میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 21 مارچ، 2019

ڈگری نہیں، ہُنر دیں

 ٹیوٹا ، ڈائی ہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں۔
 جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔
 آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ 
آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔
 ایل – جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے ۔
2014 میں سام سنگ کا ریوینیو305 بلین ڈالرز تھا ۔
 " ایسر " لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جبکہ ویتنام جیسا ملک بھی " ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔
 محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے ۔ 
اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے-
 خدا کو یاد کرنے کے لئیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں ۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ جبکہ دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔

 آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی تمام ممالک میں نظر آئینگے ۔ وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔
 ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گذرتا ہے۔ باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گذارتے ہیں ۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں ۔ آپ دل پر
ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔ بی – ای ، بی – کام ، ایم – کام ، بی – بی – اے ، ایم – بی – اے ، انجنئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں جی – پی کے لئیے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کون سا تیر مار رہے ہیں ؟

 آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر " ڈگری شدہ " انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔
لاکھوں روپے خرچ کر ،  یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ہم اس قدر "وژنری " ہیں ۔کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔

 آپ ہمارے " وژنری پن " کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اس لئے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائینگے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں ۔ اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ 

حتی کے بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے ۔ آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں ۔جبکہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ 
پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔اور دوسری طرف لے دے کر ایک " مری " ہی ہمارے لئے ناسور بن چکا ہے ۔جہاں کے لوگوں کو سیاحوں کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے ۔
چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔ چینیوں کے تو یہ بات سمجھ آگئی ہے ۔
 کاش ہمارے ارباب اختیار کو بھی سمجھ آجائے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مربوط تعلیمی انقلاب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 نوٹ: جس نے بھی لکھا ، خوب لکھا ، 2000 میں میں اِس پر ایک طویل پیپر لکھ کر جمع کرواچکا ہوں ،
کہ پاکستان مین پولی ٹیکنک طرز کے سکول دوبارہ کھولے جائیں ، جیسے ہمارے وقت ہوتے تھے  اور ہر وہ طالبعلم پولی ٹیکنک میں تمام شعبوں کی بنیادی تربیت دی جو طالبعلموں کو پروفیشنل کالجز کی طرف لے جائے اور اگر کوئی بچہ کہیں بھی ڈراپ آؤٹ ہو  تو اُسے اُس لیول کا سرٹیفکیٹ دیا جائے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لئے اُسی شعبے میں تیار ہو ۔ اِس طرح ہمیں ، ہر لیول کے ماہر ملیں گے ۔
لیکن ڈراپ آؤٹ بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ امتحان دے کر اگلی سرٹیفکیشن لیتے جائیں ، جب اُن کے پاس مطلوبہ میعار کے سرٹیفکیٹ جمع ہوجائیں تو وہ انجنئیرنگ ، میڈیکل ، ڈینٹل ، کمپیوٹر سافٹ و ھارڈ وئر ، اور دیگر اعلیٰ تعلیم کے دھارے میں شامل ہوجائیں ۔
   ٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 20 مارچ، 2019

الذی آمنو کا منکر سے مشرک تک کا سفر

1- نَكِرَ:

فَلَمَّا رَأَى أَيْدِيَهُمْ لاَ تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُواْ لاَ تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ [11:70]

2- كُفْرًا :
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُواْ كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الضَّآلُّونَ [3:90]

3- يَنقَلِبْ : یوٹرن

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللّهُ الشَّاكِرِينَ [3:144]

4- يَرْتَدِدْ :
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُوْلَـئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ [2:217]

5- أُشْرِكَ:

تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ [40:42]
 
 

ہفتہ، 9 مارچ، 2019

فہم الکتاب اور تدبّر القرآن

 کتاب اللہ  :    الارض وسماوات  کی تخلیق  کے لئے اللہ کا مکمل   ضابطہ ۔

الکتاب:   المتقین  کے لئے معلومات  و افعال  کا خزانہ ۔

القرآن :     انسانی نفس کی زکاء  کے لئے  ہدایت   کا سرچشمہ ۔




اللہ کے   کُن سے  فَیَکُون    ہونے والے ،  کتاب اللہ کے تین   کلمات  جو ہمارے سامنے      مکمل آیات  بن کرآتے ہیں  اور :
1۔   بذریعہ   آنکھ :ہم  اُس کی شبیہ  دیکھتے ہیں ۔
2۔ بذریعہ  کان : اُس کی   آواز   سنتے ہیں  ۔

3- بذریعہ  ناک اُس  کی  بو سونگھتے ہیں ۔

 4- بذریعہ  ہاتھ اُسے محسوس کرتے ہیں ۔
 5- بذریعہ زبان  چکھتے ہیں ۔
 اِس پانچوں  حواس سے ملنے والی معلومات ،    ہمارے دماغ میں  محفوظ ہوجاتی  ہیں ، جس کی صفات  ہم اپنے ذہن میں  تسلیم کرنے کے بعد اُسے ایک صفت (اِسم)  دیتے ہیں ۔  
وہ اِسم  ہم اپنی  زبان میں، مکمل یقین کے ساتھ ،  اللہ کی اُس آیت سے منسلک کر دیتے ہیں ۔
ہماری دی گئی صفت   ، اُس بنیادی صفت پھل  ، مچھلی  اور پرندہ 
کو تبدیل نہیں  کرتی ۔

 اگر ہم اُن پر تدبّر کریں ، تو   ہر آیت،ایک مفصل  کتاب ہوتی  ہے ۔   

 جیسے اگر آپ سے پوچھا جائے ، کہ مچھلی کی یہ کون سے قسم ہے؟ 
تو شائد آپ نہ بتا سکیں ، لیکن اگر ایک   عالم  سے پوچھیں جس نے مچھلیوں کی اقسام میں تفکٗر کیا ہو تو وہ  کم از کم ایک صفحہ  سے سو صفحات تک اُس کی مکمل خصوصیات مفصل بتا دے گا ۔  

لیکن اگر اُس سے  الکتاب میں  بیئن کی گئی ،    ایک بستی کی مچھلیوں﴿7:163﴾   یا حوتِ موسیٰ ﴿18:61﴾    یا حوتِ یونس  ﴿37:142﴾   کے بابت پوچھیں !
تو وہ اِس سے زیادہ نہیں بتا سکتا کہ اوّل الذکر کھائے جانے والی مچھلیاں تھیں اورآخر الذکر ایسی مچھلی جو انسان کو کھا جاتی ۔ 
اگر کوئی اِس سے زیادہ وضاحت کرتا ہے تو  یہ لفاظی  کہلائے گی کیوں کہ اُس کے پاس معلومات زیادہ نہیں ہیں ۔  اور نہ ہی الکتاب میں اِس سے زیادہ ذکر ہے ۔
 غرض کہ  کتاب اللہ (کائنات )  میں ، اللہ کی ہر آیت کی بنیادی صفات ہیں،   جو اللہ نے الکتاب میں انسانوں کی بنیادی ہدایت کے لئے ، بنیادی الفاظ  میں  مفصّل  بتائیں ہیں ۔تاکہ ایک  اُمّی  انسان اُسے بآسانی عمل کے لیے سمجھ لے !
 روح القّدس نے اللہ کا پیغام محمدﷺ  کو بتایا  ::
وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآناً أَعْجَمِیّاً لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آیَاتُہُ أَأَعْجَمِیٌّ وَعَرَبِیٌّ قُلْ ہُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا ہُدًی وَشِفَاء  وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ فِیْ آذَانِہِمْ وَقْرٌ وَہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی أُولَـٰئِكَ یُنَادَوْنَ مِن مَّکَانٍ بَعِیْدٍ (41/44)   
اگر ہم اُس     کو عجمی میں قُرْآناً   قرار دیتے  تو وہ کہتے کہ اس کی آیات مفصّل کیوں نہیں؟
کیا عجمی اور عربی؟ 

کہہ!  وہ ان  لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ھدایت اور شفا ہے   .  
اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور اِن کے اوپر اندھا پن ہے، وہ  دور کے مکان سے پکارے جا تے رہتے ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔