میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 15 جنوری، 2019

سستی عطائیت اور مہنگا ڈاکٹر ۔

 پنجاب میں عطائیوں (ڈسپنسر,بی فارماسسٹ,ڈی ایچ ایم ایس) کو پنجاب پولیس پکڑ کر ایک ہفتہ میں رپورٹ پیش کرے چیف جسٹس پاکستان۔

 جبکہ باقی تین صوبے بشمول فاٹا ,گلگت بلتستان مکمل عطائیت کے سپرد !
 چیف جسٹس صاحب کیا پنجاب کے لوگ بہت زیادہ پیسے والے ہیں ؟

کہ وہ صرف ایم بی بی ایس سے ہی اپنا علاج کروائیں چاہے تھکاوٹ ہی ہو یا سر درد علاج صرف ایم بی بی ایس پانچ سو روپیہ فیس لے کر دوائی لکھ کر دے گا یاں پھر ڈی ایچ کیو,آر ایچ سی ,بی ایچ یو سے جاکر پہلے 5 روپیہ کی پرچی بنوائی جائے پھر دو گھنٹے لائن میں لگ کر ایک دو پیناڈول لے کر  کھائے ؟
واہ رے چیف جسٹس تیری عظمت کو سلام!
کم از کم یہ اعلان تو کر دیتے کہ گاؤں دیہات کے اندر کم از کم ایک ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر لایا جائے۔ جس گاؤں میں آر ایچ سی یا بی ایچ یو موجود ہے وہاں دن رات ڈاکٹر کی سہولت موجود ہو اور اس ادارے کے پاس ایک ایمبولینس لازمی ہو تاکہ مریض کو ٹی ایچ کیو یاں ڈی ایچ کیو منتقل کیا جا سکے۔
چیف جسٹس صاحب آپ کا توصرف حکم ہی چلنا ہے مگر مرنا ہم گاؤں دیہات کے لوگوں نے ہی ہے کہ جو مزدور بے چارہ پانچ سو روپیہ روزانہ کی بنیاد پر کماتا ہے وہ گاؤں کے عطائی سے جا کر دس روپیہ میں ایک خوراک لے کر اللہ کا شکر کر کے دوبارہ پھر اپنی مزدوری میں لگ جاتا ہے۔

 اس کے علاوہ چیف جسٹس صاحب آپ خفیہ ذرائع استعمال کرکے معلومات اکھٹی کر لیتے کہ عطائی ڈسپنسر بیچارہ دوائی دینے سے پہلے دس بار سوچتا ہے کہ اگر اس کے مریض کو کوئی نقصان ہوگیا تو اس کو اپنی جان کے لالے پڑ جائینگے ۔
لہذا، بیچارہ عطائی پیناڈول فلائی جل اور ڈکلوفینک کے علاوہ دوائی نہیں دیتا کیونکہ ایک تو یہ ادویات سستی ہیں اور دوسرا فرسٹ جنریشن ہونے کی بدولت بے ضرر بھی ،

جبکہ اس کے برعکس آپ کے ایم بی بی ایس ڈبل کی بجائے ٹرپل ٹرپل اینٹی بائیوٹک تک استعمال کروا دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سند موجود ہوتی ہے ۔ خدانخواستہ مریض مرنے کی صورت میں اس کی سند اس کیلئے لائسنس کا کام کرتی ہے اور اسے جیل کی سلاخوں سے بچاتی ہے
کیا ہی اچھا ہوتا چیف جسٹس صاحب اگر آپ ایم بی بی ایس کی فیس لمٹ مقرر کر دیتے تاکہ پانچ سو روزانہ کمانے والا مزدور شاید ایک سو روپیہ میں عطائی کی جگہ ایم بی بی ایس سے دوائی حاصل کر سکتا
یاں پھر ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ جس طرح حکومت پنجاب نے ہر گاؤں کے اندر کمیونٹی مڈ وائف ٹرینڈ کر کے بٹھائی اس سے عام روایتی دائیہ کا خاتمہ ہو گیا اسی طرح ہر گاؤں کے اندر ایم بی بی ایس کو بٹھایا جاتا تاکہ عطائیت اپنی موت آپ مر جاتی۔
کیا ہی اچھا ہوتا چیف جسٹس صاحب:
٭- اگر آپ ڈرگ کنٹرول سسٹم کے ذریعے ایم بی بی ایس کو بھی مانیٹر کریں کہ وہ مریض سے جائز فیس لے اور ملٹی نیشن کمپنی کی دوائی تجویز کرے ۔

٭ سرکاری نوکری والے ڈاکٹر پر پابندی ہوکہ وہ لاکھوں روپیہ تنخواہ لینے کے باوجود پرائیویٹ پریکٹس نا کر سکے تاکہ مریض کواپنے پرائیویٹ کلینک پر بلوا کر لوٹ نا سکے۔
٭-اس کیساتھ ساتھ دو نمبر فارماسیویکل کمپنیوں کی تالا بندی کا حکم بھی جاری ہوجاتا تاکہ وہ کمپنیاں بذریعہ میڈیکل ریپ ڈاکٹرز کو لالچ دے کر اپنی پراڈکٹ مارکیٹ میں نا بیچ سکیں !

کاش کہ عطائیت کے خاتمے کیساتھ درج بالا ہدایات پر بھی عمل پیرا ہو!
ورنہ حضور والا غریب عوام ایم بی بی ایس کے پاس جانے کے بجائے اپنا علاج خود ہی کرے گی

کیوں پانچ سو روپیہ میں کسی کوالیفائڈ ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا پھر میڈیکل سٹور سے دوائی خریدنا ناممکن ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔