میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 12 نومبر، 2019

ابی سینا اور موجودہ ایتھوپیا

ایتھوپیا  کا قدیم نام ایبے سینیا ہے  جو افریقی براعظم کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ اریٹیریا ، جبوتی ، صومالیہ ، سوڈان اور کینیا ہمسایہ ممالک ہیں۔ 1،1298،00 مربع کی رقبہ کا رقبہ کلومیٹر ، ایتھوپیا فرانس اور اسپین کے جتنا بڑا ہے یا برطانیہ کے سائز سے پانچ گنا زیادہ یا ٹیکساس سے دو گنا سائز کا ہے۔
 ایتھوپیا میں شمالی گونڈر کے سیمین پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر  افار ریجن  کی رفٹ ویلی  میں ڈنکیل  کے نمکین نشیبی وادی اور جھیلیں  ، وسیع  مرکزی سطح مرتفع  ، معتدلہ  جنگلات ، سوانا صحرا ، جھیلیں اور دریاؤں  پر مشتمل   خصوصیات ہیں۔ ادیس ابابا تقریبا     ساڑھے 50 لاکھ  آبادی پر مشتمل  ، یہاں کا دارالحکومت ہے۔
 دریائے نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 6670 کلو میٹر ہے۔ براعظم افریقہ کی دو جھیلوں سے نکلتا ہے، افریقہ کی سب سے بڑی  جھیل وکٹوریہ  ،  جھیل سے سفید نیل  نکلتا ہے۔
جب یہ دریا سوڈان میں داخل ہوتا ہے تو اس کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے، کیوں کہ دریا ایک زبردست دلدل سے گزرتا ہے۔ یہ دلدل دنیا کا سب سے بڑا دلدل ہے یعنی 700 کلو میٹر لمبا ہے۔ یہاں ایک قسم کی گھاس پاپائرس پائی جاتی ہے، جو پورے دلدل پر چھائی رہتی ہے۔ یہ اتنی گھنی اور مضبوط ہے کہ اس پر ایک ہاتھی کھڑا ہوجائے تو وہ نیچے نہیں جائے گا اور سیدھا کھڑا رہے گا۔ دریا کا پانی گھاس کے نیچے نیچے بہتا ہے۔ 

بلیو (نیلا ) نیل  جو   ایتھوپیا  میں جھیل تانا سے نکلتا ہے اور فوراً بعد آبشار کی صورت میں ایک نہایت گہرے گڑھے میں گرتا ہے اور بہتا ہوا خرطوم کے مقام پر دریائے نیل میں مل جاتا ہے۔ ایتھوپیا اور سوڈان سے کئی  چھوٹے دریا  نکل کر  دریائے نیل میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
 ایتھوپیا  کے دو اہم موسم ہیں،  ایک خشک موسم جو اکتوبر سے  مئی تک جاری رہتا ہے۔ اور
 دوسرا بارشوں کا موسم  ، جو  جون سے ستمبر تک رہتا ہے ۔
 جنوری اور فروری گرم اور زیادہ خشک مہینے ہیں۔ 
 بارشوں کے بعد ، علاقے سبزے سے بھر جاتے ہیں ۔ پہاڑیوں  میں دن کے وقت درجہ حرارت اعتدال   یعنی 30 درجے  سے تجاوز نہیں کرتا ہے ، یہاں تک کہ سال کے سب سے زیادہ گرم وقت  میں بھی رات  عموماً ٹھنڈی ہوتی ہے ،  سارا سال  یو سمجھیں موسم معتدل رہتا ہے ہوائیں خوب چلتی ہیں ۔
البتہ  جنوبی  وادی قدرے گرم ہوتی ہے اُسی طرح     مشرقی نشیبی علاقے بھی  گرم اور خشک  ہیں  ، مغربی نشیبی علاقے گرم اور مرطوب ہیں۔

ایتھوپیا کی آبادی  96 ملین ہے۔ ایتھوپیا میں  زبانوں  کے لحاظ سے بہت سی  اقوام ہیں آباد   90 مختلف زُبانیں بولتی ہیں ۔  ایتھوپیا  کے خاندانِ زُبان  میں شامل۔
 اورومو  (Oromo)، امہاری (Amharic)  ، صومالی  (Somali)،تیگرینیا  (Tigrinya )، سِدامو (Sidamo)،
وولائیتا  (Wolaytta گریز (Gurage)، عفار    (Afar) ،
ھادیہ (Hadiya)  ، اموتائی (Omotic) زبانیں گامو ، گوفا  اور داورو  (Gamo-Gofa-Dawro)، 
دیگر زبانیں (Other languages)  ،سامی     (Semitic) ،   کوشیائی  (Cushitic) ،انگوٹا (افرو-ایشیائی   )   ،  گعز (Ge'ez)  اور نیلوٹک(Nilotic)   زُبانیں بولنے والی  نسلوں  کے لوگ ہیں۔
 انگریزی سب سے زیادہ بولی جانے والی غیر ملکی زبان ہے ، اور یہ سیکنڈری اسکولوں میں تعلیم کا ذریعہ ہے۔ امہارک پرائمری اسکول کی تعلیم کی زبان ہے ، امہارک کو وفاقی حکومت کی دفتری کام کرنے والی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ جب کہ 1995 کے ایتھوپیا کے آئین میں تمام زبانیں مساوی ریاست کی شناخت حاصل کر رہی ہیں ،امہارک اور ٹگرنیا کے بہت سے الفاظ اطالوی زبان سے  لئے گئے ہیں ۔
  مذہب کے لحاظ سے قدامت پسند عیسائی تقریبا   43.5٪ ، مسلمان 33.9٪، پروٹسٹنٹ عیسائی  18.6٪   ،مذھب پرست  2.6٪ ،کیتھولک عیسائی  0.7٪  ،   اور  یہودی 7٪   اور دوسرے ہیں۔ جو بات ایتھوپیا کے بہت سے لوگوں کو متحد کرتی ہے وہ ان کا مشترکہ آزاد وجود بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔



گو کہ ایتھوپیا پر اٹلی (1936–1941)   پر قبضہ رہا ،   اطالویوں نے ایتھوپیا پراپنا قبضہ برقرار کھنے کے لئے  کافی   سرمایہ کاری کی۔جس میں :
٭- ادیس ابابا اور میسااؤ ، ادیس ابابا - موگادیشو اور ادیس ابابا - اساب کے درمیان "شاہی سڑک" بنائی۔
٭-   900 کلومیٹر سے زیادہ ریلوے  تعمیر  کی گئی -
٭- ڈیم اور پن بجلی گھر تعمیر کیے گئے۔

٭ - بہت ساری سرکاری اور نجی کمپنیاں قائم کی گئیں۔
٭-  اس کے علاوہ ، اطالوی حکومت نے غلامی ، اس عمل کو ختم کردیا جو صدیوں سے ملک میں موجود تھا۔
 19 فروری  1937 میں ،اٹلی کے مشرقی افریقہ کے وائسرائے روڈلفو گریزانی کے قتل کی ناکام کوشش  ہوئی،  اطالویوں نے بہت سے ایتھوپیا کے لوگوں کو قید اور قتل عام کیا 
 دوسری جنگ عظیم میں اٹلی کے داخلے کے بعد ، برطانوی سلطنت افواج نے ، اربیگنوچ کے ساتھ مل کر  "محب وطن" ، مسلح مزاحمتی فوجیوں  کےساتھ،   1941 میں مشرقی افریقی مہم کے دوران ایتھوپیا کی خودمختاری کو بحال کیا۔
 حائلی سلاسی کے وفادار     فوجوں اور اطالوی گوریلا جنگی  حملے مقامی  لوگوں کی مدد سے 1943   تک جاری رہی۔ اُن کی شکست کے بعد  ، انگریزوں نےبغیر کسی خاص برطانوی مراعات کے  ایتھوپیا کی مکمل خودمختاری کو تسلیم کیا ،یوں  دسمبر 1944 میں اینگلو - ایتھوپیا کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

گو کہ  انگریزوں اور  بادشاہ حائلی  سلاسی کے درمیان   معاہدے کی وجہ سے انگریزوں نے وطن پرستوں کے ساتھ مل کر مسولینی کی فوجوں سے   سے ایتھوپیا کو خالی کروایا ۔ لیکن  ایتھوپیا کو برٹش  نوآبادیاتی  نظام میں شامل نہیں کیا شاید یہ وجہ ہو کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانوی ملکہ  نے اپنے تمام محکوم ملکوں سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں ، یہی وجہ ہے  کہ ایتھوپیا کی قدیم رسوم و روایات برسوں سے  برقرار ہیں ۔
  1947 کے امن معاہدے کے تحت ، اٹلی نے بھی ایتھوپیا کی خودمختاری اور آزادی کو تسلیم کیا۔ لیکن یہ ماننا  پڑے گا کہ جدید ایتھوپیا کی ترقی میں اطالویوں اور فرانسیسیوں کا بھی ہاتھ ہے ۔ جیسے برصغیر کی ترقی میں  برٹش   کا ہاتھ ہے ۔ 
یہ   اقوام  (اطالوی ، فرانسیسی اور انگریز)جانتی تھیں ، کہ   غریب اقوام کے دل اُسی وقت جیتے جاسکتے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ (روڈ، ریل ، ہوائی ) نظام بہتر بنایا جاسکے ، ڈیم اور معاشی ترقی کی انڈسٹری کو فروغ دیا جائے ۔ 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭-  ایتھوپیا۔ بارہویں جماعت تک مُفت پڑھائی ۔
٭-  افریقہ ۔ نصابِ مصالحہ جات

ایتھوپیا۔ بارہویں جماعت تک مُفت پڑھائی ۔


چم چم کو اُس کے سکول 7:40 پر چھوڑنے  کے بعد  ، جب بوڑھا اور بڑھیا   واپس ہوئے ، تو کولمبس کی طرح    دوسرے  راستے سے گھر واپسی  کے لئے  چل پڑے ، جہاں ہم رہتے ہیں یہ ، کِرکوس(Kirkos) کا محلّہ نمبر 1 ہے ۔
 ہم چونکہ ایک ہوٹل اپارٹمنٹ  میں ہیں جو ، چم چم کی ماما کے آفس  کے پڑوس میں ہے ۔اور چم چم کا سکول بھی دس منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے ۔ 
یہاں سے ائرپورٹ  روڈ  تک جو ایک کلومیٹر ہے جانے کے لئے دوسڑکیں ہیں ، ایک توپکّی سٹر ک اور دوسری  گلیوں والی سڑک  60-1جو عمودی اینٹوں کی معلوم نہیں کتنی پرانی گلی  ہے ۔ اِس سے ملنے والی تمام گلیوں  پر لگے ہوئے بورڈ  اُن کے نمبروں کے ہیں ۔
ایک ، 4 منزلہ بلند عمارت پر نظر پڑی ۔ جس کے گیٹ پر لگے محراب نما بورڈ کو دیکھا۔
ارے یہ تو سکول ہے ،گیٹ میں جھانکا  تو اچانک گارڈ نمودار ہوا ، نہ ہم امھارک جانتے نہ وہ انگلش ، بہر حال ابھی اُس سے مدّعا بیان ہی ہو رہا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر خاتون  گیٹ پر اندر داخل ہونے کے لئے  آئی ، گارڈ ایک طرف ہوا ، خاتون نے مُڑکر  کہا ،
" سلامِ نوح " 
" سلام علیکم " بوڑھے نے جواب دیا ۔
" کیا میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں ؟" اُس نے انگلش سے الجھتے ہوئے کہا ۔
" ہم دونوں اِس سکول کی پرنسپل سے ملنا چاھتے ہیں " بوڑھے نے سلیس انگلش میں کہا ۔
" میں پرنسپل ہوں ، آئیں "   وہ بولی اور مُڑ کر بلڈنگ کی طرف چل پڑی ۔ ایک کمرے کے پاس رُکی ، اپنے پرس سے چابی نکالی  دروازہ کھولا ۔ کمرے میں غالباً ٹیچرز کے لئے کرسیاں اور میزیں لگی ہوئی تھیں ۔ وہ کونے میں پڑی ، پرچوں اور کتابوں سے گھری میز کے پیچھے جاکر بیٹھ گئی ، ہم دونوں بھی بیٹھ گئے ۔
" میڈم ، ہمارا تعلق پاکستا ن سے ہے  ، ہم یہاں  وزٹ پر آئے ہیں اور کورٹا انٹرنیشنل ہوٹل میں رہائش پذیر ہیں ، ہم دونوں یہاں کے سکولوں کے متعلق جانا چاھتے ہیں ، یہ پاکستان  میں آرمی پبک سکول میں  وائس پرنسپل تھیں ، میں نے بھی رفاء انٹرنیشل یونیورسٹی میں  وزٹنگ فیکلٹی پڑھایا ہے ، لیکن بنیادی طور پر  ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر ہوں " اِس تعارف کے بعد  پرنسپل صاحبہ نے  ، ایتھوپیا کے تعلیمی نظام کے بارے جو بتایا  وہ یقیناً ہم دونوں کا حیرت سے منہ کھولنے  کا سبب بنا ۔
" یہ پرائمری سکول گورنمنٹ کا ہے ، جس میں آٹھویں کلاس تک  بچے اور بچیاں پڑھتے ہیں۔ سیکنڈری سکول بارھویں جماعت تک ہوتا ہے ، گورنمنٹ   یہ تمام تعلیم مُفت دیتی ہے نہ صرف  تعلیم بلکہ ، کتابیں ،کاپیاں ،  یونیفارم ، یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا بھی مُفت ملتا ہے ۔ 
بارہویں جماعت کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم شروع ہوتی ہے ، جس کے لئے ، تمام خرچے کا آدھا گورنمنٹ اور آدھا والدین دیتے ہیں ۔
جیسا کہ آپ  کو معلوم ہوچکا ہے ، کہ میری انگلش اِتنے عرصے کے بعد بھی بہتر نہیں ہوئی حالانکہ کہ میں نے جرمنی سے  پی ایچ ڈی   کی ہے ۔ تو آپ یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی انگلش بہتر ہوگی ؟  جس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں انگلش ایک آپشنل مضمون ہے ،  بچے بولتے بولتے سیکھ جاتے ہیں ۔
ہماری قومی زُبان امھارک ہے اور  ہم  امھارک میں بچوں کو تمام تعلیم دیتے ہیں ۔ جس بچے نے گریجوئشن کے بعد ،  ماسٹر یا پی ایچ ڈی کرنے باہر جانا ہوتا ہے تو وہ اُس مُلک کی زُبان سیکھتا ہے ۔ ایک آزاد جمہوری ملک  اپنے بچوں کو اپنی زُبان میں ہی تعلیم دیتا ہے ۔ غیرملکیوں کو ہم سے بات کرنے کے لئے ہماری زُبان سمجھنا ہوگی ، ویسے ہمارے بچے غیر ملکیوں سے بات کرتے کرتے انگریزی کے کچھ لفظ سیکھ جاتے ہیں ۔"
بوڑھا ، ادھیڑ عُمر پرنسپل کے مختصر اور جامع    لیکچر سے بڑا متاثر ہوا ۔ نکلتے وقت بڑھیا کے ساتھ ایک یادگاری تصویر بنائی ۔
 میں پرنسپل  کی باتوں پر غور کر رہا تھا ، کہ پچھلے 70 سال سے  ہماری قومی زُبان اردو ہے ،  لیکن انگلش آسیب کی طرح ہماری قوم سے چمٹی ہوئی ہے ،۔ جسے ہمارے  صاحبانِ تعلیم نے میٹرک میں لازمی مضمون قرار دیا ہے ، جس کی وجہ سے بہت سے بچے میٹریکولیٹ ہونے کے بجائے ، تعلیمی نظام سے انڈر میٹرک بن کر دھوبی کا کتا بن کر نکلتے ہیں، جو نہ گھر کے نہ  گھاٹ  کے رہتے ہیں ۔  
پانچویں کلاس تک تو        35.3 % بچے سکول چھوڑ دیتے ہیں ، باقی     64.7 %بچوں میں سے   15 سے 30 ٪ بچے میٹرک میں ڈراپ آؤٹ صرف اِس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ انگلش کا امتحان پاس نہیں کر سکتے یا اگرکر بھی لیں تو اُن کے کل نمبر 40 فیصد سے کم ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ کالجوں میں داخلہ نہیں لے سکتے ۔
پاکستان میں دو کروڑ اٹھائیس لاکھ بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں  ، جبکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 15 ۔اے، کے مطابق ریاستِ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کو  16 سال کی عمر تک لازماً مُفت تعلیم دے ۔ 

کہاجاتا ہے کہ پاکستان میں    خواندگی کا تناسب    54.9 % ہے اور ایتھوپیا میں 39.0 % اگر ہم انگریزی کو اپنے نصاب سے نکال دیں ، تو شائد یہ تناسب 20 سے 30 فیصد بڑھ جائے اور پاکستان میں خواندگی کا تناسب     85.0 %  تک جا پہنچے۔
ہمارے گریجوئیٹ بچے انگلش ایسے بولتے ہیں جیسے ،  ایتھوپیئن پرنسپل بولتی ہے ۔ لیکن یہ ایک مکمل آزاد جمہوری ملک ہے۔جہاں قومی زبان کی اہمیت ہے ۔

یہ ماننا  پڑے گا کہ جدید ایتھوپیا کی ترقی میں اطالویوں، فرانسیسیوں  اور انگریزوں  کا بھی ہاتھ ہے ۔ جیسے برصغیر کی ترقی میں  برٹش   کا ہاتھ ہے ۔  لیکن اِس کے باوجود یہاں اطالوی زبان بولنے والے ناپید ہیں ۔



جمعرات، 7 نومبر، 2019

یتیموں کے قوانینِ تحفظ کے لئے اللہ کی ناقابلِ تبدیل سنت

روح القدّس نے محمدﷺ کو یتیموں کے قوانینِ تحفظ کے لئے اللہ کی ناقابلِ تبدیل سنت بتائیں :

 1- مرد اور عورت کو ازواج بنانے کی سنت :

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ﴿4:1﴾ 

 2- یتیموں کے مال کے تحفظ کی سنت :

 وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا ﴿4:2﴾ 

 3-یتیموں میں قِسط (توازن)  نہ کرسکنے کی صورت میں ، چار یا کم از کم ایک یتیم النساء سے نکاح کی سنت : 
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿4:3﴾ 

 4- یتیم النساء کی اپنے صدقات ، اُس کی مرضی سے شوہر کے کھانے کی سنت :
 وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا ﴿4:4﴾

 5- کم عقل یتیموں کو اُنہی کے مال سے کھلاؤ اور اُس پر قائم رہنے کی سنت : 
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿4:5﴾ 

 6- یتیم بیوہ جس سے تم نے نکاح کیا ہو، اُن بچوں کا بلوغت کے بعد رشد آنے پر نکاح کردو اور اُن کے مال جن سے تم اُن کی پرورش کر رہے تھے اُنہیں گواہوں کے سامنے دے دو ۔ کی سنت 
وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا ﴿4:6﴾


 7- یتیم مرد اور عورت کے لئے اُنے کے والدین کا چھوڑا ہوا ترکہ ہے (یتیموں کی دیکھ بھال کی آڑ میں تم  ہڑپ نہ کرنا) کے بارے میں اللہ کی سنت ۔
 لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿4:7﴾ 
 8- صاحبِ جائداد یتیموں کے ترکے کی تقسیم پر ، حاضر ہونے والے صاحبِ جائداد یتیموں کے ، أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ، کو بھی اُس میں سے کھلا نے کی سنت :
 وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿4:8﴾ 

 9-یتیموں کی پرورش کرنے والوں کی اگر ذریّت مالی طور پر ضعیف ہو ، تو وہ اُن پر خائف ہوں کہ وہ یتیموں کے مال کو اپنے باپ کا مال نی سمجھ بیٹھیں ، تو اُنہیں چاھیئے کہ وہ اِس معاملے میں ٹھوس بات کریں کہ اُس کے پاس یتیموں کا مال امانت ہے ۔ کی سنت :
وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّـهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿4:9﴾ 

 10۔ جو لوگ (یا اُن کی ذرّیت ) یتیموں کا مال ہڑپ کرتی ہے ، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں ۔ جو ہمیشہ بھڑکتی رہے گی ( خواہ جتنے حج ، نمازیں یا روزے رکھ لے ) کی سنت :
 إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ﴿4:10﴾ 
٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 1 نومبر، 2019

خبردار 2 سے 3 بجے تک کوئی فیصلہ مت کریں

انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ کی ہے اور معلوم ہوا دنیا میں 99 فیصد غلط فیصلے دن دو بجے سے چار بجے کے درمیان ہوتے ہیں‘ یہ ڈیٹا جب مزید کھنگالا گیا تو پتا چلا دنیا میں سب سے زیادہ غلط فیصلے دن دو بج کر 50 منٹ سے تین بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔
یہ ایک حیران کن ریسرچ تھی‘ اس ریسرچ نے ”ڈسین میکنگ“ (قوت فیصلہ) کی تمام تھیوریز کو ہلا کر رکھ دیا‘ ماہرین جب وجوہات کی گہرائی میں اترے تو پتا چلا ہم انسان سات گھنٹوں سے زیادہ ایکٹو نہیں رہ سکتے‘ ہمارے دماغ کو سات گھنٹے بعد فون کی بیٹری کی طرح ”ری چارجنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر اسے ری چارج نہیں کرتے تو یہ غلط فیصلوں کے ذریعے ہمیں تباہ کر دیتا ہے‘ ماہرین نے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کیا تو معلوم ہوا ہم لوگ اگر صبح سات بجے جاگیں تو دن کے دو بجے سات گھنٹے ہو جاتے ہیں۔
ہمارا دماغ اس کے بعد آہستہ آہستہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم غلط فیصلوں کی لائین لگا دیتے ہیں چناں چہ ہم اگر بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد فیصلے بند کر دینے چاہئیں اور آدھا گھنٹہ قیلولہ کرنا چاہیے‘ نیند کے یہ30 منٹ ہمارے دماغ کی بیٹریاں چارج کر دیں گے اور ہم اچھے فیصلوں کے قابل ہو جائیں گے‘ یہ ریسرچ شروع میں امریکی صدر‘ کابینہ کے ارکان‘ سلامتی کے بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ شیئر کی گئی۔
یہ اپنے فیصلوں کی روٹین تبدیل کرتے رہے‘ ماہرین نتائج نوٹ کرتے رہے اور یہ تھیوری سچ ثابت ہوتی چلی گئی‘ ماہرین نے اس کے بعد ”ورکنگ آوورز“ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘آفس کے پہلے تین گھنٹے فیصلوں کے لیے بہترین قرار دے دیے گئے‘ دوسرے تین گھنٹے فیصلوں پر عمل کے لیے وقف کر دیے گئے اور آخری گھنٹے فائل ورک‘ کلوزنگ اوراکاؤنٹس وغیرہ کے لیے مختص کر دیئے گئے‘ سی آئی اے نے بھی اس تھیوری کو اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا۔
چنانچہ ماہرین کا دعویٰ ہے آپ اگر بڑے فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کام صبح بارہ بجے سے پہلے نمٹا لیں اور آپ کوشش کریں آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ یہ فیصلہ غلط ہو گا اور آپ کو اس کا نقصان ہو گا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2019

یوتھیائی فسانہ - چھوٹا پانی اور کالا پانی

بہت دنوں سے  داستانِ نمک  کے ساتھ دیو سائی پلین کا ،  یوتھیائی فسانہ  چھوٹا پانی اور کالا پانی  بھی وٹس ایپ کی زینت بن رہا تھا ۔ 
بوڑھا فوجی ، اِسے علم ِناقص و فساد  کے باعث توجہ نہیں دیتا تھا ۔ اکیس اکتوبر کو ہمارے ایک انجنیئر دوست نے ، شائد معلومات عامہ کے لئے اِسے گروپ میں گھما دیا ۔ 


کئی نادان  دوستوں نے اِس سے صرفِ نظر  کیا  کیوں کہ اُن کا پسندیدہ ٹاپک  ، وہ تمام یوتھیائی پوسٹ جو گرم مصالحوں کے ساتھ  وٹس ایپ پر ناچتی پھر رہی ہیں ۔باعثِ کمنٹس بنتی ہیں ۔
 لیکن  ایک دا و بینا  دوست نے کمنٹ لکھا :
Pls have a proper look at some decent map and you will be embarrassed to have shared this absurd post.
 اِس کمنٹ نے بوڑھے فوجی کو مجبور کیا کہ وہ اپنی  معلومات کا ااظہار کرے ۔ بوڑھا سیاچین کے محاذ پر پورا  ایک سال اور دو مہینے رہا  ،   اگست  1993کے پہلے ہفتے میں سیاچین سے سکردو آیا اور  والنٹیئرز کے ایک گروپ کے ساتھ دیوسائی پلین  کے مسحور حسن سے لطف اندوز ہونے روانہ ہوا ۔ واقعی پہاڑی نالوں اور دریاؤں سے اَٹی ہوئی دنیا کی سب سے بلند وادی ، حسین وادیوں میں سے ایک ہے ، جہاں تا حدِ نظر  پھولوں کے بستر نے آنکھوں کو عجیب تراوٹ بخشی ۔  سیر کے علاوہ فوجی نقطہءِ نگاہ سے وادی سے دریائے شگر کے ساتھ سفر کیا ، این ایل آئی کے نوجوانوں سے بھی ملاقات کی اور ہفتے کا ٹور لگا کر واپس سکردو پہنچا ، ایک رپورٹ بنائی اور  20دن کی چھٹیاں گذارنے کوئٹہ روانہ ہو گیا ۔ 
اب پورے کوئی  26 سال بعد  ، تحت الشعور سے معلومات کا خزانہ نکالا اور ایک نقشے پر انڈیل دیا آپ بھی پڑھیں ۔ 
 دیو سائی وادی میں آنے والا پانی نانگا پربت پر پڑنے والہ مشرقی برف و بارش سے آتا  ہے مختلف ندی اور نالوں  سے دریائے شگر ، دریائے چھوٹا پانی اور دریائے کالا پانی میں آکر  دریائے شگر میں مل جاتا ہے ،
 پہلے چھوٹا پانی دریائے شگر میں ملتا ہے اور اُس کے بعد کالا پانی ۔
دریائے شگردیوسائی وادی سے  کنٹرول لائن تک تمام  پانیوں کو لئے انڈیا میں داخل ہوتا ہے
 کالا پانی  اور دریائے شگر کے سنگم  سے کنٹرول لائن تک کا فضائی فاصلہ  60 کلومیٹر ہے لیکن دریائے شگر کے ساتھ ہم نے یہ فاصلہ  10 گھنٹوں میں جیپوں پر طے کیا تھا ۔ 
کنٹرول لائن کراس کرنے کے بعد دریائے شگر ، دریائے شنگو میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں سے یہ کارگل کی وادی سے گذرتا ہوا ، دوبارہ کنٹرول لائن کراس کر کے پاکستان میں داخل ہو کے دریائے شگر کا نام دوبارہ  حاصل کر لیتا ہے  ۔ 
اور کنٹرول لائن کے پار سے سے آنے والے دریائے سند ھ سے بغلگیر ہوجاتا ہے ۔
حسین آباد کے پاس  کے  سیاچین سے آنے والے  تمام پانی دریائے خپلو سے آکر دریائے شیوک میں ملتے ہیں اور دریائے شیوک دریائے سندھ کی آغوش میں پناہ لیتا ہے ۔
 آگے تو آپ جانتے ہیں کہ دریائے سندھ کی آخری منزل کہاں ہے ۔ 

بہر حال  فسانہ گروں کے مطابق اگر ہم کنٹرول لائن سے  سے 30 کلومیٹر 3 پہاڑوں کی کٹائی کر کے ، اں کا پانی دریائے سندھ میں ڈالیں ، تو انڈیا تباہ و برباد ہو سکتا ہے ۔ 
سوچیں ذرا ، احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کا مشورہ ، کیا قابلِ عمل ہے ؟ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ماں کی آپ بیتی

وہ بھی کیا دن تھے جب میرا گھر ہنسی مذاق اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا تھا۔ہر طرف بکھری ہوئی چیزیں ۔ ۔ ۔ 
بستر پر پنسلوں اور کتابوں کا ڈھیر ۔ ۔ ۔
 پورے کمرے میں پھیلے ہوئے کپڑے۔
جوتا یہاں تو جراب وہاں  ۔ ۔ ۔ 
 میرا پورا دن ان کو کمرہ صاف کرنے اور چیزیں سلیقے سے رکھنے کے لیے بچوں کو  ڈانٹنے میں گزرتا۔
صبح کے وقت بیٹی  جاگتے ہی کہتی :
ماما مجھے ایک کتاب نہیں مل رہی!
بڑا بیٹا چیختا:
میرے جوتے کہاں ہیں؟ میں نے یہاں اتارے تھے ۔ 

دوسرا بیٹا رندھی آواز میں کہتا :
ماما میں ہوم ورک کرنا بھول گیا ۔ پلیز چھٹی کر لوں !

چھوٹی بیٹی منمناتی :
ماما میری ہوم ورک والی ڈائری!
ہر کوئی اپنا اپنا رونا رو رہا ہوتا۔ 

اور میں چیختی کہ آپ کی چیزوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری نہیں ۔ ۔ ۔ 
اب آپ بڑے ہو گئے ہو، خود سنبھالو! ذمہ داری کا احساس کرو ۔
میں کچن سے آوازلگاتی ۔
کتاب ، اپنی  الماری میں دیکھو  وہاں ہے ۔

جوتے ، میں نے پالش کرکے  دروازے کے پاس رکھے ہیں وہاں سے لے لو ،
اور تم سکول جاؤ گے ، کیوں یاد نہیں رہا ہوم ورک کرنا ، کھیل میں زیادہ دھیان ہے۔
چھوٹی تم اپنی ڈائری  ٹی وی کے اوپر دیکھو!
ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ لگا کر کہتی ۔
چلو ناشتہ کرو ، بس آنے والی ہے ۔ ڈرائیور  ہارن پر ہارن بجا کر دماغ خراب کرے گا ۔ 
یہ روز کا معمول تھا معلوم نہیں  20 سال کیسے پلک جھپکتے  گذر گئے ۔

آج میں ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوں۔

بستر خالی ہیں. الماریوں میں صرف چند کپڑے ہیں۔ 
 جو چیز باقی ہے، وہ ہے ان کی خوشبو۔
اور میں ان کی خوشبو محسوس کر کے اپنے خالی دل کو بھرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
اب صرف ان کے قہقوں، جھگڑوں اور منانے کے لئے ، میرے گلے لگنے کی یاد یں ہے۔

آج میرا گھر صاف ہے۔ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے۔ 

یہ پرسکون، پرامن اور خاموش ہے ۔ ۔ ۔
 زندگی سے خالی ایک صحرا کی طرح۔

وہ ان کا دروازے کھلے چھوڑ کر بھاگ جانا اور میرا چیختے رہنا کہ دروازے بند کرو۔

آج سب دروازے بند ہیں اور انہیں کھلا چھوڑ جانے والا کوئی نہیں۔

سب زندگی کے سفر میں پرندوں کے بچوں کی طرح   اپنی منزل کی طرف اُڑ گئے ۔

بیٹیاں اپنے گھر کی ہوگئیں  اور بیٹے ، ایک دوسرے شہر چلا گیا ہے اور دوسرا  ملک سے باہر ملک۔ دونوں زندگی میں اپنا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
ہر بار وہ آتے ہیں اور ہمارے ساتھ کچھ دن گزارتے ہیں۔ جاتے ہوئے جب وہ اپنے بیگ کھینچتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے میرا دل بھی ساتھ کھنچ رہا ہے۔
میں سوچتی ہوں کہ کاش میں ان کا یہ بیگ ہوتی تو ان کے ساتھ رہتی۔

لیکن پھر میں دعا کرتی ہوں کہ وہ جہاں رہیں آباد رہیں۔


اگر آپ کے بچے ابھی چھوٹے ہیں تو انہیں انجوائے کریں۔ ان کو گدگدائیں، ان کی معصوم حیرت کو شیئر کریں اور ان کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا مداوا کریں۔

 گھر گندا ہے، کمرے بکھرے ہیں اور دروازے کھلے ہیں تو رہنے دیں۔ یہ سب بعد میں بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن بچوں کے ساتھ یہ وقت آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعہ، 25 اکتوبر، 2019

افریقہ - نصابِ مصالحہ جات

جب آپ کسی ایسے ملک جاتے ہیں ، جہاں کی زُبان آپ کے لئے اجنبی ہوتی ہے تو سب سے پہلے انسان سوچتا ہے ۔کاش اِن کو انگلش آتی یا مجھے یہ زُبان ۔
سب سے زیادہ مشکل جو پیش آتی ہے وہ کھانے پینے اور دیگر اشیاءِ ضروریہ کی ہے ،جن کی آپ کو  اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ 
بوڑھے اور بڑھیا کے ساتھ بھی یہی پریشانی لگی ، ایسٹ تِمور میں تو گذارا ہوگیا لیکن یہاں عدیس ابابا (ایتھوپیا) میں بوڑھے نے سوچا کہ سب سے پہلے یہاں کی زُبان کے کچھ الفاظ سیکھے جائیں ۔
دُکان پر سودا لینے جاتا ، تو مشہور آئیٹم ہیں وہ تو اُٹھانے اور وزن کروا کر پیسے  دینے میں کوئی تامل نہ  تھا ، سب سے بڑا مسئلہ، بُڑھیا کی خریداری میں تھا  اور وہ بھی اِس لئے ، کہ بڑھیا کی خواہش کے مطابق وہ اپنی بیٹی اور یہاں پر رہنے والے پاکستانیوں  کو اپنے کھانے کھلا کر انگلیاں چٹوائے ۔ پہلے تو وہ اپنا ٹریڈ مارک  کھانے کامصالہ بنوا کر پاکستان سے ساتھ لائی ، ساتھ کچھ اور مصالحے تھے ۔
ایسٹ تِمور میں زردے کا رنگ کافی سٹورز یعنی سُپر سٹورز میں ڈھونڈا ، مگر نہ پایا تو ایبٹ آباد کے خواتین کے ملبوسات بنانے والے نوجوان پاکستا نی  حسن زیب کی مدد لی اور زردے  کے رنگ کو تِموری نام پوچھا  جو اُس نے " پوَارنا مکانا"  بتایا ۔ یہ بتانے پر بھی کامیابی نہ ہوئی  ، تو بوڑھے نے  زردے کی اور سادے چاولوں کی تصویر   اکٹھی لگا کر  اپنے موبائل میں ڈالی

لیٹا سٹور میں قسمت آزمائی کی اور ایک تِموری خاتون سے  پوچھا کہ ، چاولوں کو ایسا رنگ کیسے کرتے ہیں ؟
اُس  
نے تصویر دیکھی اور کہا " کم "
بوڑھا اُس کے پیچھے چل پڑا ، بڑھیا نے جب یہ دیکھا تو پوچھا ، " کہاں جارہے ہو ؟"
بوڑھے نے کہا، " کم " 
بڑھیا بھی لپکتی جھپکتی ، پیچھے  چل پڑی ۔
اُس نیک بخت نے لے جاکر ایک  بھرے ریک کے سامنے جا کر کھڑا کردیا ۔ 
 "یو وانٹ دِس   ؟  پیوارنا  مکانان" وہ بولی ۔
" یس  " بوڑھے نے جواب دیا  ، یہ وہی  حسن زیب کا " پوَارنا مکانا"تھا ۔تمام انڈین  کھانوں میں ڈالنے والے رنگ اور ایسنس موجود تھے اور نہیں موجود تھا۔ تو ، " کیوڑہ "  خیر وہ بھی مل گیا اور عرقِ گلاب  ، بڑھیا نے گلاب جامن اور شاہی ٹکڑے بنا کر ، چم چم کی ماما کی سہیلیوں کو کھلائے ۔ 
 پچھلے تجربے کی بنیاد پر ، ضروری چیزیں تو بوڑھا پاکستان سے ڈھو کر  اپنے سامان میں لے آیا ، جب کھانوں کا وقت آیا تو معلوم ہوا ، کہ سفید زیرہ  اور املی لانا بھول گئے ۔ 
بوڑھے نے سوچا کہ کیوں نہ تصویری زُبان سے مدد لی جائے اور دیکھنے والے کے لئے آسانی پیدا کرتے ہوئے خود بھی امھاری (Amharic) زُبان میں شُدھ بُدھ پیدا کی جائے ۔ 
بوڑھا انڈے لینے گیا جو جہاں  5 بِر(Birr) کا ایک ملتا ہے ، یعنی  پاکستانی 27 روپے کا ایک  اور درجن انڈے ہوئے، مبلغ    321 روپے !!
پوچھا انڈے کو  امھاری زُبان میں کیا کہتے ہیں "
کم عمر    سیلز خاتون  نے  بتایا ۔ " اِنکو لال "
  ہوٹل میں آتے آتے بوڑھا بھول گیا ، کہ اِنکو لال تھا  یا  اُنکو لال ۔ خیر گھر میں کام کرنے والی خاتون سے پوچھا  ، اُس نے بتایا ، وہ بھی بھول گیا ۔ نئی زبان سیکھنا بہت مشکل ہے  ۔ لیکن بوڑھے نے اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک ایسا نصابِ تعلیم ، چاچی  گوگل  کی مدد سے بنایا کہ  اب بے شک بھول جائے کوئی بات نہیں ۔
سب سے پہلے نصابِ  ناشتہ جات ۔
پھر نصابِ مصالحہ جات ! 
ارے بوڑھا یہ تو بتانا ہی بھول گیا ، کہ دکاندار سے کلام کیسے شروع کیا جائے ؟
چلیں یہ اگلے سبق میں پڑھتے ہیں ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭
٭- امھاری (Amharic)بول چال




منگل، 8 اکتوبر، 2019

انسانی شخصیت سازی کے سنہری اصول

روح القدّس نے محمدﷺ کو ،اللہ کی انسانی شخصیت سازی کی ناقابلِ تبدیل سنت بتائی :
1-  دنیاوی معاملات میں جاہلوں کے تخاطب پر اُن کی سطح پر اترنے کے بجائے   عباد الرحمٰن اُنہیں سلام (امن کا پیغام)   کہتے ہیں ۔

وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ﴿25:63 

 2-  اور وہ لوگ    بِيتُ ،  اپنے ربّ کے لئے سجدہ اور قیام  کے لئے (رکھتے ) ہیں ۔

وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًاوَقِيَامًا ﴿25:64 

3-اپنے ربّ سے  کہتے ہیں ،   کہ  ہمارے ربّ ہم  سے جہنم کے  عذابِ غرام کو پھیر دے ۔
وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴿25:65

 4-  بے شک اُس میں  (جہنم مجرموں کے لئے   )     بُرا مستقل مقام اور ٹھکانہ ہے ۔
 إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ﴿25:66 

جہنم کے عذابِ غرام کو مستقل ٹھکانہ بنانے سے بچنے   والے ، 
٭-عباد الرحمٰن کے لئےاللہ کی ناقابلِ تبدیل و ناقابلِ تردید ، سنّت برائے عمل !٭

5-  اور وہ  لوگ  ،اسراف  یا بُخل سے بچتے ہوئے ،  درمیانی   رویّہ سے انفاق  کریں گے ۔
وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا ﴿25:67 

6-  اور وہ لوگ  :
٭- اللہ کے ہمراہ کسی اور سے دعا نہیں کریں گے ، 

٭- جس انسان کو قتل اللہ نے حرام کردیا ہے  اُسے سوائے الحق  کے قتل نہیں کریں گے ۔
٭- وہ زنا نہیں کریں گے ۔
بالا افعال اثم بن کر اُن کے اوپر   
لَقِي (چسپاں  )    رہیں گے۔
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ﴿25:68 
(وہ عباد الرحمٰن     اللَّـهِ سے شرک کی بنیاد پر شامل نہیں  ہوں گے   اور کوئی ملائی وظیفہ یا فتویٰ اِن  کے اِثم کو نہیں اتار سکتا ، سوائے اللہ کے بتائے ہوئے توبہ کے طریقے کے )    

(پڑھیں :    اللہ  کی سنّت - توبہ کا میعار    )
7-  مشرک قاتل اور زانی  پر یوم القیامت عذاب دُگنا کر دیا جائے گا  اور وہ اُس میں ہمیشہ اھانت  میں رہے گا ۔ 
يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ﴿25:69 

8-  سوائے اُس کے  کہ جو  بالا احکامات     کے خلاف عمل کرنے کے بعد احساس ہونے یا دلانے پر ،    اپنے گناہوں کا کفارہ  اور  قصاص اور صدقہ  دینے کے بعد توبہ کرے گا اور عملِ صالح  کرے گا ۔تو اللہ اُس کی شخصی برائیوں کو  اپنی آیات  کے مطابق کئے جانے والے افعال سے ،  اچھائیوں میں بدلتا رہے گا ۔
إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿25:70  

9-  اور جس  نے ایک دفعہ توبہ کر لی  اور عملِ صالح  کیا   تو صرف وہ   مَتاب  بن کر ،اللہ  کی طرف توبہ کرتا رہے گا  ( کسی دوسرے سے توبہ کروانے کا ڈھونگ اللہ کو قبول نہیں ) ۔
 وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّـهِ مَتَابًا ﴿25:71 

10- اور وہ لوگ  ،   الزُّورَ ( جھکائے  یاموڑے  ہوئے الفاظ )  کی شہادت (کبھی نہیں)   دیں گے   اور جب اُن کا  اِس قسم کیاللَّغْوِشہادتوں  سے  سامنا ہو، تو وہ     کراماً گزر جاتے ہیں ۔
وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا ﴿25:72 

11-  اور اُن لوگوں پر ، جب کے ربّ کی آیات سے  ذکّر کیا جاتا ہے ، تو وہ اُن (انسانی اذکار پر )  پر  بہرے اور اندھے  ہو کر   (سجدے میں ) نہیں گر پڑتے      (ربّ کی آیات کو اہمیت دیتے ہیں  ، انسانی ذکر و اذکار   پر زیادہ توجہ نہیں دیتے  )۔ 
وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿25:73

12-  اور وہ لوگ کہتے رہتے ہیں ، اے ہمارے ربّ  ہمارے لئے   ،ہماری ازواج اور ہماری  ذریّت  کو آنکھوں کا قرار   ھبہ کر ، اور ہمیں المتقین (الکتاب سے ہدایت لینے والی ازواج اور ذریّت  )  کا امام قرار دے ۔
   وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴿25:74 

13-  یہ وہ لوگ ہیں  جنھیں   اُن کے صبر پر جزاء میں   الْغُرْفَةَ دیا جائے گا  اور اُس  (   الْغُرْفَةَ) میں اُن پر  (لازوال) حیات   اور سلام  القا ءکیا جائے گا ۔
أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا ﴿25:75

14-  اُس  (   الْغُرْفَةَ) میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اچھا مستقل مقام اور ٹھکانہ ہے ۔ 
  خَالِدِينَ فِيهَا ۚ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ﴿25:76 

 15-  کہہ ،     میرے ربّ   کے ساتھ تمھارے لئے کوئی عباء نہیں  (پھر)    تم دعا کیوں نہیں کرتے  ؟  پَس حقیقت میں  (دُعا نہ کرکے )   تم نے کذّب کیا ،   پَس تمھارے ساتھ  یہ   (کذّب)      لٹک گیا ۔
 قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۖ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ﴿25:77

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ : اردو میں لکھا ہوا فہم (ذکّر) ، مہاجرزادہ کا ہے ۔ آپ اپنا فہم اللہ کی آیات سے بنائیں ۔ جہا ں  اللہ کا لفظ  مہاجرزادہ کے فہم  کو رَد کر دیتا ہے وہاں ، اللہ کا لفظ ہی لکھ کر  اُس میں باقی الفاظ کا لِنک دے دیا ہے ۔ آپ اُن الفاظ کو دیکھ سکتے ہیں ۔
کیوں کہ مہاجرزادہ کے فہم کے مطابق  ، الکتاب  اللہ نے   1182 مادوں  پر  مشتمل   کلمات  سے بنا کر محمدﷺ کو بذریعہ روح القدّس حفظ کروائی   ہے ، لکھوائی نہیں ۔ 
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ 
إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ  ﴿29:48
 
ایک مادہ سے بننے والے الفاظ کا آسان ( يَسَّرْ)  فہم ہر جگہ ایک ہی ہوگا ، جب ہی تو اللہ کا قول ہے ۔ 

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿54:17

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  الزُّورَ ( جھکائے  یاموڑے  ہوئے الفاظ )   ۔ 
  كَذَّبْ (کذّب)
 المتقین (الکتاب سے ہدایت لینے والے) 
  مُّدَّكِرٍ (القرآن کو  الذکّر کے لئے آسان سمجھنے والا )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔