میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 4 فروری، 2019

بچپنا ۔ بچپن کے کھیل مڈ سلائیڈ

آج چم چم کو سکول لے جاتے وقت اُس کے سوال پر ۔
 "آوا" آپ بچپن میں کیسے کھیل کھیلتے تھے ؟ " یہ وڈیو دکھائی ۔

 " واٹر سلائیڈ" وہ بولی " لیکن یہ تو مٹی پر کر رہے ہیں " 
جب میں نے بتایا کہ ہمارے وقت ، سلائیڈ ہوتی تھی مڈ سلائیڈ ہم بناتے تھے ۔
  تو پوچھا ۔" آپ کی ماما کپڑے گندے کرنے پر نہیں مارتی تھیں؟ "۔
" جب ہم گھر جاتے تو نہ ہم گندے ہوتے اور نہ ہمارے کپڑے ! 
" وہ کیسے ؟ " اُس نے پوچھا ۔
" وہ اِس طرح کہ اس طرح کے تالاب میں ہم اپنے ملیشیا کپڑے دھوتے اور نہا کر گیلے پہن لیتے وہ سوکھ جاتے تو ہم گھر جاتے تھے۔ "
 " ھاؤ امیزنگ " وہ بولی ۔ 
" اینڈ ایڈونچرس ٹو " میں بولا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔