میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 18 فروری، 2019

ماں ایک رحمت

گھر میں داخل ہوا تو دیکھا ، بیوی بیٹھی رو رہی ہے ۔۔
" کیا ہوا " ۔ میں نے پوچھا ۔" یہ آنکھیں کیوں لال کر رکھیں ہیں ؟۔ سب خیریت تو ہے نا ؟ " ۔
" آج ، اس کمینے نے ، بیوی کے کہنے پہ اس بڑھیا کو پھر مارا ہے " ۔ وہ پھر ہچکیوں سے رونے لگی ۔
" تمہیں کیا ۔ وہ اس کی ماں ہے ، تمہاری نہیں اور پھر بڑھیا ، زبان چلاتی ہو گی ۔ بہو کے معاملے میں دخل دیتی ہوگی " ۔ میں نے اس کا غم غلط کرنے کے لیے کہا ۔
" زبان چلاتی ہو گی ۔۔؟ معاملات میں دخل دیتی ہوگی ۔۔؟
 آپ کو کچھ پتا بھی ہے ، اس بیچاری کو فالج ہے ۔ اٹھنے بیٹھنے کے لیے سہارے کی محتاج ہے ۔ اٹک اٹک کر اپنی بات پوری کرتی ہے " ۔ بیوی نے تلخی سے جواب دیا ۔۔
" پہلے تم نے کبھی بتایا نہیں کہ اس کو فالج ہے" ۔ میں نے انجان بنتے ہوئے  کہا ۔۔
"ہزار دفعہ تو بتایا ہے ۔ مگر آپ کو کپڑوں کے علاوہ کچھ یاد رہے نا " ۔  بیوی بولی
" اچھا چھوڑو ۔۔ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ؟ " میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی ۔۔
" میرا دل کرتا ہے کہ بڑھیا کو اپنے گھر لے آؤں کچھ دنوں کے لیے" ۔میری بیوی نے کہا
"کیا ۔۔ کیا کہا ۔؟ ۔۔ پاگل ہو گئی ہو ۔۔ پرائی مصیبت اپنے گلے ڈالو گی" ۔  مجھے اس کی سوچ پہ غصہ آگیا ۔۔
" صرف ہفتے بھر کے لیے " ۔ اس نے میرے غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ۔۔ شاید وہ پہلے سے ہی سب پلان بنا کے بیٹھی تھی ۔۔
" نہیں ، نہیں ۔۔ یہ ناممکن ہے ۔۔ اور پھر وہ کیوں دینے لگا اپنی ماں ہم کو" ۔ میں نے کہا ۔
" اس کی بیوی کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ بڑھیا ، کہیں دفع توہو نہیں سکتی ، کتے کی سی جان ہے ، مرتی بھی نہیں " ۔ بیوی نے کہا
" اچھا ، یہ کہتی ہے وہ "۔ میں نے بیوی کا دل رکھنے کے لیے کہا ۔۔
" بس اب آپ مان جائیں اور اس کو اپنے گھر لے آئیں " ۔ یہ کہتی ہوئے  وہ میرے پہلو میں آ بیٹھی ۔۔ اور یہی اس کا خطرناک حملہ ہوتا ہے ، اپنی بات منوانے کا ۔۔۔
" اچھا جی!  اب اس بڑھیا کو گھر لانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال رہی ہو ۔ اور یہ تو سوچو کہ تم اس کوسنبھال بھی لو گی ؟" ۔ میں نے کہا
" اپنے بچے تو ہیں نہیں ، میں بھی گھر میں سوائے  ٹی وی دیکھنے کے اور کیا کرتی ہوں ۔۔ چلو وہ آ جائے گی تو میرا دل بھی بہلا رہے گا " ۔ اس نے اداسی سے کہا۔

ہم دونوں کے ماں باپ نہیں تھے ، مجھے بیوہ  پھوپی نے پالا تھا اُن کے اپنے بھی دو بیٹے تھے ۔ وہ  سکول میں ٹیچر تھیں ، بتاتی تھیں  کہ ماں مجھے جنم دے کر فوت ہوگئی تھیں ۔  میں نے میٹرک کیا تو  کپڑوں کی ایک دکان پر ملازمت کرنے لگا ،     میری محنت اور ایمانداری دیکھ کر  ، دکان کے مالک نے اپنی بن ماں کی بیٹی سے شادی کر دی  ،  کچھ عرصہ تو میں پھوپی کے گھر رہا ، پھر اپنے سسرکے گھر شفٹ ہو گیا ۔
شادی کے نو سال بعد   سسر کا ہارٹ اٹیک میں انتقال ہو گیا ۔ بیوی کو تنہائی کاٹتی تھی ۔ کیوں کہ
ہماری شادی کو دس سال ہو گئے تھے ۔۔ مگر اولاد سے محرومی تھی ۔۔
میں نے سوچا -- چلو بات کر کے دیکھنے میں حرج نہیں ہے ۔
کونسا ، وہ اپنی ماں ، ہمیں دینے پہ راضی ہو جائے  گا ۔۔
اگر راضی ہو گیا تو ۔۔؟ میں نے سوچا
پھر بھی ایک ہفتے کی ہی تو بات ہے ۔۔۔
اگر بعد میں اپنے ہی گلے پڑ گئی  تو ۔۔ اچانک مجھے خیال آیا ۔۔۔
" اگر وہ بڑھیا مستقل گلے پڑ گئی تو؟ " ۔  میں نے اپنے خدشے کا اظہار ، بیوی سے کیا ۔۔
" یہ تو اور اچھی بات ہے " ۔ اس نے خوش ہوتے ہوئے  کہا ۔۔
سچ کہتے ہیں ۔۔ عورت بے وقوف ہوتی ہے ۔۔ میں نے دل میں سوچا ۔۔

اگلے دن شام کو کافی سوچ بچار کے بعد میں ان کے گھر گیا ۔ کچھ بات کرنے کے بہانے ، ڈرائنگ روم میں بیٹھا ۔ اس نے جھوٹے مونہہ بھی چائے  کا نہیں پوچھا، تو میں نے اپنے پلان کے مطابق اس سے کہا ،
" میری بیوی ، فالج کا علاج قران پاک سے کرنا جانتی ہے ۔ اور وہ آپکی والدہ کا علاج کرنا چاھتی ہے "  ۔
یہ سن کر اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا ۔ تو میں نے بات جاری رکھی ۔۔
"   اس میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی والدہ کوہفتہ بھر ہمارےہی گھر پر رہنا ہو گا ۔۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم ان کا اچھے سے خیال رکھیں گے" ۔ یہ سن کر اس کے چہرے پہ شرمندگی اور خوشی کے ملے جلے اثرات پیدا ہوئے ۔
اس نے تھوڑی سی بحث کے بعد اجازت دے دی ۔ میں نے اٹھتےہوئے  کہا،
"  علاج میں پندرہ بیس دن بھی لگ سکتےہیں" ۔ اس نے اور بھی خوشی محسوس کی ۔
کہنے لگا ،" سلیم صاحب ، میں تو چاھتا ہوں کہ میری ماں ٹھیک ہو جائے  ، بھلے مہینہ لگ جائے"  ۔
اور یوں ، اس طرح ، اماں ، مستقل ہماری ہو کے رہ گئی۔  اگلے دن ، وہ بڑھیا ہمارے گھر منتقل ہو گئی ۔ بس وہ بڑھیا کیا تھی ۔۔ سفید روئی کا گالہ سی تھی ۔ نور کا اک ڈھیر سا تھا ۔ لاغر سی ، کمزور سی ۔ جیسے زمانے بھر کے غم ، اس کے نورانی جھریوں بھرے چہرے پہ تحریر تھے ۔ آنکھوں کے بجھتے چراغ ۔ کپکپاتے ھونٹ ۔
مناسب خوراک اور دیکھ بھال نہہونے کی وجہہ سے حالت اور زیادہ خراب تھی ۔۔
میری بیوی تو تن ، من ،دھن سے اس کی سیوا میں جٹ گئی۔ اس کے لیے ہر چیز نئی خریدی گئی۔ بستر ، کمبل ، چادریں ، کپڑے ۔۔
اچھی خوراک ، اور خدمت سے اماں کے چہرے پہ رونق آنے لگی ۔۔
پتا ہی نہ چلا ،مہینہ گزر گیا ۔ 
 پہلے اس کی بہو ہر دو دن بعد آتی رہی ۔ پھر چار دن کا وقفہ ہوا ، پھر ہفتہ ہونے لگا ۔ اماں کو واپس لے جانے کی بات نہ اس نے کی ، نہ ہم نے ۔۔
دوسرا مہینے میں وہ ایک ہی دفعہ آئی ۔ گھر کی مصروفیت کا رونا روتی رہی ۔ 
تیسرے مہینے کے بعد ، اس نے آنا بند کر دیا ۔۔
 میں نے بیوی سے کہا،"  اب اماں ، تمہاری ذمہ داری بن گئی ہے ، اب تم سنبھالو " ۔ بیوی نے خوشی کا اظہار کیا ۔
یہ غالباًساتواں مہینہ تھا کہ اس آدمی کو، اس کی بیوی نے قتل کردیا اور بعد میں وہ خود بھی پکڑی گئی۔
اور یوں ، اماں ، صرف ہماری ہی ہو کے رہ گئیں ۔
ادھر جیسے جیسے اماں کی توانائی بحال ہورہی تھی اور چہرے پہ رونق ، مسکان آنے لگی تھی ۔ ویسے ویسے ، میرا کاروبار ترقی کرنے لگا ۔ ایسے لگتا تھا جیسے مجھ پر دھن برسنے لگا ہو ۔ 
سال بھر میں میری تین دکانیں ہو چکیں تھیں ۔ تیسرے سال ہم تینوں ، میں ، بیوی اور اماں نے حج کی سعادت حاصل کی ۔ گلستان جوھر میں پانچ سو گز کا بنگلہ خرید کر وھاں شفٹ ہو گئے ۔
اماں ، ہمارے ساتھ سات سال رہیں ، ہر پل ان کاہمیں دعائیں دیتے گزرتا ۔اور ہم میاں بیوی ، خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔
۔ عجیب کرامت یہ ہوئی کہ اماں کی برکت اور دعاؤں سے ، اللہ رب العزت نے مجھے اولاد سے نوازا ۔۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں ، مگر ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے ۔ جیسے کوئی اپنا کہیں کھو گیا ہو ۔
ہم نے بھی کبھی ان سے ان کا نام تک نہ پوچھا ۔ بس ان سے اک خلوص کا رشتہ تھا ۔۔
پچھلے دنوں ، میری بیوی بہت خوش تھی ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگی ۔ 
"میں نے ایک خواب دیکھا ہے "۔
"کیسا خواب ۔۔؟" میں نے پوچھا
" میں نے دیکھا ۔ کہ محشر کا دن ہے ۔ اور سب حیران و پریشان کھڑے ہیں ۔ ان میں ، میں بھی کھڑیہوں کہ اتنے میں ، اماں آئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگیں ۔ منیرہ ، ادھر آ ، میرے ساتھ ، تجھے پل صراط پار کرا دوں ۔ میں ان کے ساتھ چلی ، ہم ایک باغ سے گزرے ، تھوڑی دیر میں باغ ختم ہوا تو ایک بڑا سا میدان آگیا ۔تو اماں کہنے لگیں ، بس ہو گیا پل صراط پار ۔۔ میں حیران ہوئی ۔ تو وہ بھی زور سے ہنسنے لگیں ۔ پھر میری آنکھ کھل گئی" ۔
" مبارک ہو بھئ ۔۔ بہت اچھا خواب ہے مگر تمہیں میرا خیال نہ آیا ۔ ؟" میں نے پوچھا
" قسم سے میں اتنی پریشان تھی کہ ۔خیال ہی نہیں رہا " وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی ۔
" چلو ۔ خیر ہمیں بھی کوئ نہ کوئ ملہی جائے گا جو پل صراط پار کرا دے" میں نے کہا ۔
" آمین " ۔ بیوی نے جیسے دل کی گہرائیوں سے کہا ۔۔
" ارے ہاں ،  اس کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا خواب میں بھی دیکھ چکا ہوں۔ بس فرق یہ تھا کہ اماں نے میرا  ہاتھ پکڑتے وقت کہا تھا ، چلو ، تمہیں منیرہ کے پاس لے چلوں وہ پل صراط کے پار ، تمہارا انتظار کر رہی  ہے..!!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔