میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 10 جنوری، 2019

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -5

بوڑھا ، گویا ہوا !
 نوجوانو ! کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس اِس شہر میں رہنے کو مکان نہیں  ، بے گھر  ہوں !"تو نوجوانو!
 لوہار کا بیٹا پھر  آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کو  گھر لازمی ملنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس  بے گھر نوجوان، کو گھر بنانے کے لئے ، صرف چار کنال کا پلاٹ  دان کر دیا ۔

  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " سراسر جھوٹ ہے ، وہ تو خود کروڑ پتی تھا ۔"
مردِ دانا و بینا  نے ، نوجوان کی طرف دیکھا ، اور دل میں سوچا، 
 اچھل کود کی کمائی کھانے والا ، شراب و شباب پر اُڑانے والا ،  وہ نوجوان کسی کا پتی نہیں بن سکا تو کروڑ پتی کیسے بنتا ؟
چنانچہ اُس نے بجائے اپنی سوچ کا اظہار کرنے ، داستان کو جاری رکھا !
  نوجوانو ، آپ یہ سوچ رہے ہوگے ، کہ درخواست لوہار کے بیٹے کو کی جاتی ، تو لوہار  بیچ میں کیسے آجاتا ؟ ہے نا حیرت کی بات !
شاید آپ کی مائیں آپ کو لے کر بچپن میں علیحدہ ہوگئی ، یا آپ کے دادا نے آپ کی ماؤں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ، اِسی لئے آپ ایک  مشرقی کنبے  کے بارے میں کم جانتے ہو۔
ہمارا مشرقی کنبہ ، جس میں اولاد چاہے دنیا کی نظروں میں کتنی ہی طاقتور یا بااثر کیوں نہ ہوجائے ، اپنے باپ کو ہمیشہ اپنا سر پرست سمجھتی ہے  اور باپ خاندان کا سربراہ رہتا ہے ، جس کی ابرو کے معمولی سے  اشارے پر اولاد اُس محفل سے کھسک جاتی ہے ، جہاں باپ اُن کا موجود ہونا پسند نہ کرے !
وہ ایسے خاندان کا سربراہ نہیں ہوتا ، کہ کینسر سے مرنے والی بیوی کی خواہش پوری نہ کر سکتا ہو اور  اکلوتا بیٹا ، صرف   پیسوں نہیں بلکہ عورتوں کی خاطر،  ماں  کے بستر مرگ کو چھونے بلکہ دفنانے تک نہ آسکتا ہو ۔
  نہ نہ   نوجوانو ! نہ ۔وہ معمولی  لوہار  ، ایک مشرقی قدروں کے ا مین خاندان کا سربراہ تھا ، جس کے بیٹے ملک پر حکمرانی کرنے لگے تھے ، لیکن اپنے  کاروبار اور خاندان  کو وہی چلا رہا تھا ۔اُس کے  دونوں بیٹے ملکہ کے اعلیٰ عہدیدار تھے ، لیکن  اپنے خاندان کا وہی سرپرست تھا ، بیٹے اپنے باپ کی سرپرستی میں بے فکر تھے ۔ اُس کے پوتے پوتیاں ، نواسے نواسیاں ، ہر چیز اُس سے مانگتے ، وہ اُن کے لاڈ اُٹھاتا ۔ بیٹے اُس کے سامنے سر جھکاتے ! مغربی اقدار کے پرستاروں کو یہ بات چبھتی  تھی ، کہ جن مشرقی اقداروں کو اُنہوں نے مغربی اقدار پر قربان کر دیا وہ اُن کے ملک میں کیسے پنپ رہی ہیں ؟

تو نوجوانو! اصل بات یہ ہے ، کہ لوہار نے ملکہ کا تاج   ، ملکہ سے عوام کی قوت سے خرید لیا تھا ، جس کی اُس کے نزدیک  لوہے سے بھی کم قیمت تھی اور وہ اُس نے اپنے پوتوں کو کھیلنے کے لئے دے دیا ۔ 
وہ نوجوان یاد ہے ، نا ؟
 جو درخواستیں اٹھائے پھرتا تھا! اُس نے پہلی بار مُلک   میں نوجوانوں کو گالیوں ، طعنوں ، جھوٹ اور  ناچنے کی تربیت دینا شروع کر دی ۔ تاکہ  مشرقی ملک میں مغربی اقدار  کے  تسلط کو پھیلایا  جائے ۔  جب اُس نے دیکھا کہ اخلاقی قدروں کی کمزور لوگ اُس کے ارد گرد جمع ہو گئے ، تو اُس نے اپنے محسن و مربّی پر  الزام لگا دیا ، کیا ؟
  " تاج ، لوہار کے بیٹے نے ،    اپنی بیٹی اور داماد کی مدد سے چرایا "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   پارٹ - 4٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 6


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔