میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 31 جنوری، 2019

اغواء برائے تاوان

 ایک بدقسمت لڑکی کے اغوابرائے تاوان کا کیس جو اُس کے زندگی تباہ کرنے کا باعث بن گیا اور وہ عمر بھر کیلئے قیدی بن گئی۔
میری پوسٹنگ CIA جمشید کواٹر میں تھی وہ بھی اتوار کی صبح تھی۔ اُس وقت کے CCPO کراچی طارق جمیل صاحب  کا فون آیا،
“نیاز گلشن اقبال میں ایک واقع ہوگیا ہے میں راستے میں ہوں آپ بھی وہاں پہنچو"
میں SHO کی رہنمائی میں ایک بنگلے کے پاس پہنچا اندر بنگلے کے لان میں کافی لوگ جمع تھے ایک کونے میں طارق جمیل صاحب، اُس وقت کے  ہمارے DIG CIA منظور مغل صاحب،علاقہ SSP ایک نوجوان سے بات کر رہے تھے۔

 مجھے دیکھتے ہی طارق جمیل صاحب نے  کہا ،
 “ نیاز اس بنگلے میں ڈکیتی ہوگئی ہے ڈاکو جاتے ہوئے خاتون خانہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں "
  اور ساتھ کھڑے نوجوان سے میرا تعارف کروایا اور مجھے کہا ،
" آپ نوجوان کے ساتھ بنگلے کا وزٹ کرلیں"
 میں نوجوان کے ساتھ بنگلے کے وزٹ کے دوران اُن سے واقعہ کی تفصیلات لیتا رہا۔

واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ رات کے پچھلے پہر تین نوجوان بنگلے کے کچن کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر کھڑکی کے اندر ہاتھ ڈال کر ساتھ ہی دروازے کا لاک کھول کر گھر میں داخل ہو گئے تھے اور کسی کمرے کا دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ فجر کی اذان کے بعد مالک مکان نے  نماز  کیلئے مسجد جانے کیلئے جیسے ہی بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ تینوں ڈاکوؤں نے اُس کو گن پوائنٹ پر لے لیا اور  اُس کی بیوی کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر اُس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔

مالک مکان سے پوچھا ،
" گھر میں  اور کون  کون ہے ؟"
اُس نے ڈاکووں کو بتایا ک،
"اوپر کی فلور پر صرف میرا جوان سال بیٹا اور بہو ایک کمرے میں سو رہے ہیں"۔ 

ڈاکوؤں نے مالک مکان کو کہا 
" بیٹے کا دروازہ  کھٹکھٹا کر اُس کو اپنی طبیعت خراب ہونے کا بول کر دروازہ کھلواوُ"۔
دروازہ کُھلنےپر ڈاکووں نے نوجوان اور اُس کی بیوی کو یرغمال بنا لیا، باپ بیٹے کے ہاتھ پیچھے سے باندھ کر نیچے کمرے میں بند کردیا، پورے گھر سے قیمتی سامان مالک مالکان کی کار میں ڈال کر ٹریفک چلنے کا انتظار کرنے لگے ( یہ وقت پولیس کی شفٹ تبدیل ہونے کا ہوتا ہے اور کراچی کے روڈوں پر پولیس نہیں ہوتی ) اور 30: 7 بجے کے قریب نوجوان خاتون کو گن پوائنٹ پر کار کی اگلی سیٹ پر بٹھا کر لے گئے۔

 حالانکہ گلی کے داخلی راستے پر بیرئر اور چوکیدار موجود تھا،پاگل  چوکیدار کی جیسے ہی خاتون خانہ پر نظر پڑی اُس نے سلام کیا اور بیرئر کھول دیا، خاتون اسکول ٹیچر تھی اور 6 ماہ پہلے ہی اُن کی شادی ہوئی تھی۔
 8 بجے کے قریب کام کرنے والی نوکرانی بیل بجاتی رہی ، کوئی جواب نہ ملنے پر اُس  نے  محسوس کیا کہ  بڑا گیٹ کھلا ہوا ہے ۔اُس نے ساتھ والے گھر والوں کی بیل بجا کر اُن کو صورتحال کے متعلق بتایا، ساتھ والے گھر والوں نے 15 پر کال کرکے پولیس بُلوالی اور پولیس نے اندر جاکر تینوں افراد کو آزاد کیا۔
یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکو کس طرح محتاط انداز میں کاروائی کرتے ہیں اور ذرہ برابر بھی رسک نہیں لیتے۔

میرے خیال میں کراچی سے کسی عورت کے اغوا کی یہ پہلی واردات تھی۔ ویسے تو کراچی میں روزانہ سیکڑوں لڑکیوں کے اغوا کے کیسز ہوتے ہیں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ لڑکیاں اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ چلی جاتی ہیں والدین یہ حقیقت ماننے کو تیار نہیں ہوتے پولیس بھی جان چُھڑانے کیلئے اغوا کا پرچہ کر دیتی ہے اور ایک ہی ہفتے میں تھانے کو نکاح نامہ موصول ہو جاتا ہے اور والدینایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

  CPLC کے اُس وقت کے چیف جمیل یوسف صاحب نے بابر یونس اور اُس کی ٹیم کو  ہمارے ساتھ کردیا۔

دوسرے دن خاتون کے فون سے اُس کے شوہر کو اغوا کاروں کا فون آیا کہ 10 کروڑ کا بندوبست کریں اور بتایا کہ کار ہم نے بوٹ بیسن پر فلاں  دکان کے سامنے چھوڑ دی ہے وہاں سے لے لیں۔

نوجوان جو ایک بینک میں مینیجر تھا مجھے فون پر اطلاع کردی ۔ہم نے کار سے فنگر پرنٹس وغیرہ لے کر ضروری کاروائی کے بعد کار نوجوان کے حوالے کردی اور تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ کار گی گمشدگی کا خط ایکسائیز ڈپارٹمنٹ  کو نہ ارسال کرے۔

( حالانکہ کہ ہمارہ فرسودہ قانون کار کو کورٹ کے تھرو حوالے کرنے کا کہتا ہے، یعنے کار کا مالک وکیل کرے، کورٹ کے چکر لگائے اور اپنی ہی کار کی ضمانت کروائے اور ہر پیشی پر کار کورٹ میں پیش کرے اور جب تک کیس ختم نہ ہو کار فروخت نہیں کرسکتا۔ ضمانت کے پراسس میں دو تیں ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے ۔ جب تک کار تھانے میں کھڑی رہتی ہے اسی دوران کار کا آدھا سامان نکالا یا تبدیل ہوچُکا ہوتا ہے۔ ہمارے مُلک میں کیا عجیب تماشا ہے)

ہم نے نوجوان کے سارے نمبر، مغوی خاتون اور اُس کے والدین کے نمبرریکارڈنگ پر لگوادیئے تاکہ ہمیں اغواکاروں اور فیملی کی متعلق ضروری معلومات ملتی رہے۔

اُس وقت ہمارے IG کمال شاہ صاحب تھے۔ CCPO صاحب، DIG CIA   اور میں نے IG صاحب سے ملاقات کی اور کیس کی سنگینی کے متعلق  اُن کو بریف کیا۔ 

یہ کراچی میں کسی عورت کا اغوا برائے تاوان کا پہلا واقعہ تھا، ہم نے اُن کو بتایا کہ اگر اس گروہ کو ختم نہ کیا گیا تو اس قسم کے لاتعداد اغوا شروع ہو جائیں گے جو ناقابل برداشت ہے۔
 ہم نے IG صاحب کو کہا کہ وہ ایجنسیز اور CPLC پر اپنا ذاتی اثر رسوخ استعمال کریں کہ تاکہ وہ ہماری مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑیں میں یہ واضع کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ہر کیس میں IG کو آن بورڈ نہیں لیتے اور اپنی لیول پر کام کرتے رہتے ہیں، IG صاحب کو اُس وقت آن بورڈ لیا جاتا ہے جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ پانی سر سے اونچا ہورہا ہے۔

ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم فیملی سے بظاہر ملنا جُلنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ اس لئے کہ ہم کو پتہ نہیں ہوتا کہ واردات میں گھر کا کون سا فرد ملوث ہے اور کون ملزمان کو انفارمیشن لیک کر رہا ہے۔ (میری مراد نوکر چاکر، قریبی رشتہ دار دوست احباب سے ہے )اس لئے احتیاطاً ہم فیملی سے رابطے کیلئے بیک ڈور چینل استعمال کرتے ہیں۔

میری نیند حرام ہوچکی تھی میں نے  سارے دوسرے کیسز پر کام کرنا چھوڑ دیا۔  CIA کے ہیڈ محرر کو ہدایت کردی کہ وہ نفری کی حاضری کو دو شفٹوں میں یقینی بنائے اور DSP علی رضا، انسپکٹر سجاد، سب انسپکٹر طارق کیانی، انسپکٹر اعجاز بٹ  کو حکم دیا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ دوسرے حکم تک CIA سینٹر  میں موجود رہیں گے۔

 بابر یونس ، برابر فیملی سے خاموشی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ہر گذرتا دن ہماری  پریشانی میں اضافہ کر رہا تھا۔ جیساکہ اغواکار  بہت محتاط انداز میں اپنا کام کر رہے تھے ۔مغوی لڑکی کا فون اُن کے پاس تھا وہ کراچی کے کسی علاقہ میں فون کھولتے اور نوجوان سے مختصر بات کرتے اور فوراً فون آف کر دیتے،  ہمارے لوکیٹر   صرف ، آن فون کو لوکیٹ کرتے ہیں۔ مجھے رہ رہ کر اُس مظلوم لڑکی کا خیال آتا تھا اغوا کاروں کے ساتھ اچھا بھلا مضبوط مرد بھی ایک دن میں ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔

ایک ایک کرکے 15 دن گذر گئے ۔مجھے وہ اعصابی تناوُ زندگی بھر یاد رہے گا۔ اغواکاروں اور فیملی میں تاوان ادا کرنے کی بات چیت چل رہی تھی۔ ہم نے محسوس کیا کہ نوجوان ہم سے کچھ باتیں چُھپا رہا ہے اور ہم کو بائی پاس کرنا چاہتا ہے۔

 یہ ایک خطرناک عمل تھا۔ اس موقعہ پر ہم نے نوجوان سے بات کرنا ضروری سمجھا اور اُس سے بات کرنے کیلئے  گورنر ہاؤس میں قائم  CPLC کے دفتر بلالیا، وہاں CPLC چیف، DIG CIA, ڈپٹی چیف شوکت سلیمان ، بابر یونس اور میں نے نوجوان سے بات کی کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے اُس کے ساتھ جو سانحہ ہونا تھا سو ہو گیا ہے۔ اُس کو احساس دلوایا کہ اس گینگ کی موجودگی میں مستقبل میں نجانے کتنی اور عورتیں اغوا  ہونی ہیں۔ اُن سب کا گناہ کوتاہی کرنے والے کے کاندھے پر ہوگا۔ نوجوان ملزمان کی گرفتاری  کی صورت میں کورٹ کچہری سے خوفزدہ تھا ۔ہم سب نے اُس سے وعدہ کرلیا کہ کورٹ کچہری ہمارے ذمے ہے اور نوجوان ہم سے تعاون کرنے پر آمادہ ہو گیا۔

ہم نے اُس کو سمجھایا کہ وہ جلدی اغوا کاروں سے تاوان کا فائینل کرے اور تاوان کی رقم بھی CPLC چیف جمیل یوسف نے اپنے جیب سے ادا کرنے کا وعدہ کیا یہ سب کچھ اس لیے کیا جارہا تھاکہ نوجوان کے تعاون اور گینگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے۔

  CPLC والے بھی کیا کمال کے لوگ ہیں ہم کو تو تنخوا، پروٹوکول و سیکورٹی اور بے تحاشہ مراعات کا بہت بڑا پیکج ملتا رہتا ہے مگر یہ volunteers لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہم سے آگے آگے ہوتے ہیں ۔ کراچی کے امن میں Rangers کی طرح CPLC کابھی ایک “خاموش سپاہی” والا رول ہے۔

اس طرح 25 دن گذر گئے جیسا کہ میں پہلے بتا چُکا ہوں کہ اغواکار بہت محتاط انداز میں چل رہے تھے نوجوان سے اُن کی 60 لاکھ میں ڈیل ہو گئی اور اغوا کاروں نے نوجوان سے کہا کہ جس وقت وہ فون کریں اُسی وقت وہ تاوان کی رقم اپنی کار میں لیکر بتائی ہوئی جگہ پر آجائے۔ CPLC چیف جمیل یوسف نے تاوان کی رقم فراہم کردی۔ جو نوجوان کو دے دی گئی۔ اب ہمارا کام شروع ہونے والا تھا۔ جیساکہ آپریشن کی ذمہ داری میرے ذمے تھی اور CPLC کے بابر یونس اپنی ٹیم کے ساتھ بھی ہمارے ساتھ تھے۔

 کراچی میں Two way ٹریفک چلتا ہے اس لیئے ہم نے چار Teams موٹر سائیکلوں پر ترتیب دیں ہر موٹر سائیکل پر ایک ایک بابر یونس کی ٹیم کا بندہ، ایک way کا انچارج DSP علی رضا کو رکھا اور دوسرے way کی ذمہ داری انسپکٹر سجاد کے حوالے کردی۔

  کراچی میں کرمنلز ہمیشہ موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں اور بھاگنے کیلئے رانگ way کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس لیئے کہ رانگ وے پر Chase کرنا نامُمکن ہوتا ہے۔
ہم نے پوری پارٹی کو بریف کردیا کہ رانگ وے پر خاص خیال رکھنا ہے ایک رانگ وے سب انسپکٹر طارق کیانی اور دوسرا انسپیکٹراعجاز بٹ کے حوالے کردیا،
دوسرا اُن کو سختی سے کہا گیا کہ گولی نہیں چلانی تاوان کی رقم لینے آنے والوں کو زندہ پکڑنا ہے۔

دو دن تک اغواکار نوجوان کو مختلف لوکیشن پر بلاتے رہے اور دور سے کار پر نظر رکھتے رہے کہ پولیس تو ساتھ نہیں ہے۔ جیساکہ ہم اور سارے لوگ سادہ کپڑوں میں تھے اور ایک ساتھ وائرلیس اور  Hand free  نظام کی ذریعے رابطے میں تھے۔

تیسرے دن اغواکاروں نے نوجوان کو اللہ والی چورنگی کے قریب بُلا لیا اور ہمارے دیکھتے ایک 500cc کا موٹرسائیکل کار کی ڈرائیور سائیڈ کی کھڑکی کے ساتھ رُکا ، ہم نے وائرلیس پر سب کو الرٹ کردیا، اغواکار نے نوجوان سے پیسوں کا تھیلا لیا اور  کار کے آگے موٹر سائیکل گُھماکے رانگ وے چلنے لگا،

ہم نے اُس پارٹی کو بتادیا کہ 500cc موٹر سائیکل پر ایک سوار اُن کی طرف آرہا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا ایک موٹر سائیکل اغواکار کی موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا، اغواکار کے روڈ پر گرتے ہی اُس نے اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی مگر ہمارے جوانوں نے اُس کو بے بس کر دیا۔

ہم قریب ہی واقعہ تھانہ فیروز آباد پر اغوا کار کو لے گئے اور وہاں ہمارے DIG CIA اور CPLC چیف بھی آ گئے،  تھوڑی سی چھترول کے بعد اس وعدے پر کہ اُس کو آزاد کردیا جائے گا وہ تیار ہوگیا کہ میں گھر دکھاتا ہوں جہاں لڑکی رکھی ہے، ہم وقت ضائع کئے بغیر ملزم کے بتائے ہوئے علاقہ کے طرف روانہ ہو  گئے۔

 کار بابر یونس ڈرائیو کر رہا تھا، پچھلی سیٹ پر ملزم کے ایک طرف DSP علی رضا اور دوسری طرف انسپکٹر سجاد علی بیٹھے تھے۔ میں نے راستے میں ملزم سے معلومات لیتا رہا کہ گھر پر لڑکی کے ساتھ کون کون ہے ؟ اور اُن کے پاس ہتھیار کون کون سے ہیں ؟ 
اُس نے بتایا کہ دو اغوا کاروں کے پاس دو کلاشنکوف دو پسٹل اور ہزاروں گولیاں ہیں ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ پہلے کتنے اغوا کئے ہیں؟
اُس نے بتایا کہ یہ کراچی کی دوسری واردات ہے۔ ایک سال پہلے ڈیفنس سے ایک لڑکی اغوا کرکے 500cc موٹر سائیکل پر لاہور لے گئے تھے۔   6 ماہ میں لڑکی کا 4 مرتبہ  تاوان لیا اور بعد میں لڑکی PIA میں کراچی روانہ کردی ( میں نے بعد میں معلومات لیں وہ کیس کسی بھی تھانے یا CPLC میں رپورٹ نہیں ہوا تھا، فیملی اپنی عزت بچانے کیلئے خاموش ہو گئی ہوگی) 

مزید  بتایا کہ لاہور میں 6، پنڈی سے 3 لڑکیوں کو اغوا کیا اور کئی کئی مرتبہ تاوان لیا اور اپنی مرضی سے آزاد کیا۔میں نےراستے ہی میں اپنی ٹیم کو ہدایات دے دی کہ اپنی جان کے پروا کیئے بغیر اغوا کاروں کا صفایا کرنا ہے وہ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،

ہم نے اپنی گاڑیاں اغوا کاروں کے گھر سے دور چھوڑ دیں اور پکڑے ہوئے ملزم کے بتائے ہوئے گھر میں علی رضا، سجاد علی گھر کے مین گیٹ اور  طارق کیانی، اور اعجاز بٹ گھر کے بیک سائیڈ سے کچھ جوانوں کے ساتھ دیواروں کو پھاند کر اندر کود گئے اتنے میں اندر فائرنگ ہونے لگی۔

 ایک جوان نے گھر کا آہنی گیٹ کھول دیا فائرنگ رکتے ہی         DIG CIA, CPLC Cheif بابر یونس اور میں اندر داخل ہوئے، دیکھا کہ ایک 25/28 سالہ خوفزدہ عورت ایک بچے کو سینے سے لگائے زمیں پر بیٹھی چیخ رہی تھی ۔
میں نے اُس سے پوچھا کہ اغوا شدہ لڑکی کہاں ہے؟
اُس نے بتایا اوپر کی منزل پر کمرے میں بند ہے، ہم سب اوپر چلے گئے کمرے سے اغوا شُدہ لڑکی باہر نکالی اور اُس کو بتایا ہم پولیس ہیں لڑکی اتنی ڈری ہوئے تھی کہ اپنا نام غلط بتارہی تھی اور یہ  ماننے کیلئے تیار نہیں تھی کہ اُسے اغوا کیا گیا ہے ۔

چونکہ میں پہلے دن لڑکی کے گھر میں دیواروں پر اُس کی شادی کی تصویریں دیکھ چُکا تھا، اتنے میں جمیل یوسف صاحب نے لڑکی کے شوہر  سے فون ملاکر اُسے بتایا کہ اُس کی بیوی فرح بازیاب ہوچکی ہے مگر اپنا نام غلط بتارہی ہے اور فون لڑکی کے کان پر رکھ دیا لڑکی دوسری طرف اپنے شوہر کی آواز سُن کر زاروقطار رونے لگی اور بتایا کہ وہ ہی فرح ہے۔

اتنے میں باہر کچھ شور سُنائی دیا اور کچھ فائرنگ ہوئی

لڑکی کو DIG CIA,  چیف CPLC، ڈپٹی چیف شوکت سلیمان اور بابر یونس لے کر اُس کے گھر روانہ ہوگئے۔

دو اغوا کار تو گھر میں داخل ہوتے ہی مارے گئے تھے۔ چونکہ ہم اندر کاروائی میں مصروف تھے باہر  پہلے پکڑے ہوئے اغواکار نے رسی سے ہاتھ کھول لیے تھے اور ایک جوان سے رائفل چھین رہا تھا تو دوسرے جوان نے جو قریب ہی یہ تماشہ دیکھ رہا تھا سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے اپنے جوان کو بچاتے ہوئے ملزم پر فائرکرکے اُسے گرا دیا۔ اندر پکڑی ہوئی عورت اُن تینوں میں سے ایک کی بیوی تھی ۔

علاقہ  کا   SHO اور DSP بھی آگیا تھا ۔ اُس نے ایمبولنسس وغیرہ بُلا لی تھیں جیساکہ ہم سارے پچھلے 3 دنون سے کراچی کی سڑکوں  پر خوار ہو رہے تھے میں نے DSP علی رضا اور سجاد علی کو کہا کہ آپ اغواکار کی بیوی اور بچے کو لیڈیز تھانہ چھوڑ کر گھر چلے جائیں اور آرام کریں، اغوا کاروں کے لاشوں کی ذمہ داری علائقہ DSP اور SHO کے حوالے کردی اور میں بھی گھر روانہ ہوگیا،  راستے میں IG کمال شاہ صاحب اور CCPO صاحب کے فون آئے اور شاباش دے رہے تھے۔اورIG صاحب نے  دوسرے دن سارے ٹیم کے ساتھ CPO  آنے کا حُکم دیا۔

دوسرے دن IG کمال شاہ صاحب، CCPO کراچی  طارق جمیل صاحب اور DIG CIA منظور مغل صاحب نے ساری ٹیم کو تعریفی اسناد اور نقد انعام سے نوازا اور IG صاحب  لڑکی کی بازیابی کے متعلق ایک ایک تفصیل پوچھتے رہے، میں نے اُن کو بتایا ،

" ایک خاتون جس کے ساتھ ایک بچہ بھی ہے وہ ایک مارے گئے اغواکار کی بیوی ہے گرفتار ہوئی ہے میں اُس کو چھوڑنا چاہتا ہوں " ۔
 IG صاحب نے کہا " وہ  اغواکاروں کی مدد گار رہی ہے  اُس کو کیسے چھوڑا جاسکتا ہے ؟ "
میں نے اُن کو بتایا کہ”سر، جو لڑکی (فرح) خوف کے مارے اپنا نام تک غلط بتارہی تھی وہ عدالت میں گواہی کیا دے گی اور ہمارے کلچر کے مطابق عورت شوہر کو کیسے “نا” کر سکتی ہے ۔ دوسرا یہ کہ “ سر، ہم نے لڑکی کے شوہر سے اس وعدہ پر تعاون حاصل کیا ہے کہ کورٹ کچہری نہیں ہوگی"۔

اس موقعہ پر منظور مغل صاحب نے میرا ساتھ دیا  IG صاحب نے مسکرا کر کہا کہ
  “ کھوسہ صاحب جیسے آپ کی مرضی۔کیس آپ کے پاس ہے آپ صحیح فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں"۔
 میں نے IG صاحب کو مزید کہا کہ “ سر یہ خاتون کیلئے سزا کم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی لاش لیکر اپنے گھر جائے”
 کمال شاہ صاحب اردو پشتو کے مخصوص لہجے میں بولتے تھے میں اُن کے مخصوص لہجے کی وجہ اُن کی باتیں بڑی شوق سے سُنتا تھا وہ بات فوجی انداز میں کرتے تھے۔ نہایت پریکٹیکل کسی بھی وقت پرائیویٹ کار میں اپنے کسی گارڈ کے موبائل فون سے شہر کے کسی حصے میں کھڑے ہوکر 15 کو فون کرتے کہ میرا فون چھینا گیا ہے وہ 15 کا ریسپانس ٹائم چیک کرتے اور سزا اور جزا کا فیصلہ دو ٹوک انداز میں کرتے تھے۔

ہم سب CPO سے دفتر پہنچے۔  عورت کو بُلواکر کہا کہ وہ آزاد ہے ۔ بے شک  اپنے شوہر کی  لاش اپنے ساتھ لے جائے، ایمبولنس کا کرایہ وغیرہ ہم ادا کرتے ہیں، عورت اپنے شوہر کی لاش لے جانے پر راضی نہ ہوئی، میں نے اس شک پر خاتون سے کئی سوالات کر ڈالے کہ  یہ عورت بھی اغوا شدہ تو نہیں ؟

مگر اُس نے دو ٹوک انداز میں بتایا کہ اُس کی پیار کی شادی ہے، وہ ایک پڑھی لکھی سمجھدار اور مجبور خاتون تھی۔ میں نے دوسرے جرائم کے متعلق پوچھا تو اُس نے لاہور میں  اسی طرح کی 6 لڑکیوں کے اغوا اور تاوان  اور پنڈی سے 3 لڑکیوں کے اغوا اور تاوان کا بتایا ۔
میں نے اُس سے سوال کیاکہ  تم اپنے شوہر کا ساتھ نہ دیتیں انکار کردیتیں۔ اس نے کہا کہ “صاحب انکار کرتی تو مجھے طلاق ہو جاتی تو میں کیا کرتی  ؟ ہمارا معاشرہ اور رشتہ دار،  ایک طلاق یافتہ عورت کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ آپ کو نہیں پتہ؟" 
 میں اسی جواب کی توقع کررہا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ اپنی عورتوں اور بچوں کو روبوٹ کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔

میں نے خاتون کومشورہ دیا کہ وہ اپنے شوہر کی لاش لے جائے اور اپنی مرضی کی جگہ تدفین کرائے اور بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،

"  کل یہ بڑا ہوکر آپ سے پوچھے گا کہ والد کی قبر کہاں ہے ؟ "
خاتون سر سے انکار کرتے ہوئے اپنا دوپٹہ چہرے پر رکھ کر زار و قطار رونے لگی وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔

میں نے ایک افسر کو کہا کہ عورت کو پانچ ہزار روپیہ دے کر بس اڈے پر چھوڑ آئے  اور تفتیشی افسر کو کہا کہ کیس دفتر داخل کردے۔ عورت کی آزادی کا فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق کیا، غلط کیا یا صحیح کیا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔۔

دفتری کام سے  جن لوگوں سے روزبہ روز واسطہ پڑتا ہے، میں  اُن سے ذاتی میل جول اور روابط کا قائل نہیں ہوں، کیس ختم ہونے پر اُن کے فون نمبر وغیرہ ڈلیٹ کرکے اُن کو ذہن سے نکال دیتا ہوں، اور میری یہ بُری عادت ہے کہ میں لوگوں کو جلدی بھول جاتا ہوں، راستے اور نام تو مجھے یاد ہی نہیں رہتے۔؎

تقریباً ایک سال بعد Pc ہوٹل میں ایک شادی کی تقریب میں کھانے کے دو چمچ ہی لیے تھے تو ایک خوبرو نوجوان، جس ساتھ ایک خوبصورت لڑکی تھی  ، مجھے آکر  سلام کیا اور مجھے بتایا کہ “ کھوسہ صاحب یہ میری بیوی خالدہ ہے ابھی دو مہینے پہلے ہی ہماری شادی ہوئی ہے"۔
 میں نوجوان کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا، لڑکی نے بڑی گرمجوشی سے مجھے سلام کیا اور کہنے لگی ، 
" یہ ہمیشہ آپ کا ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے کس طرح ان کی پہلی بیوی فرح کو اغواکاروں کے چُنگل سے بازیاب کرایا تھا"۔
 مجھے یاد آگیا کہ یہ نوجوان تو لڑکی فرح کا شوہر ہے۔ میں نے نوجوان سے پوچھا ،
" فرح کہاں ہے؟ "
 تو نوجوان نے بتایا کہ فرح گھر واپس آنے کے بعد رات کو دھاڑیں مار کر روتی چیختی چلاتی تھی ہم نے کراچی کے بڑے بڑے نفسیاتی ڈاکٹروں سے اُس کا علاج کر وایا مگر وہ ٹھیک نہ ہوئی ڈاکٹروں کے مشورے سے گھر تبدیل بھی کر کے دیکھا مگر کوئی فائدہ  نہ ہوا ۔ 
بالآخر ہم نے اُسے نفسیاتی اسپتال ناظم آباد میں داخل کروا دیا ہے، مجھ سے تیسرا لقمہ لینا مشکل ہورہا تھا میں نے کھانے کی پلیٹ ٹیبل پر رکھ دی۔ اور اجازت طلب نظروں سے دونوں کو دیکھا۔
جس لڑکی کو اغوا کاروں سے واپس لانے کیلئے ہم نے دن رات ایک کردیا۔ اُس بیچاری کا اس طرح کا افسوس ناک انجام ہوگا یہ تو میرے وہم اور گمان میں نہ تھا۔
 نوجوان اور اُس کی بیوی کافی اصرار کر رہے تھے کہ کبھی اُن کے گھر کھانے پر آؤں  میں نے اُن کو کہا اگر کبھی موقعہ ملا تو ضرور چکر لگاؤں گا۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(اس رائیٹ اپ لکھنے کا اصل مقصد لوگوں میں جرائم کے متعلق ایک بیداری پیدا کرنا اور مُلک کو weapon free اسٹیٹ نہ بنانے کی وجہ سے معصوم لوگ کس قدر مصیبت کا شکار  ہیں ۔ اس کا اندازہ سیکورٹی کے حصار میں رہنے والی  ، پولیس، عدلیہ ، پارلیمنٹ اور دیگر  ادارے نہیں لگا سکتے۔
عوام کی قسمت کے فیصلے وہ لوگ کرتے ہیں :
جن کے ماہانہ تنخوا 20 لاکھ ہے۔ 

جن کے بچے بڑے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں،
 جن کا علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں ہوتا ہے،
جن کے گھروں سے بجلی کبھی  نہیں جاتی، 
جن کے گھروںمیں کبھی ڈاکہ،چوری ، اغوا،اور خون آلود لاش نہیں آئی،
اُن کو کیا پتہ کہ لوگ کن کن مصیبتوں سے گُذر رہے ہیں؟
 مُلک میں دہشتگردی سے لاکھوں لوگ مارے گئے ہم Good طالبان اور Bad طالبان کے نام پر لوگوں کو دلاسہ دیتے رہے۔  مگر جب APS پشاور کے سانحہ  میں،  ہمارے اپنے بچوں کی لاشیں گھر آئیں۔ تب ہم کو پتہ چلا کہ دہشت گردی کس چیز کا نام ہے ؟ 
اور ہم نے دہشتگردوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا، مُلک سیدھا کیسے نہیں ہوگا ؟ 
آپ آج شکار کی بندوق کے علاوہ سارے اسلحہ  پر پابندی لگاکر لوگوں کو ادائیگی کرکے اسلحہ واپس لیں۔
دوسرا ۔  ہم لوگ Cctv کیمرہ  کا پُرانا نظام بھی رائج نہ کرسکے۔  آجکل کا Cctv کیمرہ کانیا  نظام جو  Nadra سے منسلک ہوتا ہے   کیا لگائیں گے ؟ 
جو بندہ کیمرا کے زد میں آئیگا اُس کا نام اور تصویر اپنے پاس store کر لے گا بالکُل اس طرح جس طرح Facebook پر تصویر آپ لوڈ کریں تو اُس کا نام اُسی وقت آجاتا ہے،
 تیسرا ۔ آپ موٹر سائیکلوں،  کاروں اور سارے گاڑیوں کا مُلک گیر RF Identifier  سسٹم لگوائیں، آپ مُلک میں جہاں سے گزریں گے CCTV  سسٹم آپ نظر رکھے گا اور RF identifier یہ بتائے گا کہ آپ کون سی گاڑی استعمال کر رہے ہیں؟ 
آپ خود بتائیں کہ کون سا مائی کا لال کرائم کرے گا ؟
 ہمارا %95  جرائم تو یہ تین کام کرنے سے ختم ہو جائیں گے، صرف حُکم کی دیر ہے ۔ مگر مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس مُلک میں کچھ بھی نہیں ہونا)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Signal Private Messenger for Smartphone mobile:

Signal Private Messenger for Smartphones:

Click here ti install:

https://sgnl.link/1KpeYmF 

This app is compatible with all of your devices.Privacy is possible. Signal makes it easy.

Using Signal, you can communicate instantly while avoiding SMS fees, create groups so that you can chat in real time with all your friends at once, and share media or other files all with complete privacy. Signal's servers never have access to any of your communication and never store any of your data.

★ Say Anything. Signal uses an advanced end-to-end encryption protocol to keep your conversations private. Every message, every call, every time.

★ Open Source. Signal is Free and Open Source, enabling anyone to verify its security by auditing the code. Signal is the only private messenger that uses open source peer-reviewed cryptographic protocols to keep your messages and calls safe.

★ Be Yourself - Signal uses your existing phone number and address book. There are no separate logins, usernames, passwords, or PINs to manage or lose.

★ Group Chat. Signal allows you to create encrypted groups so you can have private conversations with all your friends at once. Not only are the messages encrypted, but the Signal server never has access to any group metadata such as the membership list, group title, or group icon.

★ Fast. The Signal protocol is designed to operate in the most constrained environment possible. Using Signal, messages are instantly delivered to friends.

★ Speak Freely - Make crystal-clear phone calls to people who live across town, or across the ocean, with no long-distance charges.

Signal is not currently compatible with tablets, but support for larger screens is on our roadmap and will be included in a future release!

For support, questions, or more information, please visit:
https://support.signal.org

More details:
https://www.signal.org/#encrypted_texts

Source code:
https://github.com/signalapp/Signal-Android

ہفتہ، 26 جنوری، 2019

سول سرونٹ سلیکشن انٹرویو

سلیکشن بورڈ !
پہلا  انٹرویور:  آپ ہوائی جہاز ✈ میں سفر کر رہے ہیں ۔ جس میں 500 اینٹیں ہیں ۔
 آپ نے ایک اینٹ نیچے پھینک دی ۔ باقی کتنی بچیں ؟
امیدوار : 499 

پہلا انٹرویور : بالکل ٹھیک ۔

دوسرا  انٹرویور :  ہاتھی کو تین اسٹیپ میں فریج میں کیسے رکھیں گے ؟

امیدوار : فرج کھولا ۔ ہاتھی رکھا ۔ فرج بند کر دیا ۔
دوسرا  انٹرویور : بالکل صحیح ۔
تیسرا  انٹرویور : ہرن کو چار اسٹیپ میں فرج کیسے رکھیں گے ۔

امیدوار : فرج کھولا ۔ ہاتھی نکالا ۔ ہرن کو ڈالا ۔ فرج بند کیا ۔
تیسرا  انٹرویور :   ٹھیک ہے ۔
چوتھا   انٹرویور :  شیر کی سالگرہ ہے ۔ تمام جانور آئے ہیں ۔ سوائے ایک کے ۔ وہ کون سا جانور ہے ؟👀

امیدوار : ہرن ۔ کیوں کہ وہ فرج میں ہے ۔
چوتھا   انٹرویور :  بالکل ٹھیک ۔
پانچواں انٹرویور : ایک بوڑھی عورت نے ایک جھیل پار کرنی ہے جس میں مگر مچھ رہتے ہیں ۔ وہ کیسے پار کرے ؟

امیدوار : بے فکر ہو کر پار کر لے ۔ سارے مگرمچھ شیر کی سالگرہ میں گئے ہوئے ہیں ۔☺

پانچواں انٹرویور :  ٹھیک ہے ،  مگر جھیل پار کرتے ہوئے بوڑھی عورت پھر بھی مر گئی ۔ بتائیں کیوں ؟

امیدوار : میرا خیال ہے کہ وہ ڈوب گئی ہو گی جھیل میں ؟
پہلا  انٹرویور:  : جی نہیں ۔ اس کے سر پر اوپر سے وه اینٹ آ کر گری ، جو آپ نے ہوائى جہاز سے پھينکى تھی ۔

پریذیڈنٹ آف دی بورڈ :  آپ اس نوکری کے قابل نہیں ہیں!
 آپ جا سکتے ہيں خدا حافظ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 24 جنوری، 2019

بابے ٹھرکی کیوں ہوتے ہیں؟

 عبدالمنان ایک دکاندا ر تھا۔ یہ کپڑے کی دکان کر تا تھا۔ یہ ایک متوسط درجے کا خوشحال انسان تھا۔ اس کی شادی اوائل جوانی میں ہی ہوگئی تھی۔ 
یہ چونکہ فکر معاش سے آزاد تھا ۔ لہذا ہرسال ایک نو مسلم  اس دنیا میں لانا اس نے اپنا شرعی، اخلاقی، قومی اور خاندانی فریضہ سمجھ لیا تھا۔ خاندانی فریضہ اِس طرح  کے اُس کے بعد  12  بہن بھائی اِس دنیائے فانی میں تشریف لائے ۔
 عبدالمنان کی زندگی ایک خوشگوار معمول کے مطابق گزرتی رہی۔ یہ اپنے بچوں اور بیوی سے بڑی محبت کرتاتھا۔ یہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ یہ ایک خوش مزاج اور   مزاح ی طبیعت کا انسان تھا۔ غصہ اِس کبھی چھو کر نہیں  گیا تھا ۔ اس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی جو اس کی فطرت بھی تھی اور دکانداری مجبور ی بھی۔ کیونکہ غصیلے دکاندار کے تو آئی فون بھی نہیں بکتے۔
وقت گزرتا گیا۔ عبدالمنان کے بچے بڑے ہوگئے یہ نویں دسویں کلاس تک پہنچ گئے۔ یہ چونکہ کم عمری میں ہی شادی کرچکا تھا لہذا اس کی عمر بھی “کھیلنے کھانے” کی تھی۔ یہ وہ اہم مقام تھا جہاں سے عبدالمنان کی زندگی نے ٹریجک ٹرن لیا۔
یہ جب بھی اپنی بیوی کے پاس بیٹھتا ، یہ جب بھی اس سے کوئی رومانوی چھیڑ چھاڑ کرتا ۔ اس کی زوجہ اسے ڈانٹ دیتی۔
” حیاکرو، بچے وڈّے ہوگئے نیں، تہانوں اپنے ای شوق چڑھے رہندے نیں"۔ 
عبدالمنان کی زندگی کے “معمولات” درہم برہم ہوگئے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طیش میں آ جاتا  چنانچہ  اس کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا۔ اُس کے بچّے اس کے ڈر سے گھر میں سہمے رہتے ۔ اس کی دکانداری پر بھی اثر پڑنے لگا۔ یہ گاہکوں سے بھی  الجھنے لگا۔ یہ معمولی باتوں پر تو تکار کرنے لگا۔ لوگ حیران تھے کہ عبدالمنان ، جو ایک خو ش مزاج اور جولی انسان تھا ، اس کی یہ حالت کیونکر اور کیسے ہوئی؟
یہی وہ المیہ ہے جو پاکستانی بابوں کو ڈیسنٹ بابے کی بجائے چاچا کرمو ٹائم پیس جیسے بابوں میں بدل دیتا ہے۔
 یہ جیسے ہی ادھیڑ عمری کی منزل پار کرتے ہیں۔ ان کی زوجہ ، بیوی سے مزار کا روپ دھار لیتی ہے۔ 
اُس کے پاس سے اگربتیوں کی خوشبو اور قوالیوں کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ اُس کے پاس بیٹھنا تو درکنا ر اس کی طرف پشت کرنا بھی بے ادبی شمار ہوتا ہے۔
 یہ وہی بیوی ہوتی ہے جوشادی کے پہلے سال خاوند کے گھر آنے پر مور نی کی طرح “پیلیں” پارہی ہوتی تھی۔
اب یہ خانقاہ کا مجاور بن جاتی ہے ۔یہ بابے کی زندگی میں ایک ایسی “کسک” بھردیتی ہے جس کی وجہ سے بابا، کپتّا، سڑیل اور ٹھرکی ہوجاتا ہے۔
آپ کسی محلّے میں چلے جائیں ۔ آپ گلیوں میں تھڑوں پر بیٹھے بابوں کو چیک کرلیں۔ یہ سب زندگی سے بے زار بیٹھے ہوتے ہیں۔ 
یہ ہر بچے کو جھڑکتے ہیں اور ہر بچّی کو تاڑتے ہیں۔
 یہ بابے بے قصور ہیں۔ ان کی مائیوں نے ان کا یہ حال کیا ہے۔
 آپ دبئی چلے جائیں، آپ بنکاک چلے جائیں۔ آپ ملائشیا چلے جائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے ۔ آپ دیکھیں گے کہ گورے   مائیاں  اور بابے کیسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سیریں کرتے ہیں۔

 یہ سر عام “اظہار محبت” بھی کرتے ہیں۔یہ ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈالے عاشقی ٹُو جیسے سین بناتے ہیں۔
 جبکہ پاکستانی بابوں کو یہ موقع تنہائی میں بھی نہیں ملتا۔ ان کی آخر ی عمر تبلیغی جماعت میں  حوروں کی امید پر گزرجاتی ہے۔
جب تک ہم بابوں کے مسائل کو سمجھیں گے نہیں۔
 جب تک ہم ان کو حل کرنے کے لیے ان کی مائیوں کو کنونس نہیں کریں گے۔
 پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔
 خواہ ، بجٹ کا خسارہ ہویا لوڈشیڈنگ۔
 ڈرون حملے ہوں یا کیبل پر انڈین چینلز۔
 امن و امان کا مسئلہ ہو یا پرویز خٹک کی صحت۔
 عائلہ ملک کی دوسری شادی ہو یا شہباز شریف کی چوتھی  شادی ۔ 
کیوں کہ بابوں کے دماغوں میں اُٹھتے ہوئے  بھانبڑ   پر محبت کا عرقِ گلاب نہ چھڑکا جائے ۔ 
یہ  بابے اپنے اپنے پروفیشن میں ماہر ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی مائیوں کی بے اعتنائی انہیں ہر چیز سے متنفر کرکے سڑیل اور کوڑا کردیتی ہے۔
 یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے یہ صرف تھڑوں پر بیٹھ کر سڑ سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بالا مضمون وٹس ایپ ہوا تھا اور جس نے وٹس ایپ کیا  وہ  تقریباً چالیس سالہ نوجوان  ۔
حیرت ہوئی سوال کیا ،" لیکن نوجوان  آپ تو ابھی  بابے نہیں بنے  ؟ "
" بنا تو نہیں البتہ بنا دیا گیا ہوں " جواب ملا 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دودہشت گردوں کا معصوم کِٹّو پر حملہ اور قتل

 آج برفی کی براؤن کیٹ   " کِٹّو "  کو گھر کے سامنے دو (براؤن اور سفید) ظالم آوارہ اور ناہنجار، کتے مار کر کھا گئے ۔۔ ۔ ۔ ! 
    بوڑھا ابھی اپنے چھ عدد کڑیل جوان چوزوں   اور  حکومت کے ضمنی بجٹ  کا دکھ نہ سہہ پایا تھا کہ یہ افسوسناک سانحہ  برداشت کرنا پڑا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تفصیلات کے مطابق :
 بوڑھا اور بڑھیا اپنی دوائیاں لینے ہسپتال گئے اور وہاں سے اسلام آباد چم چم کی خالہ اور برفی کی پھپو کی عیادت کے لئے اُس کے گھر گئے، شام کو چار بجے واپس آئے تو بالا بریکنگ نیوز ملی ۔ 
فوراً چم چم کی وہائیٹ کیٹ " بِٹّو" کی تلاش ہوئی۔

 وہ درخت کی سب سے اونچی چوٹی پر سہمی ہوئی بیٹھی تھی ۔ جب اُس نے بوڑھے کی آوازسنی تو نیچے اتری ۔ سیکیورٹی والوں کو بوڑھے نے بلایا اور باقائدہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف کمپلین لانچ کی ۔ 
مزید تفصیلات  کے مطابق   تقریباً دس بجے  جب بوڑھا اور  بڑھیا  گھر سے روانہ ہوئے تو  بِٹّو اور کِٹّو  پورچ میں کرسی پر بیٹھی سن باتھ کر رہی تھیں ،  جب بوڑھا اور بڑھیا ہسپتال پہنچے اور بڑھیا نے بلڈ ٹیسٹ کے لئے سیمپل دیا تو معلوم ہوا  کہ تین گھنٹے بعد رپورٹ ملے گی ! !!
اب یہ تین گھنٹے کہاں گذارے جائیں ؟
سوچا کہ
چم چم کی خالہ اور برفی کی پھپو کی عیادت کے لئے اُس کے گھرجایا جائے کہ وہ گھر پر آرام کر رہی ہے ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ !
اِس سے پہلے اپنے  گھر جا کر اُس کے لئےکچھ چیزیں لے لیں ۔ چنانچہ گھر واپس آئے ۔ گاڑی دروازے کے پاس آکر روکی ، تو
  بِٹّو اور کِٹّو   سامنے سے دوڑتی ہوئی آئی اور چھوٹے دروازے کے پاس آکر معصومیت سے بیٹھ  کر یہ ظاہر کرنے لگیں کہ وہ گھر سے دور کہیں نہیں گئیں ۔ 
بڑھیا نے اپنی چیزیں اٹھائیں  بوڑھے نے   بِٹّو اور کِٹّو کو اُن کی خوراک دی کیوں کہ وہ دونوں اُس  کے  ٹانگوں میں پھرکی کی طرح چکر لگا رہی تھیں ۔
اُنہیں خوراک ملی تو وہ خوار ک کی طرف لپک گئیں ۔
" گھر سے باہر نہ جانا " بڑھیا نے گُھرکی دی ۔

اور بوڑھا اور بڑھیا ، بقائم ہوش و حواس ،   بِٹّو اور کِٹّو  کو زندہ  چھوڑ کر ،  اسلام آباد  (دھونسی)  سے اسلام آباد( اصلی) کی طرف روانہ ہو گئے جن کے درمیان 25 کلومیٹر طویل پنڈی ہے۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 15 جنوری، 2019

سستی عطائیت اور مہنگا ڈاکٹر ۔

 پنجاب میں عطائیوں (ڈسپنسر,بی فارماسسٹ,ڈی ایچ ایم ایس) کو پنجاب پولیس پکڑ کر ایک ہفتہ میں رپورٹ پیش کرے چیف جسٹس پاکستان۔

 جبکہ باقی تین صوبے بشمول فاٹا ,گلگت بلتستان مکمل عطائیت کے سپرد !
 چیف جسٹس صاحب کیا پنجاب کے لوگ بہت زیادہ پیسے والے ہیں ؟

کہ وہ صرف ایم بی بی ایس سے ہی اپنا علاج کروائیں چاہے تھکاوٹ ہی ہو یا سر درد علاج صرف ایم بی بی ایس پانچ سو روپیہ فیس لے کر دوائی لکھ کر دے گا یاں پھر ڈی ایچ کیو,آر ایچ سی ,بی ایچ یو سے جاکر پہلے 5 روپیہ کی پرچی بنوائی جائے پھر دو گھنٹے لائن میں لگ کر ایک دو پیناڈول لے کر  کھائے ؟
واہ رے چیف جسٹس تیری عظمت کو سلام!
کم از کم یہ اعلان تو کر دیتے کہ گاؤں دیہات کے اندر کم از کم ایک ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر لایا جائے۔ جس گاؤں میں آر ایچ سی یا بی ایچ یو موجود ہے وہاں دن رات ڈاکٹر کی سہولت موجود ہو اور اس ادارے کے پاس ایک ایمبولینس لازمی ہو تاکہ مریض کو ٹی ایچ کیو یاں ڈی ایچ کیو منتقل کیا جا سکے۔
چیف جسٹس صاحب آپ کا توصرف حکم ہی چلنا ہے مگر مرنا ہم گاؤں دیہات کے لوگوں نے ہی ہے کہ جو مزدور بے چارہ پانچ سو روپیہ روزانہ کی بنیاد پر کماتا ہے وہ گاؤں کے عطائی سے جا کر دس روپیہ میں ایک خوراک لے کر اللہ کا شکر کر کے دوبارہ پھر اپنی مزدوری میں لگ جاتا ہے۔

 اس کے علاوہ چیف جسٹس صاحب آپ خفیہ ذرائع استعمال کرکے معلومات اکھٹی کر لیتے کہ عطائی ڈسپنسر بیچارہ دوائی دینے سے پہلے دس بار سوچتا ہے کہ اگر اس کے مریض کو کوئی نقصان ہوگیا تو اس کو اپنی جان کے لالے پڑ جائینگے ۔
لہذا، بیچارہ عطائی پیناڈول فلائی جل اور ڈکلوفینک کے علاوہ دوائی نہیں دیتا کیونکہ ایک تو یہ ادویات سستی ہیں اور دوسرا فرسٹ جنریشن ہونے کی بدولت بے ضرر بھی ،

جبکہ اس کے برعکس آپ کے ایم بی بی ایس ڈبل کی بجائے ٹرپل ٹرپل اینٹی بائیوٹک تک استعمال کروا دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سند موجود ہوتی ہے ۔ خدانخواستہ مریض مرنے کی صورت میں اس کی سند اس کیلئے لائسنس کا کام کرتی ہے اور اسے جیل کی سلاخوں سے بچاتی ہے
کیا ہی اچھا ہوتا چیف جسٹس صاحب اگر آپ ایم بی بی ایس کی فیس لمٹ مقرر کر دیتے تاکہ پانچ سو روزانہ کمانے والا مزدور شاید ایک سو روپیہ میں عطائی کی جگہ ایم بی بی ایس سے دوائی حاصل کر سکتا
یاں پھر ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ جس طرح حکومت پنجاب نے ہر گاؤں کے اندر کمیونٹی مڈ وائف ٹرینڈ کر کے بٹھائی اس سے عام روایتی دائیہ کا خاتمہ ہو گیا اسی طرح ہر گاؤں کے اندر ایم بی بی ایس کو بٹھایا جاتا تاکہ عطائیت اپنی موت آپ مر جاتی۔
کیا ہی اچھا ہوتا چیف جسٹس صاحب:
٭- اگر آپ ڈرگ کنٹرول سسٹم کے ذریعے ایم بی بی ایس کو بھی مانیٹر کریں کہ وہ مریض سے جائز فیس لے اور ملٹی نیشن کمپنی کی دوائی تجویز کرے ۔

٭ سرکاری نوکری والے ڈاکٹر پر پابندی ہوکہ وہ لاکھوں روپیہ تنخواہ لینے کے باوجود پرائیویٹ پریکٹس نا کر سکے تاکہ مریض کواپنے پرائیویٹ کلینک پر بلوا کر لوٹ نا سکے۔
٭-اس کیساتھ ساتھ دو نمبر فارماسیویکل کمپنیوں کی تالا بندی کا حکم بھی جاری ہوجاتا تاکہ وہ کمپنیاں بذریعہ میڈیکل ریپ ڈاکٹرز کو لالچ دے کر اپنی پراڈکٹ مارکیٹ میں نا بیچ سکیں !

کاش کہ عطائیت کے خاتمے کیساتھ درج بالا ہدایات پر بھی عمل پیرا ہو!
ورنہ حضور والا غریب عوام ایم بی بی ایس کے پاس جانے کے بجائے اپنا علاج خود ہی کرے گی

کیوں پانچ سو روپیہ میں کسی کوالیفائڈ ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا پھر میڈیکل سٹور سے دوائی خریدنا ناممکن ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بزنس میں بے انتہا برکت


جمعرات، 10 جنوری، 2019

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -6

وجوانو !
یہ یزیدیت کی ایک نہایت گھٹیا مثال ہے ۔
لیکن پترو کیا یہ ممکن ہے کہ محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟

 سوچو ؟؟؟؟؟؟؟
یہ کہہ کر بوڑھا اُٹھا، گم سُن   نوجوانوں کو اُس کی لاٹھی ، کی پکے فرش پر پڑھنے والی خفیف ضرب  سناٹے میں ، ٹک ، ٹک ،ٹک کر دور معدوم ہوتے سنائی دی لیکن اُن کے دماغ میں ابھرتی ہوئی گونج ، 
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
محرّم کا مہینہ ہو اوریزیدیت جیت جائے ؟
ماحول پر حاوی ہو گئی  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پارٹ - 5٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭پارٹ -1 

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -5

بوڑھا ، گویا ہوا !
 نوجوانو ! کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس اِس شہر میں رہنے کو مکان نہیں  ، بے گھر  ہوں !"تو نوجوانو!
 لوہار کا بیٹا پھر  آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کو  گھر لازمی ملنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس  بے گھر نوجوان، کو گھر بنانے کے لئے ، صرف چار کنال کا پلاٹ  دان کر دیا ۔

  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " سراسر جھوٹ ہے ، وہ تو خود کروڑ پتی تھا ۔"
مردِ دانا و بینا  نے ، نوجوان کی طرف دیکھا ، اور دل میں سوچا، 
 اچھل کود کی کمائی کھانے والا ، شراب و شباب پر اُڑانے والا ،  وہ نوجوان کسی کا پتی نہیں بن سکا تو کروڑ پتی کیسے بنتا ؟
چنانچہ اُس نے بجائے اپنی سوچ کا اظہار کرنے ، داستان کو جاری رکھا !
  نوجوانو ، آپ یہ سوچ رہے ہوگے ، کہ درخواست لوہار کے بیٹے کو کی جاتی ، تو لوہار  بیچ میں کیسے آجاتا ؟ ہے نا حیرت کی بات !
شاید آپ کی مائیں آپ کو لے کر بچپن میں علیحدہ ہوگئی ، یا آپ کے دادا نے آپ کی ماؤں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ، اِسی لئے آپ ایک  مشرقی کنبے  کے بارے میں کم جانتے ہو۔
ہمارا مشرقی کنبہ ، جس میں اولاد چاہے دنیا کی نظروں میں کتنی ہی طاقتور یا بااثر کیوں نہ ہوجائے ، اپنے باپ کو ہمیشہ اپنا سر پرست سمجھتی ہے  اور باپ خاندان کا سربراہ رہتا ہے ، جس کی ابرو کے معمولی سے  اشارے پر اولاد اُس محفل سے کھسک جاتی ہے ، جہاں باپ اُن کا موجود ہونا پسند نہ کرے !
وہ ایسے خاندان کا سربراہ نہیں ہوتا ، کہ کینسر سے مرنے والی بیوی کی خواہش پوری نہ کر سکتا ہو اور  اکلوتا بیٹا ، صرف   پیسوں نہیں بلکہ عورتوں کی خاطر،  ماں  کے بستر مرگ کو چھونے بلکہ دفنانے تک نہ آسکتا ہو ۔
  نہ نہ   نوجوانو ! نہ ۔وہ معمولی  لوہار  ، ایک مشرقی قدروں کے ا مین خاندان کا سربراہ تھا ، جس کے بیٹے ملک پر حکمرانی کرنے لگے تھے ، لیکن اپنے  کاروبار اور خاندان  کو وہی چلا رہا تھا ۔اُس کے  دونوں بیٹے ملکہ کے اعلیٰ عہدیدار تھے ، لیکن  اپنے خاندان کا وہی سرپرست تھا ، بیٹے اپنے باپ کی سرپرستی میں بے فکر تھے ۔ اُس کے پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں ، ہر چیز اُس سے مانگتے ، وہ اُن کے لاڈ اُٹھاتا ۔ بیٹے اُس کے سامنے سر جھکاتے ! مغربی اقدار کے پرستاروں کو یہ بات چبھتی  تھی ، کہ جن مشرقی اقداروں کو اُنہوں نے مغربی اقدار پر قربان کر دیا وہ اُن کے ملک میں کیسے پنپ رہی ہیں ؟

تو نوجوانو! اصل بات یہ ہے ، کہ لوہار نے ملکہ کا تاج   ، ملکہ سے عوام کی قوت سے خرید لیا تھا ، جس کی اُس کے نزدیک  لوہے سے بھی کم قیمت تھی اور وہ اُس نے اپنے پوتوں کو کھیلنے کے لئے دے دیا ۔ 
وہ نوجوان یاد ہے ، نا ؟
 جو درخواستیں اٹھائے پھرتا تھا! اُس نے پہلی بار مُلک   میں نوجوانوں کو گالیوں ، طعنوں ، جھوٹ اور  ناچنے کی تربیت دینا شروع کر دی ۔ تاکہ  مشرقی ملک میں مغربی اقدار  کے  تسلط کو پھیلایا  جائے ۔  جب اُس نے دیکھا کہ اخلاقی قدروں کی کمزور لوگ اُس کے ارد گرد جمع ہو گئے ، تو اُس نے اپنے محسن و مربّی پر  الزام لگا دیا ، کیا ؟
  " تاج ، لوہار کے بیٹے نے ،    اپنی بیٹی اور داماد کی مدد سے چرایا "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   پارٹ - 4٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 6


بدھ، 9 جنوری، 2019

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -4

نوجوانو  !آپ  پڑھے لکھے ہو ، شرارت کے ساتھ بُردباری بھی آپ کے چہروں سے چھلک رہی ہے ،وہ محاورہ تو آپ سنے سنا ہوگا ،
دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں !
لوہار کو یہ سب معلوم تھا  ،  اُسے معلوم تھا کہ ملک کی معیشت کو خون پسینہ فراہم کرنے والا، شہد کی مکھی کی طرح  طبقہ ،  ایک کمزور طبقہ ہوتا ہے ، طاقتور طبقہ وہی ہوتا ہے جو کاروباری طبقے اور عوام کے لگائے گئے ٹیکسوں پر موجیں کرتا ہے اور محلات میں رہتا ہے ، اور اپنی شان بڑھانے کے لئے خالص سونے کا تاج   اور جس میں چھین کر جوڑا ہوا ہیرا،     بادشاہ  یا ملکہ ، تخت ، تخت  والا کھیل کھیلتے ہیں ۔جس کی مدد وزیراعظم کرتا ہے  لیکن  تختہ دار پر وزیر اعظم چڑھتا   ، ملکہ اپنا تاج  سجائے بیٹھی رہتی  کیوں کہ وہ ہتھیار بند   محافظوں کے نرغے میں ہوتی ہے ، اُسے کون ہاتھ لگائے ؟  جوان  ملکہ ہو یا بوڑھی  مقدّس کہلاتی ہے ۔
تو نوجوانو !    اُس  مردم گذیدہ  بلکہ شاہان گذیدہ ، حالات کے تھپیڑوں   سے گذرنے والے  لوہار نے ،  حکمرانی تلاطم  کے سنڈاس    سے نکلنے والی باس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا  اور اپنے  خاندان کو   حکمرانی کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ 
لیکن کیا یہ ممکن تھا ؟
مگر ایک لوہار نے ممکن بنایا ۔ اُس نے نہ صرف    اپنے بیٹوں کو ملک  کے اعلیٰ عہدوں تک ، عوام کی مدد سے پہنچایا بلکہ اپنے برے وقت کے لئے ملک سے باہر ، ملکہ  کی حواریوں کی طرح  جائدادیں بھجوانا شروع کر دیں  ، جن جائدادوں کے لئے  ملکہ کے حواری تتلیوں کے پروں میں چھپا کر سفید پوڈر  باہر بھیجا کرتے تھے  ، لوہار نے اپنی کمائی ہوئی دولت ، ملکہ کے ہی خدّاموں  کے ذریعے باہر بھجوانا شروع کر دی ۔ 
 پہلی کہانی سنانے والے نوجوان کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے دیکھ کر بوڑھا ، گویا ہوا !
نوجوانو ! شاید اُس وقت  آپ  نیکر پہن کر ماں کی انگلی پکڑ کر سکول جاتے ہو گے، جب  لوہار کے بیٹے کو ایک درخواست ملی ،
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح 
ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ، اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، ایک چار ایکڑ زمین کا ٹکڑا دے دیا ۔
کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس رقم نہیں  کہ میں اپنا خواب شرمندہءِ تعبیر کروں ، لاچار ہوں !"
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
 چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان، کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، 50 کروڑ  ملکی کرنسی  جس کی مالیت، فرنگی کرنسی میں 23 کروڑ ڈالر بنی تھی ، جو آج ملکی کرنسی میں  2 ارب 80 کروڑ بنتی ہے  ۔  
کتنی  ؟    2 ارب 80 کروڑ
  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " ناممکن  ، یہ سب جھوٹ ہے "
  ٭٭٭٭٭٭
   پارٹ - 3٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 5

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔