میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 9 جنوری، 2019

ممکن نہیں یزیدیت جیت جائے -4

نوجوانو  !آپ  پڑھے لکھے ہو ، شرارت کے ساتھ بُردباری بھی آپ کے چہروں سے چھلک رہی ہے ،وہ محاورہ تو آپ سنے سنا ہوگا ،
دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں !
لوہار کو یہ سب معلوم تھا  ،  اُسے معلوم تھا کہ ملک کی معیشت کو خون پسینہ فراہم کرنے والا، شہد کی مکھی کی طرح  طبقہ ،  ایک کمزور طبقہ ہوتا ہے ، طاقتور طبقہ وہی ہوتا ہے جو کاروباری طبقے اور عوام کے لگائے گئے ٹیکسوں پر موجیں کرتا ہے اور محلات میں رہتا ہے ، اور اپنی شان بڑھانے کے لئے خالص سونے کا تاج   اور جس میں چھین کر جوڑا ہوا ہیرا،     بادشاہ  یا ملکہ ، تخت ، تخت  والا کھیل کھیلتے ہیں ۔جس کی مدد وزیراعظم کرتا ہے  لیکن  تختہ دار پر وزیر اعظم چڑھتا   ، ملکہ اپنا تاج  سجائے بیٹھی رہتی  کیوں کہ وہ ہتھیار بند   محافظوں کے نرغے میں ہوتی ہے ، اُسے کون ہاتھ لگائے ؟  جوان  ملکہ ہو یا بوڑھی  مقدّس کہلاتی ہے ۔
تو نوجوانو !    اُس  مردم گذیدہ  بلکہ شاہان گذیدہ ، حالات کے تھپیڑوں   سے گذرنے والے  لوہار نے ،  حکمرانی تلاطم  کے سنڈاس    سے نکلنے والی باس کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا  اور اپنے  خاندان کو   حکمرانی کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ 
لیکن کیا یہ ممکن تھا ؟
مگر ایک لوہار نے ممکن بنایا ۔ اُس نے نہ صرف    اپنے بیٹوں کو ملک  کے اعلیٰ عہدوں تک ، عوام کی مدد سے پہنچایا بلکہ اپنے برے وقت کے لئے ملک سے باہر ، ملکہ  کی حواریوں کی طرح  جائدادیں بھجوانا شروع کر دیں  ، جن جائدادوں کے لئے  ملکہ کے حواری تتلیوں کے پروں میں چھپا کر سفید پوڈر  باہر بھیجا کرتے تھے  ، لوہار نے اپنی کمائی ہوئی دولت ، ملکہ کے ہی خدّاموں  کے ذریعے باہر بھجوانا شروع کر دی ۔ 
 پہلی کہانی سنانے والے نوجوان کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے دیکھ کر بوڑھا ، گویا ہوا !
نوجوانو ! شاید اُس وقت  آپ  نیکر پہن کر ماں کی انگلی پکڑ کر سکول جاتے ہو گے، جب  لوہار کے بیٹے کو ایک درخواست ملی ،
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح 
ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ، اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، ایک چار ایکڑ زمین کا ٹکڑا دے دیا ۔
کچھ دنوں بعد ، لوہار کے  بیٹے کو ایک اور درخواست ملی ، 
" جنابِ عالی ! میرے پاس رقم نہیں  کہ میں اپنا خواب شرمندہءِ تعبیر کروں ، لاچار ہوں !"
  لوہار کا بیٹا آب دیدہ ہو گیا ، اُس نے لوہار  کو وہ درخواست پڑھائی ، لوہار بھی آبدیدہ ہو گیا ، لوہار نے فیصلہ کیا ، کہ ٹڈّے کی طرح ہر شاخ پر پُھدکنے  والے  ،اِس اداس و غمین و پریشان حال نوجوان کے خواب کو شرمندہءِ تعبیر کرنا چاھئیے !
 چنانچہ لوہار  کی اجازت پر ، لوہار  کے  بیٹے نے ، اُس نوجوان، کو اُس کے خوابوں کی تعبیر کو پورا کرنے کے لئے ، 50 کروڑ  ملکی کرنسی  جس کی مالیت، فرنگی کرنسی میں 23 کروڑ ڈالر بنی تھی ، جو آج ملکی کرنسی میں  2 ارب 80 کروڑ بنتی ہے  ۔  
کتنی  ؟    2 ارب 80 کروڑ
  پہلی کہانی سنانے والے نوجوان  نے بے ساختہ کہا  " ناممکن  ، یہ سب جھوٹ ہے "
  ٭٭٭٭٭٭
   پارٹ - 3٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭  پارٹ - 5

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔