میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 5 فروری، 2019

مرد کہانی

  مرد کى ہینڈلر صرف عورت ہے۔
 عورت ہی اس کو پیدا کرتی ہے۔
 زنانہ وارڈ میں اس کا نزول ہوتا ہے۔
عورتیں ہی اس کو خوش آمدید کہتی ہیں۔
 عورت ہی اسے پالتی اور اس کی تربیت کرتی ہے اچھی ہو یا بری۔
پھر ہار سنگھار کر کے اسے دوسری عورت کو سونپ دیتی ہے۔
عورت کے بگاڑے کو عورت ہی سدھار سکتی ہے۔
 ماں کے بگاڑے ہوئے کو بیوی ہی سدھار سکتی ہے اور ماں کے سدہارے ہوئے کو بیوی ہی بگاڑ سکتی ہے۔
 اس کا پاس ورڈ (Password) ازل سے عورت کے پاس ہے اور۔ ۔  ۔!
 یہ ہمیشہ ماں بہنوں اور بیوی کے درمیان فٹ بال بنا رہتا ہے جو اپنی اپنی مرضی کا گیم اس پر کھیلتی اور اس کی سیٹنگز تبدیل کرتی رہتی ہیں۔
 ماں کی سیٹنگز  رات کو چپکے سے بیوی تبدیل کر دیتی ہے۔
 مگر صبح اماں چہرے کے رنگوں سے پہچان کر ،  ایک پھونک سے  دوبارہ فیکٹری سیٹنگز ری سٹور کر لیتی ہے۔

بس اتنی ساری مرد کہانی ہے۔
(منقول)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔