میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 21 اپریل، 2019

پٹاکا ہے پٹاکا

"  ما ما ، آج ہم نے پاپا کے ساتھ جاتے ہوئے  عجیب عجیب الفاظ سنے " ۔بڑا دس سالہ بیٹا بولا
 " کیوں کیا ہوا ؟ " ماں نے پوچھا ۔
دونوں بیٹوں کو سکول  چھوڑنے  اُن کی ماں جاتی اور وہاں سے آفس چلی جاتی  یا ڈرائیور ،  یہ کوئی  پانچ  سال سے روٹین تھا ۔
ڈرائیور کی بیٹی کی شادی تھی  وہ چھٹی لے کر چلا گیا ،  بیوی کی طبیعت خراب ہو گئی ۔ تو شوہر کو یہ ڈیوٹی انجام دیناپڑی ۔  اور آج شوہر کا پہلا دن تھا ۔ 
 ماما جب ہم آپ کے ساتھ جاتے ہیں تو ، 
سٹیوپڈ ، جاہل ، گاڑی چلانا نہیں آتی ۔ 
 سڑک کے درمیان میں کیوں کھڑے ہو گیا ہے احمق ۔
 پٹھان کے گدھے کی طرح  کیوں چل رہا ہے ، گاڑی تیز چلا ۔  بیٹے نے ماں کا مذاق اڑاتے ہوئے  اداکاری کے انداز میں بتایا ۔
" اچھا  ا ا ا ا ا۔  تو آج کون سے عجیب الفاظ سنے ؟ "   ماں نے پوچھا
سوھنیو ، ساڈا وی خیال کرو !
ھائے  مار ڈالا ۔

ھارن نہ بجا ،  ٹھمکا لا  !
پٹاکا ہے پٹاکا !
 بیٹے نے   سادگی سے ماں کو بتایا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔