میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 24 جنوری، 2019

دودہشت گردوں کا معصوم کِٹّو پر حملہ اور قتل

 آج برفی کی براؤن کیٹ   " کِٹّو "  کو گھر کے سامنے دو (براؤن اور سفید) ظالم آوارہ اور ناہنجار، کتے مار کر کھا گئے ۔۔ ۔ ۔ ! 
    بوڑھا ابھی اپنے چھ عدد کڑیل جوان چوزوں   اور  حکومت کے ضمنی بجٹ  کا دکھ نہ سہہ پایا تھا کہ یہ افسوسناک سانحہ  برداشت کرنا پڑا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تفصیلات کے مطابق :
 بوڑھا اور بڑھیا اپنی دوائیاں لینے ہسپتال گئے اور وہاں سے اسلام آباد چم چم کی خالہ اور برفی کی پھپو کی عیادت کے لئے اُس کے گھر گئے، شام کو چار بجے واپس آئے تو بالا بریکنگ نیوز ملی ۔ 
فوراً چم چم کی وہائیٹ کیٹ " بِٹّو" کی تلاش ہوئی۔

 وہ درخت کی سب سے اونچی چوٹی پر سہمی ہوئی بیٹھی تھی ۔ جب اُس نے بوڑھے کی آوازسنی تو نیچے اتری ۔ سیکیورٹی والوں کو بوڑھے نے بلایا اور باقائدہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف کمپلین لانچ کی ۔ 
مزید تفصیلات  کے مطابق   تقریباً دس بجے  جب بوڑھا اور  بڑھیا  گھر سے روانہ ہوئے تو  بِٹّو اور کِٹّو  پورچ میں کرسی پر بیٹھی سن باتھ کر رہی تھیں ،  جب بوڑھا اور بڑھیا ہسپتال پہنچے اور بڑھیا نے بلڈ ٹیسٹ کے لئے سیمپل دیا تو معلوم ہوا  کہ تین گھنٹے بعد رپورٹ ملے گی ! !!
اب یہ تین گھنٹے کہاں گذارے جائیں ؟
سوچا کہ
چم چم کی خالہ اور برفی کی پھپو کی عیادت کے لئے اُس کے گھرجایا جائے کہ وہ گھر پر آرام کر رہی ہے ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ !
اِس سے پہلے اپنے  گھر جا کر اُس کے لئےکچھ چیزیں لے لیں ۔ چنانچہ گھر واپس آئے ۔ گاڑی دروازے کے پاس آکر روکی ، تو
  بِٹّو اور کِٹّو   سامنے سے دوڑتی ہوئی آئی اور چھوٹے دروازے کے پاس آکر معصومیت سے بیٹھ  کر یہ ظاہر کرنے لگیں کہ وہ گھر سے دور کہیں نہیں گئیں ۔ 
بڑھیا نے اپنی چیزیں اٹھائیں  بوڑھے نے   بِٹّو اور کِٹّو کو اُن کی خوراک دی کیوں کہ وہ دونوں اُس  کے  ٹانگوں میں پھرکی کی طرح چکر لگا رہی تھیں ۔
اُنہیں خوراک ملی تو وہ خوار ک کی طرف لپک گئیں ۔
" گھر سے باہر نہ جانا " بڑھیا نے گُھرکی دی ۔

اور بوڑھا اور بڑھیا ، بقائم ہوش و حواس ،   بِٹّو اور کِٹّو  کو زندہ  چھوڑ کر ،  اسلام آباد  (دھونسی)  سے اسلام آباد( اصلی) کی طرف روانہ ہو گئے جن کے درمیان 25 کلومیٹر طویل پنڈی ہے۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔