اندیشہ ہوتا ہے جو دورانِ سفر‌ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 

یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی چار سال تک ہوتی ہے۔
   اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟
 یہ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کے طور پر لکھی ہوتی ہے۔جیسے 5012
 پہلے دو ہندسے  50 تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، یعنی سال کا 50واں ہفتہ  یعنی دسمبر کا دوسرا ہفتہ ۔
جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔جیسے 12  یعنی   ،2012 ۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر الگ لکهے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ 
کچھ کمپنیاں چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*) بهی بناتی ہیں۔
 *مثال کے طور پر‌* اگر یہ چار ہندسے 1212 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال 2012 کے 12 ویں ہفتہ یعنی (مارچ کے آخری ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ 
یعنی‌اس ٹائر کی محفوظ میعاد2016 کے 12 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔
 لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔
 کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔
 مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکهے بغیر ادویات کا استعمال‌ کرنا۔
 مگر میرا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ 
*نوٹ:
 اب جب آپ یہ جان چکے ہیں تو تهوڑی سی تکلیف کریں، اپنی‌ گاڑی کے پاس جائیں، اور جهک کر اپنے ٹائر کی تیاری کی تاریخ کو چیک کریں، اور اس کے بعد سے چار سال تک کی مدت میعاد یاد رکهیں، تاکہ آپ اور آپ کے پیارے ہر سفر میں محفوظ ہوں۔  

درخواست: اس تحریر کو آپ بیشک اپنے نام سے آگے پهیلا‌ لیں‌۔ مگر اپنے پیاروں کے تحفظ کے لیے ان تک یہ آگاہی ضرور پہنچائیں۔ 
سب کا بھلا، سب کی خیر۔  ایک ہمدرد 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پاکستان سے جاتے وقت پیکنگ لازمی ہے


جمعہ، 19 جولائی، 2019

کالی مرچ ایک دلچسب کہانی !

  کالی مرچ جس کی تلاش میں انڈیا یورپ والوں کے ہاتھ آ گیا تھا  .




کیا آپ کو یہ معلوم ہے ۔۔ کہ کالی مرچ کہاں سے آتی ہے ۔۔ اور کس طرح پیدا ہوتی اور تیار کی جاتی ہے ۔۔ اس مسالے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھنیچ کر لائی تھی ۔۔ اور بالاخر وہ ہمارے حاکم بن بیھٹے تھے ۔۔کسی زمانے میں یہ اتنی قیمتی تھی ۔۔ کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا ۔۔ اور مہمانوں کیلیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا ۔۔ یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مسالے کی ہر کسی کو تلاش تھی ۔۔ لیکن انکو یہ معلوم نہیں تھا ۔۔ کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے ۔۔ اور اسے کیسے تیار کیاجاتا ہے ۔۔

اس کے متعلق وہاں کئ کہاوتیں مشہور تھیں ۔۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والےانتہائی زہریلے سانپ کالی مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں ۔۔ اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مسالے کوحاصل کرتے ہیں ۔۔ جسکی وجہ سے اسکا رنگ کالا ہوتا ہے ۔۔ اور اسمیں آگ کا زائقہ پایا جاتا ہے ۔۔ کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرلا کے علاقے میں ہے ۔۔ جہاں یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے ۔۔ یہاں کے لوگ ہزاروں سالوں سے ان بیریوں کو چن کر ان سے مسالہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں ۔۔

کئی صدیوں تک یورپ میں بیچنے اور اس سے بے شمار دولت کمانے والے صرف عرب تاجر تھے ۔۔ کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے ۔۔ اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے ۔۔ اور اوپر سے اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپی لوگوں کی بے بنیاد کہاوتیں بھی ان تاجروں کیلیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں ۔۔ اسطرح انہیں اس مسالے کی تجارت پر مکمل تسلط حاصل تھا ۔۔ لیکن اسکے ختم ہونے کا وقت زیادہ دور نہیں تھا ۔۔ یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے ۔۔ تین دن کیلئے سبز بیریوں کودھوپ میں سُوکھا کر کالی مرچ تیار جاتی ہے ۔۔ اس مسالے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا ۔۔ البتہ پندرویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال '' کالی موت '' یا طاعون کے علاج کیلئے بھی شروع ہوگیا ۔۔ جسکے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے ۔۔ اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکو ڈ ی گاما کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا ۔۔ واسکو ڈ ی گاما کا فلوٹیلا مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندری ہواوں کی مدد سے افریقی ساحلوں کے کٹھن بحری راستے سے مئی 1498 میں انڈیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔۔

اسطرح اسے یورپ میں سب سے پہلے انڈیا تک سمندری راستہ تلاش کرنے کا مقام بھی حاصل ہوا ۔۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا ۔۔ کہ ڈاگاما کےاس کارنامے سے پرتگال کا جیک پاٹ نکل آیا تھا ۔۔ 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکو ڈ ی گاما کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا ۔۔ واسکو ڈ ی گاما انڈیا پہنچنے سے پہلے یہاں بے دین جنگلی وحشی دیکھنے کی امید لگائے بیٹھا تھا ۔۔ جو بيکار یورپی اشیا کے بدلے اپنا کالا سونا با خوشی اسکے حوالے کر دیں گے ۔۔ جب ڈیگاما کیرلا کے شہر کوچی پہنچا ۔۔ تو اس کے بالکل برعکس لوگوں کو بہت دولتمند پایا ۔۔ دور دور سے عرب، چینی اور کئی دوسرے تاجر صدیوں سے اس ہر دیسی مرکز پر تجارت کیلئے آ رہے تھے ۔۔

پندرہیویں صدی میں کیرلا کیلیےکالی مرچ وہی مالی مقام رکھتی تھی ۔۔ جو آجکل گلف کی ریاستوں کیلئےتیل رکھتا ہے ۔۔ واسکو ڈ ی گاما کے کیرلا میں آنے کے آٹھ سال کے اندر ہی پرتگال نے اس علاقے میں اپنے قدم اچھی طرح سے جما لئے تھے ۔۔ انہوں یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا ۔۔ جہاں انہوں نے انڈیا میں اپنے پہلے وائسرائے کو مقیم کیا دیا ۔۔

سولہویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی پرتگالی مسالوں کی تجارت میں سب سے آگے نکل چکےتھے ۔۔ اور جو مال وہ تجارت سے حاصل نہیں کر سکتے تھے ۔۔ اپنی طاقت سے چھین لیتے تھے ۔۔ کالی مرچ کی خاطر پرتگال نے انڈیا کے مسالے والےساحلی علاقوں کو اپنے محاصرہ میں لےلیا تھا ۔۔ ایک مرتبہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا ۔۔ کہ انڈیا میں کالی مرچ کی تجارت اب انکے مکمل قابو میں ہے ۔۔ تو انہوں نے اپنی توجہ دوسرے مسالوں کو ڈھونڈنے کی طرف کر دی ۔۔

ان کی تلاش کیلیے اگلا مسالہ دار چینی تھا ۔۔ جو سولویں صدی کے یورپی امیر لوگوں میں بے حد مقبول تھا ۔۔ یہ کالی مرچ سے بھی زیادہ نایاب تھا ۔۔ اور اسکا منبع بھی انکے لئے نامعلوم تھا ۔۔ کیرلا کے آس پاس کے سمندر میں عرب تجارتی جہازوں پرمسلسل چھاپوں میں انہیں بار بار ان پر لدے مال میں دار چینی مل رہی تھی ۔۔ اسلئے انہیں شک تھا ۔۔ کہ یہ مسالہ کہیں آس پاس ہی پایا جاتا ہے ۔۔ لیکن کیرلا کے سمندر سے آگے کے علاقے سے وہ بلکل ناواقف تھے ۔۔

1506 میں پرتگالی ایک عربی جہاز کا پیچھا کرتے ہوئے طوفان میں راستہ بھٹک گئے ۔۔ اور انہوں ایک انجان ساحل پر پناہ لی ۔۔ یہ سری لنکا کا ساحل تھا ۔۔ اور دار چینی یہاں ہی پائی جاتی تھی ۔۔ اور یوں انہیں دار چینی کا منبع بھی مل گیا ۔۔ کالی مرچ اور دار چینی جیسے مسالے دینا بھر میں کھانے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیوں کے باعث بنے ہیں ۔۔ اور آج بھی مقبول ہیں ۔۔ لیکن انکی تلاش نہ صرف ہماری تاریخ کا رخ بدلنے کا باعث بنی ۔۔ بلکہ اس نے جدید دینا کی شکل بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔۔ ان مسالوں کی مدد سے شہنشاہی سلطنتیں بنیں اور ٹوٹیں ۔۔ انکی خاطر قوموں کی آزادی چھن گئی ۔۔ اور قتل و غارت میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان ہوا ۔۔

کالی مرچ اور دار چینی دو معمولی سے مسالے اور ایک غیر معمولی ماضی کے مالک جن کی تلاش سے یورپی لوگوں کے دولت سے خزانے بھر گئے لیکن جن لوگوں نے انہیں اپنی محنت سے بنایا ۔۔ انکو اور انکی قوم کو اسکے بدلے میں کیا حاصل ہوا ؟؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 17 جولائی، 2019

میں پلاسٹک نہیں

بائیو کیساوا   بیگ

cassava  پودے کی جڑوں کے starch یا 

  یا  شرمپ  کی باقیات  سے بنا ہوا ،


 ماحول دوست شاپر ، جو  ایسٹ تِمور کے ہر سپر سٹور پر دستیاب ہیں ۔
 

 پانی لگنے کے بعد ، بغیر بدبو کے گلنا شروع ہوجاتا ہے۔ جو پلاسٹک فری ماحول کے لئے   ,، انڈونیشیاء میں پائے جانے والے پودوں کی جڑوں سے بنایا جاتا ہے ۔
 یہ تمام اشیاء اب بائیو کیساوا  کے سٹارچ سے بنائی جا رہی ہیں اور  اپنے بچوں کے مستقبل کی محافظ دنیا اسے استعمال کر رہی ہے سوائے پاکستان کے ۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ایک ٹریلیئن پلاسٹک   ہر سال استعمال کئے جاتے ہیں ، جو کبھی نہیں گلتے ۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
.

منگل، 16 جولائی، 2019

بھاگو رجسٹریشن کرنے والے آرہے ہیں

آج کے جنگ میں چھپنے والی بریکنگ نیوز نے ، بوڑھے کو ماضی میں پہنچا  دیا ۔  
6 جون 2000 کی بات ہے ، بوڑھا  بلیو ایریا کے یونائیٹڈ پلازہ کے گراونڈ فلور  پر  ، دلوائی ہوئی   دکان  میں پرانی سٹیشنری کی چیزوں کو اپنے دونوں بیٹوں اور ملازم  ابرارکے ساتھ  چھانٹ  رہا تھا اور سامنے کے حصے کے سالخوردہ حصوں پر پینٹر رنگ کر رہا تھا ، کہ اچانک شور اُٹھا ،
"بھاگو ، بھا گو ، دکانیں بند کرو ، جی ایس ٹی والے آرہے ہیں "
اَس کے ساتھ ہی دھڑا دھڑ ، شٹر اور دروازوں کے بند ہنے کی آوازیں آئیں ، بوڑھے نے باہر نکل کر دیکھا ۔  بلیو ایریا 12 بجے سنسان ہونا شروع ہوگیا ۔ 

پڑوس کے ہوٹل والے نے کہا ،" صاحب بھاگو  ، انکم ٹیکس والے آرہے ہیں "
بوڑھے نے پرواہ نہیں کی ، اپنا کام جاری رکھا ۔ کہ اکرم خورشید کا فون آیا ،
" میجر صاحب ! آفس بند کردوں ؟ کیا آپ نے دکان بند کردی ہے ؟"
" نوجوان! تمھاری  فرم   SIGMENبھی   رجسٹرڈ  ہے ، ٹیکس اور  جی ایس ٹی میں بھی رجسٹر ہو اور میں نے DOSAMA   کی رجسٹرشن ، انکم ٹیکس اور  جی ایس   ٹی میں بھی  رجسٹریشن  درخواستیں  دی ہے  ، تو ڈر کس بات کا ؟ " میں نے جواب دیا ۔ 
یوں ایک فارم بوڑھے کو تھمادیا گیا اور ایک اکرم خورشید  کو بوڑھے  نے اور اکرم خورشید     نے بھر کر دوسرے دن  آنے والے کے ہاتھ میں تھمادیا ۔
اگست کی بات ہے ، کہ پھر غلغلہ مچا ،" انکم ٹیکس والے آرہے ہیں "
بوڑھا اپنی دُکان کے پچھلے حصے میں بنائے آفس میں بیٹھا رہا  ۔ کہ ایک میجر ، تین سوٹ پہنے ایک حوالدار ، ایک سپاہی اور این  سول کپڑوں میں  افراد  دکان میں داخل ہوئے ، ابرار آفس میں لے آیا ۔ 
بوڑھے نے کھڑے ہوکر ہاتھ ملایا ۔"تشریف رکھیں ،  ابرار سب کے لئے کوک لاؤ "
" نہیں ہم کوک نہیں پیئں گے  ، بس آپ کے کھاتے چیک کریں گے ، کیوں کہ آپ جی ایس ٹی جمع نہیں کروا رہے ؟" ایک سویلیئن بولا ۔
" آپ تشریف رکھیں ، یہ کام بھی ہوجائے گا " بوڑھا بولا ،
میجر سمیت    ، تینوں سوٹ والے اور ایک غالباً کلرک آفس میں بیٹھ گئے اور باقی  دکان میں پڑی ہوئی کرسیوں پر ۔
ابرار ، کوک لے کر آیا تو میں نے بتایا ، کہ ڈیلی سیلز کا ریکارڈ لے کر آئے ۔ اور اِنہیں دکھائے ۔
ایک سوٹ والے نے رجسٹر دیکھا  اور  حیرانی سے کہا ،" یہ آپ کا ڈیلی سیلز اور خرچے کا ریکارڈ ہے "۔اور رجسٹر دوسرے کی طرف بڑھا دیا ۔
" جی ہاں "، میں نے جواب دیا ۔ 
دوسرے  نے  ، فائلیں  کھولتے ہوئے ایک فارم نکالا ، اور گویا ہو ا۔" آپ نے یہ جمع کروایا تھا ۔ لیکن اِس پر سیلز ٹیکس جمع کروانے کا ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں "
 بوڑھے نے ،اُس نوجوان کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا ،" ایک تو میں چھوٹے شہر کا ہوں اور معذرت کے ساتھ  ، دوسرے فوج میں تھا ، لہذا یہاں کے بزنس مینوں کی نظر میں بے وقوف تھا ، کہ 6 جون کو بھاگا نہیں اور یہ فارم آپ کے نمائندے کو بھر کر دے دیا ، اور اِس فارم کی بنیاد پر آپ لشکر لے کر تادیب کے لئے آگئے ہیں "
پھر اپنی تالے والی دراز کھولی ،   اپنی   DOSAMA    فرم کی رجسٹرشن ، انکم ٹیکس اور  جی ایس   ٹی ، اور جی ایس ٹی ہر ماہ جمع کروانے  کی رسیدیں دکھائیں ۔
نوجوانوں نے ہمت نہیں ہاری  ، ایک بولا ۔" آپ نے اپنے بزنس میں  جو پیسہ لگایا   وہ اور کہاں سے آیا ، وہ نہیں بتایا "
بوڑھے نے ایک اور کاغذ نکالا  اور میجر صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ،" آپ ے سوال کا جواب ، میجر صاحب دیں گے "
" آپ فوج  میں تھے  ؟" میجر صاحب نے بے یقینی سے پوچھا ۔
میجر کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ،" میں نے بتا یاہےنا  کہ میں فوج میں تھا  اور 23 سال   کے بعد جو پنشن حکومتِ پاکستان نے دی ، اُس سے مبلغ  5 لاکھ روپیہ سے یہ بزنس خریدا ہے " 
پھر  سول کپڑوں والے انکم ٹیکس آفیسر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ،" اگر آپ کہیں گے تو  اپنا پنشن میں ملنے والے پیسے کا حساب بھی دے دوں گا ؛ اتنی دیر میں آپ کوک پیئں " 
یہ سنتے ہی چھائی ہوئی ٹینشن ختم ہوگئی  اور قہقے شروع ہوگئے ۔ اُنہوں نے وہ فارم جو میں نے جمع کروایا تھا ۔ اُس کو منسوخ کردیا  اور مجھ سے  فرم کے ضرور کاغذات کی فوٹو کاپیاں لے کر ، منسوخ شدہ فارم کے ساتھ  "جمع کروائی گئی درخواست ،  ڈوپلیکیٹ ہے منسوخ کی جاتی ہے "
میں نے انکم ٹیکس آفیسر کو بتایا ، 
"ان دونوں پلازوں  کی  96 دکانوں اور  24 فلیٹوں میں قائم  آفسوں میں سے صرف ، دو  پاکستانیوں نے آپ کا یہ فارم بھر کر جمع کروایا تھا ۔ ایک یہ ناچیز اور دوسرا ، سیکنڈ فلور پر اکرم خورشید ۔ کیوں ایسا ہی ہے ؟"
" جی ایسا ہی ہے ، خیبر اور یونائیٹڈ پلازہ  سے یہی دوفارم ہیں ، اب ہم اُن کے پاس جائیں گے " فائل والا  انکمم ٹیکس آفیسر بولا ۔
" جی آپ کو سیڑھیاں چڑھنے کی ضرورت نہیں ، اُس نے میرے ہی کہنے پر یہ فارم لے کر جمع کروایا تھا ۔ اُس کی کمپنی 10 سال سے انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی میں رجسٹر ہے ، اور یہ اُس کے کاغذات ہیں " بوڑھے نے      SIGMEN   کی پروفیشنل  ٹیکس،  انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی  رجسٹریشن کی فوٹو کاپیاں اُن کو دیں ۔ 
 نوجوان دوستو! پیارے پاکستان میں  کمپنیوں کی رجسٹریشن کا قانون تو کئی عشروں سے موجود ہے ۔
یوتھیا اعظم اور اُس کے 100 رتنوں کو آرڈیننس لانے کی کیا ضرورت ، یہ بتانے کے لئے ، کہ پاکستان میں اندھیر نگری مچی ہوئی ہے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



پیر، 15 جولائی، 2019

مصیبت میں مددکے لئے پِھرکی کی طرح سر گھمانا

  روح القدّس نے  محمدﷺ    کو ایک  ٹھوس بات بتائی ، جس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی :


إِنَّ اللَّـهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا ﴿33:64 
خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَّا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ﴿33:65
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب انسان اپنی حماقت سے کسی کے کہنے پر ایسا قدم اُٹھاتا ہے کہ جس میں نقصان کا چانس یقینی ہوتا ہے تو وہ عقلمندوں کی بات نہیں مانتا اور پھنس جاتا ہے ، اور 
پھر مصیبت میں گرفتار ہونے والا، دائیں بائیں کسی مدد کے لئے، جس بے چینی سے دیکھتا ہے اور واویلا کرتا ہے اور پھر
 جس نے اُسے روکا تھا  اُسے یاد کرتا ہے اور جس نے اُس کی جھوٹی ہمت بڑھائی اُس کو تمام بُرے القاب   جو ازبر ہیں سناتا ہے۔

  روح القدّس نے اللہ کی آیت میں محمدﷺ   فصاحت سے الْكَافِرِينَ   پر اللہ کی لعنت کی تفصیل بتائی :
 يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا ﴿33:66  
٭ - یہ بھی بتایا کہ یہ کیا واویلا کریں گے :
 وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ﴿33:67 
 ٭ -الکافرین، اپنے     سادات اور  اکابر کو  کیسے بدعائیں دیں  گے :
  رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا ﴿33:68 

 ٭ -  الَّذِينَ آمَنُوا کو کِس الرسول کا نام لے کر نصیحت کی :
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا ﴿33:69 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿33:70 

 ٭ -  مُوسَىٰ کو اذیت نہ دینے  اور قَوْلًا سَدِيدًا    (ٹھوس بات)کہنے پر کیا اجر ملے گا ؟
يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ 
وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿33:71


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 14 جولائی، 2019

قربانی قبول - قربانی نہیں قبول - ایک آفاقی سچ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے ، خبر ،حدیث ،  بشارت ، تنبیہ  اور حکم بتایا ، کہ انسانوں کو بتا دو کہ یہ   بیئن آیات، قیامت تک ایسا ہی رھنا چاھئیں او ر الَّذِينَ يُؤْمِنُون کو اِن پر عمل بھی کرنا ہے !

1- اللہ کی روح القدّس کے ذریعے محمدﷺ کو ایک نباء الغیب، آدم کے دو بیٹوں (بنی آدم)  کے درمیان ہونے والی (مضارع میں ) گُفتگو  :
٭- خبردار کبھی کسی اللہ کی راہ میں قربانی دینے والے کی قربانی پر قتل تو دور کی بات حسد تک  نہ کرنا :
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿5:27 
٭٭٭ 

 لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴿5:28 
٭-ایک مومن  کو عمد! قتل کرنے والا ہمیشہ کے لئے  اصحاب النار  (جہنم)  (4:93) :

إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴿5:29 
 ٭-ظالم  کے لئے ، مظلوم کا قتل آسان :

فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿5:30﴾ 

 ٭-اللہ کی سنت  غُرَابً کی گناہ چھپانے کی ترکیب :
 فَبَعَثَ اللَّـهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ ﴿5:31

٭-اللہ کا ناقابلِ تردید حکم برائے انسانیت  :
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ ﴿5:32﴾ 

 ٭-مظلوموں کوناحق قتل کرنے والے فسادیوں کے  لئے اللہ کا ناقابلِ تردید حکم   :

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿5:33

 ٭-مظلوموں کوناحق قتل کرنے والے فسادیوں کے  لئے  ، اللہ کی سنت کے مطابق ، بذریعہ  توبہ  اللہ کی پکڑ سے نجات    :

 إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿5:34﴾ 
٭- الَّذِينَ يُؤْمِنُون کے لئے اللہ کی بشارت اور حکم : 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿5:30﴾ 
٭- الَّذِينَ كَفَرُوا کے لئے اللہ کی تنذیر اور حکم : 

 إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿5:36﴾ 

يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿5:37﴾ 
 


  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 13 جولائی، 2019

ایسٹ تِمور کے تُخمی آم

پاکستان میں آم کا سیزن شروع ہوا  تو بوڑھے نے آم کھانا شروع کر دیئے کہ مشرقِ بعید کے سفر سے پہلے لطف اندوز ہوجائے کہیں  حسرت نہ رہ جائے ۔
ایسٹ تِمور میں جو آم کھائے  وہ بس یوں سمجھو کہ اللہ کی نعمت اُسے بُرا کیا  لکھنا  ۔ بس اُس کا چار ہی بنایا جاسکتا تھا یا آپ گڑآمبا  (آموں کا میٹھا سالن ) ۔
انور رٹول کھاتے کھاتے بوڑھے کو یک دم خیال آیا اور حکم صادر کر دیا 

" آم کی گٹھلیاں نہ پھینکی جائیں " 
خیر 12 کے قریب صحت مند گٹھلیوں کا انتخاب ہوا ، اُنھیں مکمل بے پردہ کیا  ، اِسی طرح کوئی 22 کے قریب جامن کی گٹھلیوں کو سنبھالا اور دونوں کو ایک  پلاسٹک کے ڈبے میں اِس طرح ڈالا کہ  وہ   تَر رہیں اور ایسٹ تِمور پہنچنے  کے بعد وہ  انگڑائیاں لے کر بیدار ہوں۔ 
جیسا کہ آپ کو تو معلوم ہے کہ بوڑھے کو بیجوں سے پودے  اور چوزے نکالنے کا خبط ہے ۔ 
جو مستفید نہیں ہوئے وہ پڑھیں :
 تو بوڑھے کے جوان دوستو ! دوسرے دن یعنی  پہلی جولائی کو اُنہیں  ڈبے سے نکالا  ، اور صفائی کی تاکہ فنگس نہ لگ جائے، نئے ٹِشو  پیر کا گدیلا بنا کر اُس پر سب کو سلایا  اور پھر جناب اوپر سے ایک اور ٹشو پیپر کا لحاف اُوڑھا دیا     پھر  ڈسپرین کو پانی میں گھول کر اُنہیں   ، غذائیت فراہم   کی اور واپس ،ڈبہ بند کر کے  کچن میں الماری کے اوپر رکھا دیا ۔ 
یہ ساری کاروائی بڑھیا دیکھ رہی تھی ۔ جو سوال و جواب ہوئے  ، وہ تمام ہم سے چھوٹے جوان جانتے ہیں لہذا دھرانے کو کوئی فائدہ نہیں ، شام کو بڑھیا نے بیٹی کو بتایا ۔
دوسری صبح  بڑھیا نے بیٹی کے کمنٹس سنائے ، جسے صدقہءِ جاریہ  سمجھ کر بوڑھا چُپ رھا ۔ 
کہ یورپی یونیئن  یا یونیئن  کے ساتھ کام کرنے والے ، بیجوں سے پودے نکالنے کی سائینس کیا جانیں ۔  
کہ جس نے ایک بیج اگایا اُس نے  انسانیت کے لئے صدقہءِ جاریہ  کا  سبب بنایا ۔
تو کیر ایسٹ تِمور پہنچنے کے چھٹے  دن یعنی 4چ جولائی کو، جب بوڑھے نے ، پاکستان سے آئے ہوئے بیجوں کی خیریت دریافت کرنے کے لئے اُن کی خوابگاہ کا دروازہ کھولا تو دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا ۔ وجہ آپ بھی جانتے ہیں خود دیکھ لیں ۔
خیر بوڑھے نے مالکِ مکان سے ، بیجون کو گملوں میں لگانے کے لئے گملے   مانگے جو وہ اُس نے ، بمع اپنے گھر میں اُگنے والے  تُخمی آم کے پیڑ کی چار  کیریاں بھجوا دیں ۔
 بوڑھے نے یہ کیریاں  دیکھیں ، بڑھیا کو دکھائیں ، اُس نے کہا یہ اچار ڈالنے والی ہیں ۔ میں نے کیریاں لانے والی ملازمہ کو بتایا ، کہ ہمارے ہاں اِس کا اچار بنایا جاتا ہے ، اُسے سمجھانے کے لئے ، اچار کی بوتل سے ڈھونڈھ کر کیری کی پھانک  نکال کر دکھائی ۔ 
اُسے پھر بھی سمجھا نہ آیا ۔ اُسے چمچ سے نکال کر چکھایا ۔
 تِموری زُبان میں اُس کے منہ سے نکلا " واؤ" 
بڑھیا چونکہ اُسے اپنے بنائے ہوئے گلاب جامنوں میں سے ایک کھلا کر اُس کی یونیورسٹی میں پڑھنے والی کزن اور اُس سکھا چکی تھی ۔ لہذا بوڑھے نے بڑھیا کو بتایا  کہ اگر یہ چاھے تو اِسے اچار بنانے کی ترکیب بھی سمجھا دینا /
اُو آپ نے سیکھنی ہے کیریوں سے اچار بنانے کی ترکیب؟
تو پھر آپ کو  پڑھنا  پڑھے گا ۔
 ہاں تو نوجوان دوستو بات ہو رہی تھی ، پڑوسیوں کے گھر میں لگے آم کے درخت کے تُخمی آم کی ۔ جنہیں بوڑھے نے  ایک پلاسٹک کے برتن میں ڈال کر  ، اُنہیں پال لگادی ۔
  آج جب بوڑھے نے اُنہیں دیکھا ، تو وہ ہرے کے ہرے تھے ۔ معائینہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ  ڈنٹھل کی جگہ سے خراب ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ 
بوڑھے نے چھری لے کر متاثرہ جگہ تراشی تو حیران رہ گیا ۔  بس پھر بوڑھے نے سب کو  نفاست سے تراشااور دو پلیٹوں میں سجا دیا ۔
 چم چم نے آم چکھا  اور کہا ، " یخ "

چم چم  کی ماما نے آم چکھا  اور کہا ، " یخ "
 بڑھیا نے  آم چکھنے سے اکار کر دیا  اور کہا ،" آپ ہی کھائیں  "
ایک پلیٹ بوڑھے نے دوپہر کو کھائی ۔ اور دوسری پلیٹ
 وہ بھی بوڑھا شام کو ہی  کھائے گا!
  کیوں کہ ۔ پھل اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے کیا ہوا ؟
اگر میٹھا نہیں ہے ۔ فائدہ ضرور پہنچاتا ہے !
بقول اپنے لکھاری دوست ، ثنا اللہ احسن خان صاحب  ،

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



آم کا اچار گھر میں بنائیں مزے سے کھائیں






٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔