میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 12 فروری، 2019

انسانی مذہبی ظنّی افعال ، الحق کے متضاد اور کذب ہے !

 روح القدّس نے محمد ﷺ کو اللہ کا انسانوں کا اللہ کی آیات میں موضوع " ظن" کی بابت یہ پیرا گراف اور اِس سے متعلقہ آیات بتائیں ۔
1- اللہ کے علاوہ کائینات  او ر اِس میں موجود اشیاء کی تخلیق  یا اُس کو ری پروڈیوس نہیں کر سکتا نہیں کر سکتا :
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ﴿10:34﴾



2- الحق بھی اللہ کی تخلیق ہے ، لہذا اللہ کا کوئی شریک  اللہ کی آیات کے علاوہ  انسانی ہدایت کے لئے الحق  نہیں گھڑ سکتا اور نہ اُس کی طرف ہدایت  پر لا سکتا  ہے -
 قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿10:35﴾

3- تمام انسانی ہدایات ، انسانی ظنّی افعال ہیں ، یہ ظنّی افعال الحق میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں کر سکتے ۔
 وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿10:36﴾

4- انسان کو ہدایت صرف الحق ہی سے مل سکتی ہے ، جو عربی  میں تفصیل الکتاب ، ربّ العالمین کی طرف سے صرف القرآن میں ہے ۔ انسانی کُتُب میں نہیں ۔ اُن سے بچو !!!!
 وَمَا كَانَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿10:37﴾

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿10:38﴾


  انسان ، اللہ کی آیات کے جُز بنا کر اللہ کی آیات کے موضوع انسانوں کو کذب بول کر بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اللہ کے مقابلے میں اپنی آیات اپنی زبان میں تفسیر کی آڑ لے کر گھڑتے ہیں ۔دعاؤں اور بدعاؤں کی بہت سی آیات اپنے ظن سے  گھڑ لیں ہیں اور اُنہیں اپنے متبعین میں یہ کہہ کر پھیلا دی ہیں کہ یہ  ہمیں " صحاح تسع  عشر " سے ملی ہیں ۔ 

4- جب انسان کا علم اللہ کی آیات کا احاطہ نہیں کر سکتا یا اُس کے فہم و ادراک میں نہیں آتیں تو وہ اللہ پر کذب بولتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہ تو اُن  کے سلف   کا  صدیوں سے وطیرہ رہاہے ۔
  بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ﴿10:39﴾

5-جو الحق پر ایمان لایا  وہ مؤمن اور جو ظن پر ایمان لایا وہ مفسد ۔ 
 وَمِنْهُم مَّن يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُم مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ ﴿10:40﴾

 
6- ظن کی اتباع کے لئے کذب بولنے والوں سے دور ہٹ جاؤ اور اللہ کی عربی میں آیات پر عمل کرو !
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿10:41﴾


 وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ ﴿10:42﴾
٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔